| نمبر | عنوان (topic) | Pg |
| 151 | علم، علماء کے حقوق(rights) اور باطنی آداب | 3 |
| 152 | اکراہ اور جائز و ناجائز کے مزید (more) مسائل | 25 |
| 153 | عورتوں کے مزید (more) مسائل | 39 |
| 154 | خرید و فروخت (buying and selling) | 55 |
| 155 | مُختلف سودے (different deals) | 4b |
| 156 | کاروبار کی مختلف صورتیں (different cases) | 4b |
| 157 | آج کی تجارت | 4b |
| 158 | اجارہ (Contract of someone by paying wages) | 4b |
| 159 | آج کا اجارہ | 4c |
| 160 | شرکت (partnership) | 4c |
| 161 | مُضَاربَت (sleeping partnership) | 4c |
| 162 | وکالت (attorneyship) | 4c |
| 163 | کفالت (guaranty) | 4c |
| 164 | رہن (mortgage) | 4c |
| 165 | حقوق (rights) و استحقاق (laws of rights) | 4c |
| 166 | سود (interest) | 4c |
| 167 | بیع صَرف (سونے چاندی کی تجارت) | 4d |
| 168 | بیع سلم (A type of trade) | 4d |
| 169 | صُلح (آپس کے کسی معاملے میں ایک بات پر اتفاق کر لینا) | 4d |
| 170 | کاشت کاری (agriculture) وغیرہ | 4d |
| 171 | پاکیزہ کاغذات (sacred papers) | 4d |
| 172 | نکاح | 4d |
| 173 | جن سے کبھی نکاح نہیں ہو سکتا | 4d |
| 174 | کفو (برابر مرتبہ) سے نکاح کے مسائل | 4d |
| 175 | مہر (نکاح کرنے پر عورت کو کچھ مال دینا) | 4d |
| 176 | شادی مُبارک ہو | 4e |
| 177 | میاں بیوی کے حقوق (rights) | 4e |
| 178 | ’’عورت کا نفقہ(کھانا، پینا، رہائش۔accommodation،وغیرہ)‘‘ | 4e |
| 179 | اولاد کے حقوق (rights) | 4e |
| 180 | اولاد کو کب سکھائیں | 4e |
| 181 | طلاق | 4e |
| 182 | کیا طلاق کے بعد نکاح رہ سکتا ہے؟ | 4e |
| 183 | اپنی بیوی کے لیے خاص (specific) قسم کھانا | 4e |
| 184 | عورت طلاق لینا چاہے تو کیا کرے؟ | 4e |
| 185 | عورت کے جسم کے خاص حصّوں کو ماں کے اُن حصّوں کی طرح کہنا | 4e |
| 186 | عورت سے ظہار کے الفاظ بولنے کا کفّارہ | 4e |
| 187 | عدّت | 4f |
| 188 | وقف | 4f |
| 189 | شرط (precondition) کے مسائل | 4f |
| 190 | حج کی اصطلاحات(terms) اور باطنی آداب | 4f |
| 191 | حج اور احرام | 4f |
| 192 | عمرے کا طریقہ | 4f |
| 193 | حج کا طریقہ | 4f |
| 194 | مدینے پاک کی حاضری | 4f |
| 195 | میرے مرنے کے بعد میرے مال کا کیا ہوگا؟ | 4g |
| 196 | انتقال کرنے والے کے مال کے مسائل | 4g |
| 197 | اسلام کی طرف بلانا | 4g |
| 198 | اسلام میں آنا | 4g |
| 199 | نئے مسلمان(new muslim) کی پہلی نماز | 4g |
| 200 | نئے مسلمان(new muslim) اور عبادتیں | 4g |
علم، علماء کے حقوق (rights) اور باطنی آداب
فرمانِ آخری نبی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: مَن یُّرِدِ اللہُ بِہٖ خَيرًا یُّفَقِّھْهُ فِى الدِّينِ (ترجمہ) اللہ کریم جس کے ساتھ بھلائى کا ارادہ کرتا ہے اسے دىن کی سمجھ عطا فرماتا ہے ( بخاری، کتاب العلم، باب العلم قبل القول والعمل،ج ۱،ص ۴۱) ۔عُلَمائے کِرام فرماتے ہیں: کوئى آدمى اپنے انجام (مثلا ًایمان پر موت)کے بارے میں نہىں جانتا، سوا فقىہ(یعنی عالم) کے، کیونکہ وہ سچی خبر دینے والے(یعنی ہمارے پیارے آقا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم) کے بتانے(یعنی حدیث میں آنے) کی وجہ سے جانتا ہے کہ اُس کے ساتھ اللہ کریمنے بھلائى کا ارادہ کىا ہے( الاشباہ والنظائر، الفن الثالث : الجمع والفرق، ص۳۳۷) اور جب اللہ کریم نے بھلائی کا ارادہ کر لیا تو اس کا خاتمہ بھی(اللہ کریم کے فضل سے) ایمان پر ہوگا۔
واقعہ(incident): بخار کی حالت میں صرف دو دن میں ایک کتاب لکھ دی
امامِ اہلسنّت، اعلیٰ حضرت، پیر طریقت، حضرت علَّامہ مولانا ، اماماحمد رضا خان قادِری رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ بہت بڑے عالم اورسچّے عاشقِ رسول تھے۔ آپ کا کام،پیارےآقا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کی شان، مقام، مرتبہ(rank) بیان کرنا اور اگر کوئی ہمارے نور والے آقا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کی شان کم بتانے کی کوشش کرے تواُس کی گستاخیوں،بے ادبیوں اور اُن بری حرکتوں سے پیارےآقا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کی اُمت(ummah)کو بچانا(آپ کا کام) تھا۔ اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ دوسری بار جب حج کرنے کے لیے گئے،تو وہاں جاکر پتا چلا کہ مکّے شریف کے گورنر (governor)کے پاس کچھ لوگوں نے آکرنبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کے علمِ غیب کے خلاف باتیں کی ہیں اور سوالات کے جوابات مانگے ہیں۔مکّہ شریف کے بہت بڑے عالم صاحب نےاُن لوگوں کی طرف سے ہونے والے سوالات اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ كو دیئے اور دو (2)دن کے اندر،اِ س کا جواب لکھنے کی گزارش (عرض۔request)کی ۔اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے اسی وقت قلم اوراِنک(ink) لانے کو کہا لیکن دوسرے دن آپ کو بہت تیز بخار ہوگیا۔ بخار کی حالت میں بھی کچھ گھنٹے آپ نے جواب لکھ کر مکمل (complete) کردیا اور اس کے علاوہ بھی اپنے دیگر (other)کام کیے۔آپ نے ان سوالوں کے جوابات قرآن وحدیث کی روشنی میں ایسے دیے کہ مکّے شریف کے گورنر (governor) نے کہا ’’اَللہُ یُعْطِی وَھٰؤُلآءِ یَمْنَعُونَ‘‘یعنی اللہ کریم تو اپنے حبیب صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کو غیب کا علم عطا فرماتا ہےاوریہ لوگ منع کرتے ہیں۔ عرب کے عُلَمائے کِرام اُن جوابات کو پڑھ کر اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی تعریفیں کرنے لگے اور اُن سوالات کرنے والوں کو جب یہ جوابات سنائے گئے تو وہ سمجھ گئے کہ ہم سب مل کربھی اعلی ٰحضرت رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کا جواب نہیں دے سکتے لہذا وہ مزید(more) کوئی بات نہ کر سکے۔(ملفوظات اعلیٰ حضرت ،۱۹۰تا ۱۹۳ماخوذاً)
علماء کے حقوق(rights) :
{1} فرمانِ آخری نبی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: تین شخص ایسے ہیں جن کے حقوق(rights) کومنافق ہی ہلکا جانے گا:
(۱)جسے اسلام میں بڑھاپا آیا
(۲)عالمِ دین اور
(۳)انصاف پسند بادشاہ۔ (المعجم الکبیر، الحدیث: ۷۸۱۹،ج۸،ص۲۰۲)
{2} فرمانِ مُصطفیٰ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: جس نے ہمارے بڑوں کی عزّت نہ کی، ہمارے چھوٹوں پررحم نہ کیا اور ہمارے علماء (کے حقوق) نہ پہچانے وہ میری اُمت میں سے نہیں۔
(المسندللامام احمد بن حنبل،مسند الانصار،الحدیث: ۲۲۸۱۹،ج۸،ص۴۱۲)
{3} فرمانِ نبّیِ کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: علم سیکھو، علم کے لئے سکینہ (یعنی اطمینان )اور وقار(honour) سیکھو اور جس سے علم سیکھواس کے لئے تواضع اور عاجزی(یعنی نرمی) بھی کرو۔ (المعجم الاوسط،الحدیث:۶۱۸۴،ج۴،ص۳۴۲)
{4} فاسق (ناجائز اور گناہ بھرے کام کرنے والے)کو مُفتی بنانا یعنی اُس سے فتویٰ پوچھنا درست نہیں کیونکہ فتویٰ امور دین سے(یعنی دین کا بہت اہم معاملہ) ہے اور فاسق کی بات’’ دیانات ‘‘(یعنی دینی مسائل) میں نا معتبر ہے (یعنی نہیں مانی جائے گی) (بہار شریعت، ح۱۲،ص۸۹۳، مسئلہ۴، مُلخصاً) کیونکہ شریعت(اور دین ) کا علم ایک نور ہے جو تقویٰ کرنے(گناہوں سے بچنے) والوں کو ملتا ہے۔ جو فسق و فجور(یعنی گناہ) کرتا ہے، وہ اس نور سے محروم رہتا ہے( ص ۹۰۸، مسئلہ۳، مُلخصاً) ۔’’دیانات ‘‘سے مراد وہ چیزیں ہیں جن کا تعلق اللہکریم اور بندے کے درمیان ہے ۔ مثلاً حلال، حرام، نجاست (یعنی ناپاکی)، طہارت( یعنی پاکی) وغیرہ کے مسائل ۔
{5} جاہلوں سے فتویٰ لینا حرام ہے۔(فتاوی رضویہ ،جلد۱۲، ص۴۶۲)
{6} ایک شخص کو دیکھا کہ لوگ اُس سے دینی سوالات کرتے ہیں اور وہ (صاحب)جواب دیتے ہیں اور لوگ اُنہیں عزّت کی نظر سے دیکھتے ہیں، اب چاہے نئے آنے شخص والے کو یہ معلوم نہ ہو کہ یہ جواب دینے والے کون ہیں؟ اور کیسے ہیں؟ مگر پھر بھی ان سے مسئلہ پوچھنا جائز ہے کیونکہ مسلمانوں کا اُن سے اس طرح سوالات کرنا، یہ بتا رہا ہے کہ یہ کوئی بہترین عالم صاحب ہیں (بہار شریعت، ح۱۲،ص۹۰۹، مسئلہ۴، مُلخصاً) ۔ یہ بات اوپر بتائی جا چکی کہ دینی مسئلہ نہ تو فاسق(مثلاً داڑھی صاف(shave) کروانے والے یا ایک مٹھی سے کم رکھنے والے) سے پوچھنا ہے اور نہ ہی جاہل سے۔اسی طرح کسی بدمذہب (اسلام کے خلاف(against) عقیدہ (نظریہ) رکھنے والے)سے بھی دینی مسئلہ نہیں پوچھنا۔
{7}یاد رہے کہ بدمذَہب (یعنی گمراہ آدمی جو جہنّم میں لے جانے والے عقیدے (beliefs) پر یقین رکھتا ہو) کے بیانات سننا، اس کی تحریریں(writings) پڑھنا، اس کے بیانات کے جلسوں میں جانا، اس سے دینی مسائل پوچھنا حرام، حرام اورحرام ہونے کےساتھ ساتھ اپنی آخرت برباد کرنے، ایمان کو خطرے میں ڈالنے اور اپنے دل سے اللہ و رسول(عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ) کی محبّت کم کرنے والا کام ہے (پردے کے بارے میں سوال جواب ص۱۷۹،۱۸۰،ماخوذاً) ۔فرمانِ آخری نبی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:بد مذہب سے دور رہو اور ان کو اپنے سے دور رکھو کہیں وہ تمہیں گمراہ نہ کر دیں اور کہیں وہ تمہیں فتنے میں نہ ڈال دیں۔(صحیح مسلم،مقدمة، ص۹،حدیث:۷)
{8}بے علم آدمی کو کافروں یا بدمذہبوں سے اُلجھنا، بحث کرنا سخت حرام ہے۔(فتاوی رضویہ ،جلد۲۹، ص۶۵۴)
{9}کسی جاہل (یعنی بے علم)کا (عالم صاحب سے کسی مسئلے کا)حوالہ بلکہ کتاب جس میں وہ مسئلہ لکھا ہوا ہے مانگنا، بے ادبی ہے۔(فتاوی رضویہ ،جلد۱۲، ص۵۷۰، مَاخوذاً)
{10} اگر ایک شخص خود عالم نہیں تو مستند(صحیح سُنی) علمائے کرام کے فتویٰ کو نہ ماننے والا گمراہ ہے (فتاوی رضویہ ،جلد۱۳، ص۱۷۳، مُلخصاً) ۔ ہاں! کسی دوسرے اچھے ماہر(expert) سُنی عالم کے فتویٰ پر عمل کرتا ہے تو اُس کی اجازت ہے یعنی غیر عالم ، کسی سُنی مُفتی کے فتویٰ کو غلط نہیں کہہ سکتا۔
{11}عالم ِ دین کو اس کے پاس علمِ دین ہونے کی وجہ سے بُرا کہنا ’’ کُفر‘‘ ہے، چاہے کہنے والا جاہل ہو یا وہ خود عالم ہو(یعنی عالم کا بھی کسی دوسرے صحیح سُنی عالم صاحب کو، اُن کے علمِ دین کی وجہ سے بُرا کہنا،’ ’ کُفر‘‘ ہے)۔
(فتاوی رضویہ ،جلد۲۱، ص۲۹۴، مُلخصاً)
{12} عالم ِ دین ہر مسلمان کے حق میں عموماً(عام طور پر) اور استادِ علمِ دین اپنے شاگرد کے حق میں خصوصاً (خاص طور پر) حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کا نائب(deputy) ہے ۔ ہاں! اگر(عالم صاحب یا استاد صاحب،
مَعَاذَ اللہ! یعنی اللہ کریم کی پناہ) شریعت کے خلاف(against) کسی بات کا حکم دیں ، تو ہرگز وہ بات نہ مانے۔
(فتاوی رضویہ ،جلد۲۴، ص۴۱۳، مُلخصاً)
{13} علماء فرماتے ہیں کہ جس سے اس کے استاد صاحب کو کسی طرح کی ایذا (یعنی تکلیف)پہنچے، وہ علمِ دین کی برکتوں (blessings) سے محروم رہے گا۔ (فتاوی رضویہ ،جلد۲۱، ص۴۱۴، مُلخصاً)
{14}عالم صاحب سے غلطی ہو جائے تواس غلطی سے بچنے کا حکم ہے ۔مثلاً اگر غلط مسئلہ بیان کیا تو اُس مسئلے پر عمل نہ کرے بلکہ انتظار(wait) کرے یہاں تک کہ وہ صحیح مسئلہ بیان کریں جیسا کہ حدیث شریف میں ہے (فتاوی رضویہ ،جلد۹، ص۳۶۶، مَاخوذاً):عالم کی غلطی سے بچو اور اس کے رجوع کرنے(مثلاًغلط مسئلہ کی جگہ صحیح مسئلہ بتانے) کا انتظار کرو۔( السنن الکبرٰی للبیہقی کتاب الشہادات دارصادر بیروت ۱۰/ ۲۱۱)
{15} خاتَمُ النَّبِیِّین، اِمامُ الْمُرْسَلین،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نےفرمایا: عالم کا گناہ ایک گناہ ہے اور جاہل کا گناہ دوہرا(double)گناہ ہے۔ عرض کی : یَارَسُوْل َاﷲ ! یہ کس لیے ؟ فرمایا : عالم پر گناہ کرنے کا عذاب ہے اور جاہل پر ایک عذاب گناہ کرنے کا ہے اور ایک علم نہ سیکھنے کا۔
(الجامع الصغیرحدیث ۴۳۳۵دارالکتب العلمیۃ بیروت۲ /۲۶۴)
{16} امامِ اہلسنّت،پیر طریقت، علّامہاحمد رضا خان قادِری رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کچھ اس طرح فرماتے ہیں:جاہل، علم نہ ہونے کی وجہ سے اپنی عبادت میں سو(100)گناہ کرلیتا ہے اور مصیبت یہ کہ انہیں گناہ بھی نہیں جانتا اورعالم دین اپنے گناہ میں ایک حصّہ خوف وندامت کا رکھتاہے (یعنی مَعَاذَ اللہ! ۔اللہ کریم کی پناہ، اگر گناہ ہو جائے تب بھی دل میں اللہ کریم کا ایسا ڈر ہوتا ہے )کہ (وہ ڈر)اُسے(یعنی عالم صاحب کو) جلد نجات بخشتا(یعنی توبہ کی طرف لے آتا) ہے۔اس لیے حدیث میں ارشاد ہوا کہ عالم کاہاتھ،(اللہ) ربّ ُالْعِزّت کے دست قدرت میں ہے اگروہ (عالم)لغزش (غلطی یا گناہ)بھی کرے تو اللہ کریم جب چاہے اسے اٹھالے گا(توبہ کی توفیق عطا فرمادے گا)۔(فتاوی رضویہ ج۲۳،ص۶۸۸،مُلخصاً)
{17}(۱)علم کی مجلس ہو یا آپس میں بات چیت، جہاں پیارے آقا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کا ذکر ہو، چاہے آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کا نام لے یا دوسرے سے سنے درود شریف پڑھنا واجب ہے، اگر اُس وقت نہ پڑھا تو کسی اور وقت میں پڑھ لے (بہار شریعت، ح۳،ص۵۳۳، مسئلہ۱۱۴، مُلخصاً) ۔ہر روز کچھ نہ کچھ درود ِ پاک پڑھنے کی عادت ہونی چاہیے ۔ اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہوگا کہ جہاں پیارے آقا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کا ذکر سن کر درود شریف پڑھنا بھول گئے تھےتو بعد میں پڑھ لینے سے بھی درود شریف پڑھنے کا واجب پورا ہو جائے گا ۔
(۲) حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کا صرف نامِ مُبارک(یعنی مُحَمّد صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ) لینے یا سُننے ہی پر درود شریف پڑھنا واجب نہیں ، بلکہ آپ کے صفاتی نام(مثلاًخاتَمُ النَّبِیِّین صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ) ، اسی طرح کوئی بھی ایسا لفظ جو نبّیِ کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کے لیے بولا جاتا ہو(مثلاً پاکستان ، ہند وغیرہ میں آقا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بولتے ہیں ۔ ہاں! اگر بات کسی اور کے بارے میں ہوئی اور "آقا" بولا گیا تو اب یہاں "آقا" کا لفظ، نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کے لیے نہیں ہوگا) ، ایسے تمام الفاظ بولنےیا سننے سے درود پاک پڑھنا واجب ہے۔
(دارالافتاء اہلسنّت غیر مطبوعہ، فتوی نمبر: nor:9649 ، مُلخصاً)
(۳)عُلَمائے کِرام یہاں تک فرماتے ہیں کہ : اگر ایک مجلس میں حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کا ذکر سو(100) مرتبہ ہو، توہر مرتبہ درود شریف پڑھنا چاہیے (بہار شریعت، ح۳،ص۵۳۳، مسئلہ۱۱۴، مُلخصاً) لہذا اپنی پکّی عادت بنا لینی چاہیے کہ جب بھی پیارے آقا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کا ذکر سنے تو درود شریف پڑھیں۔ نعت شریف پڑھنے سننے والوں کو بھی چاہیے کہ بیچ میں درود شریف پڑھتے پڑھاتے رہیں۔
(۴) درود شریف پڑھنے کی بہت فضیلتیں ہیں@:دُرُود ِپاک کی برکت (blessing)سے اللہ کریم کی رِضا و رَحْمت ملتی@ غضبِ الٰہی(یعنی اللہ کریم کے جلال) سے امان(حفاظت) نصیب ہوتاہے@ دُرودشریف پڑھنا عِبَادت(یعنی ثواب کا کام) ہے(یاد رہے کہ جہاں اللہ کریم کی عبادت کے علاوہ، "عبادت" کا لفظ آئے تو اُس کا مطلب صرف "ثواب "ہوتا ہے یعنی یہ مطلب نہیں ہوتا کہ کسی غیر اللہ کو" خدا" مان کر اُس کا حکم مانا جائے یا اُسے سجدہ کیا جائے یا اُس کی تسبیح کی جائے )@دُرود پڑھنے سے پریشانیوں سے نجات ملتی، دُکھ دور ہوتے، مصیبت ٹلتی اَور رِزْق میں برکت (blessing) ہوتی ہے@دُرود پڑھنے سے دِل پاک ہو تا ہے@دُرود پڑھنے سے دُعا قبول ہوتی ہے@دُرود شریف ہر بھلائی پانے اور ہر بُرائی دور کرنے کا ذریعہ ہے@دُرود پڑھنے والا نَزع (یعنی موت کے وقت)کی سختی سے محفوظ رہے گا@دُرُود پڑھنے والا قِیامت کے دِن سایۂ عرش میں ہو گا@دُرُود پڑھنے والا قِیَامت کی پیاس سے محفوظ رہے گا@دُرُود پڑھنے والے کے لئے(حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کی ) شفاعت واجِب ہو جاتی ہے@ دُرود پڑھنے والا پُل صِراط پر آسانی اور تیزی سے گزرے گا@دُرود شریف پُل صِراط کا نور ہے@کثرت سے دُرود پڑھنے والا قیامت کے دن حُضُور صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے زیادہ قریب ہو گا@دُرود پڑھنے والے سے قِیامت کے دِن ہمارے پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مُصَافحہ فرمائیں (یعنی ہاتھ مِلائیں)گے۔ ( آب کوثر، ص ۸تا۱۴ملخصاً، مکتبۃ المدینہ کراچی) لہذا ہمیں چاہیے کہ روزانہ وقت طےکر کے ایک مخصوص تعداد میں درود شریف پڑھا کریں (مثلاً فجر کے بعد 50 مرتبہ)۔ یاد رہےکہ اُمت پر پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا حق(right) ہے کہ اُمتی آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر درود شریف پڑھے۔(سیرتِ مصطفٰی، ص۸۴۷، ملخصاً)
(۵)گاہک(customer) کو سودا (goods)دکھاتے وقت تاجر(trader) کا اس لیے دُرود شریف پڑھنا یا سُبْحَانَ ﷲ !کہنا ،ناجائز (اور گناہ)ہےکہ (ان الفاظ سے)اس چیز کی عمدگی(یعنی اچھا ہونا) خریدار (customer) کو پتا چلے۔(بہار شریعت، ح۳،ص۵۳۳، مسئلہ۱۱۴، مُلخصاً)
(۶)بہت سے لوگ دُرود شریف کے بدلے صلعم، عم، ؑ ، لکھتے ہیں، یہ ناجائز و سخت حرام ہے۔اسی طرح رَضِیَ اللہُ عَنْہ کی جگہ ؓ ، رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی جگہ ؒ ، لکھتے ہیں، ایسا بھی نہیں لکھنا چاہیے۔(بہارِ شریعت ح۳،ص ۵۳۴، مسئلہ ۱۱۷، مُلخصاً)
علم کے حقوق(rights) :
{1} فرمانِ آخری نبی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: قیامت کے دن بندہ اس وقت تک قدم نہ اُٹھا سکے گا جب تک اس سے پانچ چیزوں کے بارے میں سوال نہ کرلیاجائے:
(۱)عمر کن کاموں میں گزاری
گزاری (۲)جوانی کن کاموں میں صرف کی
(۳)مال کہا ں سے کمایا اور
(۴)کہاں خرچ کیااور
(۵)اپنے علم پر کہاں تک عمل کیا۔
(جامع الترمذی، ابواب صفۃ القیامۃ، باب فی القیامۃ، الحدیث: ۲۴۱۷،ص۱۸۹۴
{2} دُعائے مُصطفیٰ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ عِلْمٍ لَایَنْفَعُ وَمِنْ قَلْبٍ لَایَخْشَعُ وَمِنْ نَفْسٍ لَاتَشْبَعُ وَمِنْ دَعْوَۃٍ لَایُسْتَجَابُ لَھَا۔ یعنی اے اللہ ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں ایسے علم سے جو نفع نہ دے، ایسے دل سے جو عاجزی نہ کرے ( یعنی جو دل نرم نہ ہو) ، ایسے نفس سے جو سَیر نہ ہوتا (یعنی لالچ میں رہتا)ہو اور ایسی دعا سے جو قبول (accept)نہ ہو ۔(صحیح مسلم، کتاب الذکر والدعاء، باب فی الادعیہ، الحدیث: ۶۹۰۶،ص۱۱۵۰)
{3} فرمانِ نبّیِ کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: جو بندہ لوگوں کووعظ (بیان)اورنصیحت کرتا ہے، اللہ کریم اس سے پوچھ گچھ ضرور فرمائے گا"۔ راوی(یہ حدیث بیان کرنے والے) کہتے ہیں میرا خیال ہے کہ یہ بھی ارشاد فرمایا :یہ ضرور پوچھے گا کہ تو نے اس وعظ (یعنی بیان کرنے)سے کیا نیّت کی تھی۔
(شعب الایمان،باب فی نشر العلم، الحدیث: ۱۷۸۷،ج۲،ص۲۸۷)
{4} احکامِ الہی(یعنی دین کے بتائے ہوئے مسائل) میں چُوں وچرا (اعتراض وغیرہ)نہیں کرتے۔
(فتاوی رضویہ ،جلد۱۳، ص۲۹۷)
{5}اگر کوئی عالم نہ ہو تو اس کا عُلَمائے کِرام سے مسائل پوچھتے رہنا، ان کے پاس جانا آنا اُسے شرعی غلطیوں سے بچاتا ہے ۔جیسا کہ امامِ اہلسنّت، اعلیٰ حضرت، پیر طریقت، حضرت علَّامہ مولانا ، اماماحمد رضا خان قادِری رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے ایک نکاح خواں(یعنی نکاح پڑھانے والے) کی غلطی پر کچھ اس طرح فرمایا: ان غلطیوں کی وجہ وہی جہالت (یعنی علم نہ ہونا) ہے اوراس کے علاوہ (other) بہت سی غلطیوں کا اندیشہ(یعنی خطرہ) ہے کہ جن (غلطیوں) کو عُلَمائے کِرام ہی جانتے ہیں یا وہ نیک توفیق والے جانتے ہیں کہ جنھیں عُلَمائے کِرام کی خدمت وصحبت (یعنی عُلَمائے کِرام کے پاس جانے والے)اور ان سے مسائل دینیہ سیکھنے کا مکمل شوق ہے(یعنی عُلَمائے کِرام کے پاس جا کر مسائل سیکھنے والے شرعی غلطیوں سے بچ جاتے ہیں) ۔ (فتاوی رضویہ جلد۱۱،ص۱۹۰، مُلخصاً)
{6}بغیر علم کے فتویٰ دینے والے کو چاہیے کہ اس پر جو حکم لگتا ہے، وہ اس حدیث سے سمجھ لے(فتاوی رضویہ ،جلد۱۳، ص۱۲۴، مُلخصاً): بے علم(نے) فتویٰ دیا تو خود بھی گمراہ ہوا اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا۔ ( صحیح مسلم کتاب العلم،ج ۲ ، ص۳۴۰)
{7} (۱)اگر کوئی بیان کرنے والا، اپنا بیان اللہ کریم کی رضا(یعنی خوشی) کے لیے کرتا ہے، نہ تو اس بیان کی وجہ سے پیسے حاصل کرنے کی نیّت ہو اور نہ ہی اس سے مشہور ہونے کی خواہش (desire)ہواور اس کا بیان شریعت کے مطابق ہو یعنی وہ شخص اتنا علم رکھتا ہو کہ جس سے اسے وعظ (یعنی بیان)کرنےکی اجازت ہو، جب تو ظاہر ہے کہ ایسا بندہ ہادی ِراہِ ہُدٰی(یعنی سیدھے راستے کی طرف رہنمائی (guidance) کرنے والا ) ہے۔ اس کا وعظ کہنا (یعنی بیان کرنا) اس کے اپنے لیے اور سننے والے سب مسلمانوں کے حق میں بہتر ہے۔
(۲) اور اگر ان باتوں سے کوئی بات کم ہے مثلاً علم دین کافی (enough)نہیں یا () کوئی غلط نیّت ہو یا() اُس شخص کا عقیدہ ہی غلط ہو جس کی وجہ سے اُس کا بیان شریعت کے خلاف (against)ہو جب تو ظاہر کہ اس کا وعظ(یعنی بیان) اس کےاور سننے والے سب مسلمانوں کے حق میں برا ہے۔
(۳) اور(سُنی صحیحُ العقیدہ عالم ہو، دین کا علم بھی اچھا ہو مگر) مال یا شہرت (عزّت یا واہ، واہ )حاصل کرنا چاہتا ہو تو پھر بھی سُننے والے مسلمانوں کےلئے اس کا وعظ فائدہ مند(gainful) ہی ہے(کہ اللہ کریم کی رضا کے لیے سُننے والوں کو ثواب ہی ملے گا ) مگر خود اس (بیان کرنے والے)کے حق میں سخت مُضِر(یعنی نقصان دہ) ہے۔ عُلَمائے کِرام فرماتے ہیں کہ ایسی نیّت سے بیان کرنا گمراہی اور یہود(jews) ونصارٰی(عیسائیوں۔ christians) کا طریقہ ہے۔(فتاوی رضویہ ج۱۳،ص۲۰۰،۱۹۹،مُلخصاً)
{8} حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نےفرمایا:علم ا س لئےمت سیکھوکہ اس کےذریعےتم علماءپرفخرجتاؤ(یعنی اتراؤ) یاجاہلوں سے جھگڑو۔اورنہ اس لئےعلم سیکھوکہ اس کےذریعےمجلسوں میں مقام ومرتبہ(rank) حاصل کرو اور جو اس (یعنی ان غلط نیّتوں میں سے کسی) نیّت(intention) سے علم حاصل کرے گاتو اس کے لئے جہنّم کی آگ ہے ۔)ابن ماجہ، المقدمة،باب الانتفاع بالعلم والعمل ،۱/ ۱۶۵،حديث :۲۵۴
{9}فخر اور غرور(pride) کی وجہ سے اپنے آپ کو عالم کہنا حرام ہے جیسا کہ حدیث شریف میں ہے: جس نے اپنے آپ کو عالم کہا تو وہ جاہل ہے (المعجم الاوسط حدیث ۶۸۴۲ مکتبہ المعارض ریاض ۷ /۴۳۳) ۔ہاں! اگر اپنے آپ کو عالم، فخر اور غرور کی وجہ سے نہ کہا تو اب اپنے آپ کو عالم کہنا جائز ہے۔(فتاوی رضویہ ،جلد۲۱، ص۳۹۵، مُلخصاً)
{10}(۱)امام غزالی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کچھ اس طرح فرماتے ہیں: اگر کوئی ایسا طالبِ علم پایا جائے جواللہ کریم کی رضا اور اس کا قرب پانے (یعنی اس کی رحمت سے قریب ہونے)کے لئے علم سیکھنا چاہتا ہو تو ایسے طالب ِعلم سے دوری اختیار کرنا (یعنی اُسے علم کا مسئلہ یا کوئی بات سمجھانے یا سیکھانے کے لیے وقت دے سکتے ہوں پھر بھی اُس کے پوچھنے پر وقت نہ دینا)اور اس سے علم کو چھپانا کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔ایسے طالبِ علم زیادہ نہیں ہوتے، بڑے شہروں میں ان کی تعداد ایک ،دو سے زیادہ ملنا مشکل ہے۔(احیاء العلوم مترجم، ج۲،ص۸۵۸،مُلخصاً)
(۲) فرمانِ آخری نبی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: جس سے علم کی کوئی بات پوچھی گئی اور اس نے اسے چھپایا تو اللہ کریم قیامت کے دن اسے آگ کی لگام(bridle) پہنائے گا۔
(سنن ابن ماجہ،ابواب الطھارۃ، باب من سئل من علم فکتمہ ، الحدیث:۲۶۴، ص۲۴۹۳)
{11} امام ابویوسف رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ سے مسئلہ پوچھا گیا وہ سیدھے بیٹھ گئے ، عمامہ باندھااور چادر اوڑھ کر فتوی دیا یعنی دینی مسئلے کی عظمت (اور عزّت ) کا خیال رکھا (الفتاوی الھندیۃ،کتاب آدب القاضی الباب الاول،ج۳،ص۳۱۰) ۔آج کے دور میں جب کہ علمِ دین کی اہمیت(importance)لوگوں کے دلوں میں بہت کم باقی ہے، اہلِ علم کو اس قسم کی باتوں کی طرف توجُّہ(attention) کی بہت ضرورت ہے جن سے علم کی عظمت(اور عزّت) پیدا ہو۔سب سے بڑھ کر جو چیز تجربہ(experience) میں آئی ہے وہ یہ کہ اہلِ دنیا کو ایسا نہ لگے کہ علم والوں کوان دنیا والوں کی ضرورت ہے کیونکہ جب یہ بات سامنے آئے گی تو علم کی اہمیت(importance)ختم ہو جائے گی ۔
(بہار شریعت ح۱۲،ص۹۱۲،مسئلہ۲۱، مُلخصاً)
نوٹ:علم نہ ہونےکی وجہ سے ہونے والے گناہوں کی تفصیل جاننے کےلئےفتاوی رضویہ ج۲۱،۲۲،۲۳،۲۴ کو پڑھ لیجئے۔
باطنی آداب:
امام غزالی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے انداز(style)کو دیکھتے ہوئے یہاں عبادتوں کے "باطنی آداب" بھی بیان کیے جارہے ہیں: علم حاصل کرنے کے باطنی آداب :
{1} فرمانِ مصطفیٰ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:علم سیکھنے سے ہی آتاہے اورفقہ(یعنی دین کی سمجھ) غوروفکرسے حاصل ہوتی ہے اور اللہ کریم جس کے ساتھ بھلائی کاارادہ فرماتا ہے اسے دین میں سمجھ بوجھ عطافرماتاہے اور اللہ کریم سے اس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں جوعلم والے ہیں۔ (المعجم الکبیر،الحدیث:۷۳۱۲،ج۱۹،ص۵۱۱)
{2} امام غزالی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کچھ اس طرح فرماتے ہیں: علم سیکھنے (کے عمل/کام) کو دو طرح سے دیکھا جائے یعنی علم سیکھنا، ایک طرف اللہ کریم کی عبادت اور دوسری طرف اللہ کریم کی (طرف سے)خلافت ہےمگر صحیح بات یہ ہے کہ علم سیکھنا،اللہ کریم کی بہت بڑی خلافت ہے کیونکہ اللہ کریم عا لِم کے دل پر اپنی سب سے خاص صفت(یعنی علم ) کو کھول دیتا ہے۔ عالم، اللہ کریم کے بہترین خزانوں (treasures) کا خازن (خزانچی ۔treasurer) ہے اور اسے (یعنی عالم کو) اس خزانے(treasure) کو ہر ضرورت مند (needy) پر خرچ(spend) کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے لہٰذا اس سے بڑھ کر کیا رتبہ(rank) ہو سکتا ہے کہ بندہ اپنے ربّ اور اس کی مخلوق کے درمیان واسطہ بن کر بندوں کو اللہ کریم کے قریب کردے اور جنّت کی طرف لے جائے۔(احیاء العلوم مترجم، ج۱،ص۷۰،مُلخصاً)
{3}امام شافعی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ صوفی بزرگ شَیْبَان رَاعِی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے سامنے اس طرح بیٹھتے جس طرح طالبِ علم بیٹھتا ہے اور پوچھتے کہ ’’ اِس اِس معاملے کا حکم کیا ہے؟‘‘ کسی نے آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَـیْہ سے عرض کی: حضور! آپ جیسا عظیم شخص اس بدوی(گاؤں میں رہنے والے) سے پوچھتا ہے؟ تو آپ نے کچھ اس طرح فرمایا: بے شک انہیں وہ چیز (علم وعمل سے) ملی ہے جو ہمیں نہیں ملی ۔(قوت القلوب، الفصل الحادی والثلاثون، ج۱، ص۲۷۰،مُلخصاً)
{4}حضرت جنید بغدادی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں : ایک دن مجھ سے میرے شیخ حضرت سَرِی سَقَطِی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے پوچھا کہ جب تم میرے پاس سے جاتے ہو تو کس کے پاس جاتے ہو؟ میں نے عرض کی: حضرت مُحَاسِبِی کے پاس۔فرمانے لگے:ٹھیک ہے، ان سے علم وادَب سیکھنا اور جب وہ علمِ کلام پر باتیں کریں(یعنی عقیدے کی باریک اور عقلی باتیں، ان پر ہونے والے اعتراض اور جواب سکھانے لگیں) توانہیں (یعنی اُس محفل کو) چھوڑ دینا۔ جب میں واپس جانے لگا تو میں نے سنا، حضرت سَرِی سَقَطِی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ دعا کررہے تھے کہ اللہ کریم تجھے (قرآن و) حدیث(کا علم رکھنے) والا صوفی بنائے اور ایسا صوفی نہ بنائے جو(بعد میں) حدیث(کا علم) حاصل کرے۔(قوت القلوب، الفصل الحادی والثلاثون، ، ج۴۱، ص۲۵۲،مُلخصاً)
{5} جب مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ،امیرُالمؤمنین حضرت عمرفاروق رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ کا انتقال ہوا تو حضرت عبدُاللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہ عَنْہ نے فرمایا: علم کے دس(10) حصّوں میں سے نو(9)حصّے اُٹھ گئے۔ کسی نے عرض کی: حضور! آپ یہ کیا فرمارہے ہیں۔ ہمارے درمیان تو اب بھی بڑے بڑے صحابہ(رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمْ) موجود ہیں!!! تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ نے فرمایا: میں فتویٰ اور احکام (یعنی دینی مسائل)کے علم کی بات نہیں کر رہا بلکہ میری مراد معرفتِ الٰہی (یعنی اللہ کریم کی پہچان کرانے والا علم)ہے (المعجم الکبیر، الحدیث:۸۸۱۰، ج۹،ص۱۶۳، باختصارٍ)۔
()امام غزالی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں: شہرت اس(علم) میں ہوتی ہے (یعنی آدمی اُس علم سے مشہور ہوتا ہے کہ)جو ہلاکت وبربادی کا سبب ہوتا ہے اور فضیلت اس(علم) کی وجْہ سے ہوتی ہے جو ایک راز(secret) ہوتا ہے جس کی کسی کو خبر نہیں ہوتی۔(احیاء العلوم مترجم، ج۱،ص۹۸)
{6} امام شافعی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے رات کو تین (3)حصّوں میں تقسیم(divide) کر رکھا تھا: ایک تہائی (one third) علم کے لئے، ایک تہائی (33%)عبادت کے لئے اور ایک تہائی (33%) آرام کے لئے۔(حلیۃ الاولیاء، الامام الشافعی، الحدیث:۱۳۴۳۱، ج۹، ص۱۴۳)
{7} حضرت حسن کَرَابِیْسِی رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَـیْہ کہتے ہیں کہ میں نے امام شافعی رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَـیْہ کے ساتھ کئی راتیں گزاری ہیں ۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَـیْہ تقریباً ایک تہائی(one third) رات نماز پڑھتے تھے اور میں نے انہیں 50 سے زیادہ آیتیں پڑھتے نہیں دیکھا، اگر زیادہ پڑھتے تو سو( 100)پڑھ لیتے اور کسی بھی آیت ِ رحمت پر پہنچتے تو اللہ کریم سے اپنے لئے اور تمام مسلمانوں کے لئے رحمت کی دعا مانگتے اور جب بھی کوئی عذاب والی آیت پڑھتے(یعنی جس آیت میں عذاب کا ذکر ہو) تو عذاب سے پناہ مانگتے پھر اپنے اور تمام مسلمانوں کے لئے عذاب سے بچنے کی دعا مانگتے تھے(معرفۃ السنن والاثار، مقدمۃ المؤلف،ج۱،ص۱۱۵) یعنی وہ آیتیں پڑھتے تو ان پر غور بھی کرتے تھے۔
{8} امام شافعی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ جو اپنے نفس کی نگہبانی(حفاظت) نہیں کرتا اس کا علم اسے فائدہ نہیں دیتا ( الفقیہ والمتفقہ، الرقم:۱۳۹، ج۱، ص۱۵۱) اورجو اپنے علم کے مطابق اللہ کریم کی اطاعت (یعنی فرمانبرداری۔ obedience) کرے گا اس کا پوشیدہ (یعنی چھپا ہوا)علم(بھی) اسے فائدہ دے گا۔(حلیۃ الاولیاء، الحدیث:۱۳۳۳۴، ج۹، ص۱۲۴)
{9} حضرت سَعد بن ابراہیم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ سے پوچھا گیا کہ:اہلِ مدینہ(یعنی مدینے شریف) میں( اس وقت) سب سے بڑا فقیہ(یعنی عالم) کون ہے؟ ۔فرمایا: وہ جو ان (علمائے کرام)میں سے اللہ کریم سے زیادہ ڈرتا ہے۔
( سنن الدارمی، الرقم:۲۹۵، ج۱، ص۱۰۱)
{10} (۱)روایت ہے پیارے آقاصَلَّی اللّٰہُ عَلَـیْہِ ٖ وَسَلَّم نے فرمایا:(اگر)تم میں سے کوئی لوگوں کے سامنے ایسی بات بیان کرے جسے وہ سمجھ نہ پائیں تو وہ(بات) ان (لوگوں)کے لئے فتنہ ہے۔
(صحیح مسلم، الحدیث:۵، ص۹۔ الرقم:۱۲۰۲، عثمان بن داود، ج۳، ص۹۳۷)
(۲) دوسری روایت میں ہے کہ:لوگوں سے وہی باتیں کرو جنہیں وہ مان لیں اور وہ باتیں نہ کرو جن کا وہ انکار (denial) کریں ۔ کیا تم چاہتے ہو کہ اللہ کریم اور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ عَلَـیْہِ وَسَلَّم کی تکذیب ہو؟(یعنی مَعَاذَ اللہ! ۔اللہ کریم کی پناہ، انہیں جُھٹلایا جائے اور اُن کا انکار کیا جائے!!!)
(صحیح البخاری،کتاب العلم،،ج۱،ص۶۷۔ الجامع لاخلاق الراوی وآداب السامع، الحدیث:۱۸، ج۲، ص۱۰۸)
(۳)امام غزالی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں: یہ ارشاد ان باتوں کے بارے میں ہے جنہیں خود کہنے والا سمجھتا ہو مگر سننے والے کی عقل وہاں تک نہ پہنچے، تو پھر ان باتوں کو بیان کرنے کا کیا حال ہوگا جنہیں خود کہنے والا ہی نہ سمجھے۔(احیاء العلوم مترجم، ج۱،ص۹۸)
{11} علم کثرتِ روایت (بہت ساری چیزیں بیان کر دینے)کا نام نہیں بلکہ علم تو ایک نور ہے جو دل میں رکھا جاتا ہے۔(احیاء العلوم مترجم، ج۱،ص۱۷۵)
{12}اللّٰہ کریم کے حرام کردہ کاموں سے بچتے رہواور فرائض کو پاپندی(punctuality) سے پورا کرتے رہو عقل مند(sensible) ہوجاؤ گے۔(احیاء العلوم مترجم، ج۱،ص۲۹۲)
{13}جس شخص کی دل کی نگاہ صحیح نہ ہو اسے دین سے صرف چھلکے حاصل ہوتے ہیں مگر دین کا مغز(یعنی دینی تعلیم کی روح) اور حقائق (یعنی دین کی حقیقی تعلیم)حاصل نہیں ہوتے۔(احیاء العلوم مترجم، ج۱،ص۲۹۵، مُلخصاً)
{14} امام شعبی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے فرمایا: ’’ لَا اَ دْرِی (یعنی میں نہیں جانتا) ‘‘ ، آدھا علم ہے اور معلوم نہ ہونے کی صورت (case) میں جواب نہ دینے والا بھی ثواب میں جواب دینے والے سے کم نہیں کیونکہ یہ بات مان لینا کہ مجھے اس بات کا علم نہیں ، یہ ایک شخص کے نفس پر(اسکے اپنے اوپر) بہت بھاری ہوتا ہے۔
( سنن الدارمی، المقدمۃ، الحدیث:۱۸۰، ج۱، ص۷۴،مُلخصاً)
{15} (۱)امام غزالی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی تعلیمات(teachings) یہ ہیں کہ علم سیکھنے والوں میں ایک برائی یہ بھی ہے کہ وہ وہی علم سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ جس سے لوگوں میں واہ، واہ ہو، تو سیکھنے والے ایسا علم سیکھنے میں اُس علم کو چھوڑ دیتے ہیں کہ جس کا سیکھنا ضروری ہے۔ یہ ایک دھوکہ ہے ، علمِ دین حاصل کرنے والے کو اس سے بچنا ضروری ہے۔ (اسکی تفصیل(detail) جاننے کے لیے پڑھیں احیاء العلوم مترجم، ج۱،ص۹۰،۹۱)
(۲) فرضِ کفایہ (یعنی وہ علم کہ معاشرے(society) میں کچھ نہ کچھ لوگ اُسے جانتے ہوں، اس) علم (کو) حاصل کرنے میں(بھی) وہ(ہی) مصروف (busy)ہو کہ جو فرضِ عین علوم(یعنی وہ علم جس کا سیکھنا ہر شخص پر فرض ہو ) کو حاصل کرچکا ہو ۔ جو فرضِ عین علم چھوڑ کر فرضِ کفایہ علم حاصل کرنے پر یہ کہے کہ میرا مقصد (aim) تو حق بات سیکھنا ہے، تو ایسا شخص بڑاجھوٹا ہے۔(احیاء العلوم مترجم، ج۱،ص۱۵۸،۱۵۷، مُلخصاً)
(۳) امامِ اہلسنّت، اعلیٰ حضرت، پیر طریقت، حضرت علَّامہ مولانا ، اماماحمد رضا خان قادِری رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں:جوفرض چھوڑ کر نفل میں مشغول(مصروف۔busy) ہو حدیثوں میں اس کی سخت برائی آئی اور اس کا وہ نیک کام مردود(rejected) قرارپایا، نہ کہ فرض چھوڑ کر فضولیات میں وقت گنوانا(یعنی فرض چھوڑ کر تو نفل عبادت نہیں کر سکتے تو پھر فضول کام کیسے کر سکتے ہیں!!!)، غرض یہ علوم ضروریہ(یعنی فرض علوم) تو ضرور (دیگر تمام علوم سے)مُقَدَّم(یعنی پہلے) ہیں اور ان سے غافل ہوکر ریاضی (mathematics)، ہندسہ (digits)، طبعیات(physics) ، فلسفہ (philosophy)یادیگر خرافات ( یعنی بے کار فنون) وفلسفہ پڑھنے پڑھانے میں مشغولی(مصروف(busy) ہونا)بلاشبہہ(یعنی بے شک) مُتَعَلِّم ومدرس(پڑھنے اور پڑھانے والے) دونوں کے لئے حرام ہے اور ان ضروریات(یعنی فرض علم) سے فراغ (یعنی مکمل کرنے)کے بعد پوراعلمِ دین، فقہ(یعنی شرعی مسائل)، حدیث، تفسیر(یعنی قرآن شریف کے معنی ٰ ، مطلب، شرح،وضاحت سمجھانا)،عربی زبان اس کی صَرف(عربی صیغوں، tenses وغیرہ کا علم)، نحو(عربی گرامر(grammar) کاعلم)، مَعانی(ایسا علم کہ جس سے پتا چلے کہ کس صورت (condition)میں کس طرح بات کرنی ہے)، بَیان(ایسا علم کہ جس سے پتا چلے کہ کس جگہ کونسے الفاظ سے بات کرنی ہے اور کونسا لفظ نہیں بولنا)، لُغت(عربی کے الفاظ معنی کا علم) ، ادب (عربی جملوں کا علم)وغیرہا آلات عُلومِ دینیہ(یعنی وہ فن یا علم جسے سیکھ کر قرآن وحدیث سمجھا جاسکے) بطور آلات (کہ قرآن وحدیث سمجھا جاسکے، اتنا)سیکھنا سکھانا’’ فرض کفایہ ‘‘ ہے۔(فتاوی رضویہ، جلد۲۳،ص۶۲۷)
طہارت کے باطنی آداب :
{1} امام غزالی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں :ہر عُضْو(یعنی جسم کا حصّہ) دھوتے وقت یہ اُمّید (hope)کرتا رہے کہ میرے اِس عُضْو (یعنی اس حصّے)کے گناہ نکل رہے ہیں ۔(اِحیاءُ الْعُلوم ج۱ص۱۸۳ مُلَخَّصاً )
{2} اعضاء (یعنی جسم)کی باطنی طہارت(یعنی پاکیزگی) کے دو(۲) درجے(levels) ہیں :(۱) دین نے جن باتوں سے منع کیا، ان باتوں سے انہیں پاک رکھنا اور (۲) دین نے جن باتوں کو کرنے کا حکم دیا، ان باتوں میں انہیں مصروف(busy) رکھنا۔(احیاء العلوم مترجم، ج۱،ص۳۹۷، مُلخصاً)
{3} کوئی شخص بھی اس وقت تک اپنے باطن(یعنی اپنی سوچ) کو برائیوں سے پاک اور اچھے خیال والا نہیں بنا سکتا جب تک کہ اپنے دل کو بری عادتوں(مثلاً حسد، بد گمانی، تکبُّر وغیرہ) سے پاک کر کے اچھے اخلاق والا نہ بن جائے۔ جو شخص اپنے جسم کو دین کی منع کی ہوئی باتوں سے پاک کر کے عبادت میں نہیں لگا دیتا، اس وقت تک وہ بڑے مقام (rank)والا نہیں ہوسکتا۔(احیاء العلوم مترجم، ج۱،ص۳۹۸، ماخوذاً)
{4} علم وعمل والے شخص کو کم سے کم وقت صاف صفائی(بننے سنورنے/زینت) میں لگانا چاہیے تاکہ اس وقت کا دوسرے اچھے کاموں میں استعمال کیا جاسکے ۔ ایسے لوگوں کے لیے اس طرح کے کاموں میں زیادہ وقت لگانا اچھا نہیں ہے، انہیں چاہیے کہ اپنا زیادہ سے زیادہ وقت علم و عمل میں استعمال کریں
(احیاء العلوم مترجم، ج۱،ص۴۰۲،ماخوذاً)
{5}(۱)اُمُّ الْمُؤمنین حضرتِ عائشہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا فرماتی ہیں کہ ایک بار حجرۂ مبارکہ (یعنی آپ کی رہائش گاہ (accommodation) جو کہ ایک کمرے کی تھی)کے پاس کچھ لوگ جمع ہوئے، پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَـیْہِ وَسَلَّمان کی طرف تشریف لے جانے لگے تو آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَـیْہِ وَسَلَّم نے مٹکے میں موجودپانی میں اپنا چہرہ دیکھ کر سر اور داڑھی کے بالوں پر ہاتھ پھیرا۔ حضرتِ عائشہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کی: یَارَسُوْلَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَـیْہِ وَسَلَّم ! کیاآپ بھی ایسا کررہے ہیں ؟ تو فرمایا:ہاں ! اللّٰہ کریم اپنے بندے کو پسند فرماتا ہے کہ جب وہ اپنے (مسلمان) بھائیوں کے پاس جائے تو بن سنور کر (یعنی اچھی حالت میں)جائے۔(قوت القلوب، الفصل الثالث والثلاثون ، ج۲، ص۲۴۳، بالتغیر)
(۲)امام غزالی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کچھ اس طرح فرماتے ہیں:اس نیّت (intention) سے زینت کرنا (مثلاً اچھے لباس پہننا) اچھا کام ہے اور لوگوں میں خود کو زاہد (یعنی دنیاوی چیزوں سے دور) بتانے کے لئے داڑھی کو صاف کیے بغیر رکھنا منع ہے )یعنی لوگوں کے سامنے نیک بننے، دنیا سے دور رہنے والا نظرآنے کے لیے صاف صفائی چھوڑ نا، منع ہے)۔(
(احیاء العلوم مترجم، ج۱،ص۴۳۳،مُلخصاً)
(۳)حضرت بشر بن حارث حافی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کچھ اس طرح فرماتے ہیں: داڑھی کے معاملے میں دو کام، ایک دوسرے سے مختلف(different) ہیں ، مگر نیّتوں کی خرابی کی وجہ سے دونوں آخرت خراب کرنے والے ہیں : (پہلا)لوگوں کے دلوں میں اپنی عزّت پیدا کرنے کے لیے کنگھی کرنا (آخرت خراب کرنے والا کام ہے)اور (دوسرا) اس لیے کنگھی نہ کرنا تاکہ دوسروں کو پتا چلےکہ میں نیک اور دیندار ہوں(یہ بھی آخرت خراب کرنے والا کام ہے)۔(قوت القلوب، الفصل السادس والثلاثون، ج۲،ص۲۴۲، عن سری السقطی،ماخوذاً)
{6} امام غزالی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کچھ اس طرح فرماتے ہیں:وُضو کرنے کے بعد جب کوئی نَماز پڑھنا چاہے تو سوچے کہ میرے جسم کے جو حصّے لوگوں کو نظر آتے ہیں، وہ تو میں نے صاف کر لیے مگر دل کی حالت(condition) تو اللّٰہ کریم کے سامنے ہے، اسے پاک کئے بِغیر اللّٰہ کریم کو سجدہ کرنا کیسا؟(لہذا نمازی کو چاہیے کہ جسم صاف کرنے کے ساتھ دل صاف کرنے کی کوشش کرتا رہے لیکن نماز پڑھتا رہے)مزید اس طرح فرماتے ہیں کہ دل کی پاکی ، توبہ کرنے اور گناہوں کو چھوڑ کر اچھے اَخلاق اپنانے سے ہوتی ہے ۔جو شخص اپنےدل کو (باطنی)گناہوں سے نہیں بچاتا( مثلاً حسد یا بدگمانی یا تکبُّر وغیرہ کرتا ہے) اور صرف اپنا جسم صاف کر لیتا ہے تواُس کی مثال اُس شخص کی طرح ہے کہ جو بادشاہ کو اپنے گھر دعوت پر بُلائے اور اپنے گھر کو باہَر سے اچھی طرح صاف کرے بلکہ رنگ بھی کرے مگر مکان کے اندر صفائی بالکل بھی نہ کرے تو بادشاہ دعوت میں بُلانے والے کے گھر جا کر خوش ہوگا یا ناراض؟ ہر عقلمند(sensible) آدمی اس بات کو سمجھ سکتا ہے۔ (احیاء العلوم، ج۱،ص۱۸۵مَاخوذاً)
نماز کے باطنی آداب :
{1}پہلے کی کتابوں میں ہے کہ اللّٰہ کریم فرماتاہے:میں ہر نمازی کی نماز قبول (accept)نہیں کرتا بلکہ میں اس (شخص)کی نماز قبول کرتا ہوں جو میری عَظَمت (یعنی بزرگی)کے سامنے عاجزی(اور نرمی) کرے اور میرے بندوں پر بڑائی نہ چاہے(فخر(proud) نہ کرے) اور میری رضا کے لئے فقیر کو کھانا کھلائے۔
(کنزالعمال، کتاب الصلٰوۃ، الحدیث:۲۰۱۰۰، ج۷، ص۲۱۴، باختصار)
{2} فرمانِ آخری نبی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:اللّٰہ کریم ایسی نماز کی طرف نظر نہیں فرماتا جس میں بندہ اپنے جسم کے ساتھ(تو ہو مگر) دل کو حاضر نہ کرے۔(کتاب الفقہ علی المذاھب الاربعۃ، کتاب الصلاۃ، ج۱، ص۱۵۸)
{3} فرمانِ مُصطفیٰ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:کتنے ہی قیام کرنے(یعنی نماز میں کھڑے ہونے) والے ایسے ہیں کہ جنہیں نماز سے سوائے (except)تھکاوٹ اور مشقت (یعنی محنت) کے کچھ (بھی)حاصل نہیں ہوتا(سنن ابن ماجہ،کتاب الصیام، الحدیث: ۱۶۹۰، ج۲، ص۳۲۰)۔ امام غزالی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں :اس سے آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَـیْہِ وَسَلَّم کی مراد غافل (توجُّہ کے بغیر نماز پڑھنے والے)نمازی ہیں (احیاء العلوم مترجم، ج۱،ص۴۹۶) ۔یہ فرمان شریف نمازیوں کو توجّہ دلانے والے ہے مگر اس طرح نماز پڑھی تو یہی کہا جائے گا کہ نماز ہوگی(جبکہ کسی دوسری وجہ سے نماز میں خرابی نہ آئے)۔
{4}حضرت ابراہیم عَلَـیْہِ السَّلَام جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے توآپ کے دل کی دھڑکن(یعنی آواز) دومیل کی دوری سے (بھی) سنائی دیتی۔(الجامع لاحکام القرآن، پ۱۱، سورۃ براء ۃ، تحت الآیۃ:۱۱۴، ج۸، ص۱۵۹)
{5} جب نماز کا وقت آتا تو مسلمانوں کے چوتھے خلیفہ، اَمیرُالْمُؤمنین حضرت علی رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ کانپنے لگتے(start trembling) اور چہرے کا رنگ بدل جاتا۔ عرض کی جاتی:اے امیر المؤمنین رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ! آپ کو کیا ہوا؟ تو فرماتے: ایسا وقت آیا ہے جو امانت (پوری کرنے کا) ہے۔ اس امانت کو اللّٰہ کریم نے زمین وآسمان اور پہاڑوں پر پیش کیاتو انہوں نے اسے اٹھانے سے انکار (منع)کردیا اور ڈر گئے جبکہ ’’ میں ‘‘ (یعنی ابنِ آدم) نے اسے اٹھا لیا۔ (روح المعانی، الجزء الثانی والعشرون، سورۃ الاحزاب:۷۳، ص۳۷۳)
{6} امام غزالی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں :جو نمازی نماز کے رکوع اورسجدے مکمل (یعنی صحیح)طور پر ادا نہ کرے تو (قیامت کے دن) اس کا سب سے پہلا دشمن وہی نماز ہوگی (احیاء العلوم مترجم، ج۱،ص۴۹۴)اور کہے گی: اللّٰہ کریم تجھے ضائع (waste)کرے جیسے تو نے مجھے ضائع کیا۔(شعب الایمان للبیہقی،الحدیث:۳۱۴۰،ج۳،ص۱۴۳)
{7} جب پیارے آقاصَلَّی اللّٰہُ عَلَـیْہِ ٖ وَسَلَّم نے حضرت اَبُوجَہْم رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ کی تحفے میں دی ہوئی بیل بوٹوں والی چادر میں نماز پڑھی تونماز کے بعد اُسے اتار دیا اور فرمایا:یہ چادر اَبُوجَہْم کے پاس لے جاؤ کیونکہ اس نے مجھے ابھی نماز سے مشغول (مصروف۔ busy)رکھا اور اَبُوجَہْم کی سادہ چادر مجھے لا دو (صحیح مسلم،کتاب المساجد ومواضع الصلاۃ، الحدیث: ۵۵۶، ص۲۸۰، مفہومًا) ۔ عُلَمائے کِرام فرماتے ہیں: خیال رہے کہ یہ سب اپنی اُمّت کی تعلیم سکھانے) کیلئے ہے ۔ پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَـیْہِ ٖ وَسَلَّم کے برکت والے دل کی شان الگ ہے ، کبھی نماز کی وجہ سے خوبصورت کپڑوں کو دور فرما رہے ہیں اور کبھی میدان جہاد میں تلواروں کے سایہ میں نماز پڑھنے میں کوئی فرق نہیں آتا۔ کبھی بشریت شریف (یعنی انسان ہونے)کی طرف توجُّہ(attention) تو کبھی نورانیت کی شان نظر آتی ہے۔
( مِرْاٰۃُ الْمَنَاجِیْح، ج۱، ص۴۶۶،مُلخصاً)
{8} نماز میں جو پڑھا جاتا ہے، نمازی اُس کے معنٰی (مطلب)سیکھ کر، اس پر غور کرے(یہ بھی نماز کے آداب میں سے ہے، تفصیل(detail) کے لیے احیاء العلوم مترجم، ج۱،ص۵۱۷ تا ۵۱۹ دیکھیں) ۔
روزے کے باطنی آداب :
{1} فرمانِ آخری نبی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: جو بری بات کہنا اور اُ س پر عمل کرنا نہ چھوڑے تو اللّٰہ کریم کو اس کی کچھ حاجت نہیں کہ اس نے کھانا پینا چھوڑ دیا ہے (بُخاری ج۱ص۶۲۸حدیث۱۹۰۳) ۔حضرت عَلَّامہ علی قاری رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں :بُری بات سے مُرادہر ناجائز گفتگو(یعنی بات) ہے جیسے جھوٹ، بہتان، غیبت، تہمت، گالی، وغیرہ جن سے بچنا ضروری ہے ۔(مِرقاۃ المفاتیح ج ۴ص۴۹۱،مُلخصاً)
{2} فرمانِ مُصطفیٰ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: تم سے اگر کوئی لڑائی کرے، گالی دے تو تم اُس سے کہہ دو کہ میں روزے سے ہوں ۔ (اَلتَّرغِیب وَالتَّرہِیب ج۱ص۸۷حدیث۱)
{3} اَعضا کا روزہ یعنی’’ جسم کے تمام حصوں کو گناہوں سے بچانا‘‘یہ صرف روزوں ہی کیلئے خاص نہیں ، بلکہ پوری زندگی اپنے آپ کو گناہوں سے بچانا ضروری ہے۔(فیضانِ رمضان ص۷۷)
{4} آنکھ کا روزہ اِس طرح رکھنا چاہئے کہ آنکھ جب بھی اُٹھے تو صرف اورصرف جائز چیز ہی دیکھے۔ ہرگز ہرگز فلمیں نہ دیکھئے ،ڈرامے نہ دیکھئے ،نامحرم عورَتوں کو نہ دیکھئے، شہوت کے ساتھ اَمردوں (مثلاً دس(10) سال سے اٹھارہ (18)یا بیس(20) سال کے ایسے لڑکے جن کی داڑھی نہ آئی ہو)کو نہ دیکھئے، کِسی کا کھلا ہوا سَتْر نہ دیکھئے، بلکہ بہتر یہ ہے کہ بلا ضرورت اپنا کھلا ہوا سَتربھی مت دیکھئے ۔ اللّٰہ کریم کی یاد سے غافل کرنے والے کھیل تماشے مَثَلاً بندر(monkey) اور ریچھ(bear) کا ناچ وغیرہ نہ دیکھئے ( ان کو نچانا (danceکروانا)اور ان کا ناچ دیکھنا دونوں کام ناجائز ہیں )۔ کرکٹ ،کبڈی(kabaddi) ،فٹ بال ،ہاکی ، تاش ، شطرنج ،وِڈیوگیمز ،ٹیبل فٹ بال وغیرہ وغیرہ کھیل نہ دیکھئے ۔ نوٹ:جب دیکھنے کی اِجازت نہیں تو کھیلنے کی اِجازت کس طرح ہوسکتی ہے؟ اور اِن میں بعض کھیل تَو ایسے ہیں جو نیکر(half pant)پہن کر کھیلے جاتے ہیں جس کی وجہ سے گھٹنے بلکہ مَعَاذَ اللہ! (یعنی اللہ کریم کی پناہ)رانیں(thighs) تک کھلی رہتی ہیں اور اِس طرح دُوسروں کے آگے رانیں یا گھٹنے (knees) کھولے رہنا گناہ ہے اور دُوسروں کو اِس طرف نظر کرنا بھی گناہ۔ (فیضانِ رمضان ص۷۸،۷۹،مُلتقطاً)
{5}کانوں کا روزہ یہ ہے کہ صرف و صرف جائز باتیں سنیں۔ ہرگز ہرگز گانے باجے اور موسیقی نہ سُنئے، جھوٹے چٹکلے(ہنسانے والی باتیں) نہ سنئے، کسی کی غیبت نہ سنئے، کسی کی چغلی نہ سنئے، کسی کے عیب نہ سنئے اور جب دو آدمی چھپ کر بات کریں تو کان لگا کر نہ سنئے۔ (فیضانِ رمضان ص۷۹،مُلتقطاً)
{6}زَبان کا روزہ یہ ہے کہ زَبان صرف و صرف نیک وجائز باتوں کیلئے ہی حرکت میں آئے۔ گالی گلوچ، جھوٹ، غیبت، چغلی وغیرہ سے زَبان ناپاک نہ ہونے پائے۔ (فیضانِ رمضان ص۸۰،مُلتقطاً)
{7}ہاتھوں کا روزہ یہ ہے کہ جب بھی ہاتھ اُٹھیں، صرف نیک کاموں کے لئے اُٹھیں ۔ کسی پر ظلماً ہاتھ نہ اُٹھیں،رِشوت لینے دینے کے لئے نہ اُٹھیں ، نہ کسی کامال چرائیں ،نہ تاش کھیلیں، نہ پتنگ اُڑائیں ، نہ کسی نامحرم عورت سے ہاتھ ملائیں بلکہ شہوت(یعنی جنسی خواہش۔sexual desire) کا ڈر ہو تو اَمرد (مثلاً دس(10) سال سے اٹھارہ (18)یا بیس(20) سال کے ایسے لڑکے جن کی داڑھی نہ آئی ہو) سے بھی ہاتھ نہ ملائیں ۔(فیضانِ رمضان ص۸۲،مُلتقطاً)
{8}پاؤں کا روزہ یہ ہے کہ پاؤں اُٹھیں تَو صرف اور صرف نیک کاموں کیلئے اُٹھیں ۔ہر گز ہرگز سینما گھر کی طرف نہ چلیں ،ڈرامہ گاہ کی طرف نہ چلیں ، برے دوستوں کی مجلسوں کی طرف نہ چلیں ، شطرنج، لڈو ، تاش، کرکٹ، فٹ بال، وِڈیوگیمز، ٹیبل فٹ بال وغیرہ وغیرہ کھیل کھیلنے یا دیکھنے کی طرف نہ چلیں۔(فیضانِ رمضان ص۸۳،مُلتقطاً)
{9}روزے کاراز(secret): ان طاقتوں کو کمزور کرنا ہے جو برائیوں کی طرف لے کر جاتی ہیں ۔ یہ کمزوری کم کھانے سے حاصل ہوتی ہے کہ روزہ دار عام دنوں سے کم کھانا کھائے۔ اگر وہ سحری ، افطار میں بہت کچھ کھاتا رہے تو اسے برائیوں سے رُکنے کا فائدہ نہیں ملے گا کیونکہ روزے کے آداب میں سے ہے کہ وہ دن کو زیادہ نہ سوئے تاکہ اسے بھوک اور پیاس زیادہ لگے، اس کا جسم کمزوری محسوس کرے تو اس کا فائدہ یہ ہو گا کہ روزہ دار کا دل برائیوں سے صاف ہونے لگے گا اور روزہ دار ہر رات میں تہجّد پڑھنے، تلاوت کرنے اور وظیفے کرنے(مثلاً درود شریف پڑھنے) میں آسانی پائے گا۔ (احیاء العلوم مترجم، ج۱،ص ۷۱۶ مُلخصاً)
تلاوت کے باطنی آداب :
تلاوت کے کچھ باطنی آداب: (۱) قرآنِ پاک کی تعظیم (respect) کرنا (۲) توجُّہattention)) کے ساتھ قرآنِ پاک کی تلاوت کرنا (۳) قرآنِ پاک کوسمجھنا (۴) قرآنِ پاک کے معانی (تفسیر) کو سمجھنا(۵)قرآنِ پاک کے معانی (تفسیر)میں غوروفکر کرنا (۶)تخصیص(یعنی قرآن پاک نے مسلمانوں کو جو حکم دیا، اس میں یہ غور کرنا کہ قرآنِ پاک نے یہ حکم کس کس کو دیا ہے؟) (۷)تأثر(یعنی آیت کے مطابق اثر لینا، رحمت کی آیت پر اُمّید رکھنا اور عذاب کی آیت پر خوف رکھنا) (۸)بَراءَ ت کا اظہار کرنا(یعنی جس آیت میں نیک لوگوں کا ذکر ہو تو یہ سوچنا کہ یہ آیت میرے جیسے کے لیے نہیں بلکہ اولیاءِ کرام کے لیے ہےاور بروں کا ذکر ہو تو اپنے آپ کو اس برائی سے دور ہونے کا بتانا)۔ (احیاء العلوم مترجم، ج۱،ص ۸۷۲ مُلخصاً) ،
کچھ اورباطنی آداب :
{1} حضرت سعد بن زید رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے عرض کی(کہا): یَارَسُوْلَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَـیْہِ وَسَلَّم! مجھے وصیّت (نصیحت) فرمائیں تو پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَـیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا: میں تمہیں اللّٰہ کریم سے ڈرنے کی وصیّت کرتا ہوں کہ تم اللّٰہ کریم سے اس طرح حیا(modesty)کر وکہ جیسے تم اپنی قوم کے نیک شخص سے حیا کرتے ہو۔( شعب الایمان للبیہقی، باب الحیاء، الحدیث:۷۷۳۸، ج۶، ص۱۴۵)
{2} کوئی کپڑے کاتاجر(trader)،بڑھئی(carpenter)،معمار(architect) اورجولاہا(کپڑابُننےاورایک خاص طریقےسےبنانےوالا۔cloth weaver) جب کسی نئے بنے ہوئے مکان میں جائیں کہ جس میں لکڑی کا کام کیا ہوا ہو اور قالین(carpet) بھی بچھاہواہو۔ تو اب معمار(architect) اس کی دیوار اور اس کی مضبوطی پر غور کرے گا، بڑھئی(carpenter) اُس مکان میں ہونے والے لکڑی کے کام کو دیکھے گا۔ جولاہا (cloth weaver) اور کپڑے کا تاجر (trader) دونوں ہی اس قالین(carpet) کو دیکھ رہے ہوں گے مگر جولاہا (cloth weaver) اس کپڑے کی بناوٹ(کپڑا بنانے) کے انداز (style) کو دیکھ رہا ہو گا جبکہ تاجر اُس کی قیمت کے بارے میں سوچ رہا ہوگا۔
آخرت کی تیاری کرنے والوں کی مثال بھی اسی طرح کی ہے کہ وہ جس چیز کو دیکھتے ہیں تو آخرت کی یاد کرتے ہیں بلکہ ہر چیز سے اللّٰہ کریم ان کے لیے عبرت (نصیحت)کا راستہ کھول دیتا ہے() اگر وہ اندھیرا (darkness) دیکھتے ہیں تو انہیں قبر کا اندھیرا یاد آتا ہے() اگر سانپ کو دیکھتے ہیں تو انہیں جہنّم کے سانپ یاد آتے ہیں () اگر کسی کی پوچھ گچھ (investigation) سے ڈر لگتا ہے تو(قبر میں سوال کرنے والے، اللّٰہ کریم کے فرمانبردار(obedient) فرشتے)’’ منکر نکیر‘‘ کویاد کرتے ہیں() اگر کوئی خوف ناک آواز(scary sound) سنتے ہیں تو قیامت کے دن پھونکی جانےوالی ’’صُور ‘‘ (کی آواز) کویاد کرتے ہیں() اگر کسی فرمانبردار(obedient) کو دیکھتے ہیں تو’’ زبانیہ‘‘ (اللّٰہ کریم کا حکم ماننے میں کمی نہ کرنے والے وہ فرشتے کہ جو گناہ گاروں کو جہنّم کی طرف کھینچتے ہوئے لے جائیں گے) کو یاد کرتے ہیں() اگر راستے میں کوئی خوبصورت باغ نظر آئےتو جنّت کی نعمتوں کو یاد کرتے ہیں۔
عقل مند(sensible) کو اس طرح کی باتیں سوچتے رہنا چاہیے کیونکہ دنیا کے کام ہی اسے آخرت کی تیاری سے روکتے ہیں ۔ نیک آدمی جب بھی دنیا میں زندہ رہنےکی مدّت (duration) کے بارے میں سوچے گا اورآخرت کی زندگی کے سامنے اسے بہت ہی چھوٹا اور کم پائے گا تو اپنی آخرت کی تیاری میں لگا رہے گا۔
(احیاء العلوم مترجم، ج۱،ص۴۳۸ بالتغیر)
’’ اکراہ اور جائز و ناجائزکے مزید (more)مسائل ‘‘
اللہ کریم فرماتا ہے : ترجمہ (Translation) :جو ایمان لانے کے بعد اللّٰہ کے ساتھ کفر کرے سوائے (except)اس آدمی کے جسے (کفرپر) مجبور کیا جائے اور اس کا دل ایمان پرجما ہوا (satisfied)ہولیکن وہ جو دل کھول کر کافر ہوں ان پر اللّٰہ کا غضب ہے اور ان کیلئے بڑا عذاب ہے۔ (پ ۱۴، سورۃ النحل، آیت ۱۰۶) (ترجمہ کنز العرفان)
واقعہ(incident): زبان سے وہ کہہ دیا جو غیر مسلموں نے کہنے کو بولا
قریش کے غیر مسلموں نے حضرت عمار رَضِیَ اللہُ عَنْہاور ان کے والد حضرت یاسر رَضِیَ اللہُ عَنْہ اور ان کی والدہ حضرت سمیہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا کو اسلام کے خلاف (against ۔ایسی )بات کرنے پر مجبور کیا (کہ جس سے ایمان ختم ہو جاتا ہے)۔ حضرت عمار رَضِیَ اللہُ عَنْہ کے والدین نے انکار (denial) کیا توان دونوں کو، غیر مسلموں نے شہید(یعنی قتل ۔murder)کر ڈالا ( یہ دونوں پہلے دو مسلمان ہیں جو اسلام میں شہید کیے گئے) اور حضرت عمار رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے زبان سے وہ کہہ دیا جو غیر مسلموں نے کہنے کو بولا تھا۔ کسی نے پیارے آقاصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سے عرض کیا، یَارَسُولَ اﷲ(صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ)عمّار کافر ہوگئے!!!فرمایا:ہرگز نہیں، بے شک عمّار چوٹی سے قدم (سر سے پیر)تک ایمان سے بھرا ہوا ہے، ایمان اس کے گوشت و خون میں سرایت کیے ہوئے (رچا بسا ہوا) ہے۔ اس کے بعد عمار رَضِیَ اللہُ عَنْہ روتے ہوئے پیارے آقا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کے پاس آئے تو رَسُولَ اﷲ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نے ان کی آنکھوں سے آنسو صاف کیے (تفسیرالبیضاوی،النحل،تحت الآیۃ:۱۰۶،ج۳،ص۴۲۲) اورحضور (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ)نے پوچھا کہ تم نے اپنے دل کو کیسا پایا؟ عرض کی میرا دل ایمان پر بالکل مطمئن (satisfied)تھا تو فرمایا کہ اگر وہ پھر ایسا کریں تو تم کو ایسا ہی کرنا چاہیے(الھدایۃ،کتاب الإکراہ، فصل، ج۲،ص۲۷۴)یعنی دوبارہ ایسی حالت پیدا ہو تو زبان سے کلمہ کفر کہہ لینا مگر دل ایمان پر مطمئن رہنا چاہیے۔
جائز و ناجائز :
{1}محافلِ میلاد اور جلوس میں ڈھول (drum)بجانےکا شرعی حکم:
جلوسِ میلاد اور دینی محفلیں کرنا بہت اچھا کام ہے لیکن اس میں ڈھول(drum)، بینڈ باجے(musical instruments)،آتش بازی (fireworks) اور بے پردگی کرنا، ناجائز و گناہ ہے۔ جس پیارے نبی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کی ولادت (پیدائش، آمد،آنے) کی خوشی میں ان تقریبات (یعنی محفلوں) کا اہتمام (arrangement) کیا جاتا ہے انہوں نے ہی ایسے کاموں سے منع فرمایا ہے،لہٰذان غلط طریقوں سے دور رہتے ہوئے ، ان پاکیزہ اورنیک کاموں کو کیا جائے۔( ربیع الاول 1441،ماہنامہ فیضانِ مدینہ، دارالافتاء اہلسنت، مُلخصاً)
{2}دَف اور ذکر والی نعت خوانی کا حکم: (۱)بے شک نبیِّ پاک صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کی نعت پاک پڑھنا ثواب، برکت، رحمت ، اللہ کریم اور اس کے حبیب صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کی رضا (یعنی خوشی) اور حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کی محبّت بڑھانے والا کام ہے۔ ہر کام کی طرح اس برکت والے کام کو بھی شریعت کے حکم کے مطابق کرنا لازم ہے، لہٰذا دَف(ہاتھ سے بجانے والا ایک آلا۔ instrument) اگر جھانج(جو بجنے میں ایک آواز دیتا ہے، پاؤں کے زیور میں بھی اس کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کو لگایا جاتا ہے) کے ساتھ ہو تواس کا بجانا(یعنی ایسا دف) مطلقاً (ہر صورت میں)ناجائز ہے،جھانج والی دَف کے ساتھ نعت پڑھنا سخت گناہ ہے۔
(۲)آج کل( کہیں کہیں ) نعت شریف کے ساتھ اس طرح ذکر بھی کیا جاتا ہے کہ جس سے ڈھول(drum) کی طرح آواز نکلتی ہے اور اس ذکر کو بطور بیک گراؤنڈ آواز(back ground voice) کے پڑھا جاتا ہے، عُلَمائے کِرام نے اس طرح ذکر کرنے سے منع فرمایا ہے۔
(۳)کچھ جگہ تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ بیک گراؤنڈ کی وہ آواز اللہ کریم کا ذکر ہی نہیں ہوتی یا اس آواز میں ذکر شریف کو بگاڑ کرآواز نکالی جارہی ہوتی ہے یعنی صرف دھمک کی آواز بنائی جارہی ہوتی ہےیہ سخت بے ادبی اور ناجائز ہے، اس طرح کا ذکر سننا بھی منع ہے۔( ربیع الاول1439،ماہنامہ فیضانِ مدینہ، دارالافتاء اہلسنت، مُلخصاً)
{3}نامِ رسالت یا گنبدِ خضریٰ والا کیک(cake):
کیک (cake) پر نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کا نام مبارک، کعبہ شریف یا گنبدِ خضریٰ کانقشہ (copy)بنا کراس پرچھری چلانا،اس کو کاٹنا ادب کے خلاف (against)ہے۔لوگ کہیں گے: کیک کاٹنے والے نے گنبدِ خضریٰ یا کعبہ شریف کو کاٹ دیا، یا اس طرح کہیں گے کہ: ٹکڑوں (pieces)میں تقسیم(divide) کردیا، ان کو کھالیا، مَعَاذَ اللہ! (یعنی اللہ کریم کی پناہ)اور شریعت کاحکم یہ ہے کہ اس طرح کے کاموں سے بچا جائے گا کیونکہ جس طرح آدمی کے لئے برے کام سے بچنا ضروری ہے اسی طرح برے نام اور بری نسبت سے بھی بچنا چاہیے(یعنی ایسا کام نہ کریں کہ جس پر لوگ کہیں کہ فلاں آدمی نے کعبہ شریف یا گنبدِ خضریٰ کاٹ دیا)۔
( اکتوبر2021،ماہنامہ فیضانِ مدینہ، دارالافتاء اہلسنت، مُلخصاً)
{4}دیواروں پر لفظ ” یا محمد “ لکھنا کیسا ؟: (۱)نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کو”یامحمد“کےالفاظ کےساتھ پکارنا، شرعاً درست نہیں کیونکہ قرآنِ پاک میں رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کواس طرح پکارنےسےمنع کیا گیا ہے، جیسے ہم ایک دوسرے کو نام لےکر پکارتے(یعنی بُلاتے) ہیں۔لہٰذا ”یامحمد“ کہنے کی بجائے یَارَسُوْلَ اللہ ،یاحبیبَ اللہ ، یانبیَّ اللہ وغیرہ کہا جائے۔
(۲) یہ پیارا پیار ا نام لکھنے میں اور بھی احتیاط کی ضرورت ہے کہ اگر گھر یا مسجد وغیرہ کی دیوار پر ”یامحمد“ لکھا ہو، تو اسے مٹاکر یا اگر کوئی تختی(tablet) لگی ہو، تو اسے اتار کر ”یَارَسُولَ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم “ کی تختی لگائی جائے۔ (۳)لگانے میں یہ احتیاط بھی کی جائے کہ اسے ایسی جگہ پر لگایا جائے،جہاں کسی قسم کی بےادبی نہ ہو مثلاً بارش وغیرہ کاپانی اس تختی سے لگ کر زمین پر نہ گرے۔ایسی جگہ جہاں بارش کا پانی وغیرہ لگ کر گر سکتا ہے ، جیسے مکان کی باہر والی دیوار تو ایسی جگہ یہ تختی نہ لگائی جائے۔( نومبر2021،ماہنامہ فیضانِ مدینہ، دارالافتاء اہلسنت، مُلخصاً)
{5}محرم الحرام میں نئےکپڑےپہننے،وغیرہ کا حکم : محرم الحرام کے پہلے دس دنوں میں بھی نئے کپڑے پہن سکتے ہیں اور گھر میں رنگ(colour) بھی کرواسکتے ہیں اور محرم کے مہینے میں شادی بھی کر سکتے ہیں کہ یہ سب کام شرعاً منع نہیں ہیں( محرم الحرام1440،ماہنامہ فیضانِ مدینہ، دارالافتاء اہلسنت، مُلخصاً) البتہ ایسے ہر طریقے سے بچا جائے کہ جسے مسلمان برا سمجھیں ، اس سے نفرت کریں، انگلیاں اُٹھائیں اور غیبتیں کریں۔
{6}صفر کے مہینےمیں شادی کرنا کیسا؟: صفر کے مہینے میں نکاح کرنا بالکل جائز ہے۔کچھ لوگ صفر کے مہینے میں اس لیے شادی نہیں کرتے کہ اس مہینے میں بلائیں(مصیبتیں) وغیرہ اترتی ہیں اور یہ منحوس(بد بختی، برے نصیب والا) مہینا ہے۔ یہ سوچ بالکل غلط ہے اور شریعت کی تعلیمات(teachings) میں ایسا بالکل بھی نہیں ہے بلکہ زمانۂ جاہلیت میں(یعنی حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کے تشریف لانے سے پہلے بھی) لوگ اسے منحوس سمجھتے تھے تو پیارے آقا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نے اس طرح سوچنے سے منع فرما دیا۔( صفر المظفر1440،ماہنامہ فیضانِ مدینہ، دارالافتاء اہلسنت، مُلخصاً)
{7}بچوں کی عیدی سے دوسرے بچوں کو عیدی دینا: (۱)بچوں کو جو عیدی ملتی ہے وہ بچوں کی مِلک ہوتی ہے(یعنی بچے ہی اس کے مالک ہوتے ہیں)۔ والدین اسے دوسرے بچوں کو عیدی میں نہیں دے سکتے اور والدین خودبھی ان پیسوں کو اپنے استعمال(خرچ) میں نہیں لاسکتے۔
(۲) ہاں! اگر والدین فقیر ہوں اور انہیں پیسوں کی ضرورت ہوتوجتنی ضرورت ہو اس میں سے قرض(loan) لے کر استعمال کرسکتے ہیں، عام حالات میں اس کے علاوہ والدین کو بھی نابالغ بچوں کی رقم استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے۔یاد رہے کہ جب والدین کے پاس پیسے آجائیں گے تو یہ پیسے بچوں کو واپس کرنا لازم ہے ۔
{7}بچوں کی عیدی سے دوسرے بچوں کو عیدی دینا:
(۳)عیدی یا بچوں کی سالگرہ میں جو لفافے وتحائف(gifts) بچوں کوملتے ہیں، اگر دینے والے نے صاف صاف کہہ دیاکہ یہ فلاں(بچے) کے لئے ہیں تو جس(بچے) کا نام لیا، اب یہ(لفافہ، پیسے، تحفہ وغیرہ) اسی کے لئے ہے۔
(۴)عیدی وغیرہ دینے والے نے دیتے ہوئے کچھ نہیں کہا (کہ یہ چیزیں کس کے لیے ہیں؟) تو:
(a) جن چیزوں کے بارے میں معلوم ہو کہ وہ بچے کے لئے ہیں، مثلاً چھوٹے کپڑے،کھلونے وغیرہ، تو وہ بچے کے لئےہوں گے (b)اگر بچوں کے لیے نہ ہوں تو والدین کے لئے ہوں گے (c)پھر اگر دینے والا باپ کے رشتے داروں یا دوستوں میں سے ہے تو وہ (تحفے وغیرہ)باپ کے لئے ہوں گے اور (d)اگر ماں کے رشتے داروں یا جاننے والوں نے دیے ہیں ،تو وہ ماں کے لئے ہوں گے ۔
نوٹ:ان مسئلوں میں اصول یہ ہے کہ عرف و رواج(practice n custom) دیکھا جائے گا
(e)اگر باپ کے خاندان کی طرف سے زنانہ(عورتوں کی) چیزیں تحفے میں آئیں مثلاً عورتوں کے کپڑے تو اب وہ چیزیں عورت (یعنی بچوں کی ماں )کے لئے ہوں گی اور
(f) عورت کے خاندان کی طرف سے مردانہ استعمال کی چیزیں آ ئیں تو مرد کے لئے ہوں گی اور
(g)ایسی چیز ہو جو مرد وعورت دونوں استعمال کرتے ہوں تو جس کے خاندان یا عزیزوں (یعنی جاننے والوں)کی طرف سے ہوں، اسی کے لئے ہوں گی۔
(۵)عیدی کی اتنی بڑی رقم جس کے بارے میں معلوم ہے کہ اتنی رقم بچوں کو نہیں بلکہ ان کے والدین کو ہی دی جاتی ہے تو وہ بچوں کی نہیں ہوگی بلکہ اوپر کی تفصیل(detail) کے مطابق ماں یا باپ کی ہوگی۔
( شوال المکرم 1438ماہنامہ فیضانِ مدینہ، دارالافتاء اہلسنت، مُلخصاً)
امتحانات کے عملے کو کھلانا پلانا:
{8} دوسروں کا حق مارنے یا اپنا کام نکلوانے کے لئے کسی کو کچھ دینا رشوت کہلاتاہے۔ نقل (cheating) کرنے کے لیے یا نقل نہ کرنے والے طلباء (students) کی حق تلفی(hurt) کرنے کے لیے، امتحانی عملے (examination staff)کو کھانا کھلانا یا تحفہ دینا رشوت اور ناجائز ہے۔
یہ بھی یاد رہے کہ امتحانات میں نقل (cheating)کرنا یا ()دوسروں کو نقل کروانا، ویسے ہی ناجائز و حرام ہے۔پہلی بات یہ قانوناً جرم (crime)ہے کہ جو نقل کرتے ہوئے پکڑا جاتا ہے، اُس کی عزّت بھی خراب ہوتی ہے اور جو ملکی قانون، شریعت کے خلاف (against)نہ ہو اور ڈر ہو کہ اس قانون (law)کو توڑنے کی وجہ سے مسلمان کی عزّت خراب ہو جائے، تو ایسے قانون پر عمل کرنا شرعاً بھی واجب ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ نقل (cheating)کرنا امتحان کی نگرانی (monitoring) کرنے والوں، پیپر چیک کرنے والوں اور اس ڈگری کے ذریعے نوکری دینے والوں(سب) کے ساتھ دھوکا ہے اور حدیثوں میں دھوکا دینے سے منع فرمایا گیا ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ نقل (cheating)کرنا امتحان کی نگرانی (monitoring) کرنے والوں، پیپر چیک کرنے والوں اور اس ڈگری کے ذریعے نوکری دینے والوں(سب) کے ساتھ دھوکا ہے اور حدیثوں میں دھوکا دینے سے منع فرمایا گیا ہے۔
یہ بھی یاد رہے کہ اس طرح کھا نا کھانے والےیا () تحفہ لینے والے صرف رشوت کے گناہ ہی میں نہیں پڑتے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ نقل کے گناہ میں مدد کرنے (اور اپنی ذمہ داری کو ایمانداری سے پورا نہ کرنے کے جرم میں پڑنے) کی وجہ سے بھی سخت گناہ گار اور عذابِ نار کے حقدار (deserving for punishment ) ہوتے ہیں،لہٰذا اس طرح کے کھانوں اور تحفوں (بلکہ بغیر ان چیزوں کے بھی نقل میں مدد کرنے )سے بچنا فرض ہے۔
( ربیع الثانی 1441،ماہنامہ فیضانِ مدینہ، دارالافتاء اہلسنت، مُلخصاً)
{9}مدرسہ یا اسکول سے چھٹی کرنے پر مالی جرمانے کا حکم:
بچے ہوں یا بڑے، ادارے (اسکول وغیرہ)سے کسی دن کی چھٹی کرنے یا کسی غلطی کرنےپر ان سے مالی جرمانہ(fine) لینا جائز نہیں ۔نیز یہ شرعی اجازت کے بغیر دوسرے کا مال کھانا بھی ہے اور اللہ کریم نے قرآنِ پاک میں ایک دوسرے کا مال باطل(یعنی غیر شرعی) طریقے پر کھانے سے منع فرمایا ہے۔
(جنوری2021،ماہنامہ فیضانِ مدینہ، دارالافتاء اہلسنت، مُلخصاً)
{10}سوشل میڈیا آئی ڈیز ہیک کرنا کیسا؟:
فیس بک یا کسی دوسری سوشل میڈیا کی ایپ پر دوسرے شخص کی آئی ڈیز ہیک کرنا (یعنی اپنے ہاتھ میں لے لینا)اور ان کے ذریعے کومنٹس (میسج) کرنا، ناجائز و حرام و گناہ ہے کہ اس میں دوسرے مسلمان(جس کی آئی۔ڈی ہے) کو تکلیف پہنچانا، کسی کی آئی ڈی سے کومنٹس کرکے دوسرے لوگوں کو دھوکا دینا ( وہ یہ سمجھے گا یہ میسج اُس شخص کا ہے جس کی آئی۔ ڈی ہے)، جھوٹ بولنا اور جس کی آئی ڈی ہے (غلط کومنٹ یا پوسٹ کر کے) اس کی بے عزّتی کا سبب بننا پایا جاتا ہے لہذا اس طرح کسی کی آئی۔ڈی ہیک کرنا،ناجائز و حرام ہے۔ ان تمام گناہوں سے توبہ کرنا اور جن کو اس سے تکلیف ہوئی ان تمام لوگوں سے معافی مانگنا بھی لازم و ضروری ہے۔
(مارچ2022،ماہنامہ فیضانِ مدینہ، دارالافتاء اہلسنت، مُلخصاً)
{11}بزرگوں کے نام کے دیے جلانا: (جمعرات وغیرہ کو اپنے گھر میں اس لیے)دیے(lamp) جلانا کہ بزرگ تشریف لائیں گے، اس سوچ کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ لہٰذا اس نیّت(intention) سے دیا(lamp) جلانا ایک باطل(یعنی بے اصل، غلط) سبب ( مقصد )کے لیے دیا (lamp)جلانا ہے جو کہ بدعت (برا طریقہ)،اسراف (مال ضائع(waste) کرنا)اور ناجائز ہے۔(جون2022،ماہنامہ فیضانِ مدینہ، دارالافتاء اہلسنت، مُلخصاً)
{12}پوسٹر ز(posters)پر قرآنی آیتوں کو مختلف ڈیزائن(different designs) میں لکھنا کیسا؟ :
کچھ شرطوں (preconditions) کے ساتھ قرآنی آیتوں کو ڈیزائن(design) میں لکھنے کی اجازت ہے:
(۱) قرآنی آیت رسم عثمانی کے مطابق ہو (مثلاً جس طرح پاک و ہند میں عام طور پر قرآنِ پاک لکھا جاتا ہے، اسی طرح لکھا ہو اور اسے کسی سُنی عالم سے چیک کرو الیں) کیونکہ یہی وہ انداز(style) ہے کہ جسے پیارے آقا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نے تعلیم فرمایا (یعنی بتایا) اور اس پر اُمّت(یعنی عُلَمائے کِرام )کا اجماع(یعنی اتّفاق۔ with the consensus of scholars) ہے۔
(۲)ایسا ڈیزائن(design) بنانا کہ جس سے کسی جاندار(living thing) مثلاً جانور کی تصویر بنے ، تو یہ قرآنی آیت کا استخفاف (یعنی اس کی شان کو ہلکا کرنا)ہے بلکہ اس طرح کے ڈیزائن(design) کے پوسٹر (poster) کا جب پرنٹ(print) نکالا جائے گا تو اب یہ تصویر کے حکم میں ہونے کی وجہ سے ناجائز ہوگا کہ شرعی اجازت کے بغیر کسی جاندار(living thing) کی تصویر بنانا، ناجائز و حرام اور جہنّم میں لے جانے والا کام ہے( )۔
(۳) آیت اس لیے لکھی ہو کہ پڑھی جائے تو اسے اتنا چھوٹا لکھنا (short writing) مکروہ ہے کہ تلاوت کرنا ہی مشکل ہو جائے۔ ہاں! اگر کوئی آیت (مثلاً اَلۡحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیۡنَۙ﴿۱﴾) صرف برکت(blessing) کے لیے لکھی ہے(یعنی تلاوت کے لیے نہیں لکھی) تو چھوٹا لکھنے میں بھی کوئی حرج (یا گناہ) نہیں ، اسی طرح تعویذ ( )میں بھی چھوٹی لکھائی (short writing) کر سکتے ہیں ۔
(۴)لکھنے کا انداز(style) ایسا ہو کہ ہمارے ہاں عام طور پر اسے بے ادبی (یعنی بُرا) نہ سمجھا جاتا ہو، مثلاً (اس طرح کی بے آدبی والا کام نہ
(1) ٹی وی پر نظرآنے والا انسان ،تصویر نہیں بلکہ عکس(یعنی سایہshadow) ہے۔جس طرح آئینے (mirror)میں نظرآنے والاعکس تصویرنہیں ،پانی پراورچمکدا رچیز مثلا اسٹیل(steel) اورپالش کئے ہوئے ماربل(marble) پربننے والا عکس تصویر نہیں۔ اسی طرح شعاعوں(rays) سے بننے والےعکس کو تصویرنہیں کہہ سکتے (ٹی وی اور مووی ص۲۶ ماخوذاً) ۔حدیث ِ پاک میں جس تصویر سے منع کیا گیا ہے ، اُس سے مراد جاندار(مثلاً انسان یا جانور) کی تصویریں ہیں جو شوقیہ بلاضرورت ہوں اور احترام(respect) سے رکھی جائیں لہذا نوٹ، روپیہ ،پیسہ کی تصاویر اور وہ تصویریں جو زمین پر ہوں اور پاؤں میں آئیں ، ان کی وجہ سے فرشتے آنے سے نہیں رُکتے،بچوں کی گڑیاں رکھنا اور بچوں کا ان سے کھیلنا بھی جائز ہے۔(مراۃ جلد۶،ص ۳۳۰سوفٹ وئیر،مُلخصاً)
کیا جائے، جیسے)کسی گھٹیا چیز (جیسے بے کار سامان۔useless stuff) کی تصویر بنانے میں بیک گراونڈ(background) پر قرآنی آیت لکھنا۔
یاد رہے کہ ان شرطوں (preconditions)کا خیال رکھے بغیر قرآنی آیتوں کو ڈیزائن(design) میں لکھنا منع اور ناجائز ہے۔(جنوری 2023،ماہنامہ فیضانِ مدینہ، دارالافتاء اہلسنت، مُلخصاً)
{13}قرآنِ کریم پر سونے چاندی کا پانی چڑھانا کیسا؟ : قرآن ِ کریم پر سونے چاندی کا پانی چڑھانا جائز ہے کہ اس سے عام لوگوں کی نظر میں قرآن شریف کی تعظیم (respect) میں اضافہ ہوتا ہے۔(بہار شریعت ح ۱۶،ص۴۹۴، مسئلہ۱، مُلخصاً)
{13}کیا ریکارڈڈ آیتِ سجدہ سننے سے سجدہ واجب ہوگا؟:
ریکارڈڈ (recorded)آیت ِسجدہ یا واٹس ایپ اسٹیٹس سننے والے پر سجدۂ تلاوت واجب نہیں ہوگا کیونکہ علماء کرام نے ریکارڈڈ یا واٹس ایپ کی آواز کو صدائے بَازْگَشْت (یعنی وہ آواز جو کسی بند یا خالی جگہ میں دیوار،پہاڑ یا گنبد وغیرہ سے ٹکرا کر واپس آئے) کی طرح سماعِ مُعَاد (یعنی پلٹ کر آنے والی آواز کا سننا) فرمایاہے اوراس طرح کی آواز میں آیتِ سجدہ سننے سے سجدۂ تلاوت لازم نہیں ہوتا۔
(جون، 2022،ماہنامہ فیضانِ مدینہ،اسلامی بہنوں کے مسائل، مُلخصاً)
{14}مردانہ ہیئر بینڈ(hairband):
پہلی بات تو یہ ہے کہ ہیئر بینڈ(hairband) وہی شخص پہنے گا جس کے بال بڑے ہوں اور مرد کو اتنے بڑے بال رکھنا جو کندھوں (shoulders)سے نیچے تک آئیں، ناجائز اور حرام ہے ۔ دوسری بات مرد کا ہیئر بینڈ پہننا، عورتوں کی نقل(copy) کرنے کی وجہ سے ناجائز و حرام ہے۔اس ہیئر بینڈ کو مرادانہ کہنے سے بھی یہ جائز نہیں ہو جائے گا کیونکہ
(۱) یہ اصل میں عورتوں ہی کے لیے بنا یا گیا تھا، اب مردوں نے پہنانا شروع کر دیا تو اس سے ہیئر بینڈ مردوں کی چیز نہیں بن جائے گی
(۲) جن ہیئر بینڈز (hairbands)کو مردانہ ہیئر بینڈز کہا جا رہا ہے، وہ عورتیں بھی پہنتی ہیں تو اسے مردانہ کہنے سے اس کا پہننا جائز نہیں ہوگا
(۳) اگر اس ہیئر بینڈ کو مردوں کے لیے ہی مان لیا جائے تب بھی اسے پہننا منع ہی ہوگا کیونکہ یہ فاسق(سب کے سامنے گناہ کرنے والے) مردوں کا طریقہ ہے۔(جولائی 2023،ماہنامہ فیضانِ مدینہ، دارالافتاء اہلسنت، مُاخوذاً)
{15} کسی نے اپنا کپڑا پھینک دیا اور پھینکتے وقت یہ کہہ دیا :"جس کا دل چاہے لے لے" تو جس نے سُنا ، وہ لے سکتا ہے اور جو لے گا وہ مالک(owner) ہوجائے گا۔(بہار شریعت ح۱۱،ص۸۱۳تا۸۱۴،مسئلہ۱۸،مُلخصاً
کچھ حرام چیزیں: {1} (۱) خمر(یعنی شراب) بالکل حرام ہے چاہے کم ہو یا زیادہ، سب حرام اور پیشاب کی طرح نجس (یعنی ناپاک)ہے اور یہ نجاست غلیظہ ( ) ہے(۲) جو شراب کو حلال(یعنی جائز)بتائے، وہ کافر ہے(۳) شراب شرعاً مال ہی نہیں یعنی اسے خریدنا صحیح نہیں اس سے کسی قسم کا فائدہ اُٹھانا جائز نہیں(۴) نہ دوا کے طور پر استعمال کی جاسکتی ہے (۵) نہ جانور کو پلائی جاسکتی ہے(۶)جانوروں کے زخم پہ علاج کے لیے بھی نہیں لگا سکتے(۷)یہاں تک کہ اسے مٹی بھگونے(یعنی مٹی کو گیلا کرنے کے کام) میں بھی استعمال نہیں کر سکتے (۸) بچے بلکہ کافر کو بھی شراب پلانا حرام ہے اور گناہ اسی پلانے والے پر ہوگا۔
{2}(۱) شیرہ انگور(یعنی انگور کے رس) کو پکایا یہاں تک کہ دو تہائی(66%) سے کم جل گیا یعنی ایک تہائی(33%) سے زیادہ باقی ہے اور اس میں نشہ ہو یہ بھی حرام اور نجس(یعنی ناپاک) ہے۔
(۲) شہد(honey)،انجیر(fig)،گیہوں،(گندم۔wheat)،جَو(barley) وغیرہ کی شرابیں بھی حرام ہیں مثلاً میوے(fruits۔ ایک درخت جس کے پتے سرخی اورزردی (yellowish) کی طرح کےخوشبودار ہوتے ہیں، پھل گول چھوہارے کی طرح ہوتا ہے اس )کی شراب (بھی)بنتی ہے جب اس میں نشہ ہوجائے تو(اس کاپینا) حرام ہے۔
(۳) گھوڑی(mare) کے دودھ میں بھی نشہ ہوتا ہے اس کا پینا بھی ناجائز ہے۔
{3} (۱) نبیذ یعنی کھجور یا منقےٰ (ایک قسم کی بڑی کشمش۔raisin) کو پانی میں بھگویا (مثلاً رات بھر کسی برتن میں
پانی ڈال کر رکھا )جائے وہ پانی نشہ پیدا ہونے سے پہلے پیا جائے تو اس کا پینا جائز ہے ۔
(۲) تونبے(اندر سے خالی اور خشک کیا ہوا کدّو۔pumpkin) اور ہر قسم کے برتنوں میں نبیذ بنانا ،جائز ہے۔ شروع میں ان برتنوں میں نبیذ بنانا منع تھی ( کیونکہ پہلے انہی برتنوں میں شراب بنائی جاتی تھی پھر جب شراب حرام ہوئی تو ان برتنوں میں نبیذ پینے سے بھی منع کر دیا گیا کہ کہیں کسی کو شراب یاد نہ آئے۔(مراۃ ج۲،ص۹۸۴سوفٹ وئیر،مَاخوذاً)) بعد میں ان برتنوں میں نبیذ پینے کی اجازت دے دی گئی۔ (صحیح مسلم،کتاب الأشربۃ، الحدیث:۶۴،۶۵ ۔(۹۷۷)،ص۱۱۰۷، ماخوذاً)
(۳) تر کھجور(dates) کا پانی اور منقےٰ (big raisin۔بڑے انگور)کو پانی میں بھگویاگیا جب یہ پانی تیز ہو جائے یہاں تک کہ جھاگ(foam) پھینکے یہ بھی حرام اورنجس ہے(یعنی یہ نہ پیا جاسکتا ہے، نہ جسم یا کپڑے پر لگایا جاسکتا ہے،اسے اس طرح احتیاط سے گٹر (gutter) میں پھینک دیں کہ ایک قطرہ بھی جسم وغیرہ پر نہ لگے اور برتن بھی پاک کرنا ہوگا)۔
{4}(۱) بھنگ(marijuana ۔نشہ دینے والےپتوں کا پودا (plant) جس کے پتوں کو کوٹ (یعنی پیس)کر اسے بناتے ہیں)اور افیون (opium ۔ایک نشے والی کاشت(crops) کے رس کو جما کر(set) بنائی جاتی ہے)اتنی استعمال کرناکہ عقل میں فرق آجائے تو ناجائز ہے جیسا کہ افیون اور بھنگ کااستعمال کرنے والے، اتنی استعمال کرتے ہیں (کہ اُلٹی سیدھی باتیں اور حرکتیں کرنے لگ جاتے ) ہیں اور (۲) اگر کمی کے ساتھ اتنی استعمال کی گئی کہ عقل میں خرابی نہیں آئی جیسا کہ بعض دواؤں میں افیون اتنی کم استعمال ہوتی ہے کہ افیون کھانے کا پتا بھی نہیں چلتا تو اتنی کم افیون بطور دوا کھانے میں گناہ نہیں۔
(۳)چرس (Cocaine ۔ایک نشہ جوبھنگ کے پتوں سے بنایا جاتا ہے اسے تمباکو (مثلاً سگریٹ)کی طرح پیتے ہیں)گانجا (cannabis ۔بھنگ کی طرح کا ایک پودا جس کے پتے اوربیج میں نشہ ہوتا ہے اورچلم (مثلاً حُقّے )میں بھرکرپیتے ہیں)یہ بھی ایسی چیز ہے کہ اگر اس سے عقل میں خرابی آجائے تو اس کا پینا ناجائز ہے۔
(۴) بعض عورتیں بچوں کو اس لیےافیون کھلایا کرتی ہیں کہ بچے اس کے نشے میں پڑےرہیں اورپریشان نہ کریں، یہ بھی ناجائز ہے کیونکہ بچے کو تھوڑی سی افیون دینے سے بھی اُس کی عقل میں خرابی آجاتی ہے۔
{5} قہوہ(Qahwa) ، کافی(coffee) ، چائے کا پینا جائز ہے کہ ان میں نہ نشہ ہے اور نہ ہی عقل میں خرابی آتی ہے لیکن یہ چیزیں خشکی لاتی ہیں اور نیند کو دور کرتی ہیں اسی لیے بعض بزرگ ان کو پیتے ہیں کہ نیند کم ہو اور رات میں زیادہ عبادت ہو سکے۔(بہار شریعت،ج۳،ح۱۷،ص۶۷۲، مسئلہ ۱ تا ۱۲،۱۳، ۱۷مُلخصاً)
اکراہ :
{1}(۱) ’’ اِکراہ‘‘ جس کو جبر(یعنی مجبور) کرنابھی لوگ بولتے ہیں اس کے’’ شرعی معنی‘ ‘ یہ ہیں کہ کسی کو ناحق ایسا کام کرنے پر مجبور کرنا جسے وہ شخص نہیں کرنا چاہتا اور (۲)کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ جسے مجبور کیا جائے، وہ جانتا ہے کہ مجھے مجبور کرنے والا شخص ظالم ہے اگر میں نے اس کی بات نہ مانی تو مجھے یہ ظالم ، جان سے مار ڈالے گا ،تواس صورت(case) کو بھی ’’ اِکراہ‘‘ ہی کہتے ہیں ۔ مجبور کرنے والے کو ’’ مُکرِہ ‘‘اور جس کو مجبور کیا اس کو ’’مُکرَہ ‘‘کہتے ہیں )پہلی جگہ’’ رے‘‘ پر’’ زیر‘‘ اور دوسری جگہ’’ رے‘‘ پر’’ زبر‘‘ ہے(۔
{2} ’’ اِکراہ‘‘ میں اس طرح کا کام کرنےیا ظالم نے جو جملہ بولنے کو کہا ہے، اُسے بولنے کی کچھ شرطیں (preconditions) ہیں:
(۱) ’’ مُکرِہ ‘‘ (مجبور کرنے والا)اس کام کوکرنے کی طاقت رکھتا ہو، جس کی اُس نےدھمکی دی ہو۔
(۲) ’’ مُکرَہ ‘‘یعنی جس کودھمکی دی گئی اس کا مضبوط خیال (strong assumption) ہو کہ اگر میں اس کام کو نہ کروں گا تو ظالم جس(ظلم مثلاً قتل کرنے) کی دھمکی دے رہا ہے اسے کرلے گا۔
(۳) ظالم نےجس چیز کی دھمکی ہے وہ جان سے مارنے یا جسم کا کوئی حصّہ کاٹنے کی ہو(مزید بہارِ شریعت ح 15 دیکھیں)۔
(۴)جس کو دھمکی دی گئی وہ پہلے سے اس کام کو نہ کرنا چاہتا ہو : (a)اب چاہے وہ کام اس لیے نہیں کرنا چاہتا تھا کہ اُس میں ’’ مُکرَہ ‘‘ کا اپنا حق ضائع(waste) ہو رہا ہو مثلاً اس سے کہا گیا کہ تو اپنا مال ضائع (waste)کر دے یا بیچ دے اور یہ ایسا کرنا نہیں چاہتا یا ((bجس کو دھمکی دی گئی وہ پہلے سے اس کام کو اس لیےنہ کرنا چاہتا ہو کہ اس کام کو کرنے میں کسی دوسرے شخص کا حق ضائع(waste) ہو رہا ہو مثلاً ظالم نے اس سے کہا کہ فلاں شخص کا مال ضائع(waste) کردے یا(c) جس کو دھمکی دی گئی وہ پہلے سے اس کام کو شریعت کے حکم کی وجہ سےنہ کرنا چاہتا ہو مثلاً شراب پینا، زنا کرنا۔
{3} ’’ اِکراہ‘‘ کا حکم اس وقت لگایا جاتا ہے جب ایسے ظالم شخص کی طرف سے ہو کہ وہ جس چیز کی دھمکی (threat)دے رہا ہے(مثلاً تم نے یہ نہ بولا تو میں تمہارا ہاتھ کاٹ دونگا) تواس کام کو کرنے(مثلاً ہاتھ کاٹنے ) کی طاقت بھی رکھتا ہو جیسے بادشاہ یا ڈاکو، کہ اگر ان کی بات نہ مانی تو جس چیز کی دھمکی دی ہے(مثلاً ہاتھ کاٹنے کی)، وہ کر دیں گے۔
{4} ’’ اِکراہ‘‘ کی دو(۲) قسمیں ہیں : پہلی (۱) ’’ تام ‘‘ ، اس کو’’ مُلجِی‘‘ بھی کہتے ہیں۔دوسری(۲) ’’ ناقص ‘‘ ،اس کو ’’ غیرِمُلجِی‘‘ بھی کہتے ہیں۔
(۱) ’’ اِکراہِ تام‘‘ یہ ہے کہ مار ڈالنے(یعنی قتل کرنے) یا جسم کا کوئی حصّہ کاٹنے یا ایسی شدید(یعنی سخت ) مار مارنے کی دھمکی دی جائے کہ جس مار کی وجہ سے جان چلی جائے یا جسم کا کوئی حصّہ بے کار ہو جائے۔ مثلاً کسی ظالم نے کہا کہ یہ کام کر(مثلاً بُت کو سجدہ کر)، ورنہ تجھے جان سے مار دونگا۔
(۲) ’’ اِکراہِ ناقص‘‘ یہ ہے کہ جس میں اس سے کم درجے(low level)کی دھمکی ہو مثلاًپانچ جوتے ماروں گا یا پانچ کوڑے ماروں گا یا گھر میں بند کر دوں گا یا ہاتھ پاؤں باندھ کر یہاں پھینک دوں گا۔
{5} مَعَاذَ اللہ! (یعنی اللہ کریم کی پناہ)شراب پینے یا خون پینے یا مردار(یعنی جو جانور شرعی طریقے سے ذبح کیے بغیر مارا جائے یا خود مر جائے) کا گوشت کھانے یا سوئر(خنزیر۔pig)کا گوشت کھانے پر اکراہ(یعنی مجبور ) کیا گیا تو:
(۱) اگر وہ ’’ اِکراہ غیرِمُلجِی ‘‘ ہے یعنی قیدکرنے یا مارنے پیٹنے کی دھمکی دی ہو تو ان چیزوں(شراب یا خون یا مردار) کا کھانا پینا جائز نہیں ہے۔ہاں! اگر کسی نے پھر بھی شراب پی لی تو اس صورت(case) میں حدّ (یعنی قاضیِ اسلام ، شریعت کے حکم کے مطابق شراب پینے والے کو جو سزا دیتے ہیں، وہ) نہیں ہو گی۔
(۲۔الف) اگر وہ ’’ اِکراہ مُلجِی ‘‘ ہے یعنی قتل یا جسم کا کوئی حصّہ کاٹنے کی دھمکی ہے تو ان کاموں کا کرنا (یعنی شراب یا خون یا مردارکا کھانا پینا)جائز بلکہ فرض ہے اور (۲۔ب) اگر’’مُکرَہ ‘‘(جس کو مجبور کیا گیا) نے ان کاموں کو نہ کیا (مثلاً کہا گیا کہ مردار کھا مگر اُس نے نہ کھایا) اور ظالم نے اُس مجبور کو جان سے مار ڈالا تو ’’مُکرَہ ‘‘ مجبور ہونے کے باوجود بھی گنہگار ہوا۔ ظالم توا پنے ظلم کی وجہ سے گناہ گار ہوا مگر’’مُکرَہ ‘‘ (یعنی مجبور) شریعت کا حکم نہ ماننے کی وجہ سے گناہ گار ہوا کیونکہ شریعت نے اس صورت(case) میں اُسے کھانے کا حکم دیا تھا اور نہ کھانے کی وجہ سے قتل کر دیا گیا اور اس کی مثال اُس شخص کی طرح ہے کہ جسے بہت سخت بھوک لگی ہے، اگر یہ ناجائز چیزیں (جیسے مردار ) نہ کھائے گا تو مر جائے گا ، اب شریعت نے اس پر لازم کیا ہے کہ یہ شخص ، ان ناجائز چیزوں کو کھا لے تاکہ زندہ رہ سکے پھرایسا(بھوکا) شخص بھی یہ ناجائز چیزیں(جیسے مردار ) نہ کھانے کی وجہ سے مر جائے گا تو شریعت کا حکم نہ ماننے کی وجہ سے گناہ گار ہوگا (۲۔ج)ہاں !اگر اس کو یہ بات معلوم نہ تھی کہ اس حالت(condition) میں ان چیزوں کا استعمال شرعاً جائز(بلکہ لازم) ہے اوریہ مسئلہ معلوم نہ ہونے کی وجہ سے ، ان ناجائز چیزوں کواستعمال نہ کیا (مثلاً مردار نہ کھایا)اور قتل کر دیا گیا تو گناہ نہیں، اسی طرح(۲۔د) اگر استعمال نہ کرنے میں یہ نیّت (intention) ہو کہ دھمکی سننے کے بعد بھی ، اگر میں ان چیزوں کو نہ کھاؤں تو غیر مسلموں پر مسلمانو ں کا رُعب پڑے گا تو اب بھی ان چیزوں کو نہ کھانا، گناہ نہیں۔
(بہارِ شریعت ج۳،ح۱۵،ص ۱۸۸، مسئلہ۱،۲،۳،۴،۵،۱۵)
{6} اگر کوئی یہ دھمکی (threat) دے کہ: ’’ کُفریّہ بات کہو! یا یہ کُفریّہ کام کرو! ورنہ تمہیں جان سے ماردوں گا یا تمہارے جسم کا کوئی حصّہ(part of body) کاٹ دوں گا‘‘ تو اِس صورت میں اگر یقین (believe)ہے کہ جو دھمکی(threat) دے رہا ہے وہ جیسا کہہ رہا ہے ویسا کر لے گا تو:
(۱) پہلے ایسی بات یا ایسا کام کرے کہ جس سے سامنے والے کو لگے کہ اس نے میری بات مان لی(کُفر کر لیا) اور اصل میں اُس شخص نے’’ کفر ‘‘ نہ کیا ہو بلکہ’’ توریہ‘‘ کیا ہو (یعنی ایسا کام کیا کہ دیکھنے والا سمجھا کہ کُفر کر لیا، لیکن وہ کام کُفر نہ تھا) ۔ مثلاً اس کو مجبور(force) کیا گیا کہ بُت(یا کسی بھی جھوٹے خدا ) کو سجدہ کرے اور اس نے سجدہ تو کیا مگریہ نیّت کی کہ میں اللہ کریم کو سجدہ کرتا ہوں۔ یاد رہے کہ اگر اس شخص کے دل میں’’ توریہ‘‘ کا خیال آیا مگر اُس نے’’ توریہ‘‘ نہ کیا (مثلاً غیر خدا کو سجدے کرنے پر مجبورگیا تو اُس نے سجدہ کیا اور مسئلہ یاد ہونے کے باوجود،اللہ کریم کو سجدہ کرنےکی نیّت نہیں کی )تو یہ شخص ’’کافر ‘‘ہو جائے گا اور اس کی عورت نکاح سے نکل جائے گی۔
(۲) اگر اس شخص کو’’ توریہ‘‘کی طرف دھیان (یعنی توجّہ۔attention)ہی نہ رہی اور بت ہی کو سجدہ کر دیا، لیکن دل میں’’ کفر ‘‘ کا انکار (denial) ہواور دل’’ ایمان‘‘پر ویسے ہی مضبوط(strong) رہے جیسے پہلے مضبوط تھا۔ یعنی دل میں یہ بات ہو کہ مجبوراً زبان سے ’’کفر ‘‘کہہ رہا ہوں یا مجبوراً کُفریّہ کام کر رہا ہوں مگرہوں پکّا مسلمان تو اس صورت میں کافر نہیں ہوگا۔ (بہارِ شریعت ح۹، ص ۴۵۶ مع ح۱۵، ص۱۹۲ مُلخصاً)
{7} ’’کفر ‘‘ کرنے پر مجبور کیا گیا اور ’’کفر ‘‘ نہ کیا اس وجہ سے قتل کر دیا گیا تو ثواب پائے گا۔( ح۱۵، ص۱۹۲، مسئلہ ۱۷)
’’ عورتوں کے مزید(more) مسائل ‘‘
فرمانِ آخری نبی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:
سورہ بقرہ کے آخر کی دو(2) آیتیں اللہ کریم کے اس خزانے(treasure) میں سے ہیں، جو عرش کے نیچے ہے ۔ اللہ کریم نے مجھے یہ دونوں آیتیں دیں انھیں سیکھو اور اپنی عورتوں کو سکھاؤ کہ وہ رحمت ہیں اور اللہ کریم سے نزدیکی(کا سبب ہے) اور(یہ دونوں آیتیں پڑھنا، اللہ کریم سے) دعا( کرنابھی)ہے۔
(سنن الدارمي،کتاب فضائل القرآن، الحدیث:۳۳۹۰،ج۲،ص۵۴۲)
واقعہ(incident): حضرت صفیہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا کی بہادری(bravery)
جنگ خندق(یعنی ایک لڑائی) میں ایسا بھی ہوا کہ جب یہودیوں نے یہ دیکھا کہ ساری مسلمان فوج خندق (یعنی حفاظت کے لیے زمین کھود کر بنائے جانے والے گڑھے)کی طرف مصروف(busy) ہےتو جس قلعہ (fort) میں مسلمانوں کی عورتیں اور بچے موجود تھے، کچھ یہودی وہاں پہنچے اور حملہ (attack)کر دیااور ایک یہودی دروازہ تک پہنچ گیا۔حضرت صفیہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا نےاس کو دیکھ لیا اور(دور سے) حضرت حسان بن ثابت رَضِیَ اللہُ عَنْہسے(اشارے وغیرہ سے)کہا کہ تم اس کو مارو، ورنہ یہ جا کر دشمنوں کو بتا دے گا (کہ یہاں کوئی مرد نہیں)پھر خود حضرت صفیہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا نے خیمہ (tent)کی ایک چوب(یعنی خیمہ لگانے کی لکڑی ) نکال کر اس کے سر پر اس زور سے ماری کہ اس کا سر پھٹ گیاپھرخود ہی اس کا سر قلعے(fort) کے باہر پھینک دیا۔یہ دیکھ کر حملہ کرنے والوں کویقین ہو گیا کہ قلعےکے اندر بھی کچھ فوج موجود ہے اس ڈر سےانہوں نے پھر اس طرف حملہ (attack) نہیں کیا۔نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ دور سے دیکھ رہے تھےاور حضرت صفیہ کے بیٹےحضرت زبیررَضِیَ اللہُ عَنْہ ساتھ تھے ،اُن سے فرمایا کہ اپنی والدہ کی بہادری (bravery)کو تو دیکھو (زرقانی ،ج۲ ،ص۱۱۱ مع سیرت مصطفی ، ۳۴۱ مُلخصاً) ۔ حضرت صفیہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا پیارےآقا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کی پھوپھی(یعنی والد کی بہن) ہیں ۔
(زرقانی جلد ،۳ ص۲۸۷)
عورتوں کے مسائل:
{1}غسل فرض ہونے کی صورت میں دودھ پلانا کیسا؟:
جُنبی(یعنی جس پر غسل فرض ہو) کا پسینہ ، لُعاب (یعنی تھوک)وغیرہ پاک ہی رہتے ہیں لہٰذا غسل فرض ہونے کی حالت میں بھی عورت کا دودھ پاک ہے اور ناپاکی کی حالت میں بچے کو دودھ پلانا بھی جائز ہے کہ اس کے لئے طہارت ضَروری نہیں ہے ۔
یاد رہے کہ جس پر غسل فرض ہو ، اسے چاہیے کہ نہانے میں دیر نہ کرے ،اگر فوراً غسل نہیں کرسکتا تو کم از کم اسے وضو کر لینا چاہیے ۔ جلدی غسل یا وضو کرنا فرض یا واجب نہیں بلکہ مستحب (اور ثواب کا کام)ہے ۔ ہاں ! اتنی دیر کرنا، ناجائز و گناہ ہے کہ جس (دیر) میں فرض نماز کا وقت ہی نکل جائے یا مکروہ تحریمی وقت شروع ہوجائے۔اتنی دیر کرنے والا شخص ضَرورگنہگار ہوگا۔( رجب المرجب، 1439،ماہنامہ فیضانِ مدینہ، اسلامی بہنوں کے مسائل ،مُلخصاً)
{2}عورت کا دودھ کپڑوں پر لگ جائے تو:
انسانی دودھ لگے کپڑوں میں نماز پڑھنا درست ہے، کہ انسان کا دودھ پاک ہے۔
(شوال المکرم، 1439،ماہنامہ فیضانِ مدینہ، اسلامی بہنوں کے مسائل ،مُلخصاً)
{3}کیادوران ِخطبہ عورت گھر میں نماز ِظہر پڑھ سکتی ہے؟:
مسجدمیں ہونے والے جمعہ کے خطبے کے وقت عورتیں گھر میں نماز ِظہرپڑھ سکتی ہیں البتہ بہتر یہ ہےکہ جمعہ کی جماعت ہوجانے کے بعد پڑھیں ۔ خطبہ سننا مسجد میں موجود لوگوں پر فرض ہے گھرمیں موجود عورتوں پر نہیں۔
(ذوالقعدۃ، 1439،ماہنامہ فیضانِ مدینہ، اسلامی بہنوں کے مسائل ،مُلخصاً)
{4} کیاعورت اندھیرے میں ننگے سر نماز پڑھ سکتی ہے؟:
نماز کے لئے عورت کا سر اور اس کے لٹکتے بال بھی سَتْرِ عورت میں شامل ہیں(یعنی انہیں بھی چھپانے کا حکم ہے) لہٰذا اگر عورت کے پاس سر چھپانے کے لیے لباس(مثلاًچادر یا کپڑا) ہو پھر بھی نماز میں اپنا سر نہ چھپایا تو نماز نہ ہوگی ۔ کمرے میں اندھیرا ہونے اور کسی کے نہ دیکھنے سے بھی کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ یہاں ان بالوں کا چھپانا نماز کے لئے فرض ہے۔(ذوالقعدۃ، 1439،ماہنامہ فیضانِ مدینہ، اسلامی بہنوں کے مسائل ،مُلخصاً)
() مُفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کچھ اس طرح فرماتے ہیں:سَتْرِعورت ہر حال میں واجب ہے، چاہے نماز میں ہو یا نماز کے علاوہ ہو، اکیلے میں ہو یا کسی کے سامنے۔ بغیر کسی ایسے کام کے جس کی شریعت نے اجازت دی ہو، اکیلے میں بھی سَتر کھولنا جائز نہیں اور لوگوں کے سامنے یا نماز میں سَتر بالاجماع (یعنی عُلَمائے کِرام کے اتفاق سے۔with the consensus of scholars) فرض ہے۔ یہاں تک کہ اگر اندھیرے مکان(مثلاً گھر) میں نماز پڑھی، چاہے وہاں کوئی اور نہ بھی ہو اور نماز پڑھنے والے(یا نماز پڑھنے والی) کے پاس اتنا پاک کپڑا موجود ہے کہ سَتر کا کام دے (یعنی جسم کو جہاں جہاں سے چھپانے کا حکم ہے، ان حصّوں کو چھپا سکے ) پھر بھی بے سَتر(ان حصّوں کو چھپائے بغیر) پڑھی، تو نماز نہ ہوگی۔
(بہار شریعت،ج ۱،ص۴۷۹،مُلخصاً)(ذوالحجۃ، 1439،ماہنامہ فیضانِ مدینہ، اسلامی بہنوں کے مسائل ،مُلخصاً)
{5} اسلامی بہنیں قعدہ میں کیسے بیٹھیں؟:
عورتیں تشہد میں مَردوں کی طرح نہیں بیٹھیں گی بلکہ ان کے لئے شریعت کا یہ حکم ہے کہ وہ توَرُّک کریں یعنی اپنے دونوں پاؤں سیدھی طرف نکال کر اُلٹی طرف سرین(یعنی بیٹھنے کی جگہ ) پر بیٹھیں۔ اس کی چند وجوہات (causes) ہیں:(۱) کیونکہ پیارے آقا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بھی اس طرح بیٹھے ہیں(۲) اس طریقے سے بیٹھنے میں عورتوں کے لئے آسانی بھی ہے(۳) اس طرح بیٹھنے میں پردہ زیادہ رہتا ہے اور عورتوں کے لئے وہی طریقہ زیادہ مناسب ہوتا ہے کہ جس میں پردہ زیادہ ہو جیسا کہ عورتوں کا سجدہ مَردوں کی طرح نہیں ہے، مردوں کو حکم ہے کہ وہ کہنیاں (elbows) زمین سے، بازو (arms) پہلوؤں (sides) سے اور پیٹ رانوں (thighs) سے دور رکھیں لیکن عورت کو سجدہ سمٹ (اپنے جسم کو آپس میں ملا)کر سجدہ کرنے کا حکم ہے بلکہ روایتوں میں عورتوں کو مَردوں کی طرح بیٹھنے سے منع کیا گیا ، انہیں پہلے چار زانو (sitting cross-legged) بیٹھنے کا حکم دیا گیا تھا پھر سمٹ کر بیٹھنے کا حکم ہوا ۔اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں : کیونکہ اس میں زیادہ سَتر(یعنی پردہ) اور آسانی ہے اور خواتین کے معاملے میں سَتراور آسانی ہی کو دیکھا جاتا ہے۔
(فتاویٰ رضویہ، ج۶،ص۱۴۹، مترجم بالفارسی ) (محرم الحرام، 1440،ماہنامہ فیضانِ مدینہ، اسلامی بہنوں کے مسائل ،مُلخصاً)
{6} مسجد کی جماعت سے پہلے عورت کی نماز: عورتوں کے ليےمستحب یہ ہے کہ فجر کی نمازہمیشہ غلس ( یعنی اوّل وقت ) میں پڑھیں اور باقی نمازوں میں بہتر یہ ہے کہ مَردوں کی جماعت کے بعد پڑھیں۔ہاں! اگر اذان کے بعد اورمستحب وقت سے پہلے بھی پڑھیں گی تو بھی ہوجائے گی۔(رجب المرجب، 1440،ماہنامہ فیضانِ مدینہ، اسلامی بہنوں کے مسائل ،مُلخصاً)
{7} کیا خواتین اذان سے پہلے بھی نماز پڑھ سکتی ہیں؟:
نماز کا وقت شروع ہوجانے کے بعد عورتوں کا اذان سے پہلے نماز ادا کرنا خلافِ اَولیٰ ہے (یعنی بہتر نہیں) کیونکہ اَولیٰ و افضل یہ ہے کہ کوئی عذر(شرعی وجہ) نہ ہو تو فجر کے علاوہ نمازوں میں مَردوں کی جماعت کا انتظار کریں اور جب مَردوں کی جماعت ہوجائے تو اس کے بعد عورتیں نماز پڑھیں۔
(ذوالحجۃ، 1440،ماہنامہ فیضانِ مدینہ، اسلامی بہنوں کے مسائل ،مُلخصاً)
{8} اسکارف لپیٹنے کا شرعی حکم:
ابو داؤد شریف کی حدیث پاک میں ہے کہ پیارے آقا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ،اُمُّ المؤمنین حضرت اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا کے پاس تشریف لائے، آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا نے دوپٹہ اوڑھا ہوا تھا تو آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ ایک مرتبہ لپیٹو، دو مرتبہ نہیں(ابوداؤد، 4/88، حدیث: 4115)۔ عُلَمائے کِرام ، نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کے اس فرمان کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ عرب عورتیں دوپٹہ یا چادر اوڑھتے ہوئے اسے سر کے اوپر عمامے کے پیچ (پٹی) کی طرح گھمالیتی تھیں تاکہ دوپٹہ سر سے نہ گرے، جو دیکھنے میں عمامے کی طرح لگتا تھا یعنی مردوں جیسا عمامہ عورتوں کے سر پر ہو جاتا اورمشابہت پیدا ہوجا تی تھی(اور شرعاً عورت مردوں کی طرح کا لباس نہیں پہن سکتی، لمعات التنقیح،7/372،فتاویٰ رضویہ، 24/537)۔ ہمارے ہاں جو اسکارف، دوپٹے، حجاب وغیرہ پہنے جاتے ہیں (خصوصاً دوپٹہ اس میں دو مرتبہ لپیٹا جاتا ہے، مگر) وہ عمامے کے پیچ کی طرح موٹا کرکے سر کے اوپر نہیں لپیٹتے اور نہ ہی دیکھنے میں عمامے کی طرح لگتے ہیں لہٰذا وہ حدیث شریف میں بیان کیے گئے اس حکم میں نہیں آتے کیونکہ دوپٹے کو لپیٹنا اسے سرکنے (کھلنے)سے روکنے کیلئے ہوتا ہے اور نماز میں اس طرح لباس پہننا جس میں بال اچھی طرح چھپ جائیں، یہ نماز پڑھنے اور بالوں کو چھپانے کے لیے ایک اچھا بلکہ ضروری کام ہے۔
(محرم الحرام ، 1441،ماہنامہ فیضانِ مدینہ، اسلامی بہنوں کے مسائل ،مُلخصاً)
{9} جہری نمازوں میں عورت کا جہراً قراءت کرنا: عورت کو جہری نماز (یعنی رات کی نمازیں مثلاً مغرب، عشاء، فجر )میں بھی قراءت میں جہر(یعنی بلند آواز سے تلاوت) کرنا منع ہےکیونکہ مرد اورعورتوں کی نماز میں کئی چیزوں میں فرق ہیں ،جو کہ عُلَمائے کِرام نے فقہ (یعنی دینی مسائل) کی کتابوں میں لکھے ہیں ۔ اِنہی فرق میں سے ایک یہ بھی ہے کہ عورت جہری (یعنی رات کی)نمازوں میں بھی جہر( اونچی آواز سے قراءت) نہیں کرے گی ۔( ربیع الثانی، 1441،ماہنامہ فیضانِ مدینہ، اسلامی بہنوں کے مسائل ،مُلخصاً)
{10}بچہ پیدا ہونے سے پہلے خون آنے پر نماز کا حکم:
حاملہ عورت(pregnant) کو حمل کےدوران(during pregnancy) آنے والا خون، اسی طرح بچہ کی پیدائش (birth)کے وقت جبکہ بچہ ابھی آدھے سے زیادہ باہر نہ نکلا ہو آنے والا خون، استحاضہ(بیماری والے خون) کے حکم میں ہوتا ہے اور حالتِ استحاضہ میں (یعنی بیماری کا خون آنے پر) نماز ،روزہ معاف نہیں۔البتہ خون آنے کی صورت(case) میں اس عورت پر ہر نماز سے پہلے غسل کرنا ضروری نہیں بلکہ ناپاک جگہ کو دھو کر وضو کرلینا کافی (enough)ہے، کیونکہ استحاضہ(بیماری) کا خون وضو تو توڑ دیتا ہے(اور کپڑے بھی پاک کرنے ہوتے ہیں ) مگر اس خون سےغسل فرض نہیں ہوتا۔ بہارِ شریعت میں ہے:استحاضہ میں نہ نماز معاف ہے نہ روزہ، نہ ایسی عورت سے صحبت(یعنی نہ ہی میاں بیوی کی خصوصی ملاقات) حرام ہے۔
(بہار شریعت،1/385) ( جمادی الاولیٰ، 1441،ماہنامہ فیضانِ مدینہ، اسلامی بہنوں کے مسائل ،مُلخصاً)
{11}کیا حاملہ عورت(pregnant) پر روزہ رکھنا فرض ہے؟:
حاملہ(pregnant) کے لیے اس وقت روزہ چھوڑنا ،جائز ہے جب اپنی یا بچے کی جان کے ضائع (waste) ہونےکا صحیح اندیشہ (مضبوط خیال ۔strong assumption)ہو، اس صورت(case) میں بھی وہ عورت ابھی روزہ نہیں رکھے گی مگر بعد میں اس روزے کی قضا کرناہوگی ۔
( رمضان المبارک، 1441،ماہنامہ فیضانِ مدینہ، اسلامی بہنوں کے مسائل ،مُلخصاً)
{12}خواتین کا اپنے پاس مُوئے مبارک(یعنی پیارے آقا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کے بال) رکھنا کیسا؟: جس طرح مَردوں کوتَبَرُّکات(برکت والی چیزیں، جیسے نبی پاک صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کے بال شریف) رکھنے کی اجازت ہے، اسی طرح خواتین کوتَبَرُّکاترکھنے کی اجازت ہے()عورتوں کو بہت سے تبرکات کے ساتھ ساتھ نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کے موئے مبارک(یعنی برکت والے بال شریف) رکھنا بھی شرعاً جائز ہے۔ کئی صحابیات رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُنَّ نے نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کے موئے مبارک(یعنی بال شریف) اور دیگر (other)تبرکات(مثلاً حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کے پانی کا برتن، آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کے کپڑے) اپنےپاس رکھے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَاکے پاس نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کاکمبل شریف (blessed blanket)اور تہبندمبارک(شلوار، پاجامے کی جگہ ایک کپڑا پہنا جاتا ہے) تھا۔حضرت اسماء بنتِ ابوبکر صدیقرَضِیَ اللہُ عَنْہَاکے پاس جبہ مبارک(ایک قسم کا ڈھیلا کُرتا) تھااورحضرت اُمِّ سُلَیم رَضِیَ اللہُ عَنْہَاکےپاس نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کا پسینہ مبارک اوربال مبارک تھے۔اس کے علاوہ بھی کئی نیک خواتین کے پاس نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کے بال مبارک رہے ہیں ۔(شوال المکرم، 1441،ماہنامہ فیضانِ مدینہ، اسلامی بہنوں کے مسائل ،مُلخصاً)
{13}ناک اور کان چھیدنے (یعنی زیور پہننے کے لیے چھوٹا سا سوراخ کرنے)کی اُجرت(wages) لینا کیسا؟: لڑکیوں کی ناک اور کان چھیدنے(یعنی زیور پہننے کے لیے چھوٹا سا سوراخ کرنے) کی اُجرت (wages)لینا جائز ہے، کیونکہ ہماری پاکیزہ شریعت میں عورتوں کا ناک و کان چھدوانا(یعنی زیور کے لیے اُس میں سوراخ کروانا)، جائز ہے۔ جب زیور پہننے کے لیے ناک اور کان کو چھدوانا، جائز ہے، تو دوسرے کا(ناک یا کان) چھیدنا (یعنی سوراخ کرنا)اور اس کی اُجرت لینا بھی جائز ہے۔ یاد رہے کہ اس کام کے لئے غیر مرد کا بالغہ(grownup) یا نابالغ مشتہاۃ (جنہیں دیکھ کرشہوت (یعنی جنسی خواہش۔sexual desire)آئے، مثلاًنو( 9)سال کی ) لڑکی کا کان دیکھنا یا جسم کسی بھی حصّے کو(کپڑے وغیرہ کے بغیر(direct) شرعی اجازت نہ ہونےپر بھی) چھونا، ناجائز و حرام اور گناہ ہے۔(ذو القعد ۃ الحرام، 1441،ماہنامہ فیضانِ مدینہ، اسلامی بہنوں کے مسائل ،مُلخصاً) نو( 9)سال سے چھوٹی صحت مند(healthy) بچیوں کو بھی ہاتھ نہیں لگانا چاہیے۔توجُّہ(attention) جو بالغہ عورت اس طرح غیر مرد سے کان چھدواتی ہے ، وہ بھی گناہ گار ہے۔
{14}عورتوں کا جماعت کے ساتھ صلوٰۃ ُالتسبیح پڑھنا کیسا؟: فرائض و واجبات کے ساتھ ساتھ نفل نماز کثرت سے (یعنی بہت زیادہ) پڑھنا،یقیناً اللہ کریم کے قُرب (یعنی اُس کی رحمت سے قریب ہونے ) کا سبب ہے یہاں تک کہ کل قیامت کے دن اگر کسی کے فرضوں میں کمی ہوگی تو اللہ کریم اپنی رحمت سے وہ کمی نفل سے پوری کر دے گا۔ یاد رہے کہ عورتوں کا مِل کر صلوٰۃُ التسبیح یا کوئی بھی نماز جماعت کے ساتھ پڑھنا جائز نہیں ہے کیونکہ عورتوں کی جماعت مطلقاً (ہر صورت ۔ caseمیں)مکروہِ تحریمی(ناجائز اور گناہ) ہے، چاہے وہ فرض نماز ہو یا صلوٰۃ التسبیح ہو یا کوئی اور نفل نماز ہو، جماعت کروانے والی خاتون چاہے پہلی صف کے درمیان کھڑی ہو کر نماز پڑھائے یا آگے بڑھ کر نماز پڑھائے، ہرصورت میں نماز مکروہ تحریمی ہے۔ہاں! آگے کھڑی ہو کر نماز پڑھانے میں نماز کا مکروہ ہونا دوہرا (double) ہو جائے گا۔(ذو القعد ۃ الحرام، 1441،ماہنامہ فیضانِ مدینہ، اسلامی بہنوں کے مسائل ،مُلخصاً)
{15}نماز میں عورت کے سر کے بالوں کا پردہ:
{A} (۱)نماز میں جسم کے جن حصّوں(parts) کوچھپانے کا حکم ہے، ان حصّوں میں سے کسی ایک حصّے کی بھی چوتھائی (1/4 یعنی25%) اگر نماز شروع کرتے وقت کھلی ہو(نظر آرہی ہو) یعنی اسی حالت(condition) میں” اَللہُ اَکْبَر “ کہہ لیا، تو نماز شروع ہی نہیں ہوگی(۲)اگر کوئی ایک حصّہ چوتھائی (1/4 یعنی25%) سے کم کھلا تھا، تو نماز ہو گئی(۳)اسی طرح نماز شروع کرنے کے بعد کوئی ایک حصّہ چوتھائی (1/4 یعنی25%) سے کم کھل گیا تب بھی نماز ہو جائے گی (۴) نماز میں جسم کے جن حصّوں(parts) کو چھپانے کا حکم ہے، نماز شروع کرتے ہوئے تو وہ حصّے چھپے ہوئے تھے لیکن نماز پڑھتے ہوئے ایک حصّے کا چوتھائی(1/4 یعنی25%) کھل گیا :(a)اگر جان بوجھ کر(deliberately) اتنا جسم نماز میں کھولا تھا تو نماز ٹوٹ گئی(b)اگرخود بخود(it self) جسم کے کسی ایک حصّے کی چوتھائی(1/4 یعنی25%) کھل گئی اور ایک رُکن کی مقدار( یعنی تین مرتبہ”سُبْحَانَ اللہ “ کہنے میں جتنا وقت لگتا ہے، اتنا وقت گزرنے ) سے پہلے چھپالی تو نماز ہو جائے گی اور(c) اگر ایک رکن پورا کرنے میں جتنا وقت لگتا ہے، اُتنی دیرکھلی رہی تو نماز نہیں ہوگی۔ (بہار شریعت ح۳،ص۴۸۲، مسئلہ ۲۷،۲۶، مُلخصاً)
{B} سَتر کے لحاظ سے(according) مرد اور عورت کے جسم کے کتنے حصّے ہیں، اس کے لیے بہارِ شریعت حصّہ تین (3) پڑھیں۔ سر کے بالوں کے لحاظ سے سَتر کے دو(2) حصّے بنتے ہیں۔(۱) جو بال عورت کے سر پر ہوتے ہیں وہ سر میں شامل ہیں(یعنی سر اور وہ بال جسم کا ایک ہی حصّہ ہے)،(۲) جو بال سر سے لٹکے ہوئے ہوتے ہیں یعنی جو کانوں سے نیچے ہیں وہ سر سے الگ، سَتْر کا دوسرا حصّہ(second part) ہے۔
اس تفصیل(detail) اور پوائنٹ نمبرA کی تفصیل کے مطابق، کچھ مسائل :
(a)نماز پڑھتے ہوئےاگر سر کانوں تک ڈھکا ہوا (covered)ہے لیکن لٹکنے والے بالوں کا چوتھائی حصّہ (1/4 یعنی25%) کھل گیا اور اس حالت(condition) میں ایک مکمل رکن کی مقدار( یعنی تین مرتبہ”سُبْحَانَ اللہ “ کہنے میں جتنا وقت لگتا ہے، اتنا وقت) کھلا رہا تو نماز نہیں ہوگی(b) اگر نماز پڑھتے ہوئے،جان بوجھ کر (deliberately) کانوں سے نیچے آنے والے سر کے بالوں کی چوتھائی(1/4 یعنی25%) کھول دی تب بھی نماز ٹوٹ گئی (اوراس صورت (case) میں تین مرتبہ ”سُبْحَانَ اللہ “ کہنے میں جو وقت لگتا ہے، اتنی دیر کھولنا ضروری نہیں بلکہ جان بوجھ کر(deliberately) جیسے ہی اتنے بال کھولے فوراً نماز ٹوٹ گئی ) بلکہ(c) اگر تکبیرِ تحریمہ کہتے(یعنی ” اَللہُ اَکْبَر “ کہہ کر نماز شروع کرتے )ہوئے، کانوں سے نیچے آنے والے سر کے بالوں کی چوتھائی (1/4 یعنی25%) کُھلی ہوئی تھی تو نماز شروع ہی نہ ہوگی۔
(جمادی الاولیٰ، 1442،ماہنامہ فیضانِ مدینہ، اسلامی بہنوں کے مسائل ،مُلخصاً)
{C} یہ سب مسائل جسم کے ایک حصّے کے کُھلنے پرہیں۔ اگر جسم کے کچھ حصّے ، تھوڑے تھوڑے کُھلے ہوئے ہوں
اور ہر ایک کُھلا ہوا حصّہ اپنی چوتھائی(1/4 یعنی25%) سے کم تھا، مگر جب سب کُھلے ہوئے حصّوں کو جمع کیا تو سب مل کر(اُن کُھلے ہوئے حصّوں میں سے) جسم کے سب سے چھوٹے حصّے کی چوتھائی(1/4 یعنی25%) کے برابر بن رہے تھے تو اب بھی (اوپر بیان کی ہوئی تفصیل کے مطابق) نماز نہیں ہوگی۔مثلاً عورت کے کان (ear)کا نواں حصّہ (10/9۔11.11%) اور پنڈلی(calves)کا نواں حصّہ (10/9۔11.11%)کُھلا رہا پھرجب ان دونوں کو (اپنے ذہن میں ) ملائیں گے تو یقیناً اس کُھلے ہوئے حصّے کی مقدار(quantity) کان کی چوتھائی(1/4 یعنی25%) سے بہت زیادہ ہوگی لہذا اس صورت(case)میں بھی(یعنی کان (ear)کا نواں حصّہ (10/9۔11.11%) اور پنڈلی(calf)کا نواں حصّہ (10/9۔11.11%)کُھلا رہنے پر بھی) نماز نہیں ہوگی۔(بہار شریعت ح۳،ص۴۸۲، مسئلہ۲۸، مُلخصاً) جبکہ نماز کے شروع میں اتنے حصّے کُھلے رہے، یا () نماز کے بیچ میں خود اتنے حصّے کھول دیے، یا () نماز کے بیچ میں کُھل گئے اور تین مرتبہ ”سُبْحَانَ اللہ “ کہنے میں جو وقت لگتا ہے، اتنا وقت کُھلے رہے۔
{16}کیا بچّے کو دودھ پلانے میں شمسی مہینے (مثلاً۔۔۔jan, feb, march)دیکھے جائیں گے؟:
بچّے کو جو دو(2) سال تک دودھ پلانا، جائز ہے، اس دودھ پلانے میں قمری مہینوں ( مثلاً:محرم، صفر، ربیع الاول۔۔۔) کا حساب لگانا ضروری ہے۔ شمسی مہینوں (مثلاً: جنوری، فروری، مارچ۔۔۔) کے حساب سےدو (2)سال پورے کرنا حرام ہے کیونکہ شمسی مہینوں کے دن، قمری مہینوں سے زیادہ ہوتے ہیں۔ اب جب شمسی مہینوں کا حساب لگائیں گے تو وہ قمری کے دو سال سے کچھ دن زیادہ بنیں گے اور قمری کے دو سال کے بعد دودھ پلانا ،جائز نہیں ہے۔
ہاں! یہاں یہ ایک مسئلہ ذہن میں رہے کہ قمری ڈھائی سال سے پہلے(اپنے بچے کے علاوہ، کسی اور )بچے کو دودھ پلا دیا تورضاعت (یعنی دودھ) کا رشتہ بن جائے گا(یعنی دودھ پلانے والی، اُس بچے کی ماں تو بن جائے گی مگر اس کے لیے بھی قمری دو سال کے بعد دودھ پلانا جائز نہیں)۔
(جمادی الاخریٰ، 1442،ماہنامہ فیضانِ مدینہ، اسلامی بہنوں کے مسائل ،مُلخصاً)
{17}بچّے کی جنس(یعنی لڑکا ہے یا لڑکی) معلوم کرنے کے لئے الٹراساؤنڈ کروانا کیسا؟:
ماں کے پیٹ میں لڑکا ہے یا لڑکی ؟ یہ جاننے کے لئے الٹراساؤنڈ کروانا جائز نہیں، چاہے الٹراساؤنڈ کرنے والی لیڈی ڈاکٹر ہی کیوں نہ ہو کہ اس میں شرعی اجازت کے بغیر ایک عورت کے ناف کے نیچے کا حصّہ دوسری عورت کو دکھا یا جاتا ہے اور وہ اسےچھوتی (touchکرتی) ہے اور یہ دونوں کام کسی دوسری عورت کے لئے بھی جائز نہیں ہیں کیونکہ عورت کی ناف (پیٹ کے سوراخ) کے نیچے کا حصّہ دوسری عورت کے لیے بھی سَترہے یعنی اس حصّے کو دوسری عورت سے چھپانا فرض ہے اور اس کی طرف نظر کرنا اور چھونا بھی دوسری عورت کو جائز نہیں ہے۔
۔(جمادی الاخریٰ، 1442،ماہنامہ فیضانِ مدینہ، اسلامی بہنوں کے مسائل ،مُلخصاً)
{18}کیا عورت گھر کی چھت پر نماز پڑھ سکتی ہے؟:
عورت کا چھت پر نماز پڑھنا جائز ہے جبکہ بے پردگی نہ ہو۔ مثلاً چھت پر اگر اتنی اونچی باؤنڈری وال ہے کہ کھڑے ہو کر دیکھیں تو دوسروں کے گھروں پرنظر نہیں پڑتی اور دوسروں کی نظر بھی اس عورت پر نہیں پڑے گی تب تو کوئی گناہ نہیں لیکن عورت کا بند کمرے میں نماز پڑھنا افضل ہے ۔
ابو داؤد شریف کی حدیث میں ہے کہ حضرت عبداﷲ بن مسعود رَضِیَ اللہُ عَنْہ کہتے ہیں کہ پیارے آقا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نے فرمایا: عورت کا دالان(گھر کے اندر کا صحن مثلاً کمروں کے بیچ کی جگہ) میں نماز پڑھنا صحن (گھر کے دروازے سے اندر اور کمروں سے پہلے کی جگہ)میں پڑھنے سے بہتر ہے اور کوٹھری(یعنی کمرے) میں پڑھنا دالان (گھر کے اندرونی صحن)سے بہتر ہے۔
۔ (سنن ابی داؤد،1/96،حدیث :570)(اپریل، 2021،ماہنامہ فیضانِ مدینہ، اسلامی بہنوں کے مسائل ،مُلخصاً)
{19}نابالغہ بیٹی کی مِلک میں موجود سونا بڑی بیٹی کو دلوانا:
ایک نابالغہ بچی کی مِلک میں کچھ سونا ہے، اس کی والدہ چاہتی ہے کہ یہ سونا اپنی بڑی لڑکی کو اس کی شادی میں دے دے اور بعد میں اسی وزن کا سونا بنوا کر نابالغہ بیٹی کو واپس دے، تب بھی نابالغہ بچی کا سونا دوسری بیٹی کو دینا ماں کے لیے جائز نہیں ، چاہے ماں کی یہ نیّت (intention)ہو کہ بعد میں اتنا سونا نابالغہ بیٹی کو واپس کردے گی کیونکہ ماں کو اس طرح نابالغہ بچی کے مال کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے۔اصل ميں یہ صورت(case) ماں کی طرف سے بچی کا مال قرض لینے کی ہے اور شرعی حکم یہ ہے کہ نابالغ بچہ اپنا مال کسی کو قرض(loan) نہیں دے سکتااور نہ ہی کوئی اس سے قرض لے سکتا ہےکہ قرض دینے میں بچے کا ایک طرح کا نقصان ہے اور جس کام میں بچے کو صرف نقصان ہو، وہ کام اس کا ”ولی “ (سرپرست۔ guardian) بھی نہیں کر سکتا، پھر ماں کو تو بالکل بھی اجازت نہیں ہے۔ ہاں!باپ خاص صورت(specific case) میں بچے کا مال ، قرض کے طور پر لےسکتا ہے۔
(جولائی، 2021،ماہنامہ فیضانِ مدینہ، اسلامی بہنوں کے مسائل ،مُلخصاً)
{20} بچے کو دودھ پلانے سے وضو کا حکم: بچے کو دودھ پلانےکی وجہ سےعورت کا وضو نہیں ٹوٹتا۔(نومبر، 2021،ماہنامہ فیضانِ مدینہ، اسلامی بہنوں کے مسائل )
{21}کیا عورت کےلئے شوہر کا دادااور نانا محرم ہیں؟:
عورت جس مردسے نکاح کر لیتی ہے، اس مرد کے تمام آباؤ اجداد یعنی باپ، دادا، نانا، وغیرہ عورت کے محرم بن جاتے ہیں۔ لہٰذا عورت کا دادا اور نانا سسر یعنی شوہر کا دادا اور نانا بھی محرم ہے۔
(دسمبر، 2021،ماہنامہ فیضانِ مدینہ، اسلامی بہنوں کے مسائل )
{22}کیا سوتیلا سُسر محرم ہے؟:
سوتیلا سسر(یعنی شوہر کے والد کے انتقال ہونے یا طلاق دینے کے بعد، والدہ نے جس سے نکاح کیا ہو، وہ) شوہر کی بیوی کا محرم نہیں ہوتا کہ وہ شوہر کا (حقیقی) والد ہی نہیں ہے۔
(دسمبر، 2022،ماہنامہ فیضانِ مدینہ، اسلامی بہنوں کے مسائل )
{23}بیوی بغیر اجازت اپنے شوہر کے موبائل میں واٹس اپ میسجز وغیرہ چیک کرسکتی ہے؟:
بیوی اپنے شوہر کا موبائل بغیر اجازت ہرگز چیک نہیں کرسکتی۔اس کی بہت سی وجوہات (causes) ہیں:
(1)یہ دوسرے کا خط، میسج بغیر اجازت دیکھنا ہے اور دوسرے کا خط یا میسج بلا ضرورت بغیر اجازت دیکھنا جائز نہیں۔
(2) یہ مسلمان کے ذاتی کاموں کے پیچھے پڑنا ہے اور مسلمانوں کے پوشیدہ معاملات کی ٹوہ میں پڑنا ، جائز نہیں۔
(3)( اگر یہ دیکھنا کسی غلط خیال کی وجہ سے ہے تو)یہ مسلمان پر بدگمانی ہے اور مسلمانوں پر بدگمانی حرام ہے۔
(اکتوبر، 2022،ماہنامہ فیضانِ مدینہ، اسلامی بہنوں کے مسائل ،مُلخصاً) ہاں! اگر دونوں میں ہم آہنگی(understanding) یا اجازت ہے تو اب کوئی گناہ نہیں۔
{24} اسلامیات کی ٹیچر اور قرآنی آیتوں کا پڑھنا، پوچھنا:
اگر کوئی خاتون کسی اسکول میں لڑکیوں کو اسلامیات پڑھاتی ہوں جہاں انہیں لیکچر (lecture)کے دوران قرآنی آیات بھی پڑھنی یاسننی ہوتی ہوں اور طالبات (students)سے سوالات بھی کرنے ہوتے ہوں، جبکہ پڑھنے والی طالبات میں کچھ ناپاکی (حیض۔ menstrual period) کی حالت میں بھی ہوتی ہونگی اور ٹیچر (teacher)کواُن بچیوں کی اس حالت(condition) کا کبھی علم ہوگا اور کبھی نہیں کیونکہ جب تک کوئی بچی خود نہیں بتائے گی ، تو دوسرے کو پتا کیسے چلے گا ؟، بہر حال(however) اس صورت(case)کے کچھ مسئلے ہیں:
(۱) جب تک معلوم نہ ہو تو پڑھانے والی ٹیچر کا پڑھانا ، بالکل جائز ہے ۔
(۲) اگر کبھی معلوم ہوجائے کہ کلاس میں فلاں لڑکی ایسی حالت میں ہے یا کچھ لڑکیاں ایسی حالت میں ہیں تب بھی ایسانہیں ہوتا کہ پوری کلاس ہی اس حالت میں چل رہی ہو لہذا اس صورت (case)میں بھی ٹیچر (teacher)کا ان لڑکیوں کو پڑھانا، جائز ہے کیونکہ اس حالت میں عورت کا قرآنِ پاک چھونا اور پڑھنا توحرام ہوتا ہے لیکن قرآنِ پاک سننا اور دیکھنامنع نہیں ہے،تو اگر ٹیچر لیکچر دے اور وہ لڑکیاں صرف سن لیں تو کوئی حرج(یا گناہ) نہیں ہے
(۳)اگر ٹیچر ان لڑکیوں سے سبق کے بارے میں سوال بھی کر تی ہے تو ایسی خاص حالت(specific case) والی لڑکیوں سے سوال کرنے میں یا سبق سننے میں ٹیچر کے لیے ایک احتیاط (caution) ضروری ہے کہ وہ لڑکیوں کو اس حالت میں قرآنی آیات یا ان کا ترجمہ سنانے کا نہ کہے کہ یہ گناہ کا حکم دینا ہوگا اور اس طرح سبق سننا جائز نہیں۔البتہ ایسی لڑکیوں سے قرآن کی آیت و ترجمہ پڑھے بغیر صرف مفہوم بیان کرنے، خلاصہ بیان کرنے کا کہا جاسکتا ہے کہ مفہوم تو اپنا کلام ہوتا(یعنی اپنی بات ہوتی) ہے، اللہ کریم کا کلام(یعنی قرآنِ پاک) نہیں ہوتا۔
نوٹ: ٹیچر کو چاہیے کہ مناسب اور اچھے طریقے سے طالبات کو بھی یہ مسئلہ بتا دیں کہ عُلَمائے کِرام فرماتے ہیں: ناپاکی کی حالت میں قرآن (پڑھنا)چھونا( چاہے وہ قرآنِ پاک کے علاوہ کسی اور کتاب میں لکھا ہوا ہو،اُس کتاب میں آیت کو چھونایا زبانی اُس کا ترجمہ پڑھنا )، جائز نہیں ہے(ہاں! قرآنی سبق سُن سکتے ہیں) اور یہ مسئلہ بھی بتادیں کہ اس حالت میں قرآنِ پاک، سبق سنانے کے لیے بھی پڑھنا جائز نہیں ہے۔ اگر کسی طالبہ(student) سے قرآنی آیت یا ترجمہ پوچھ لیا گیا اور ٹیچر (teacher) کو اس کی حالت(condition)کا نہیں پتا تو ٹیچر گناہ گار نہ ہوگی مگر جواب میں ایسی طالبہ قرآنی آیت پڑھے گی یا ترجمہ سنائے گی تو وہ ضرور گنہگار ہوگی(طالبہ کو چاہیے کہ ٹیچر کو جواب دینے سے معذرت(excuse) کرلے یا کہے کہ آپ قرآنی آیت کے علاوہ کوئی اورسوال کریں) ۔
ہاں! اگر کبھی ٹیچر کو بعد میں معلوم ہو کہ کسی طالبہ نے سوال کے جواب میں قرآنی آیت سنا دی اور وہ ناپاکی (حیض۔ menstrual period) کی حالت میں تھی تو اب اس چیز کو دل میں بُرا جانتی رہے کہ برائی کو ہاتھ اور زبان سے روکنے کی طاقت نہ ہو ، تو ایمان کا سب سے ادنیٰ درجہ(low level) یہ ہے کہ اس برائی کو دل میں برا جانا جائے مگر پھر بھی بار بار اس مسئلے کی طرف توجُّہ attention)) دلائی جائے۔
(نومبر، 2022،ماہنامہ فیضانِ مدینہ، اسلامی بہنوں کے مسائل ،مُلخصاً)
{25}کیا نفلی اعتکاف ٹوٹنے پر قضا ہے؟:
( ایک اسلامی بہن ستائیسویں شب سے تین دن کی نیّت سے اعتکاف میں بیٹھ گئی ، اس نے اعتکاف کی منّت ( ) بھی نہیں مانی تھی، لیکن انتیسویں (29) روزے کو ا سے حیض (یعنی منتھلی کورس۔ menstrual period )آیا، تو روزہ ٹوٹنے کی وجہ سے اعتکاف بھی ٹوٹ گیا، مگر) اعتکاف ختم ہونے کی وجہ سے اس (اعتکاف)کی قضا(اس اسلامی بہن پر) لازم نہیں ہوگی، کیونکہ یہ اعتکاف سنتِ مؤکدہ نہیں تھا۔ سنّتِ مؤکدہ آخری عشرے کا(یعنی 21 کی مغرب سے رمضان شریف ختم ہونے تک) ہوتا ہے اس سے کم (دنوں)کا نہیں ہوتااور اس(اسلامی بہن نے اعتکاف) کی منّت بھی نہیں مانی تھی تو وہ اعتکاف ،نفلی اعتکاف ( )ہی تھا ۔یاد رہے کہمسجدِ بیت( ) میں نفلی اعتکاف ہوسکتاہے لہٰذا یہ اعتکاف نفلی تھا اور نفلی اعتکاف کی قضا لازم نہیں ہوگی(بلکہ وہ اعتکاف ختم ہو جاتا ہے)۔ جیسا کہ بہارِ شریعت میں ہے: اعتکافِ نفل اگر چھوڑ دے تو اس کی قضا نہیں کہ وہیں ختم ہوگیا
) ( جمادی الاولیٰ، 1441،ماہنامہ فیضانِ مدینہ، اسلامی بہنوں کے مسائل ،مُلخصاً)
{26}مسجدِ بیت میں میاں بیوی کا ایک ساتھ رہنا یا سر دبانا کیسا؟:
()اعتکاف کےدوران بیوی کامسجدِ بیت میں اپنے شوہرکا سر دبانے کے لیے شوہر کو چھونا (touchکرنا) جائز ہے جبکہ بیوی کو شہوت(یعنی جنسی خواہش۔sexual desire) نہ ہو۔ ()ایک ہی بستر (bed)پر دونوں کو سونے سے بچنا چاہیے ۔یاد رہے کہ جس طرح احرام ( )کی حالت میں جماع (خصوصی ملاقات) اور جماع کی طرف لے کر جانے والے کام حرام ہیں، اسی طرح اعتکاف میں بھی یہ کام حرام ہیں ۔ عُلَمائے کِرام نے ان کاموں کی مثالیں بھی بیان فرمائی ہیں :@گلے ملنا@ شہوت کے ساتھ بوسہ لینا@ یاشہوت کے ساتھ چھونا @مباشرتِ فاحشہ (یعنی بغیر کپڑے وغیرہ کے شرمگاہ سے شرمگاہ ٹکرانا)وغیر وغیرہ()اعتکاف میں شوہر ساتھ ہو تو چاہے دن ہو یا رات ہر حالت میں جماع (یعنی خصوصی ملاقات) اور اس کی طرف لے جانے والی باتوں سے اپنے آپ کو بچانا ضروری ہے، ورنہ بیوی گناہ گار ہوگی() اگر جماع (یعنی خصوصی ملاقات) ہوگئی تو اعتکاف ٹوٹ جائے گا() بلکہ ایسے کام کیے جو جماع کی طرف لے جاتے ہیں، اس میں عورت کو اگر انزال ہوجائے (مخصوص مادہ نکل آیا) تب بھی اعتکاف ٹوٹ جائے گا() ہاں! اگر جماع کی طرف لے جانے والے کچھ کام کیے مگر نہ تو جماع کیا اور نہ ہی بیوی کو انزال ہواتواس سے اعتکاف نہیں ٹوٹے گا(مگر اعتکاف کی حالت میں عورت کا ان کاموں سے بچنے کی کوشش نہ کرنا اور خوشی سے شریک ہونا، گناہ ہے)
(اپریل، 2022،ماہنامہ فیضانِ مدینہ، اسلامی بہنوں کے مسائل ،مُلخصاً)
{27} چارماہ سے کم حمل(pregnancy) کے ضائع(waste) ہونے کے بعدآنے والے خو ن کا حکم:
چار مہینے یعنی 120دن ہونے سے پہلے ہی حمل (pregnancy)ضائع(waste) ہو جائے تو:
(۱) اگر معلوم ہو کہ جسم کا کوئی حصّہ جیسے انگلی یا بال یاناخن وغیرہ بن چکا تھا، اس کے بعد حمل (pregnancy) ضائع(waste) ہوا، تو آنے والا خون نفاس( ) (یعنی بچّہ پیدا ہونے کے بعد آنے والے خون ) ہو گا۔ عورت نفاس کے شرعی مسائل پر عمل کرے گی، کیونکہ جسم کے حصّوں کی شکل و صورت چار(4) ماہ سے پہلے بننا شروع ہو جاتی ہے جبکہ روح چار(4) ماہ مکمل ہونے پر پھونکی جاتی ہے ۔
(۲) اگر حمل چار مہینے یعنی 120دن سے پہلے ضائع(waste) ہو جائے اور معلوم ہو کہ جسم کا کوئی حصّہ نہیں بنا تھا، تو آنے والا خون نفاس نہیں ہو گا۔
(۳) اگر حمل چار مہینے یعنی 120دن سے پہلے ضائع(waste) ہو جائے اور معلوم نہ ہو کہ جسم کا کوئی حصّہ بن گیا تھا یا نہیں تو بھی آنے والا خون نفاس نہیں ہو گا۔
نوٹ:ان آخری دو(2)صورتوں میں:(a) خون اگر کم از کم تین دن رات یعنی 72 گھنٹے تک جاری رہا اور اس خون کے آنے سے پہلے عورت پندرہ دن پاک رہ چکی تھی، تو یہ خون حیض( ) کا ہوگا۔ اس صورت(case) میں عورت حیض کے شرعی مسائل پر عمل کرے گی اور(b) خون اگر تین دن رات سے پہلے ہی بند ہو گیا یا (c)بند تو نہ ہوا لیکن اس خون کے آنے سے پہلے عورت پندرہ دن پاک نہیں رہی تھی، تو یہ خون استحاضہ( ) یعنی بیماری کا ہو گا، اس صورت میں عورت استحاضہ کے شرعی مسائل پر عمل کرے گی
۔(مارچ، 2022،ماہنامہ فیضانِ مدینہ، اسلامی بہنوں کے مسائل ،مُلخصاً)
’’خرید و فروخت(buying and selling) ‘‘
حضرت ابن عمر رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا کہتے ہیں:
کسی نے عرض کی، یَارَسُوْلَ اللہ ! (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ) کونسا کسب (کمائی)زیادہ پاکیزہ ہے؟ فرمایا: آدمی کا اپنے ہاتھ سے کام کرنا اور اچھی خرید و فروخت کرنا (معجمِ اوسط،ج۱ص۵۸۱، حدیث:۲۱۴۰)۔ عُلَمائے کِرام فرماتے ہیں: ایسی خرید و فروخت کہ جس میں خیانت اور دھوکا نہ ہو۔
(بہارِ شریعت،ج ۲،ص۶۱۱، مُلخصاً)
واقعہ(incident): نبی عَلَیْہِ السَّلَام کیا کرتے تھے؟
امام بخاری رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ حدیث شریف کی سب سے اہم کتاب” بُخاری شریف “ میں حضرت مِقْدَامِ بْنِ عدِی كَرِب رَضِیَ اللہُ عَنْہسےروایت کرتے ہیں کہ نبّیِ کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نے ایک مرتبہ فرمایا: اُس کھانے سے بہتر کوئی کھانا نہیں جس کو کسی نے اپنے ہاتھوں سے کام کرکے حاصل کیا ہے اور بے شک اﷲ کریم کے نبی
(حضرتِ) داود عَلَیْہِ السَّلَام اپنی دَستکاری(یعنی ہاتھ کی کمائی) سے کھاتے تھے۔
(صحیح البخاري،کتاب البیوع،الحدیث: ۲۰۷۲،ج۲،ص۱۱)
خرید وفروخت کے آداب:
{1}حلال کمانے کے ضروری شرعی مسائل کا جاننا ہر کمانے والے مسلمان پر فرض ہے کیونکہ جو علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے، وہ علم وہی ہے کہ جس کی اُسے ضرورت ہو( ) ۔اور کام کاج کرنے والے کو جب کمانے کی ضرورت ہے (تو اس پر اس کا علم حاصل کرنا فرض ہوا) اور جب اسے یہ علم حاصل ہو گا تب ہی تو وہ مُعاملات (مثلاً کاروبار)کو خراب کرنے والی چیزوں کو جانے گا۔ جب وہ کاروبار کی خرابیو ں کو جانے گا، تب ہی ان خرابیوں سے بچے گا اور جب کسی مسئلے میں اسے کوئی مشکل آئے گی تو وہ اس کے سبب(اس خرابی کے بارے) میں سوچے گا اور کسی علم والے سے سوال کرے گا ۔ اگر کوئی شخص بنیادی (basic) یا ابتدائی مسائل ہی نہ جانتا ہوگا تو وہ شخص کیسے اس خرابی کے بارے میں غور کرے گا ؟ اور کیسے اس بارے میں(عُلَمائے کِرام سے) سوال کرے گا؟۔(
(احیاء العلوم مترجم، ج۲،ص۲۴۰،مُلخصاً)
{2}اگر کوئی یہ کہے کہ میں ابھی علم حاصل نہیں کرتا اور اس وقت تک رُکا رہتا ہوں جب تک میرے سامنے کوئی واقعہ(یا مسئلہ) نہ ہو جائے۔ جب کوئی پریشانی ہوگی تو علم حاصل کرلوں گا اور عالم صاحب سے مسئلہ پوچھ لونگا۔ تو ایسے شخص کو یہ جواب دیا جائے گا کہ جب تمہیں سودے کو خراب کرنے والی چیزوں کا بنیادی(ابتدائی) علم ہی نہیں ہوگا توتمہیں خرابی کا کیسے پتا چلے گا؟ تمھیں یہ کیسے معلوم ہو گا کہ یہ کام غلط ہو رہا ہے یا صحیح؟ لہٰذا کاروبار کا اتنا علم سیکھنا ضروری ہے جس سے جائز وناجائز اور مشکل مقامات کی سمجھ آئے۔اسی وجہ سے مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ، امیرُ المؤمنین ،حضرت عمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ عَنْہکے بارے میں یہ بتایا جاتا کہ آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہ بازارمیں تشریف لے جاتے اوربعض تاجروں (کاروباری حضرات)کو درّے (whip)مار کر فرماتے:ہمارے بازاروں میں وہی خرید و فروخت کرے جو تجارت(tradeکے مسائل)جانتاہے ورنہ چاہتے یا نہ چاہتے ہوئے ، وہ سود کھائے گا۔(احیاء العلوم مترجم، ج۲،ص۲۴۰،۲۴۱)
{3}تاجر(trader)ان سات(7) باتوں کا خیال رکھے:
(۱)نیّت اورسوچ کا اچھا ہونا: اچھی اچھی نیّتیں ہوں کہ حلال کماؤنگا، سوال(یعنی کسی سے مانگنے) سے بچونگا۔
(۲) فرضِ کفایہ پورا کرنے کی نیّت کرنا: اگر سب تجارت(trade) چھوڑ دیں تو معیشت(economy) تباہ ہو جائے گی اور لوگوں کے کام رُک جائیں، لہذا مسلمانوں کے لئے دنیاوی نظام اچھا اور آسان کرنے کی نیّت بھی کرے۔
نوٹ:"فرض عین" وہ فرض ہوتا ہے کہ جس جس پر فرض ہے، ہر ایک کو کرنا ہوگا جبکہ "فرضِ کفایہ" وہ فرض ہے کہ معاشرے(society ) کے کچھ لوگوں نے کر لیا تو سب کی طرف سے وہ "فرض" پورا ہوگیا۔
(۳)دنیوی بازار میں آخرت اچھی کرنے والے کاموں سے نہ رُکنا: اللہ کریم فرماتا ہے، ترجمہ (Translation) : وہ مرد جن کو تجارت (trade)اور خریدوفروخت اللہ (کریم) کے ذکر اور نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے سے غافل نہیں کرتی۔(پ ۱۸، سورۃ النور، آیت ۳۷،ترجمہ کنز العرفان)
(۴)صرف صبح وشام ہی اللہ کریم کاذکر نہ کرنا: بازاروں میں بھی اللہ کریم کاذکر اورتسبیح کرتارہے ( مثلاً سُبْحٰنَ اللہ، اَلْحَمْدُلِلّٰہ کہنا، درود شریف پڑھنا وغیرہ ) کیونکہ بازاروں میں بہت سے لوگ غافل ہوتے ہیں اور غافل لوگوں کے درمیان اللہ کریم کاذکر کرنا افضل (یعنی زیادہ ثواب والا کام)ہے۔
(۵)بازاراورتجارت (trade)کی بہت زیادہ لالچ نہ ہونا : حضرت سلمان رَضِیَ اللہُ عَنْہ نےفرمایا:اگر تم سے ہوسکے توبازار میں سب سے پہلے داخل ہونے والے اور سب سے آخر میں نکلنے والے نہ ہونا، کیونکہ یہ(بازار) شیطان کے فساد کرنے کی جگہ ہے اور یہیں وہ اپنا جھنڈا گاڑتا( یعنی لگاتا) ہے۔(اتحاف السادةالمتقين،۶/ ۴۳۱،دار الکتب العلمية بيروت)
(۶) معاملات(یعنی کاروبار) کی نگرانی(supervision) کرنا: یہ دیکھنا کہ میں کاروبار صحیح طرح سے کر رہا ہوں یا نہیں؟ کیونکہ قیامت کے دن تاجر(trader) کو ہر اس شخص کے ساتھ کھڑا کیا جائے گا جس کو اس نے کوئی چیزبیچی ہوگی اور جتنے لوگوں سے اس نے لین دین(کاروبار) کیاہو گا، ان کی تعداد (counting)کے برابر ہر ا یک کے بارے میں اس سے حساب لیا (یعنی پوچھا)جائے گا۔
(۷) شبہات(شک) کی جگہوں سے دور رہنا: جب اس کے پاس کوئی ایسا سامان لایا جائے جس کے معاملے میں اسے شک ہو (کہ شاید یہ چوری کا ہے کیونکہ یہ بہت کم پیسوں میں ملا ہے،وغیرہ)تو اس بارے میں(عُلَمائے کِرام سے) سوال کرے، یہاں تک کہ اُسے پہچان ہو جائے(کہ یہ مال حلال ہے یا حرام)۔(احیاء العلوم مترجم، ج۲،ص ۳۲۲ تا۳۴۰،مُلخصاً)
(a)فرمانِ آخری نبی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: حلال واضح ہے اور حرام واضح ہے اور ان دونوں کے درمیان مُشْتَبَہ امورہیں (کہ ان کا حلال و حرام ہونا، عام آدمی کو معلوم نہیں اور)جنہیں اکثرلوگ نہیں جانتے توجو ان شُبُہَات (شک میں ڈالنے والی چیزوں)سے بچا اس نے اپنی عزت اوردین کو بچا لیااور جو شُبُہَات (شک میں ڈالنے والی باتوں) میں پڑ گیا وہ حرام میں پڑگیا جیسےکوئی چرواہا(goat herder،اپنے جانورممنوعہ )چراگاہ (جہاں جانور کا گھاس وغیرہ کھانا منع ہو)کےاردگرد (sides میں )چراتا ہےتو قریب ہے کہ اس کے جانورممنوعہ چراگاہ(مثلاً دوسرے کی جگہ) میں جاپڑیں گے۔( صحيح البخاری،کتاب الايمان،۳۳/۱،الحديث:۵۲)
(b)یہ بات جانتے ہوئے (کہ یہ مال چوری کا ہے، پھر بھی) چوری کا مال خریدناحرام ہے ۔ اگر معلوم نہ ہو بلکہ مضبوط خیال(strong assumption) ہو (کہ یہ مال چوری کاہے، جبھی تو اتنا سستا مل رہا ہے)تب بھی اس مال کا خریدنا حرام ہے مثلا کوئی شخص عالم نہ ہو اور اس کے باپ دادا میں بھی کوئی عالم نہ تھا اوروہ شخص علمی(مثلاً عربی نئی پرانی) کتابیں بیچنے کو لایا(اور کسی کتاب گھر(book stall) میں کام بھی نہیں کرتا بلکہ) کہتا ہے کہ میں ان کتابوں کا مالک (owner) ہوں،تو اس طرح کی کتابیں خریدنے کی اجازت نہیں ۔
(c) اگر مال چوری کا تھا مگر خریدنے والے کونہ تو یہ بات معلوم تھی اورنہ ہی کوئی واضح قرینہ تھا(یعنی ایسی صورت ِ حال نہ تھی کہ دیکھ کر یہ کہا جاسکے کہ یہ سامان اس شخص کا نہیں ہے،جیسے بے علم کا اپنی عربی کتابیں بیچنا ) تو خریداری کرنے والا (buyer) گناہ گار نہیں ہے۔ اگر بعد میں یقینی طور پر(by surety) پتا چل جائے کہ یہ مال چوری کا تھا تو اب اس مال کا استعمال کرنا حرام ہے اور حکم ہے کہ مالک کو واپس کر دے، اگر مالک (زندہ) نہ ہو تو اس کے وارثوں(یعنی وہ لوگ جو مرنے والے کے بعد، اُس کے مال کے مالک(owner)بن جاتے ہیں) کو دے دے، اور ان(وارثوں) کا بھی پتا نہ چل سکے تو (اب)فقیروں کو(دے دے)۔
(فتاوی رضویہ ج۱۷،ص۱۶۷،مُلخصاً)
(d)ہاں!خریدنے والے پر یہ لازم نہیں ہے کہ بیچنے والے(seller)سے پوچھے کہ یہ مال حلال ہے یا حرام ۔ اگر بیچنے والے کے بارے میں معلوم ہے کہ وہ حلال و حرام، ہر طرح کا مال بیچتا ہے مثلاً چوری وغیرہ کا مال (چور سے خرید کر ) بھی بیچتا ہے تو احتیاط یہ ہے کہ اس سے پوچھ لے ۔ اب حلال ہوتوخریدے ورنہ خریدنا، جائز نہیں (بہار شریعت ح۱۱،ص۷۱۹،مسئلہ۹۳،مُلخصاً) ۔فرمانِ مُصطفیٰ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: جس نے چوری کے مال کو جاننے کے باوجود ( ایسا مال) خريدا تو وہ (خریدار۔buyer) اس (بیچنے والے)کے عيب اورگناہ ميں شريک (partner) ہو گيا۔
( شعب الایمان ، الحدیث: ۵۵۰۰، ج۴ ، ص ۳۸۹)
{4}تاجر(trader)ان چیزو ں کا بھی خیال رکھیں :
(۱) اللہ کریم فرماتا ہے، ترجمہ (Translation) : اے ایمان والو! ہماری دی ہوئی ستھری چیزیں کھاؤ اور اللہ کا شکر ادا کرواگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو (پ ۲، سورۃ البقرہ، آیت ۱۷۲،ترجمہ کنز العرفان) ۔عُلَمائے کِرام فرماتے ہیں: حرام چیزیں نہ کھاؤ، حرام ذریعے (source)سے حاصل کرکے نہ کھاؤ، کھا کر غافل نہ ہوجاؤ، یہ چیزیں تمہیں اللہ کریم کی اطاعت(یعنی فرمانبرداری۔obedience) سے دور نہ کردیں ، کھا پی کر اللہ کریم کا شکر ادا کرو۔
(صراط الجنان ج ۱،ص۲۷۲،مُلخصاً)
(۲) فرمانِ آخری نبی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: جس نے ملاوٹ کی وہ ہم ميں سے نہيں۔
(جامع الترمذی،الحدیث:۱۵ ۱۳، ص۱۷۸۴)
(۳) ایک مرتبہ ہمارے پیارے آقا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ايک اناج (grain)کے ڈھيرکے پاس سے گزرے، آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نے اس ميں اپنا ہاتھ ڈالا تو آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کی انگلياں گیلی ہو گئیں۔ ارشاد فرمایا: اے اناج والے! يہ کيا ہے؟ اس نے عرض کی(یعنی کہنے لگا): یَا رَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ! اس پر بارش ہوئی تھی۔ تو آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نے فرمایا: تم نے بھیگے ہوئے (گیلے)اناج کواُوپر کيوں نہ رکھا کہ لوگ ديکھ ليتے ،جس نے ہمیں دھوکا دیاوہ ہم ميں سے نہيں۔( صحیح مسلم ،کتاب الایمان ،الحدیث: ۲۸۴ ، ص ۶۹۵)
(۴) فرمانِ مُصطفیٰ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: کوئی شخص اپنے بھائی کی بیع پر بیع(سودے پر سودا) نہ کرے اور اُس کے پیغام پر پیغام نہ دے، مگر اُس صورت میں کہ اُس نے اجازت دیدی ہو (صحیح مسلم،الحدیث:۸۔(۱۴۱۲)،ص۸۱۴) ۔عُلَمائے کِرام فرماتے ہیں: یہ دونوں باتیں، اس وقت منع ہیں کہ جب خریدنے اور بیچنے والےایک قیمت (price) پر راضی(agree) ہوچکے ہوں،ایسے ہی لڑکے لڑکی والے نکاح کرنےپر راضی ہوچکے ہوں کہ اس صورت میں اس کی قیمت (price)بڑھا دینے یا کسی تیسرے کی طرف سے نکاح کا پیغام دینے میں خریدنے والے، پیغام دینے والے کا نقصان ہوگا()ہاں! اگر خریدنے والا یا پیغام دینے والا اجازت دیدے تو اب تیسرے کا قیمت لگانا یا نکاح کا پیغام دینا درست ہے() اسی طرح اگر ابھی صرف کچی پکی بات ہی ہوئی تھی، دونوں فریق(مثلاً خریدنے اور بیچنے والے) مکمل راضی (agree) نہ ہوئے تھے تو اب تیسرا شخص قیمت بڑھا سکتا ہے ۔
(مراۃ جلد۴،ص ۴۵۲سوفٹ وئیر،مُلخصاً)
(۵) حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نےفرمایا:جس نے حرام مال سے حج کيا اور لَبَّيْک (یعنی میں حاضر ہوں)کہا تو اللہ کریم فرماتا ہے:تيری کوئی لَبَّيْک نہيں، نہ ہی سَعْدَيْک(یعنی میں فرمانبردار (obedient)ہوں کہا تو یہ کہنا بھی قبول(accept) نہیں) ہے اور تيرا حج تجھ پر لوٹاديا (یعنی واپس کر دیا) گيا۔
(کنزالعمال ،کتاب الحج والعمرۃ ،، الحدیث: ۱۱۸۹۶ ، ج۵ ، ص ۱۲)
(۶) فرمانِ نبّیِ کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:چارآدمی ايسے ہيں جن پر اللہ کریم غضب فرمائے گا،(ایک)جھوٹی قسميں کھا کر(سامان) بيچنے والا (دوسرا) تکبر کرنے والا فقير(تیسرا)بوڑھا زانی اور (چوتھا)ظالم حکمران۔
(سنن النسائی، کتاب الزکاۃ ، الحدیث: ۲۵۷۷،ص۲۲۵۴)
(۷) پیارے آقا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نے فرمایا:جو مسلمان عہد شکنی اور وعدہ خلافی کرے، اس پر اللہ کریم ، فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہے اور اس کا نہ کوئی فرض قبول ہو گا نہ نفل
( بخاری، کتاب الجزیۃ والموادعۃ، ج۲،ص۳۷۰، حدیث۳۱۷۹)
()عہد(وعدے) کی پاسداری (یعنی پورا)کرنا ہر مسلمان پر لازم ہے اور غدر کرنا(یعنی وعدہ توڑنا)حرام اور جہنّم میں لے جانے والا کام ہے۔(الحدیقۃ الندیۃ،الخلق الحادی والعشرون،ص۶۵۲)
{5}(۱)حرام طریقے مثلاً بغیر شرعی اجازت بھیک مانگ کر پیسے کمانا، بہت سخت جرم ہے۔رسولِ کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نے فرمایا:کوئی شخص ميرے پاس حاضر ہو کر سوال کرتا ہے تو ميں اسےکچھ عطا فرما تا ہوں وہ اسے لےکر چلا جاتا ہے حالانکہ وہ اپنی جھولی ميں آگ ہی لےکر جاتا ہے۔
(الترغیب والترہیب ،الحدیث: ۱۲۵۱،ج۱،ص۴۰۱)
(۲) مسجد میں سوال کرنا حرام ہے اور اس سائل کو دینا بھی منع ہے۔ (بہارِ شریعت ج۱،ح۳،ص ۶۴۷،مسئلہ۲۱)
(۳) امام اسمٰعیل زاہد رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے فرمایا جو مسجد کے سائل کو ایک پیسہ دے اسے چاہئے کہ ستر(70) پیسے(مسجد سے باہر شرعی فقیر کو) اللہ کریم کے نام پر اور دے دے تاکہ اس ( طرح مسجد میں دینے والے)پیسے کا کفّارہ ہو جائے۔
(۴) اگر کسی دوسرے کےلئے (مسجد میں )مانگا،یا چاہے مسجد کے لیے یا کسی اور دینی ضرورت کےلئے چندہ کیا تو یہ جائز بلکہ سنّت سے ثابت ہے۔(فتاوی رضویہ،جلد۱۶، صفحہ۴۱۸، مُلخصاً)
(۵)عُلَمائے کِرام نے یہاں تک فرمایا کہ حرام کا مال فقیر کو دے کر ثواب کی اُمید رکھنا کفر ہے۔
(۶)اگر فقیر کو معلوم ہو کہ اس (دینے والے) نےحرام کا مال دیا ہے پھر بھی اس (دینے والے)کےلئے دعا کرے اور وہ (بھیک دینے والا)آمِیْن کہے تو دونوں نئے سرے سے (دوبارہ)کلمہ اسلام پڑھیں اور تجدید نکاح کریں (یعنی نکاح بھی دوبارہ کریں)۔
(فتاوی رضویہ،ص۱۲۷، جلد۱۷، صفحہ۳۵۲، مُلخصاً)
{6} امامِ اہلسنّت، اعلیٰ حضرت، پیر طریقت، حضرت علَّامہ مولانا ، اماماحمد رضا خان قادِری رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں:بلاوجہ شرعی کسی مسلمان کے رزق میں خلل اندازی(یعنی رُکاوٹ پیدا کرنا) بہت سخت بے جا اور بلاوجہ ایذا (تکلیف پہچانا)ہے اور ایسوں کو خوف نہیں آتا (یعنی ڈر نہیں لگتا)کہ وہ کسی مسلمان کے رزق میں بلاوجہ خلل (فرق)ڈالیں، اللہ قادر مطلق(یعنی ہر طرح سے قدرت اور طاقت رکھتا ہے کہ) ان کی روزی میں خلل ڈالے(یعنی روک دے)، ان کا رزق تنگ(یعنی کم) کردے (فتاوی رضویہ،جلد۶، صفحہ۵۳۸)۔ رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں:کَمَا تَدِیْن ُتُدَانُ(ترجمہ: جیسا تو اوروں کے ساتھ کرےگا ویسا ہی تیرے ساتھ کیا جائے گا،مصنف عبدالرزاق،کتاب الجامع،باب الاغتیاب والشتم،۱۰ / ۱۸۹،حدیث: ۲۰۴۳۰ ) ۔ عُلَمائے کِرام فرماتے ہیں:یعنی جیسا تم کام کرو گے ویسا تمہیں اس کا بدلہ ملے گا،جو تم کسی کے ساتھ کرو گے وہی تمہارے ساتھ ہوگا ۔(التیسیر ،۲/۲۲۲ )
{7} گاہک کو سودا (بیچنے کا سامان)دکھاتے وقت تاجر (trader)کا اس غرض(وجہ) سے دُرود شریف پڑھنا یا سُبْحَانَ ﷲ کہنا کہ اس چیز کی عمدگی(خوبی/اچھائی) خریدار(buyer) پر ظاہر کرے، (اس لیے اللہ کریم کا ذکر کرنا)ناجائز ہے۔ یوہیں کسی بڑے (مثلاً بزرگ)کو دیکھ کر دُرود شریف پڑھنا ،اس نیّت سے کہ لوگوں کو ان کے آنے کی خبر (اطلاع) ہوجائے، ان کی تعظیم(respect) کو اُٹھیں اور جگہ چھوڑ دیں، (اس لیے اللہ کریم کا ذکر کرنا بھی) ناجائز ہے۔ (بہارِ شریعت ج۱،ح۳،ص ۵۳۳،مسئلہ۱۱۵)
{8} جب تک خریدو فروخت (trade)کے (شرعی)مسائل معلوم نہ ہوں کہ کون سی بیع (تجارت۔trade ) جائز ہے اور کون (سی)ناجائز(ہے)، اس وقت تک تجارت(trade) نہ کرے (بہار شریعت ح۱۶،ص۴۷۸،مسئلہ۱)۔ جو تجارت(trade)
کرنا چاہتا ہے، اس پر فرض ہے کہ تجارت (trade) کے مسائل سیکھے( )۔
{9} تاجر (trader)اپنی تجارت(trade) میں اس طرح مشغول (مصروف)نہ ہو کہ فرائض (مثلاً فرض نمازیں)فوت ہوجائیں، بلکہ جب نماز کا وقت آجائے تو تجارت(trade) چھوڑ کر نماز کو چلا جائے۔
(بہار شریعت ح۱۶، ص۴۸۰، مسئلہ۷، مُلخصاً)
{10} تجارت (trade)کے ساتھ عام طور پر زکوۃ لازم ہو جاتی ہے، لہذا تاجر(trader) کو زکوۃ کے مسائل سیکھنا بھی ضروری ہے۔( )
خرید و فروخت (buying and selling)کے دینی مسائل:
{1} شریعت(دینِ اسلام) میں بیع (تجارت۔trade)کا مطلب یہ ہےکہ(کم از کم) دو شخصوں کا آپس میں ایک دوسرے کے مال کو ایک مخصوص صورت(specific condition ) کے ساتھ لینا دینا۔"بیع "(یعنی تجارت۔trade)کبھی قول (کسی بات)سے ہوجاتی ہے اور کبھی فعل(کوئی کام کرنے) سے(ہوتی ہے)۔
{2}اگر" قول"(یعنی بات ) سے تجارت(trade) مکمل ہو تو اس کے ارکان (لازم چیزیں) دو ہیں:(۱)ایجاب (offer)اور(۲) قبول(accept) :
() سودے میں پہلی بات "ایجاب" اور دوسرے کا "ہاں" کرنا "قبول" ہے۔مثلاً پہلے نے کہا: میں نے اتنے میں بیچا، یا کہا : میں نے اتنے میں خریدا، تو یہ "ایجاب"اور دوسرے کا "ہاں" کہنا "قبول" ہے۔
مثال کے طور پرایک شخص نے کہا:میں نے اپنا یہ سامان ہزار (1000)روپے میں بیچا تو دوسرے نے کہا : میں نے اسے خریدا، اس طرح یہ "تجارت" (trade)مکمل ہو گئی۔
{3} "ایجاب"(offer)اور "قبول"(accept) کے الفاظ فارسی، اُردو وغیرہ ہر زبان کے ہوسکتے ہیں۔
() ان دونوں(یعنی "ایجاب"اور "قبول") کے الفاظ ماضی (past)میں ہوں، جیسے: میں نے خریدا ، میں نے بیچا
()یا دونوں الفاظ حال (present)ہوں، جیسے:میں خریدتا ہوں ، یا میں بیچتا ہوں () یا ایک جملہ ماضی(past) اور دوسرا(2nd) حال (present) کاہو مثلاً ایک نے کہا : میں بیچتا ہوں تودوسرے نے کہا : میں نےخرید لیا۔
() مستقبل (future)کےالفاظ سے "بیع"(تجارت) نہیں ہوسکتی ، چاہے دونوں جملے مستقبل (future) کے ہوں، یا ایک جملہ مستقبل (future) کا ہو، جیسے: میں تم سے(یہ سامان، اتنے روپے میں)خریدونگا، یا میں تمہیں بعد میں بیچوں گا۔ایسے جملوں سے "بیع"(تجارت) لازم نہیں ہوتی کیونکہ یہ الفاظ بیچنے یا خریدنے کی نیّت (intention) ہے مگر اس سے فی الحال(ابھی) سودا نہیں ہوا۔
{4}اگر تجارت(trade) "فعل" (یعنی کسی کام) کے ساتھ مکمل ہو تو ایک شخص کا سامان لے لینا اور دوسرے کا دے دینا کافی (enough)ہے یعنی اس طرح بھی "بیع "(یعنی تجارت) صحیح ہو جائے گی اور ان دونوں کا یہ لینا، دینا ایسا ہی ہے کہ ایک نے کہا کہ "میں نے بیچا "اور دوسرے نے کہا کہ" میں نے خریدا"۔مثلاً سبزی بیچنے والے نے دھنیے(coriander) کی گڈیاں بنا کر رکھی ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ بیس (20)روپے کی گڈی ہے۔ ایک شخص آیا اور بیس(20) روپے سبزی والے کے بالکل سامنے رکھ کر ایک گڈی اٹھا کر چلا گیا(اور سبزی والے نے وہ پیسے لے لیے)۔ دونوں میں سے کسی شخص نے کچھ بھی بات نہیں کی لیکن پھر بھی یہ "بیع"(یعنی تجارت۔trade) صحیح ہو گئی ۔ اس طرح کی تجارت(trade) کو" بیع تَعَاطِی" کہتے ہیں۔ ہر طرح کی"بیع" میں بیچنے والے(seller) کو" بائع" اور خریدنے والے (buyer)کو " مُشتَری "کہتے ہیں۔
خرید و فروخت (buying and selling) کی شرطیں (preconditions):
خرید و فروخت(trade) صحیح ہونے کی کچھ شرطیں(preconditions) ہیں:
{1}خریدنےوالے(buyer) اور بیچنے والے (seller) کا "عاقل "ہونا یعنی پاگل یا بالکل نا سمجھ بچہ نہ ہو نا لازم ہے کیونکہ ان کا "تجارت"(trade) کرناصحیح نہیں ہے۔
{2}خریدنے اور بیچنے والے، دونوں الگ الگ آدمی ہوں یعنی یہ نہیں ہو سکتا ہے کہ خود ہی بیچے اور خود ہی خریدے، مثلاً ایک شخص نے دوسرے کو ایک چیز بیچنے کے لیے دی اوراس نے وہ چیز پہلے شخص سے لے لی، اب چیز لینے کے بعد اس( چیز) کو بیچنے کی جگہ خودہی خرید لیا تو اس صورت(condition) میں یہ دوسرا شخص ، پہلے شخص کی چیز بیچنے والا (بائع)اور خود ہی خریدنے والا (خریدار)بن گیا جو کہ درست طریقہ نہیں ہے اور اس سے "بیع" بھی صحیح نہیں ہوئی۔
ہاں! باپ اپنے نابالغ بچّےیا نابالغہ بچّی کے مال کو خرید سکتا ہے یعنی ان کی طرف سے (مارکیٹ ریٹ۔market rate پر) بیچے گا اور خود خرید لے گا ،تو یہ (خریدنا اور بیچنا)درست ہے۔
اسی طرح جسے میّت نے (مرنے سے پہلے، یتیم) بچّےکے مال وغیرہ کی دیکھ بھال کی وصیّت کی ہو(یعنی "وصی")، تو ایسا شخص بھی اس یتیم بچے کا مال خود خرید سکتا ہے لیکن اس طرح خرید نے، بیچنے میں یہ شرط (precondition) ہے کہ اس خریداری میں یتیم کا واضح(کُھلا ہوا، صاف صاف) فائدہ (profit)ہو۔
مزید ایک ہی شخص کو بیچنے اور خریدنے والوں نے اپنا قاصد(نمایندہ۔ deputy) بنالیا یعنی ایک نے کہا کہ میرا یہ سامان بیچ دو تو دوسرے نے اُسی شخص کو کہا کہ میرے لیے ایسا سامان خرید لو۔ اب یہ شخص دونوں کی طرف سے خودہی خرید و فروخت کر سکتا ہے کہ وہ (تیسرا)شخص، پہلے شخص کی طرف سے بیچ دے اور دوسرے شخص کی طرف سے خرید لے۔
{3} "ایجاب" اور " قبول" کا ایک ہی " مجلس"( ) (جگہ) میں ہونا بھی "بیع" کی شرط(precondition) ہے۔
نوٹ:
سودے(تجارت۔trade) میں پہلی بات "ایجاب" اور دوسرے کا "ہاں" کرنا "قبول" ہے۔مثلاً پہلے نے کہا: میں نے اتنے میں بیچا، یا کہا : میں نے اتنے میں خریدا، تو یہ "ایجاب"اور دوسرے کا "ہاں" کہنا "قبول" ہے۔
{4}"ایجاب"(offer) اور" قبول "(accept) ایک ہی بات پر ہو یعنی جو چیز، جس صورت(condition) میں ایک شخص نے بیچی، دوسرا بھی اسی صورت میں وہ چیز لینے پر راضی(agree) ہو۔اگر" ایجاب "(offer) کسی اور بات پر ہو اور" قبول"(accept) کسی دوسری چیز پر ہو تو اس طرح "بیع"(trade) صحیح نہیں مثلاً بیچنے والے نے کہا کہ میں نے ایک درجن (12)کیلے، ایک سو بیس(120) روپے میں بیچے لیکن خریدار (buyer) نے کہا کہ میں نے دو(2) کیلے ، بیس(20) روپے میں خریدے تو یہ سودا(trade) درست نہیں()یا خریدنے والے نے کہا کہ میں نے(ایک سو بیس میں نہیں بلکہ) سو (100) روپے میں خریدا تو بھی "بیع" درست نہیں ہوئی۔ہاں! اگر بیچنے والے نے یہ باتیں مان لیں(agree ہوگیا) تو اب یہ تجارت (trade)صحیح ہو گئی۔
{5} ہر شخص ، دوسرے شخص کی بات سن لے۔خریدار (buyer)نے کہا: میں نے خریدا،مگر بیچنے والے (seller) نے نہیں سُنا تو بیع (تجارت(trade)، مکمل)نہ ہوئی۔ ہاں! اگرمجلس والوں (وہاں موجود لوگوں)نے خریدار کی بات سُن لی لیکن بیچنے والا کہتا ہے کہ میں نے نہیں سُنی تھی تب بھی قضا ء ً (شرعی فیصلے کے مطابق) خریدار کی بات مانی جائے گی، بیچنے والے کے نہ سُننے کا اعتبار(لحاظ/خیال) نہ کیا جائے گا۔
{6} "مَبِیْع" (جس چیز کو بیچا جارہا ہے، اُس) کا وہاں پرموجود ہونا، تجارت(trade) درست ہونے کی شرط (precondition)ہے ()اسی طرح مال کا "مُتَقَوِّم "ہونایعنی جس چیز کو بیچا جا رہا ہے، اسکا ایسا ہونا کہ اُس سے فائدہ اُٹھایا جاسکے ()مزید اس مال کا"مَمْلُوْک" ہونا، یعنی یہ بھی شرط ہے کہ بیچنے والا، اُس مال کا مالک ہو()اور اس مال کا "مَقْدُوْرُالتَّسْلِیْم "ہونا یعنی یہ بھی شرط(precondition)ہے کہ وہ مال کسی اور کو دیا بھی جاسکتا ہو۔
تفصیل(detail):
()اگر بیچنے والا(seller)، اپنی طرف سے اُس چیز کو بیچ رہا ہے(کسی دوسرے کا مال نہیں بیچ رہا) تو ضروری ہے کہ بیچنے والا اُس چیز کا مالک (owner)ہو() جو چیز موجود ہی نہ ہو بلکہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ چیز وجود میں ہی نہ آئے (پائی ہی نہ جائے، بنے ہی نہیں) تو اُس کی تجارت(trade) نہیں ہو سکتی مثلاً تھن(animal udder) میں جو دودھ ہے اُس کی "بیع" (trade) ناجائز ہے کہ ہوسکتا ہے کہ جانور کے تھن میں دودھ ہی نہ ہو() پھل ظاہر ہونے(بننے، نظر آنے) سے پہلے بیچ نہیں سکتے() مُردار(مثلاً مرے ہوئے جانور) کی "بیع" نہیں ہوسکتی کہ یہ (مسلمانوں کے نزدیک)مال ہی نہیں ہے(اور اس کے گوشت سے فائدہ بھی نہیں اُٹھایا جاسکتا) ()اسی طرح مسلمان شراب یا خِنزیر(سور۔pig) کی خرید و فروخت نہیں کر سکتا کیونکہ یہ مسلمان کے لیے مالِ مُتَقَوِّم نہیں یعنی مسلمان اس سے فائدہ نہیں اُٹھا سکتا () زمین میں جوگھاس لگی ہوئی ہے ، شرعی حکم کے مطابق اُسے خریدا یا بیچا نہیں جاسکتا چاہے بیچنے والا ، گھاس والی زمین کا مالک ہو (کیونکہ جب تک وہ اسے کاٹ کر قبضہ نہ کرلے(اپنے پاس نہ لے لے) زمین والا بھی اس گھاس کا مالک نہیں بنے گا، شریعت (دینِ اسلام)نے زمین پر لگی ہوئی گھاس سے دوسروں کو فائدہ اُٹھانے کی اجازت دی ہے) () اسی طرح نہر یا کنویں کا پانی، جنگل کی لکڑی اور شکار جب تک قبضے میں نہ آ جائیں، ان کو بھی نہیں بیچ سکتا۔
{7} بیع مُوَقَّت نہ ہو، مثلاً اتنے دنوں کے لیے بیچا تو یہ "بیع"(تجارت۔trade) صحیح نہیں۔
{8} "مَبِیْع"(جس چیز کو بیچا جارہا ہو)ا ور" ثمن" (جس چیز کے بدلے میں خریداری ہو، مثلاً پیسے) دونوں اس طرح معلوم ہوں کہ جھگڑاپیدا نہ ہوسکے۔ اگر مجہول ہوں (یعنی صحیح طرح معلوم نہ ہو ں)کہ اس نا معلوم چیز کے سامنے آنے پر لڑائی ہوسکتی ہو(کہ خریدار کہے یہ تو وہ چیز نہیں ہے جو بتائی گئی تھی) تو اس طرح کی تجارت (trade)صحیح نہیں مثلاً اس ریوڑ (بہت سی بکریوں)میں سے ایک بکری بیچی ،یا ()یہ کہہ کر بیچا کہ اس چیز کو واجبی دام(مثلاً مناسب قیمت۔ reasonable price پر بیچا، یا جو قیمت اس کی ہونی چاہیے، اُس ) پر بیچا یا ، یا ()یہ کہا کہ ا س چیز کی قیمت(price) وہ ہے کہ جو فلاں شخص بتائے(تو ایسی تجارت(trade) بھی صحیح نہیں ہے)۔
{9} ایک برتن کے بارے میں یہ معلوم نہیں ہے کہ اس میں کتنی مقدار(quantity) آتی ہے یعنی اس میں کتنا غلّہ (اناج مثلاً گندم۔wheat) آتاہے، یا ()کوئی پتھر ہے مگر اس کا وزن معلوم نہیں ہے تب بھی ان چیزوں کے وزن سے" بیع"(سودا) کرنا جائز ہے ۔
()مثلاً خریدار نے کہا:اس برتن سے چار برتن گیہوں(گندم)ایک ہزار روپے میں دے دو، یا ()اس پتھر کے وزن برابر فلاں چیز ایک ہزار روپیہ میں دے دو۔ یاد رہے! اس طرح کی تجارت میں شرط یہ ہے کہ ناپنے (measure کرنے) یا وزن(weight) کرنےمیں زیادہ وقت نہ گزرا ہو کیونکہ زیادہ وقت گزرنے کی وجہ سے ہوسکتاہے کہ برتن یا پتھرگُم ہو جائے ()اسی طرح برتن سمٹنے والا یا پھیلنے والا نہ ہو، بلکہ لکڑی یا لوہے کا ہو کیونکہ سمٹنے اور پھیلنے والے برتن کے وزن کے برابر" بیع"(سودا) کرناجائز نہیں ہے، جیسے: زنبیل(کھجور کے پتوں سے بنےہوئےٹوکرے) کے وزن سے بیچنا ۔ہاں! پانی کی مَشک (water sink) چاہے سمٹنے پھیلنے والی ہو ، اتنی مقدار (quantity)میں پانی خریدنا یا بیچنا، لوگوں کی عادت کی وجہ سے جائز ہے۔
(بہار شریعت ح۱۱، ص۶۲۹، مسئلہ ۴۹، مُلخصاً)
خرید و فروخت (buying and selling) کا حکم اور کچھ شرعی مسائل:
{1}تجارت (trade)صحیح ہو جانے کا شرعی حکم یہ ہے کہ خریدار(buyer) ، بیچے جانے والے سامان کا اور بیچنے والا (seller)، اُس مال کا مالک ہو جاتا جس کے بدلے میں سامان بیچا گیا، لہذا بیچنے والے پر واجب (اور لازم)ہے کہ سامان خریدار کو دے اور خریدار پر واجب (اور لازم ہے)کہ بیچنے والےکو " ثمن "(جس چیز کے بدلے میں خریداری ہو، مثلاً پیسے) دیدے۔یہ شرعی حکم اُس وقت ہے کہ جب تجارت (trade)مکمل ہو گئی ہو () اگر بیع مَوقُوف ہے مثلاً خریدار نے کہا: فلاں(تیسرا) شخص مجھے اجازت دے گا تو میں نے خریدی ۔ اس صورت (case) میں یہ(سامان اور پیسے وغیرہ کے مالک ہونے کا) حکم اس وقت ہو گا کہ جب وہ تیسرا شخص ، سامان خریدنے کی اجازت دے دے۔
اس صورت (case) میں یہ(سامان اور پیسے وغیرہ کے مالک ہونے کا) حکم اس وقت ہو گا کہ جب وہ تیسرا شخص ، سامان خریدنے کی اجازت دے دے۔
{2}" ہزل "(مذاق) کے طور پر خرید و فروخت اس طرح کی کہ واضح طور پر(clearly) ہزل (مذاق کرنے )کا لفظ بول دیا(یعنی ہم مذاق کر رہے ہیں) ، یا () پہلے سے آپس میں طے(fixed) کر لیا کہ مذاق میں اس چیز کو بیچیں گے اور خرید و فروخت کے الفاظ، اپنی خوشی سے بولنے کے بعد بھی اسی بات پر قائم رہے کہ ہم نے مذاق کیا ہے تو اسے ہزل (مذاق) ہی کہیں گے اور اس طرح کرنے سے "بیع" تجارت (trade)نہ ہوئی۔
() ہاں! اگر سودا کرتے ہوئےنہ تو "ہزل "کا لفظ بولا اورنہ ہی پہلے سے آپس میں طے(fixed) کیا کہ مذاق کریں گے تو قرینے(صورتِ حال۔condition یا ڈرامائی انداز)کی وجہ سے اس سودے کو" ہزل"(مذاق) نہیں کہہ سکتے بلکہ یہ "بیع"(trade) صحیح مانی جائے گی۔
() یاد رہے! کہ "بیع ہزل " ،"بیع فاسد"( ) (یعنی خراب تجارت ہوتی)ہے (بہار شریعت ح۱۱،ص۶۱۷،مسئلہ۳ ،مُلخصاً)۔ اس فساد (خرابی)کوختم کرنے کے لئےقبضے (یعنی سودے کا سامان اپنے پاس لینے) سے پہلے یا قبضے کے بعد جب تک سامان خریدار(مُشتَری) کے پاس پہلی حالت میں موجود ہو،( اس )" بیع "(سودے) کو ختم کرنا ہر ایک پر واجب ہے۔(فتاوی رضویہ ، جلد۱۷، ص۵۶۷، مُلخصاً)
{3} کسی شخص کو مال بیچنے پر مجبور کیا گیا یعنی اگر وہ نہیں بیچے گا تو اُسے قتل کر دینےیا اُس کے جسم کا کوئی حصّہ کاٹ دینے کی ایسی دھمکی(threat) دی گئی ہو کہ جس کے بارے میں مضبوط خیال(strong assumption) ہوگیا کہ اگر دھمکی دینے والے کی بات نہ مانی تو وہ جو بول رہا ہے، ویسا کر دے گا۔ اب اُس شخص کے ڈر سے مال بیچ دیا تو یہ بھی" بیع فاسد" اور" موقوف "ہے یعنی جب اُس شخص کا ڈر ختم ہو گیا (مثلاًوہ چلا گیا) تو اب بیچنے والے(بائع) کی مرضی پر ہے کہ وہ اسے بیچے یا نہ بیچے۔اب اگر اُس نےاجازت دیدی تو بیع (تجارت۔trade) جائز ہو جائے گی۔
{4} ایک نے دوسرے کو دور سے کہا : میں نے یہ چیز تمہارے ہاتھ اتنے روپےمیں بیچی تو دوسرے نے جواب میں کہا: میں نے خریدی۔ اگر دونوں اتنے دور نہیں ہیں کہ ایک دوسرے کی آوازیں سُننے میں کوئی شک ہو تو "بیع" درست ہوگئی () اگر دوری زیادہ ہو کہ آوازیں سُننے میں شک ہوتا ہو تو اب تجارت(trade) درست نہیں ہوئی
{5} تاجر (trader)نے کہا: اس (چیز)کو میں نے تیرے ہاتھ (اتنے روپے میں)بیچا تو سامنے والے نے اُس (کھانے کی چیز )کو کھانا شروع کردیا، یا ()جانور تھا اُس پر سوار ہوگیا،یا ()کپڑے تھےاُسے پہن لیا تو "بیع "ہوگئی یعنی یہ کام کرنا ایسا ہے کہ جیسے سامنے والے نے اس "بیع" کو قبول کر لیا ہو۔
() اسی طرح ایک شخص نے دوسرے سے کہا:اس چیز کو کھالو اور اس کے بدلے (exchange)میں میرا ایک روپیہ تم پر لازم ہوگا، اس نے کھا لیا تو یہ " بیع" درست ہوگئی اور کھانا حلال ہوگیا۔
{6} جس مجلس(جگہ) میں ایجاب (offer)ہو ا،اگر قبول (accept)کرنے والا اس مجلس سے غائب (موجود نہ) ہو تو ایجاب بالکل باطل( ختم) ہوجاتا ہے۔ یعنی ایسا نہیں ہوسکتا کہ ایک شخص نے اپنی دکان پر سودے کی پیشکش(offer) کی اور دوسرا شخص موجود نہیں تھا، پھر دوسرے شخص کو اپنے گھر پہنچ کر معلوم ہوا کہ پہلا شخص اِس طرح بیچنے کا کہہ رہا تھا، اب دوسرے شخص نے کہا:"میں نے خریدا" تو اس طرح "بیع" (تجارت ۔trade) صحیح نہیں ہوئی۔
()ہاں !اگر قبول کرنے والے کے پاس ایجاب(offer) کے الفاظ لکھ کر بھیجے ہیں تو جس مجلس میں تحریر پہنچی اُسی مجلس میں قبول کیا تو" بیع" صحیح ہے ()اگر تحریر ملنے والی مجلس (جگہ)میں قبول (accept) نہ کیا توپھر بعد میں بھی قبول نہیں کرسکتا۔
خیارِ قبول(سودے کوقبول(accept) کرنے کے لیے مہلت(time) لینا):
{1} خریدوفروخت کرنے والوں میں سے ایک نے ایجاب کیا (مثلاً مجھے یہ اتنے روپے میں بیچ دو، یا مجھ سے یہ اتنے روپے میں خرید لو)تو دوسرے شخص کو اختیار(option) ہے کہ مجلس میں قبول(accept) کرے یا رَد (منع) کردے، اسے" خیارِ قبول " کہتے ہیں۔
{2} "خیارِ قبول" مجلس(سودا کرنے کی جگہ) تک رہتا ہے، مجلس بدل جانے کے بعد یہ حق(right) جاتا رہتا ہے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ (قبول اس وقت ہو کہ جب) ایجاب کرنے والا زندہ ہو(یعنی اگر ایجاب کرنے والا مر گیا تو دوسرا شخص اب "خیارِ قبول " نہیں لے سکتا)۔
{3} دونوں میں سے کوئی بھی اُس مجلس (جگہ)سے چلاجائے یا "بیع"(سودے) کے علاوہ(other) دوسری باتوں میں لگ جائے تو "ایجاب" باطل(ختم) ہو جاتا ہے۔
()"قبول" (accept)کرنے سے پہلے، "ایجاب" کرنے والے کو اختیار(option) ہے کہ ایجاب کو واپس کرلے۔ہاں! اگر سامنے والے نے قبول کر لیا تو اب یہ اختیار(option)باقی نہ رہا۔
() "ایجاب" کو واپس لینے میں یہ بھی ضروری ہے کہ دوسرے نے اس بات کو سنا ہو، مثلاً بیچنے والےنے کہا: میں نے اس(چیز) کو(اتنے روپے میں) بیچا پھر کہنے لگا کہ میں نہیں بیچ رہا۔ سامنے والے نے پہلا جملہ تو سُنا تھا مگر دوسری بات نہیں سُنی اور سودا(اس چیز کی خریداری کو)"قبول" کر لیا تو "بیع "صحیح ہوگئی۔
()اگر " نہ بچنے کی بات "(مثلاً اُس نے کہا کہ میں نے نہیں بیچا) اور سامنے والے کا "قبول" (مثلاً دوسرے نے کہا: میں نے خریدا)ایک ساتھ ہوا(دونوں نے ایک ساتھ یہ جملے بولے) تو "نہ بیچنے والی بات " درست مانی جائے گی یعنی یہ "بیع"(تجارت۔trade) درست نہیں ہوئی۔
{4} "بیعتَعَاطِی" جو زبان سے کچھ بولے بغیر ہی ہو جاتی ہے(مثلاً سامنے والے کو پیسے دیے اور اس کے سامنے سامان اُٹھا لیا) ، یہ صرف معمولی سی چیز(مثلاً بسکٹ، ٹافی وغیرہ) ہی کے لیے نہیں ہے بلکہ یہ ہر طرح کی چیز میں ہو سکتی ہے۔ جس طرح "ایجاب "اور "قبول "سے "بیع"(سودا) لازم ہو جاتی ہے(کہ بیچنے والا پیسوں اور خریدنے والا سامان کا مالک ہو جاتا ہے) یہاں بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔
{5} دوکاندار وں کے یہاں سے خرچ (گھریلو استعمال)کے لیے چیزیں منگالی جاتی ہیں اور استعمال کرنے کے بعد پیسوں کا حساب(account of money) ہوتا ہے ایسا کرنا استحسا ناً ( لوگوں کی آسانی کے لیے)جائز ہے۔
(بہار شریعت ح۱۱،ص۶۱۶ تا۶۲۴،مسئلہ۱تا۱۵ ،۱۸تا ۲۴،۲۲، ۳۲،۲۵،مُلخصاً)
"مَبِیْع"(sold goods)ا ور" ثمن"(bought goods or currency):
{1} عقد میں (مثلاً سودا /تجارت(trade) کرتے ہوئے) جو مال /سامان مُتَعَیَّن (طے۔fixed)کیاہو، جس کا دینا واجب ہے، اس کو "مَبِیْع" کہتے ہیں اور جس چیز کے بدلے میں ہو (مثلاً پیسے)وہ "ثمن"ہے۔
() چیزیں تین طرح کی ہوتی ہیں:
:(۱) ایک وہ کہ ہمیشہ "ثمن"ہوں،
،(۲) دوسری وہ کہ ہمیشہ "مَبِیْع" ہوں،
(۳)تیسری وہ چیزیں کہ کبھی "ثمن"ہو کبھی "مَبِیْع"
(۱)جو چیزیں ہمیشہ "ثمن" ہوں:وہ روپیہ(چاندی کا سکّہ۔silver coin) اور اشرفی (سونے کا سکّہ۔gold coin)ہیں۔
() پیسے (کرنسی نوٹ۔ terminological currency)بھی ثمن ہیں مگران کی ثمنیت ختم ہوسکتی ہے( یعنی یہ ہوسکتا ہےکہ وہ "ثمن" ہی نہ رہے جیسا کہ دنیا میں کچھ کرنسیز ۔ currencies کا استعمال ختم ہو چکا ہے )۔
(۲)جو چیزیں ہمیشہ "مَبِیْع" ہوں : وہ چیزیں " مثلی" نہیں ہوتیں (" مثلی": اس طرح کی چیزیں ہوتی ہیں کہ جوبازار میں ملتی ہیں اور قیمت(price) میں زیادہ فرق نہیں ہوتا، مثلاً انڈے۔ اگر کسی دوسرے شخص کی "مثلی" چیز ضائع (waste)کر دی تو حکم ہے کہ اُسی طرح کی چیز لے کر دے دے)بلکہ وہ چیزیں(جو ہمیشہ"مَبِیْع" ہوتی ہیں،وہ) " قیمی" ہیں(یعنی اس طرح کی چیزیں بازار میں قیمت کے زیادہ فرق سے ملتی ہوں، مثلاً گائے، بھینس (buffalo)، آم (بہار شریعت ح۱۵،ص۲۱۳،مسئلہ۱۹،مُلخصاً) )۔اگر کسی دوسرے شخص کی ایسی چیز ضائع (waste)کر دی تو حکم ہے کہ اُس کی قیمت (price)دے دے ۔
() "عَدَدِی مُتَفَاوِت"(جوچیزیں گنتی سے بکتی ہیں لیکن ان کے چھوٹے بڑے ہونے کی وجہ سے قیمتوں (prices)میں فرق ہوتاہے، یہ) ہمیشہ "مَبِیْع" ہونگی۔
(۳)جو چیزیں کبھی "ثمن" اور کبھی "مَبِیْع" ہوں:() "مَکِیْل" (ناپ کی چیز) () "مَوْزُوْن" (جو چیز وزن سے بکتی ہے) () " عَدَدِی مُتَقَارِب " (جو چیز گنتی سے بکتی ہےلیکن اس کے افراد(individuals) کی قیمتوں میں فرق نہیں ہوتا، جیسے انڈے، یہ سب چیزیں) "مَبِیْع" ہوتی ہیں جبکہ ان چیزوں کو "ثمن" (مثلاً پیسے) سےلینے کی بات ہو۔
() اگر انہیں، اُسی طرح کی چیز کے بدلے لینے کی بات ہوئی(یعنی "مَکِیْل" کے بدلے"مَکِیْل" چیز،"مَوْزُوْن" کے بدلے"مَوْزُوْن" چیز، " عَدَدِی مُتَقَارِب " کے بدلے " عَدَدِی مُتَقَارِب " چیز) تو اس کی کچھ صورتیں (cases) ہیں:
(a) اگر دونوں طرف مُتَعَیَّن (طے۔fixed) چیزیں ہوں ،تو یہ دونوں چیزیں "مَبِیْع" ہونگی لیکن "بیع" جائز
ہے۔
(b) اگرایک طرف سے چیز مُتَعَیَّن (طے(fixed) مکمل طور پر معلوم) ہو اور دوسری طرف صرف وصف بتادیا(مثلاً تعداد بتا دی یا، ناپ یا، وزن بتا دیا) تو اس صورت (case) میں جس چیز کی مکمل وضاحت (explanation) ہے ، وہ "مَبِیْع" ہوگی جبکہ جس کا صرف وصف بتایا ہے ، اُسے "ثمن" کہیں گے اور یہ "بیع" بھی جائز ہے۔
(c) اگر دونوں چیزوں میں صرف وصف بتایا (مثلاً تعداد بتا دی یا، ناپ یا، وزن بتا دیا)اور ایک چیز کی بھی مکمل وضاحت (explanation) نہ کی تو اب "بیع" جائز نہیں ہے۔
{3} "مَبِیْع"(بیچی گئی چیز) اور "ثمن" (جیسے پیسے)کی مقدار (quantity)معلوم ہونا ضروری ہے ۔ "ثمن"کا وصف(خوبی/خامی وغیرہ) معلوم ہونا بھی ضروری ہے۔ ہاں! اگر ثمن کی طرف اشارہ کردیا جائے مثلاً اس روپیہ کے بدلے میں خریداتو اب نہ مقدار (quantity) بتانے کی ضرورت ہے اور نہ وصف (خوبی/خامی وغیرہ)کو بتانا لازم ہے۔
() یاد رہے! اگر مال رِبْوِی ہو(یعنی ایسی چیزیں کہ جن میں کمی یا زیادتی سے "سود "( ) (interest)پایا جاتا ہے) اور اس کے بدلے میں اسی کی جنس( ) لی جا رہی ہو مثلاً گیہوں(wheat)کو دوسری ڈھیری (گیہوں ہی کی بوری) کے بدلے بیچا جا رہا ہو تو ان (بوریوں)کی طرف اشارہ کر دینا کافی (enough) نہیں بلکہ یہاں مقدار (quantity) کا معلوم ہونا ضروری ہے ۔(بہار شریعت ح۱۱،ص۶۲۴ تا ۶۲۶،مسئلہ۳۳ تا ۳۵،مُلخصاً)
{2} "مَبِیْع" اگر مَنْقُوْلَاتکی قسم سے ہو (یعنی ان چیزوں میں سے ہو کہ جوایک جگہ سے دوسری جگہ لے
جائی جاسکتی ہوں) تو بیچنے والے(seller)کا اُس سامان پر قبضہ کرنا(اپنے پاس لینا) ضروری ہے۔ اگر قبضہ کرنے سے پہلے ہی وہ چیز بیچ دی تو یہ "بیع "ناجائزہے۔
{4}جانور کاگوبر(dung) بیچنا منع نہیں ہے کیونکہ اس کو کام میں لانا مثلاً کھیت میں ڈالنا جائز ہے۔
{5} کوئی دکاندار ایک چیز بیچ رہا ہے،خریدار کے لیے یہ بات لازم نہیں ہے کہ وہ یہ بات جانے کہ یہ چیز اُسی
شخص کی ہے یا کسی اور کی۔ایسی چیز تحقیق(investigation)کے بغیر خریدنا بھی جائز ہے کیونکہ بیچنے والے
کے ہاتھ میں اُس چیز کا ہونا ہی اس بات کی دلیل (ثبوت۔ evidence)ہے کہ بیچنے والا، اس چیز کا مالک (owner)ہے لہذا وسوسوں میں نہیں پڑا جائے گا اور اس چیز کا مالک بیچنے والے ہی کو مانا جائے گا۔
{6} معلوم ہے کہ یہ چیزتیسرے شخص کی ہے اور دوسرا شخص اسے بیچ رہا ہے۔ بیچنے والاکہتا ہے کہ اس نے مجھے بیچنے کا" وکیل "کیا ہے(یعنی اُس آدمی نے مجھے کہا ہے کہ میری یہ چیز تم بیچ دو)، یا میں نے اُس سے خرید لی ہے ،یا اس نے مجھے تحفے میں دی ہے تو اب خریدنا، اس صورت (case) میں جائز ہے جبکہ وہ بیچنے والاثقہ(معتبر،قابل اعتماد۔reliable man) ہو یا مضبوط خیال(strong assumption) ہو جائے کہ یہ سچ کہہ رہا ہے اور() اگر غالب گمان (strong assumption)یہ ہے کہ بیچنے والا (بائع) جھوٹ کہہ رہا ہے تو خریدنا جائز نہیں اور() اگراس (خریدنے والے) کو یہ بات معلوم نہیں تھی کہ یہ چیز کسی تیسرے آدمی کی ہے، مگر بیچنے والے نے خود ہی بتادیا کہ یہ چیز فلاں کی ہے اور مجھے اس نے بیچنے کا کہاہے تو بھی اوپر بتائی ہوئی صورتیں (cases)ہیں کہ() اگر بیچنے والا ثقہ (معتبر،قابل اعتماد۔reliable man)ہے ،یا () غالب گمان یہ ہے کہ سچ کہہ رہا ہے تو اس کو خریدنا ، جائز ہے۔(بہار شریعت ح۱۶، ص۴۷۸، مسئلہ۳، مُلخصاً)
{7}مُشتَرک(combine) چیز میں جو اس کا حصّہ ہے ،اسے(کسی تیسرے کو) نہ بیچے جب تک شریک (partner)کو نہ بتا دے۔ اگر وہ شریک(partner) خود خرید لے تو اسے(اپنے partner کو) بیچ دے ورنہ جس کے ہاتھ چاہے بیچ ڈالے () شریک (partner) کو اس طرح بتانا(کہ میں اس combine چیز سے اپنا حصّہ بیچ رہا ہوں، یہ)" مُسْتَحَب "( یعنی ثواب کا کام)اور بغیر بتائےبیچنا "مَکْرُوْہ" (ناپسندیدہ)ہے ، اس کایہ مطلب نہیں کہ بغیر بتائے بیچناہی ناجائز ہے۔(بہار شریعت ح۱۶، ص۴۷۸، مسئلہ۵، مُلخصاً)
{8} اگر بازار والے ایسے لوگوں سے مال خریدتے ہیں، جن کا غالب (زیادہ تر)مال حرام ہے اور ان میں سود (intrest)اور عُقُودِ فاسدہ (شرعاً غلط خرید و فروخت کے طریقے)جاری ہیں، ان سے خریدنے میں تین صورتیں ہیں:
(۱)جس چیز کے بارے میں غالب گمان (strong assumption) یہ ہے کہ بیچنے والے نے ایسے شخص سے خریدی کہ جوظلماً کسی کی چیز بازار میں لا کر بیچ گیا، ایسی چیز خریدی نہ جائے۔
(۲) حرام مال ، حلال مال میں اس طرح مل گیا کہ اب الگ نہیں ہوسکتا(مثلاً دو آدمیوں کاآٹا آپس میں مل گیا) تو اسے بھی خریدنا نہیں چاہیے۔ہاں! اگر بیچنے والے نےسامنے والے کو راضی (agree)کر لیا تو یہ سامان خرید لینے سے خریدنے والا (اس سامان کا) مالک تو ہو جائے گا مگر کراہت رہے گی(یعنی اس طرح خریدنا مکروہ ہی ہے)۔
(۳) اگریہ معلوم ہے کہ دکاندار نےجو مال "غَصَب "کا(مثلاً کسی دوسرے سے چھینا) تھا یا جو مال" چوری" والا لیا تھا، وہ بالکل ختم ہوگیا ہے(اب اس کے پاس حلال مال ہے)، تو دوکان دار سے چیز خریدنی جائز ہے۔
{9} نَجس (ناپاک)کپڑے کو بیچ سکتا ہے، مگرجب یہ گمان (خیال)ہو کہ خریدار(مُشتَری) اُس میں نماز پڑھے گا تو اس کو بتادے کہ یہ کپڑا ناپاک ہے۔
{10} جو شخص بیمار ہے اس کاباپ یا بیٹا بغیر اس کی اجازت کے(اس کے مال سے) ایسی چیز یں خرید سکتا ہے جس کی مریض کو ضرورت ہے، مثلاً دوا وغیرہ۔
{11} جتنے میں چیز خریدی، بیچنے والےکو اس سے کچھ زیادہ (additional) رقم دے دی ( تو وہ رقم خریدار کی ہے، اُسے واپس کرے۔()اگر) یہ بھی کہدیا کہ یہ اضافی رقم تمہارے لیے حلال ہے، یا ()یہ کہا کہ میں نے تمہیں دی ، یا تمہارے لیے تحفہ ہے تو یہ(زائد رقم) سامان بیچنے والے کی ہے() اگر ایسا کچھ نہ کہا تو یہ زائد (additional) رقم ، بیچنے والے کو لینا جائز نہیں۔
() خریدنے کے بعد کچھ لوگ اپنے سامان کے ساتھ مفت تھوڑی سی چیزلے لیتے ہیں (جیسے: وزن سے پھل لیا، پھر وزن کے بعدکوئی چھوٹا سا پھل اُٹھا کر اپنے پھلوں میں ڈال دیا یا بیچنے والے کا کوئی دوسرا چھوٹا سا پھل اُٹھا کر کھا لیا)، یہ بیچنے والے(بائع) کی اجازت یا اسکی رضا( خوشی) کے بغیر لینا جائز نہیں ہے ()روکھ (خریدنے کے بعد اضافی چیز)مانگنا بھی نہ چاہیے کہ یہ بھی ایک قسم کا سوال ہے(یعنی کسی سے کوئی چیز مانگنا ہے) اور ضرورت کے بغیرسوال کرنےکی اجازت نہیں۔
{12} اچھے، صاف گیہوں (wheat)میں مٹی ملا کر بیچنا ،ناجائز ہے۔چاہے وہاں اس طرح ملانے کی عادت ہو۔
(بہار شریعت ح۱۶، ص۴۷۸ تا ۴۸۲، مسئلہ۲،۴،۳،۵،۶،۸،۱۲،۱۴،۱۱،۹، مُلخصاً)
{13} امامِ اہلسنّت، اعلیٰ حضرت، پیر طریقت، حضرت علَّامہ مولانا ، اماماحمد رضا خان قادِری رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کچھ اس طرح فرماتے ہیں:اگریہ نقلی گھی وہا ں عام طور پر بکتاہے کہ ہر شخص جانتا ہے لیکن پھر بھی لیتا ہے، یہ بیچنا اس صورت(case) میں جائز ہے جبکہ() خریداراُسی شہر کا ہو(کسی دوسرے شہر کا ایسا شخص نہ ہو کہ جو یہاں اس طرح کا گھی بکنے کی حالت کو نا جانتا ہو)اور() گھی میں ملاوٹ اتنی ہو کہ جتنی اُس شہر میں عام طورپر لوگو ں کے ذہن میں ہوتی ہے() اس سے زیادہ ملاوٹ نہ کی گئی ہو اور() نہ کسی طرح سےاس کا جعلی ہونا چھپا یا گیا ہو۔خلاصہ یہ ہےکہ جب خریدارو ں پر اس (تیل)کی حالت ظاہر ہے تو اس کی تجارت(trade) جائزہے۔آخر گھی بیچنا بھی جائز اور جو (حلال)چیز اس میں ملائی گئی اس کا بیچنا بھی جائز ہے۔ ناجائز ہونے کی وجہ دھوکہ دیناتھا، لیکن جب لوگوں کو تیل کی حالت معلوم ہے تو دھوکا ہی نہ رہا، اور تجارت(trade) جائز ہوگئی ۔ جیسے بازاری دودھ کہ سب جانتے ہیں کہ اس میں پانی ہے پھر بھی خریدتے ہیں ۔نوٹ:یہ سب تفصیل (detail) اس صورت (case) میں ہے کہ جب بیچنے والے نے، بیچتے وقت (چیز کی) اصلی حالت خریدار کو نہ بتائی ہو() اگر بیچنے والے نے خریدار کو، خود ہی ملاوٹ کی حالت بتادی تو( ظاہر الروایت ومذہب امام عظم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ میں) مطلقا(ہر طرح سے سودا) جائز ہے چاہے (حلال چیز کی) کتنی ہی ملاوٹ کی ہو ، چاہے خریدار دوسرے شہر کا ہو کیونکہ ملاوٹ کا بتا دینے کےبعد، دھوکہ ہی نہ رہا۔(فتاوی رضویہ ج۱۷،ص۱۴۹،مُلخصاً)
{14}سونے کی انگوٹھی مرد کوپہننا جائز نہیں لہٰذا سُنار کا مرد کے لئے سونے کی انگوٹھی بنانا بھی جائز نہیں۔
(ماہنامہ فیضانِ مدینہ محرم الحرام 1442ھ، مُلخصاً)
{15}افیون کی تجارت(trade) دواکے لئے جائز اور افیونی کے ہاتھ بیچنا ،ناجائزہے۔
(فتاوی رضویہ، جلد ۲۳،ص۶۰۴)
"ثمن" کا حال(نقد) و"مُؤَجَّل"(ادھار) ہونا:
{1} تجارت (trade)میں کبھی "ثمن"(مثلاً پیسہ) "حال "ہوتا ہے یعنی فورا ً دینا ( ہوتا ہے)اور کبھی "مُؤَجَّل" یعنی اُس کو ادا کرنےکے لیے کوئی وقت بتا دیا جاتا ہے۔ نوٹ: "مُؤَجَّل " میں وقت طے(fixed) کرنا ضروری ہے تاکہ کوئی جھگڑا نہ ہو۔
() اصل یہ ہے کہ" ثمن" حال ( یعنی ادائیگی فوراً )ہولہٰذا عقد (سودے)میں یہ بات کہنے کی ضرورت نہیں کہ پیسے ابھی دینے ہونگے بلکہ جیسے سودا ہوا، رقم فوراً دینا واجب ہوگا () اگر" ثمن " مُؤَجَّل (ادھار) ہو تو یہ بات ضروری ہے کہ سودا کرتے ہوئے ادھار لینے کا بتا دیا جائے۔
{2} سودا کرتے ہوئے ایسی کوئی بات نہیں کی گئی تھی کہ اس کی رقم ابھی دینی ہے یا ادھار۔ سودا مکمل ہونے کے بعد خریدار(buyer) نے کہا: اتنے (مثلاً پندرہ) دن بعد پیسے لے لینا تو اب یہ سودا ، مُؤَجَّل(ادھار) ہوگیا(جبکہ خریدار بھی اس بات پر راضی(agree) ہو)۔
() اسی طرح سودے کے بعد خریدار نے ایسے وقت میں پیسے دینے کا کہا کہ جس میں تھوڑی سی جہالت تھی (یعنی وقت پوری طرح سے واضح نہ تھا) مثلاً جب کھیت کٹے گا اُس وقت پیسے دونگا تو اب بھی ثمن مُؤَجَّل (ادھار) ہوگیا ۔ نوٹ:جب سودا ، اُدھار میں ہوتا ہے تو بیچنے والے(seller) کو یہ حق(right) نہیں ہوتا کہ وہ وقت پورا ہونے سے پہلے رقم کا مطالبہ(demand) کرے۔
() ایسے وقت میں پیسے دینے کا کہا کہ جس میں جہالت زیادہ ہو(یعنی وقت کا صحیح اندازہ ہی نہ ہوسکے) مثلاً جب آندھی چلے گی اُس وقت رقم دونگا تو یہ مِیعَاد(مُدَّت/وقت) باطل ہے(یعنی یہ سودا ، اُدھار نہیں بنے گا) بلکہ "ثمن" اب بھی غیر میعادی(حال/فوراً دینے والا) ہے۔
{3} جو سامان بیچا تھا ، اُس کے ایک ہزار (1000)روپےخریدار پر باقی ہیں۔ اب بیچنے والے نے کہہ دیا کہ ہر
مہینے، سور وپے دے دینا تو اس وجہ سے یہ "دَیْن "(کاروباری اُدھار) مُؤَجَّل(اُدھار والی تجارت) نہیں بنے گا۔
نوٹ:
اُدھار والی تجارت میں جو وقت طے(fixed)ہوتا ہے، بیچنے والا اُس سے پہلے پیسے نہیں مانگ سکتا اور اگر سودا حال(مثلاً نقد۔cash) پر کیا تھا پھر کچھ پیسے اُدھار کر دیے تب بھی وہ پیسے وقت سے پہلے مانگ سکتا ہے۔
() کسی پر ہزار روپیہ دَین(کاروباری اُدھار) ہے اوردائن (مثلاً مال بیچنے والے )نے ، پیسوں کی قسطیں بنادیں اور یہ بھی شرط (precondition)کردی ہے کہ ایک قسط (instalment)بھی وقت پر نہ دی تو قسطیں ختم یعنی سب پیسے فوراً لے لیے جائیں گے تو اس طرح کی شرط لگانا صحیح ہے(کیونکہ جو پیسے ایک ساتھ لینے کی اجازت تھی، اسکی قسطیں کرنے سے ایک ساتھ لینےکی اجازت ختم نہیں ہوگی )۔
{4} کاروباری اُدھار کا وقت ، "مَبِیْع"(مثلاً سامان) دینے کے بعد سے شروع ہوتا ہے۔ مثلاً ایک سال کے وقت پر کوئی چیز اُدھار میں بیچی اور وہ (سامان) چیز خریدار کو نہ دی یہاں تک کے پورا سال ختم ہوگیا تو اب تک ایک سال اُدھار کا وقت شروع ہی نہ ہوا یعنی اب جب سامان خریدار (یعنی مُشتَری)کو دے گا تو اُس کے بعد سے ایک سال کا وقت شروع ہوگا۔(بہار شریعت ح۱۱،ص۶۲۶ تا ۶۲۷،مسئلہ۳۸،۳۶ تا ۴۱،مُلخصاً)
مختلف قسم کے سکّے(coins یا کرنسیز۔ currencies) ہوں :
{1}اگر سکّے(coins) مختلف مالیت (values)کے ہوں لیکن بازار میں سب ہی استعمال ہوتے ہیں اور عقد(سودے) میں صرف یہ بولا کہ اتنے سکّوں(coins) میں/اتنے پیسوں میں/اتنے روپے میں بیچا/ خریدا مزید کوئی تفصیل(detail) نہیں بتائی(کہ کس سکّے سے خرید و فروخت ہو رہی ہے) لیکن ابھی مجلس باقی ہے(اُسی جگہ پر خریدار(buyer) اور بیچنے والے موجود ہیں) اور مُتَعَیَّن(fixed) کردیا کہ فلاں روپیہ ہے اور دوسرے نے قبول (accept)بھی کرلیا تو عقد(یعنی سودا/تجارت۔trade) صحیح ہے۔
{2} گیہوں (wheat) اورجَو(barley) اور ہرقسم کے غلّے(any type of grain) کی تجارت (trade) وزن سے بھی ہوسکتی ہے اورماپ (measurement)کے ساتھ بھی مثلاً ایک روپیہ کا اتنے صاع ( )اور اندازے سے بھی خریدے جاسکتے ہیں ،جیسےیہ ڈھیر ی (مثلاً بوری)ایک ہزار میں بیچی، چاہے یہ معلوم بھی نہ ہو کہ اس ڈھیری میں کتنا غلّہ ہے مگر اندازے سے اُسی وقت خرید وفروخت ہو سکتی ہے جبکہ دونوں کی "جنس" ( )الگ الگ ہوں۔ مثلاً پیسوں سے گیہوں خریدا، یا پھرجَو(barley)سے گیہوں (wheat) خریدا ( تو اب اندازے سے خرید سکتے ہیں)۔
() اگر ایک ہی "جنس " کی آپس میں خرید وفروخت(tarde) ہو مثلاً گیہوں کو گیہوں سے خریدا تو اب اندازے سے نہیں خرید سکتےکیونکہ اس صورت(case) میں کمی زیادتی "سود "( ) (interest)ہے۔
{3} بکریوں کاریوڑ) بہت سی بکریاں) خریدیں کہ ان میں سے ہر بکری دس ہزار میں یا کپڑے کا تھان خریدا کہ ہر ایک گز ایک ہزار میں(یعنی"عَدَدِی مُتَفَاوِت" چیز یں خریدیں کہ جو گنتی سے بکتی ہیں لیکن ان کے چھوٹے بڑے ہونے کی وجہ سے قیمتوں(prices) میں زیادہ فرق ہوتاہے) اور یہ معلوم نہیں کہ ریوڑ میں کتنی بکریاں ہیں یا تھان میں کتنے گز کپڑا ہے مگر بعد میں معلوم ہوگیا تو تجارت (trade)جائز ہے۔
{4} غلّہ (اناج)کی ڈھیری خریدی کہ مثلاًیہ سو(100) کلو ہے اور اس کی قیمت سو روپے ہے، بعد میں اُسے وزن کیا تو اگر پورا سو(100) کلو ہے تو تجارت(trade) ٹھیک ہے() اگر سو(100) کلو سے زیادہ ہو تو جتنا زیادہ ہے ، وہ بیچنے والے (بائع)کاہے۔
() اگر سو(100) کلو سے کم ہے تو خریدارکو اختیار (option)ہے کہ جتنا کم ہے اُس کی قیمت کم کرکے باقی لے لے یا سودا ہی ختم کردے۔
نوٹ:
یہی حکم ہر اُس چیز کا ہے جوماپ (measurement)اوروزن(weight) سے بکتی ہے۔
() اگروہ اس طرح کی چیز ہو کہ اُس کے ٹکڑے کرنے میں نقصان ہوتا ہواورجو وزن بتایاہے اُس سے زیادہ نکلی تو وہ پوری کی پوری خریدارہی کو ملے گی اور اس کی اضافی(extra) رقم بھی نہیں دینا ہوگی ۔مثلاً ایک موتی (pearl) یا یاقوت (ruby)خریدا کہ یہ ایک ماشہ( تقریباً ایک گرام)ہے اور نکلا ایک ماشےسے کچھ زیادہ تو جتنے پیسے پہلے طے(fixed) ہوگئے تھے، اتنی ہی رقم دے کروہ (سامان، پورا ٹکڑا) لے لے۔
{5} تھان خریدا، مثلاً یہ دس(10) گز ہے اور اس کی قیمت دس(10) روپے ہے۔ اگر یہ تھان اُس سے کم نکلا جتنا بیچنے والے (seller)نے بتایا ہے تو خریدار کو اختیار (option) ہے کہ چاہے تو طے شدہ (decided) پوری قیمت میں لے لےیا سودا ختم کر دے () یہ نہیں ہوسکتا کہ جتنا کم ہے اُس کی قیمت کم کردی جائے () اگر تھان اُس سے زیادہ نکلا جتنا بتایا ہے تو یہ اضافہ بغیرقیمت کے خریدار(buyer) کا ہوگا اور () بیچنے والے کو کسی قسم کا کوئی اختیار (option)نہ ہوگا یعنی نہ تو وہ زیادہ کپڑا واپس لے سکتا ہے اور نہ ہی طے شدہ (decided) قیمت سے زیادہ پیسے لے سکتا ہے اور نہ ہی سودا ختم کرسکتا ہے۔
() یونہی اگر زمین خریدی کہ یہ سو(100) گز ہے اور اس کی قیمت دس لاکھ روپے (10 lac) ہے اورکم یا زیادہ نکلی تب بھی یہ تجارت (trade)صحیح ہے اوردس لاکھ ہی دینے ہونگے مگر کمی کی صورت (case)میں خریدار کو اختیار (option) ہوگا کہ چاہے توسودا ختم کردے۔
{6} یہ کہہ کر تھان خریدا کہ دس(10) گز کا ہے، فی گز سو (100)روپے کے حساب سے تھان ہزار (1000) روپے میں۔اب تھان کم نکلا تو جتنا(گز)کم ہے اُس کی قیمت(price) کم کردی جائے گی اور خریدار کو اختیار (option) ہوگا کہ چاہے توسودا ختم کردے۔
() اگر تھان زیادہ نکلا، مثلاً گیارہ (11)یا بارہ(12) گز ہے تو جتنازیادہ ہے، اس کے پیسے دینے ہونگے،یا سودا ختم کردے۔ نوٹ:یہ حکم اُس تھان کا ہے جو پورا ایک طرح کا نہیں ہوتا جیسے چِکَن(ایسا کپڑا جس پرکشیدہ کاری ہو یعنی بیل بوٹے، پھول وغیرہ کڑھائی کر کے بنائے گئے ہوں) ، گُلبدن(ایک قسم کا دھاری داراور پھول دار ریشمی اور سوتی کپڑا ۔cotton) اور اگر پورا تھان ایک ہی طرح کا ہو تو یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بیچنے والا اُس زائد(extra) کپڑے کو پھاڑ کر دس(10) گز خریدار کو دیدے۔
{7} تھان اس طرح خریدا کہ دس (10)گز ہے ،فی گز سو (100) روپے میں، لیکن وہ تھان ساڑھے دس (10.5) گز نکلا تو دس (10)روپے میں لینا پڑیگا اور ساڑھے نو (9.5)گز نکلا تو خریدار کی مرضی کہ نو(9) روپے میں لے یا نہ لے۔
{8} زمین بیچی مگر اُس میں کھیتی(cultivated) لگی ہے تو زراعت(cultivation) بیچنے والےکی ہی ہوگی۔ ہاں! اگرخریدار شرط (precondition)کرلے یعنی یہ زمین زراعت(cultivation) کے ساتھ خریدتا ہوں تو اب زراعت خریدار ہی کی ہوگی۔
() اگر درخت بیچا جس میں پھل مو جود ہیں تو یہ پھل بیچنے والے ہی کے ہوں گے۔ ہاں! اگرخریدار شرط (precondition) کرلے یعنی یہ درخت پھل کے ساتھ خریدا، تو اب پھل خریدار کے ہوں گے۔
() اسی طرح چنبیلی(jasmine۔ایک مشہور خوشبودار پھول)، گلاب، جوہی(juhi۔چنبیلی جیسا چھوٹاخوشبودار پھول ) وغیرہ کے درخت خریدے تو پھول بیچنے والے کے ہیں مگر اس صورت(case) میں پھول خریدار کے ہوں گے کہ جب خریدار (buyer) نے پھول کے ساتھ خریدنے کی بات کی ہو ۔
{9} زراعت والی زمین(agricultural land) یا پھل والا درخت خریدا تو بیچنے والے کو یہ اختیار(option)
نہیں کہ جب تک چاہے زراعت(cultivation) زمین پر لگی رہنے دے یا پھل نہ توڑے بلکہ اُس سے کہا جائے گا کہ زراعت کاٹ لے یا پھل توڑلے اور زمین یا درخت خریدار کو دے دے کیونکہ اب وہ خریدار کی چیز ہے اور دوسرے کی چیز ، اپنے پاس رکھنے کا بائع(بیچنے والے) کو کوئی حق(right) نہیں۔ہاں! جب تک خریدار نے پیسے نہیں دیے تو اُس وقت تک بیچنے والے زمین یادرخت پر پھل یا زراعت لگی رہنے دے سکتا ہے۔
{10} کھیت کی زمین بیچی کہ جس میں زراعت(cultivation) ہے لیکن بیچنے والا یہ چاہتا ہے کہ جب تک زراعت تیار نہ ہو جائے،کھیت ہی میں رہے اورتیارہونے پر کاٹی جائے چاہےاُس وقت کا کرایہ، خریدار مجھ سے لے لے اور بیچنے والا بھی اس بات پر راضی (agree)ہو تو ایسا کرسکتے ہیں۔
{11} کاٹنے کے لیے درخت خریدا تو عادۃً (عام طور پر)درخت خریدنے والے جہاں تک جڑ(root) کھود کر نکالا کرتے ہیں یہ بھی جڑ کھود کر نکالے گا، لیکن بیچنے والے نے شروع ہی میں یہ شرط (precondition) کردی تھی کہ زمین کے اوپر سے کاٹنا ہوگا تو اب جڑ(root) کھودنے کی اجازت نہیں () اسی طرح جڑ کھودنے میں بیچنے والےکا نقصان ہے مثلاً وہ درخت دیوار یاکوئیں کے قرب میں ہے جڑ کھودنے میں دیوار گر جانے یا کنواں(well) ٹوٹ جانے کا خطرہ ہو تو اس حالت(condition) میں بھی زمین کے اوپر سے ہی کاٹا جائے گا ()اگر بیچے گئے درخت کی جڑ میں سے دوسرا درخت پیدا ہو گیا تھا تب بھی وہ دوسرا درخت بیچنے والے(بائع) ہی کا ہوگا۔ ہاں !اگر درخت کا کچھ حصّہ زمین کے اوپر چھوڑ دیا تھا پھر اُس سے شاخیں(branches) نکلیں تو یہ شاخیں خریدار (مُشتَری)کی ہیں۔(بہار شریعت ح۱۱،ص۶۲۸ تا ۶۳۴،مسئلہ۴۳،۴۴،۴۹،۵۰،۵۱،۵۶،۶۹،۷۰،۷۱،۷۲،مُلخصاً)
پھل اور بہار(پھول والی فصل، flowering crop) کی خریداری:
{1} باغ کی بہار(جس موسم میں پھول پھر پھل آتے ہیں،اُس)میں پھل آنے سے پہلے(ان کلیوں یعنی چھوٹے چھوٹے پھولوں کو) بیچنا، ناجائز ہے () اگر کچھ پھل بھی آچکے ہیں تب بھی ناجائز ہی ہے جبکہ کچھ پھل آناباقی ہوں۔نوٹ: یہ خرید وفروخت اس صورت(case) میں نا جائز ہے جبکہ موجود و غیر موجود، ہر طرح کے پھل کو بیچا ہو () اگر سب پھل آچکے ہیں تو یہ بیچنا درست(صحیح) ہے ، خریدار (buyer)کو یہ حکم ہوگا کہ فوراً پھل توڑ کر درخت خالی کردے ۔
()پھل مکمل تیار نہ ہوئے تھے اور اس شرط (precondition) پر بیچا کہ جب تک پھل تیارنہ ہوں گے درخت پر ہی رہیں گے،تیار ہوجانے کے بعد توڑے جائیں گے تو یہ شرط فاسد(سودا خراب کرنے والی ) ہےاور اس طرح خرید وفروخت کرنا بھی جائز نہیں ہے() اگر پھل آجانے کے بعد بیچا مگر ابھی تک خریدار کا قبضہ نہ ہواتھا(اُس نے پھل نہ توڑے تھے)کہ مزید پھل پیدا ہوگئے تب بھی بیع فاسد ہوجائے گی (یعنی سودا خراب ہو جائےگا) کیونکہ اب "مَبِیْع"(جس پھل کو بیچنا تھا)اور"غیر مَبِیْع" (جو پھل بعد میں ہوئے)میں فرق باقی نہ رہا۔
{2} پھل خریدے پر نہ تو یہ شرط (precondition)کی کہ ابھی توڑ لے گا اور نہ یہ کہ پکنے(تیار ہونے) تک درخت پر رہیں گے، پھر سودے کے بعد بیچنے والے (seller)نے درخت پر چھوڑنے کی اجازت دیدی تو یہ جائز ہے ()اب پھلوں میں جو کچھ اضافہ ہوگا وہ خریدارکے لیے حلال ہے جبکہ پھل درخت پر لگے رہنے دیے۔
نوٹ:اس میں یہ بھی ضروری ہے کہ اس طرح پھل لگے رہنے دینے پر عُرف(عادت) نہ ہو کیونکہ اگر عُرف ہوچکا ہو جیسا کہ بہارِ شریعت لکھنے والے، حضرت علامّہ ، مولانا، امجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ(جن کا انتقال 1948ء میں ہوا) کے زمانے سےہندوستان (موجودہ پاکستان، بنگلہ دیش، ہند، نیپال، سری لنکا) میں یہی ہوتا رہا کہ سودے میں شرط نہ ہوتی لیکن عُرف(عادت) کے مطابق (according)، سودے کے بعد پھل درخت پر لگا رہتا۔ اس صورت(case) میں بغیر شرط کے بھی شرط ہی کا حکم ہوتا ہے اور یہ بیع فاسد ( )ہوگی(سودا خراب ہو جائے گا)۔
ہاں!اگر صراحت(وضاحت) کردی جائے ( صاف صاف لفظوں میں کہہ دیا جائے)کہ فوراًتوڑ نا ہوگا اور بعد میں خریدار(buyer) کو بیچنے والے نے اجازت دیدی کہ اپنے پھل ، درخت پر لگے رہنے دوتو اب یہ بیع فاسد نہ ہوگی (تجارت(trade) صحیح ہو جائے گی)۔
()اگر سودا کرتے ہوئے ایسی شرط (precondition)نہ رکھی کہ یہ پھل جب تک پک نہ جائیں گے، درخت پر لگے رہنے دیے جائیں گے اور سودے کے بعد بیچنے والے نے درخت پر رہنے کی اجازت بھی نہ دی ، لیکن خریدار نے پھل نہیں توڑے۔ اب اگر پھل (سودے کے وقت سے) زیادہ ہوگئے تو جوزیادہ ہوئے ہیں، اسے صدقہ کرے یعنی سودا کرنے کے دن پھلوں کی جو قیمت(price) تھی اُس قیمت پر آج کی قیمت میں جو کچھ اضافہ ہواوہ خیرات کرے مثلاً اُس دن ہزارروپے قیمت تھی اور آج ان کی قیمت بارہ سو روپے ہے تو دو(2) روپے خیرات کردے اور ()اگر سودے کے دن پھل سب نکل آئے تھے، اُن کی تعداد زیادہ نہ ہوئی تھی صرف اتنا ہوا کہ اُس وقت پکے ہوئے نہیں تھے، اب پک گئے تو اس صورت میں صدقہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ہاں! اتنے دن بغیر اجازت بیچنے والے کے درخت پر ، اپنے پھل لگے رہنے دینے کا گناہ ہوا۔
(بہار شریعت ح۱۱،ص۶۳۶،۶۳۷،مسئلہ۸۰،۸۱،مُلخصاً)
بیع میں "اِسْتِثْنَا "(کسی چیز کو الگ کرنا، exception)ہوسکتاہے یا نہیں:
{1} جس چیز کو اکیلا خریدا یا بیچا جاسکتا ہو، سودا کرتے ہوئے اس طرح کی چیز کا" اِسْتِثْنَا "(الگ کرنایعنی یہ نہیں خریدینگے، ایسا کرنا)صحیح ہے ۔ مثلاً غلّے (اناج ۔grain )کی ایک ڈھیری (بوری) دس کلو کی ہے ،اُس میں سے کم ، یا زیادہ خریدسکتے ہیں۔ اسی طرح پورا دس (10)کلو بھی خرید سکتے ہیں۔
{2} بکریوں کے ریوڑ(بہت سی بکریوں)میں سے(بتا کر کہ یہ والی) ایک بکری خرید سکتے ہیں۔ اسی طرح (پورے ریوڑ میں سے) ایک مُتَعَیَّن بکری(مثلاً یہ والی بکری) کو " اِسْتِثْنَا "(الگ ) کر کے (یعنی ریوڑمیں سے ایک مخصوص بکری (specific goat)کے علاوہ)سارا ریوڑ(یعنی سب بکریاں) بھی خریدسکتے ہیں ()غیر مُتَعَیَّن بکری کو نہ خریدسکتے ہیں، نہ اُس کا " اِسْتِثْنَا "کرسکتے ہیں(یعنی نہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ کسی ایک بکری کو خریدا اور یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ ان سب بکریوں میں سے کسی ایک بکری کے علاوہ ساری بکریاں خریدیں)۔
{3} درخت پر پھل لگے ہوں اُن میں کا ایک مَحْدُود حِصّہ(limited part) خریدسکتے ہیں ()اسی طرح اُس حصّے کو "اِسْتِثْنَا "(یعنی الگ)بھی کر سکتے ہیں(یعنی یہ حصّہ نہیں خریدنا) مگر یہ بات ضرور ی ہے کہ جتنے حصّے کا استثنا کیاجائے (یعنی جو حصّہ نہیں لینا)وہ اتنا زیادہ بھی نہ ہوکہ اُس حصّے کونکالنے کے بعد"مَبِیْع"(بیچی جانے والی چیز) ہی ختم ہوجائے یعنی یہ بات یقیناً معلوم ہوکہ"اِسْتِثْنَا "(یعنی الگ کرنے )کے بعد "مَبِیْع"باقی رہے گی اور اگر شک بھی ہو کہ "مَبِیْع" باقی نہیں رہے گی تو اب "اِسْتِثْنَا " کرنادرست نہیں ہوگا۔
{4} باغ خریدا اُس میں سے ایک مُتَعَیَّن درخت کا(مثلاً یہ والا درخت) "اِسْتِثْنَا " کیا(کہ یہ نہیں لونگا ) تب بھی تجارت (trade)صحیح ہے۔
{5}بکری کو بیچا اور اُس کے پیٹ میں جو بچہ ہے اُس کا "اِسْتِثْنَا " کیا (یعنی بکری خریدی مگر بچہ نہیں خریدا تو)یہ تجارت (trade)صحیح نہیں ہے ۔
{6} (مکمل جانور میں سے)جانور کے سِری (سر)،پائے (پاؤں)،دُنبہ کی چکی (دنبے کی چوڑی دُم) کا "اِسْتِثْنَا " (یعنی الگ) نہیں کیا جاسکتا کہ اس طرح بیع فاسد(تجارت خراب) ہوگی ۔
() جزو شائع (ایک مقدار۔quantity)مثلاً نصف (50%)یا چوتھائی(1/4, 25%) کو خریدبھی سکتے ہیں اور اس کا"اِسْتِثْنَا " (یعنی اتنا نہیں خریدنا، یہ) بھی کرسکتے ہیں اور اس طرح کرنے سے خریدنے اور بیچنے والے (دونوں)جانور میں شریک(partner) ہو جائیں گے۔(بہار شریعت ح۱۱،ص۶۳۸،۶۳۷،مسئلہ۸۳،مُلخصاً)
ناپنے تولنے (وزن کرنے)والے اور پرکھنے (testکرنے)والے کی اُجرت(wages) کس پر ہے؟:
{1}"مَبِیْع" کے ماپ یا تول (وزن کرنے)یا گنتی (countکرنے)کی اُجرت دینی پڑے تو وہ بیچنے والا (seller) دے گا کیونکہ "مَبِیْع"(بیچی گئی چیز) کو خریدار (buyer)کے سپرد اس طرح کرنا(مثلاً ہاتھ میں دینا) بیچنے والے(seller) کی ذمہ داری (responsibility) ہو تی ہے کہ وہ چیزمانپی ہوئی(measured)، یا وزن شدہ (weighted)، یا گننی ہوئی(counted) ہو۔
() "ثمن" کے تولنے یا گننے یا پرکھنے (testing)کی اُجرت(wages) دینی پڑے تویہ خریدار کی ذمہ داری (responsibility) ہے۔ نوٹ: پہلے وقتوں میں "ثمن" سونے ، چاندی کے سکّے (coins)ہوتے تھے تو ضرورت اس بات کی ہوتی تھی کہ انہیں چیک کریں کہ یہ خالص(pure) ہیں یا ان میں کھوٹ(مثلاً زنگ وغیرہ لگےہوئے) تو نہیں۔آج کل کے نوٹوں(terminological currency) میں اس کی ضرورت نہیں پڑتی۔
{2} درخت کے سارے پھلوں کا اندازہ لگایا اورقیمت (price) طے کر لی ، اسی طرح () کھیت میں موجود لہسن (garlic)،پیاز(onion) کا اندازہ لگا کر ، قیمت طے کر لی () کشتی میں موجود سارےغلّے(اناج) کا اندازہ لگا کر، قیمت طے کر لی۔ اب بیچنے والے نے کہا کہ یہ چیزیں لے جاؤ تو اب پھل توڑنے، لہسن ،پیاز نکلوانے یا کشتی سے"مَبِیْع" باہر لانے کی اُجرت (wages) دینا، خریدار کی ذمہ داری (responsibility) ہے۔
{3} بروکر(مال کمیشن پربیچنے والے) کی اُجرت ، مال بیچنے والے کی ذمہ داری (responsibility) ہے جبکہ اُس (بروکر)نے سامان مالک کی اجازت سے بیچا ہواور ()اگر بروکر نے طَرفَین (دونوں طرف یعنی خریدنے والے اور بیچنے والے کی طرف سے، تجارت۔trade)میں کوشش کی ہو مگر سودا مالک نے ہی کیا ہو تو جیسا وہاں (اُس شہر )کا عُرف (رواج۔عادت)ہو، اسی کے مطابق بروکری ہوگی(،کمیشن ہوگا) یعنی اگر اس صورت (case) میں عُرفاً(عادۃً) بروکری دینا بیچنے والے کی ذمہ داری (responsibility) ہوتی ہو تو اب بھی بروکری بیچنے والا (بائع)ہی دے گا()اگر عُرفاً خریدار(مُشتَری) کی ذمہ داری ہے تو خریدار، بروکری دے گا()اگر عُرفاً دونوں کے ذمہ داری ہو، تو دونوں دیں گے۔(بہار شریعت ح۱۱،ص۶۳۸،۶۳۹،مسئلہ۸۶،۸۷،۸۸،مُلخصاً)
"مَبِیْع"(sold goods)ا ور"ثمن "(bought goods or currency)پر قبضہ کرنا(مثلاً اپنے اپنے ہاتھ میں لینا):
{1}(۱) روپیہ (چاندی کا بنا ہوا سکّا۔ silver coin)اشرفی(سونے کا سکّا۔ gold coin) پیسہ (تانبے (copper) یا ، پیتل(brass) وغیرہ سے بنے ہوئے سکّے۔coin) سے خریداری کی اور "مَبِیْع" (بیچا گیا سامان) وہاں موجود ہے تو "ثمن "(روپیہ یا اشرفی یا پیسہ)فوراًدینا ہوگا ۔
(۲)اس صورت (case)میں اگر خریدار کو "خیار شرط" ( ) نہ ہو تو خریدار (buyer) پہلے رقم(price) دے گا، اُس کے بعد سامان قبضے (مثلاً اپنے ہاتھ) میں لے سکتا ہے، یعنی اس صورت (case) میں بیچنے والے
(seller) کو یہ حق(right) ہوگا کہ جب تک خریدار(buyer)رقم نہ دے ،بیچنے والا سامان روک سکتا ہے۔
(۳)اگر "مَبِیْع" (بیچا گیا سامان) وہاں موجود نہ ہو توبیچنے والا جب تک سامان لے کر نہ آئے، رقم کا مطالبہ (demand) نہیں کرسکتا۔
(۴) اگر دونوں طرف سامان ہومثلاً کتاب کو کپڑے کے بدلے میں خریدا ،یا() دونوں طرف "ثمن" ہومثلاً
روپیہ (تانبے (copper) یا ، پیتل (brass) وغیرہ سے بنے ہوئے سکّے۔coin) یا اشرفی(سونے کے سکّے) سے سونا چاندی خریداتو دونوں کو اُسی مجلس (جگہ)میں ایک ساتھ لین دین (give and take) کرنا ہوگا( )
{2}(۱) خریدارنے ابھی "مَبِیْع" (خریدےگئے سامان)پر قبضہ نہیں کیا تھا اور وہ سامان بیچنے والے کے ہاتھ (یا اُس کےکسی کام) سے ہلاک (یعنی مال ضائع( waste) یا ختم) ہوگیا ،یا() اُس"مَبِیْع" نے خوداپنے کو ہلاک کردیا (مثلاً جانور لے رہے تھے اور اُس جانور نے کنویں میں چھلانگ لگا دی)یاآفت سَمَاوی(کسی آسمانی مصیبت مثلاً آسمانی بجلی) سے ہلاک ہوگیا(مر گیا) تو "بیع باطل" ہوگئی(یعنی تجارت(trade) ہی نہ رہی) ()بیچنے والے نے اگر رقم لے لی تھی تو واپس کرے ۔
(۲) اگر وہ چیز خریدار کی طرف سے ہلاک ہو(مثلاً
(دوڑایا)اور وہ کنویں میں گر کر مر گیا) اور بیع مطلق(یعنی رقم کے ساتھ کوئی سامان وغیرہ خریدنے والی تجارت تھی ۔un conditional sale /absolute sale) تو اب اس کی رقم خریدار پر لازم ہوگئی()اس صورت(case ) میں اگر خریدار کو" خیارِ شرط"( )حاصل ہو، یا وہ "بیع فاسد" ( ) (خراب تجارت)ہو تب اس کی رقم(طے شدہ قیمت) دینا تو خریدار پر لازم نہیں ہوگی مگر اس
کا"تاوان" (اس کی اصل قیمت یا ویسی ہی چیز) دینالازم آئے گا۔
"تاوان کی وضاحت ": اگروہ چیز مثلی ہے(یعنی ایسی ہے کہ جس طرح کی چیزیں بازار میں ملتی ہیں اور قیمت میں زیادہ فرق نہیں ہوتا، مثلاً انڈا۔egg) تو اُس کی مثل دے (یعنی انڈے کے بدلے انڈا)اور قیمی ہے(یعنی ایسی چیز ہے کہ اس سے ملتی جلتی چیزیں تو بازار میں ملتی ہیں، مگر قیمت میں بہت فرق ہوتا ہے) تو قیمت دے دے (یعنی بازار میں اس بکری کا بھاؤ (rate) کیا ہے کہ جو ہلاک ہوئی یعنی مر گئی، اتنی رقم دے)۔
(۳) اگر کسی تیسرے شخص (3rd person)نے اس چیز کو ہلاک (ختم)کردیا تو خریدار کو اختیار (option)ہے چاہے تو "بیع" ہی "فَسخ" کردے(یعنی سودا ختم کردے) لیکن اس صورت(case) میں ہلاک (یعنی ضائع۔ waste)کرنے والا مال بیچنے والے کو تاوان(اس کی اصل قیمت یا ویسی ہی چیز) دے گا() خریدار(buyer) چاہے تو سودا باقی رکھے ، بیچنے والے کو پیسے دے دےاور ہلاک کرنے والے سے" تاوان "لےلے۔
{3}(۱) دوچیزیں ایک ساتھ کسی کو بیچیں۔ چاہےہر ایک کے پیسے الگ الگ بتادیے ہوں، پھر بھی بیچنے والے کو حق (right) ہے کہ جب تک خریدار دونوں کے (مکمل ) پیسے نہ دے تب تک وہ دونوں چیزیں ہی خریدار کو نہ دے۔ مثلاً دو گھوڑے ایک ساتھ بیچے، پہلا ۵ لاکھ(5 lac) کا دوسرا ۴ لاکھ(4 lac)کا اور مشتری نے ۵ لاکھ دے دیے تب بھی بیچنے والا دونوں گھوڑے روک سکتا ہے(یعنی خریدار کو کوئی گھوڑا بھی نہ دینے کا حق رکھتا ہے)۔
(۲) اگر خریدار نے بیچنے والے کو سودے کی رقم تو نہ دی مگر اس کے پاس کوئی چیز "رہن "( ) (mortgage) رکھ دی یا ضامن ( ) (guarantor) پیش کردیا،تب بھی"مَبِیْع" (بیچا گیا سامان) روکنے کاحق (right)بیچنے والے کے لیے باقی ہے () چاہے بیچنے والے نے "ثمن " کا کچھ حصّہ معاف کردیا ہو (مثلاًہزار میں سے دو سو
روپے) تو جو کچھ باقی ہے ،اُسے جب تک نہ لے لے، اب بھی "مَبِیْع" کو روک سکتا ہے۔
{4}سودا پورا ہو جانےکے بعد بیچنے والے نے پیسے لینے کا کوئی وقت طے (fixed)کرلیا۔اب اسے "مَبِیْع" (بیچا گیا سامان) روکنے کا حق نہ رہا،لیکن اس صورت(case) میں بھی "مَبِیْع"، خود بیچنے والا ہی دے گا۔ اگر خریدار نے بیچنے والے کی اجازت کے بغیر ہی مال/سامان لے لیا تو بیچنے والا، خریدار سے واپس لے سکتا ہے()اگر خریدار نے بغیر اجازت، بیچنے والے کے سامنے ہی سامان/مال لے لیا اور اس نے منع نہ کیا توا ب بیچنے والا "مَبِیْع" واپس نہیں لے سکتا۔
{5}(۱) خریدار نے "مَبِیْع" ( خریدا ہوا سامان) کسی کے پاس امانت رکھوادیا، یا ()عاریت پر رکھوادیا( یعنی عارضی طور پر کام کے لیے دے دیاجیسے کسی کو لکھنے کے لیے قلم دیتے ہیں) ،یا () بیچنے والے سے کہہ دیا کہ فلاں کو دے دے تو بیچنے والے نے اس شخص کو دے دیا کہ جسے دینے کا خریدار نے کہا تھا۔ ان سب صورتوں (cases)میں خریدار(buyer) کا قبضہ ہوگیا(یعنی حکم دیا جائے گا کہ یہ چیز، خریدار کے ہاتھ میں چلی گئی اور "بیع"(یعنی تجارت(trade) مکمل ہوگئی)۔
(۲) ہاں! اگر خریدار نے(ہاتھ میں لیے بغیر)خودبیچنے والے کے پاس امانت رکھ دی، یا عاریت کر دی ( یعنی عارضی استعمال کے لیے دے دی)، یا کرایہ پر(بیچنے والے ہی کو) دیدی یا ،بائع کو کچھ" ثمن" دیدیا(پیسے دے دیے) اور کہد یا کہ میں نے جتنے پیسے دے دیے ہیں، اتنی چیز میری ہوگئی (مثلاً ایک گاڑی خریدی، اس کے آدھے ( 50% ) پیسے دے دیے تو آدھی گاڑی میری ہوگئی) اب جس حصّے کے پیسے میں نے دینے ہیں(50% گاڑی کے پیسے جو نہیں دیے)، اُس کے بدلے میراحصّہ(50% گاڑی کے پیسے جو میں نے دےدیے) تمہارے پاس "رہن " (mortgage) کے طور پر رکھوا دیا(یعنی آدھی گاڑی تمہارے پاس رہن ہے)، تو ان سب صورتوں (cases) میں "مَبِیْع" پر خریدار کاقبضہ نہ ہوا(یعنی یہ چیز ضائع ہوئی تو بیچنے والا اس کا ذمہ دار (responsible) ہوگا، خریدار (مُشتَری)کا کوئی نقصان نہیں ہوگا)۔
{6}(۱) بیچنے والے(بائع) نے"مَبِیْع" اور خریدار کے درمیان "تخلیہ" کردیا یعنی اگر وہ قبضہ کرنا چاہے تو "مَبِیْع" پرقبضہ کر سکے(اپنے ہاتھ میں لے سکے) اوراس قبضے میں کوئی چیز رُکاوٹ نہ ہو، نہ ہی بیچی گئی چیز ا ور خریدار کے درمیان کوئی ایسی چیز رکھی ہوئی ہو کہ خریدار، سامان نہ اُٹھا سکے تو حکم دیا جائے گا کہ "مَبِیْع" پر خریدار کا قبضہ ہوگیا (یعنی اب اگر چیز بیچنے والے کی طرف سے جان بوجھ کر (deliberately) ضائع (waste) نہ ہوئی بلکہ خود ضائع(ختم یا خراب ) ہوگئی تو یہ خریدار کی چیز ضائع ہوئی، بیچنے والا ذمہ دار(responsible) نہیں ہوگا)۔
(۲)اسی طرح خریدار (buyer) نے اگر پیسے اور بیچنے والے میں "تخلیہ" کردیا(کہ وہ لینا چاہے تو کوئی رکاوٹ نہ ہو) تو یہ بھی "بائع"(بیچنے والے) کو" ثمن"(مثلاً رقم) دے دینا ہے۔
{7}(۱) اگر اس طرح "تخلیہ" کیا کہ قبضے میں کوئی شے رُکاوٹ ہےمثلاً "مَبِیْع" دوسرے کے حق(right) میں مصروف (busy)ہے۔ جیسے مکان بیچا اور اُس میں بائع(بیچنے والے) کا سامان موجود ہے،چاہے تھوڑا سا ہی ہو،یا زمین بیچی اور اُس میں بائع (بیچنے والے)کی کھیتی (cultivation)موجودہے تو ان صورتوں(cases) میں مُشتَری (یعنی خریدار)کا قبضہ(مثلاً ہاتھ میں لینا) نہیں کہلائے گا۔
(۲)ہاں! بائع نے گھر وسامان دونوں پر قبضہ کرنے کو کہد یا اور خریدارنے قبضہ کربھی لیا تو اب قبضہ ہوگیااور اس صورت میں بیچنے والے کا سامان ،مُشتَری (یعنی خریدار)کے پاس امانت ہوگا ۔
(۳) اگر خود "مَبِیْع" نے دوسری چیز کو مصروف کررکھا ہو مثلاً غلّہ(اناج) خریداجو بیچنے والے کی بوریوں میں ہے (کہ اس میں خود اناج کی حفاظت ہے )یا پھل خریدے جو درخت میں لگے ہیں(اس میں پھل کو فائدہ ہے) تو "تخلیہ" کردینے سے، خریدار کا قبضہ ہوجائے گا۔
{8}(۱) گھر خریدا جو کسی کو کرائے پر دیا ہوا ہے اور خریدار اس بات پر راضی (agree)ہوگیا کہ جب تک اجارہ کی مُدَّت (duration)پوری نہیں ہوتی (کرایہ دار اس گھر میں رہے اور )عقد فَسخ (یعنی سودا ختم)نہ کیاجائے۔ جب اجارہ کی مُدَّت (duration)پوری ہوگی تواُس وقت (خریدار)قبضہ کریگا (اور یہ سودا مکمل ہو جائے گا)۔ (۲)اس بات پر راضی (agree)ہونے کے بعد، وقت سے پہلےمُشتَری قبضے کا مطالبہ (demand)نہیں کرسکتا۔ اسی طرح بائع (بیچنے والا)بھی خریدار سے پیسوں کا مطالبہ نہیں کرسکتا ،جب تک گھر خریدارکو نہ دے دے۔
{9} مکان (یعنی گھر) بیچااور اُس کی چابی بائع (یعنی بیچنے والے)نے خریدار کو دے کر کہہ دیا کہ: میں نے "تخلیہ" کردیا (یعنی یہ مکان تمہیں دے دیا)ہے۔اگر وہ مکان وہیں ہے کہ آسانی کے ساتھ خریدار،اُس مکان میں تالا (lock) لگا سکتا ہے تو قبضہ ہوگیا ()اگر وہ گھر دور ہے تو قبضہ نہ ہوا، چاہے بائع(بیچنے والے) نے کہہ دیا ہوکہ "میں نے تمھیں دےدیا" اور مُشتَری (خریدار)نے کہا کہ" میں نے قبضہ کرلیا" (پھر بھی قبضہ نہ ہوا)۔
{10}(۱) بیل(ox) خریدا جو چررہا تھا(یعنی چارہ وغیرہ کھا رہا تھا)،بائع نے کہہ دیا:" جاؤ قبضہ کرلو"۔ اگر بیل سامنے ہے کہ اُس کی طرف اشارہ کیا جاسکتا ہے تو قبضہ ہوا، ورنہ نہیں۔()ہاں! اگر قبضے کے لیے اُس جانور کو تھامنا (پکڑنا) ضروری ہے تو پکڑنے کے بعد ہی قبضہ ہوگا۔(الفتاوی الھندیۃ،کتاب البیوع،ج۳،ص۱۷،۱۸، مُلخصاً)
(۲)کپڑا خریدا اور بائع (بیچنے والے)نے کہہ دیا کہ قبضہ کرلو(یعنی پکڑ لو)۔ اگر کپڑا اتنا قریب ہے کہ خریدار (buyer) ہاتھ بڑھا کر لے سکتا ہے توقبضہ ہوگیا اور ()اگر قبضہ کے لیے اُٹھنا پڑے گا تو صرف" تخلیہ"( یعنی "پکڑ لو"کہہ دینے ) سے قبضہ نہیں ہوگا۔
{11} (۱)نگینہ(پتھر) جو انگوٹھی میں ہے اسے خریدا،بیچنے والےنے انگوٹھی خریدار کو دے دی کہ اس میں سے نگینہ نکال لو اور وہ انگو ٹھی مُشتَری (خریدار)کے پاس سے ضائع (waste)ہوگئی تو اس کی دو(2) صورتیں ہیں:(a)اگر خریدار آسانی سے نگینہ(پتھر) نکال سکتا تھا تو قبضہ صحیح ہوگیا ، اب خریدار اُس (پتھر)کے پیسے بائع(بیچنے والے) کو دے گا اور(b) اگر بغیر تکلیف اُٹھائے،اُس انگوٹھی میں سے نگینہ نہ نکال سکتا ہو تو اس طرح کی انگوٹھی دینے سے نگینے(پتھر) پر قبضہ نہیں ہوا لہذا انگوٹھی ضائع (waste) ہونے پر خریدار، بائع کو کچھ بھی نہیں دے گا۔
(۲) اگر انگوٹھی ضائع (waste)نہ ہوئی اور بغیر تکلیف اُٹھائے، خریدار نگینہ نکال نہیں سکتا اور کوشش کر کے اُس نگینے کو نکالنا نہیں چاہتا تو اُسے اختیار(option) ہے کہ وہ انتظار کرےیہاں تک کے بیچنے والا، اُس نگینے (پتھر) کو انگوٹھی سے الگ کر دے یا پھر سودا ہی ختم کر دے۔
{12} تیل خریدا اور بیچنے والے کو بوتل دے کرکہا کہ:" میرے مُلازم(servent) کے ہاتھ میرے گھر بھیج دینا() اب اگر راستے میں بوتل ٹوٹ گئی اور تیل ضائع (waste)ہوگیا تو خریدار کا نقصان ہوا (کیونکہ خریدار کے مُلازم کے ہاتھ میں آنا بھی خریدار کا قبضہ ہے )اور() اگریہ کہا تھاکہ اپنے مُلازم(servent) کے ہاتھ میرے گھر پر بھیج دینا(اور بوتل ٹوٹنےسے تیل گر گیا ) تو بیچنے والے کا نقصان ہوگا(کیونکہ ابھی تک خریدار کا قبضہ ہی نہیں ہوا)۔
{13} کوئی چیز خرید کر بائع (بیچنے والے)کے پاس چھوڑدی(لیکن قبضہ نہ کیا) اور کہہ د یا کہ کل لے جاؤں گااگر نقصان ہوا تو میرا ہوگا ۔ مثلاً وہ جانور تھا جو رات میں ہی مرگیا تو بائع کا نقصان ہو ا، خریدار نے جو کہا تھا کہ " نقصان میرا ہوگا" یہ بات بیکار (یعنی فضول)ہے کیونکہ جب مُشتَری کا قبضہ ہی نہیں ہوا تھا تو اس کا نقصان سے کیا تعلق؟
{14}(۱) کوئی چیز بیچی مگر پیسے نہ لیے اور کسی تیسرے شخص کے پاس، وہ چیز رکھوادی کہ خریدار اس(تیسرے) شخص کوپیسے دے کر "مَبِیْع" لے لے() اب وہاں(تیسرے شخص کے پاس) وہ چیز ضائع(waste) ہوگئی تو نقصان بائع(بیچنے والے) کا ہوگا ۔
(۲)اگر اس تیسرے شخص کے پاس رکھوانے کا خریدار(buyer) نے ہی کہا تھا کہ فلاں کے پاس رکھوا دو، میں پیسے دے کر اُس سے لے لونگا اور وہ چیز تیسرے شخص کے پاس ہلاک(یعنی ضائع۔ waste) ہوگئی، تب بھی نقصان بائع (بیچنے والے) ہی کے ہوگا (کیونکہ خریدار کو مال ملا ہی نہیں تو اس کا قبضہ ہی نہیں ہوا لہذا یہ نقصان خریدارکا نہیں ہوا)۔
{15} "مَبِیْع" (یعنی جس چیزکاسوداہوا،وہ) بائع(بیچنے والے) کے ہاتھ میں تھی اورمُشتَری نے اُسے ہلاک کردیا یا، اُس میں عیب پیداکردیا (خراب کردیا)یا ، بیچنے والے نے خریدار کے کہنے پر تبدیلی کر دی (مثلاً سوراخ کر دیا) ، یعنی ان میں سےکوئی بھی کام کیا تو خریدار کا قبضہ ہوگیا()گیہوں(گندم۔wheat) خریدے اور بائع سے کہا کہ انھیں پیس دے(grindکر دے) اُس نے پیس دیا تو یہ بھی خریدار کا قبضہ ہوگیا اور یہ آٹا خریدار ہی کا ہے۔
{16}(۱) مُشتَری (خریدار)نے قبضہ سے پہلے ہی بیچنے والے سے کہہ دیا کہ "مَبِیْع" (یعنی جس چیزکاسوداہوا ہے) فلاں شخص کو "ہِبہَ" کردو(یعنی تحفہ۔ giftدے دو)،بائع نے تحفہ دے دیا تو خریدار کی طرف سے قبضہ ہوگیا۔
(۲)اگر خریدار نے کہا کہ اسے کرایہ پر دیدو ، بیچنے والے نےاُس چیز (مثلاً گھر ) کو کرائے پر دے دیدیاتو یہ بھی خریدار کا قبضہ ہوگیا اور اب کرایہ خریدار(buyer) ہی کو ملے گا۔
{17}(۱) "مَبِیْع" (یعنی جس چیزکاسودا ہو رہا تھا، اُس ) پر خریدار کا قبضہ پہلے ہی سے تھا۔ اگر وہ قبضہ ایسا ہے کہ جس میں چیز ضائع(waste)ہونے کی صورت (case)میں تاوان(جرمانہ۔fine) دینا پڑتا ہے تو خریدنے کے بعد دوبارہ(again) قبضہ کرنے کی ضرورت نہیں ،جیسے :وہ چیز خریدار نے غصب کررکھی تھی (مثلاً چھین کر لے لی تھی )یا "بیع فاسد" ( ) (خراب تجارت)کے ذریعہ خرید کر پہلے ہی سے قبضہ کرلیا تھا پھر وہی سودا صحیح طریقے سے کر لیا(یعنی "بیع فاسد" کو شرعی طریقے سے"بیع صحیح" کرلیا ) تو وہی پہلا قبضہ کافی (enough)ہے() ایسا شخص جس کے پاس پہلے سے چیز تھی ، وہ سودے کی خرابی دور کر کے صحیح طریقے سےزبانی سودا کر کے ابھی گھر بھی نہ پہنچا تھا کہ وہ شے ہلاک (waste)ہوگئی تو خریدار ہی کی چیز ہلاک ہوئی ۔
(۲)اگر وہ قبضہ ایسا نہ ہو جس سے ضمان(تاوان۔ جرمانہ)لازم آئے، مثلاً خریدار کے پاس وہ چیز امانت کے طورپر تھی تواب دوبارہ(again) قبضہ کرنے کی ضرورت ہے ۔
(بہار شریعت ح۱۱،ص۶۳۹ تا۶۴۶،مسئلہ ۸۹ تا۹۲، ۹۴، ۹۶ تا۹۸، ۱۰۰ ، ۱۰۳، ۱۰۷ تا ۱۱۲، ۱۱۵، مُلخصاً)
"خیار ِشرط "کا بیان(یعنی سودا مکمل (final) کرنے کے لیے کچھ دن کا ٹائم لینا، right to terminate the transaction ):
{1} بیچنے والے اور خریدارکو یہ حق(right) حاصل ہے کہ وہ قطعی (پوری)طورپر بیع (final)نہ کریں(یعنی ابھی سودا مکمل نہیں ہوا) بلکہ سودا کرتے ہوئے یہ شرط (precondition)کرلیں کہ اگر سودا سمجھ میں نہیں آیا تو یہ سودا باقی نہ رہے گا، اسے" خیار شرط" کہتے ہیں۔ اس کی ضرورت دونوں (یعنی خریدنے والےاوربیچنے والے) کو ہوتی ہے کیونکہ کبھی بیچنے والا مارکیٹ ریٹ کی معلومات نہیں رکھتا تو کم قیمت میں چیز دے رہا ہوتا ہے اور کبھی خریدنے والا قیمت نہیں جانتا تو مہنگی لے رہا ہوتا ہے ،یا کبھی دونوں ہی کو مشورے کی ضرورت ہوتی ہے، یا ایسا ہوتا ہے کہ اگر اس وقت نہ خریدا تو یہ چیز کوئی اور خرید لے گا، یا گاہک ہاتھ سے نکل جائے گا تو ایسی صورت میں شریعت(دینِ اسلام) نے دونوں کو یہ موقع(opportunity) دیا ہے کہ غور کرلیں اگر پسند نہ ہو تو "خیارِ شرط" کے اختیار(option)پر سودا ختم کردیں۔
{2} خیار شرط جن چیزوں میں ہوسکتا ہے، ان میں یہ بھی ہیں: ( 1) "بیع" (تجارت۔trade)،(2) "اجارہ"(ملازم
رکھنا۔ employment contract)
،(3) "راہن"(رہن(mortgage) رکھنے والے) کے لیے ہوسکتا ہے ( لیکن "مُرتَھِن " (جس کے پاس رہن رکھا جائے) کے لیے نہیں کیونکہ یہ جب چاہے رہن کو چھوڑ سکتا ہے، اسے" خیار" کی ضرورت ہی نہیں)
(4) "کِفالت" (guaranty)میں" مَکْفُوْل لَہ" (جس کی کفالت کی جائے) اور" کَفِیل " (ضامن۔ guarantor) کے لیے بھی ہوسکتا ہے
(5) "اِبرا"(یعنی کسی کو اپنا حق معاف کردینے) میں ہوسکتا ہے (مثلاً یہ کہا کہ میں نے تجھے بَرِی کیا اور(اپنے پیسے مُعاف کرنے کے لیے) مجھے تین(3) دن تک اختیار (option)ہے)۔
(6) "حوالہ "میں ہوسکتاہے("حوالہ" کا مطلب :قرض لینے والا،کبھی قرض واپس کرنے کی طاقت نہیں رکھتا ، اب وہ کسی تیسرے فرد(3rd person) کو بیچ میں ڈالتا ہے کہ " میرا قرض ،یہ دے گا" اور قرض دینے والا بھی اس بات کو قبول(accept) کر لیتا ہے تو یہ "حوالہ " کہلائے گا )۔
(7)" مزارعت " میں ہوسکتاہے ("مزارعت" کا مطلب: کسی کو اپنی زمین اس طرح کاشت(cultivation)کے لیے دینا کہ جو کچھ پیداوار (production)ہوگی دونوں میں (مثلاً آدھی(50%) آدھی یاایک تہائی(1/3) دو تہائیاں(2/3) تقسیم (distribute) ہوگی)۔
(8) "معاملہ" میں ہوسکتاہے("معاملہ" کا مطلب:باغ یا درخت کسی کو اس لیے دینا کہ اس کی خدمت (دیکھ بھال)کرے اور جو کچھ اُس سے پیداوار (production)ہوگی، اُس کا ایک حصّہ کام کرنے والے کو اور ایک حصّہ مالک(owner) کو دیا جائے گا اس کو "مساقاۃ "کہتے ہیں اور اس کا دوسرا نام "معاملہ" بھی ہے)۔
(9)"شُفعہ "کرنے کے بعد" طلب مُواثبت " میں بھی "خیار" ہوسکتا ہے("شُفعہ" کا مطلب: غیر منقول جائداد (یعنی جو چیز ایک جگہ سے دوسری جگہ نہ جاسکے، مثلاً گھر، دکان) کو ایک شخص نے بیچا، تو اس جگہ کے پڑوس میں رہنے والے کو یہ حق (right) حاصل ہوتا ہے کہ وہ اُسی قیمت(price) میں خریدلے کہ جتنے میں مالک(owner) نے بیچا ہو، اسے "شُفعہ" کہتے ہیں۔" طلب مُواثبت " کا مطلب: یہ ہے کہ جیسے ہی پڑوسی کو اپنے ساتھ والی جگہ بکنے کی خبر ہوئی، تو اُس نے فوراً کہا: میں شُفعہ چاہتا ہوں(یعنی اپنی ساتھ والی جگہ خریدنا چاہتا ہوں) ۔" خیار شفعہ ": میں شُفعہ چاہتا ہوں مگر مجھے دو(2) دن کا اختیار (option)ہے۔
() جن چیزوں میں خیار نہیں ہوسکتا، ان میں یہ بھی ہیں:( 1 )" نکاح "،(2) "طلاق"،(3)"قَسَم" ،(4) "نذر" (منّت)، (5) " اقرارِ عقد" (کسی سودے کو ماننا(accept کرنا) کہ یہ سودا ہوا تھا،جس بات کا " اقرار" کیا ،وہ اقرار کرنے والےپر لازم ہو جاتا ہے)، (6) "بیع صرف " (سونے، چاندی کی تجارت۔trade)،( 7) " سلم" ( ) (مخصوص شرطوں (specific preconditions) کے ساتھ اس طرح سودا کرنا کہ رقم پہلے دینا اور مال بعد میں لینا)،( 8) "وکالت" ( ) (attorneyship،یہ کہہ دیا کہ میں نے تجھے فلاں کام کرنے کا وکیل کیا، یا میں یہ چاہتا ہوں کہ تم میری یہ چیز بیچ دو ،یا میری خوشی یہ ہے کہ تم یہ کام کردو یہ سب صورتیں، "وکیل "بنانے (یعنی "وکالت")کی ہیں )۔
{3} "خیارِ شرط" کا وقت زیادہ سے زیادہ تین (3)دن ہے اور اس سے کم وقت بھی ہوسکتاہے مگر تین (3) دن سے زیادہ نہیں ہو سکتا۔
{4}اگر کوئی ایسی چیز خریدی کہ جو جلدی خراب ہونے والی ہے(مثلاً کیلے) اور خریدار کو تین(3) دن کا "خیار
شرط" تھا تو اُس سے کہا جائے گا کہ یا تو سودا مکمل کر لو(یعنی یہ چیز لے لو) یا سودا ختم کر دو۔
() اگر خراب ہونے والی چیز کسی نے بغیر "خیارِ شرط" کے خریدی لیکن بغیر قبضہ کیے ، بغیر پیسے دیے، چلا گیااور غائب ہو گیاتو بائع(بیچنے والا) اس چیز کو دوسرے کے ہاتھ بیچ سکتا ہے()اس دوسرے خریدار(buyer) کو یہ
بات معلوم ہوکہ"بائع"یہی چیز پہلے بیچ چکا ہے، تب بھی اس دوسرے خریدار کا یہ (چیز) خریدنا، جائز ہے۔
{5} تین(3) دن سے زیادہ کی مُدَّت (duration)مُقَرَّر(طے۔fixed) کی مگر ابھی تین(3) دن پورے نہ
ہوئے تھے کہ" صاحبِ خیار"(جس نے اختیار لیا تھا) نے سودےکو جائز(ok) کردیا تو اب یہ تجارت
(trade) درست ہے اور ()اگرتین(3) دن پورے ہوگئے اور جائز(ok) نہ کیا تو "بیع فاسد" ( ) (تجارت
خراب)ہوگئی۔
{6} سوداہوا اور پیسےبھی خریدار نے دے دیے اور یہ بات کی کہ اگر تین (3)دن کے اندر بائع(بیچنے والے) نے پیسے واپس کر دیے تو سودا ختم ہو جائے گا، یہ بھی "خیارِ شرط "کے حکم میں ہے۔
{8} "صاحب ِخیار" ("خیارِ شرط" لینے والے )نے سودا ختم کر دیا تو اس کی دو(2) صورتیں ہیں:
(۱) قول(یعنی بات ) سے: اگر "صاحب خیار"("خیارِ شرط" لینے والا) اپنی بات سے سودا ختم کرے تو ضروری ہے کہ دوسرے کو،"خیارِ شرط" کی مُدَّت (duration) کے اندر معلوم ہوجائے(مثلاً دو(2)دن کا خیار لیا تھا تو دوسرے کو دو(2)دن کے اندر اندر معلوم ہو جائے)۔ اگر دوسرے کو علم ہی نہ ہوا،یا مُدَّت (duration) گزرنے کے بعد اُسے معلوم ہوا تو یہ فسخ(سودا ختم کرنا) صحیح نہیں ہوا بلکہ بیع لازم ہوگئی (یعنی یہ سودا لازم ہوگیا)۔
(۲) فعل(یعنی کسی عمل ) سے: اگر" صاحب خیار "نے اپنے کسی فعل سے سودا ختم کیا تو چاہے دوسرے کو علم نہ بھی ہو بیع فسخ ہوجائے گی (یعنی سودا ختم ہو گیا) مثلاً بائع نے "خیارِ قبول" لیا تھا پھر"مَبِیْع" (بیچے گئے سامان) کو اس طرح کر دیا (یا اس طرح استعمال کر لیا)کہ جس طرح مالک (owner)کیا کرتے ہیں(تو "خیارِ قبول" لے لیا اور سودا ختم ہو گیا) مثلاً بیچنے والے نے "خیار ِ قبول "لیا تھا پھر "مَبِیْع" کسی کو تحفے میں دے دی ، یا ()رہن (mortgage) رکھوادی ،یا () اجارہ (کرائے)پر دے دی،یا ()وہ گھر تھا، جسے کسی کو بغیر کرائے رہنے کے لیے دے دیا ، یا () اُس میں نئی تعمیر شروع کر دی، یا () مَرَمَّت (repair)کرا دی ، وغیرہ تو ان سب صورتوں (cases) میں سودا ختم ہو جائے گا چاہے مُدَّت (duration) کے اندر اندر خریدار کو علم نہ ہوا ہو۔
{9} "مَبِیْع"کئی چیزیں ایک ساتھ لیں( مثلاً ایک درجن برتن لیے) ا ور "صاحب خیار" (خیار لینے والا)یہ چاہتا ہے کہ کچھ میں سوداجائز(ok) کرے اور کچھ میں نہیں کرے(مثلاً چھ(6) گلاس لے لے اور چھ(6) نہ لے) یہ نہیں کرسکتا بلکہ یا تو سب لے گا، یا سب چھوڑ دے گا۔
{10}خریدار(buyer) نے " خیار ِ شرط" لیااور اُس نے "مَبِیْع" کا امتحان (test) کرنے کے لیےاسے استعمال کیا اور وہ کام ایسا ہی تھا کہ جو دوسرے کی چیز ، اس طرح چیک کی جاتی ہے تو اس طرح کا کام کرنے سے "خیارِ شرط" ختم نہیں ہوگا۔مثلاً گھوڑے پر ایک مرتبہ بیٹھ کر چلانا، یا کپڑے کو اس لیے پہننا تاکہ یہ دیکھے کہ بدن پر ٹھیک طرح سے آتا ہے یا نہیں تو ان کاموں سے " خیار ِ شرط" ختم نہیں ہوگا۔
()اگر وہ کام ایسا تھا کہ اس کی حاجت (یعنی ضرورت)نہ تھی ،یا وہ کام دوسرے کی چیز میں کرنے کی اجازت ہی نہیں ہوتی تو اس طرح کا کام کرنے سے " خیارِ شرط" ختم ہو جائے گا۔مثلاً گھوڑے پر بار بار بیٹھ کر چلانا، یا دوبارہ کپڑا پہننا تو ان کاموں سے" خیارِ شرط" ختم ہو جائے گا۔ ہاں ! اگر گھوڑے پر ایک مرتبہ بیٹھ کر اس کے وزن اُٹھانے کا امتحان لیا(چیک کیا) اور دوسری مرتبہ اس کی رفتار(speed) کو چیک کیا تو اب بھی "خیارِ شرط" باقی ہے۔
{11} زمین خریدی، خریدار نے "خیارِ شرط" لیا پھر اُس نے کاشت(cultivation)کرنا شروع کر دی تو اس کا "خیارِ شرط" ختم ہوگیا اور سودا پورا ہوگیا()اوربائع(بیچنے والے) نے کاشتکاری شروع کی تو بیع فسخ ہوگئی(یعنی سودا ختم ہوگیا)۔
{12} کوئی گھر "خیارِ شرط" سے خریدا ،اور اُس میں پہلے سے رہتا تھا (مثلاً کرائے دار نے مالک سے وہی گھر خریدنا چاہا کہ جس میں وہ رہا کرتا تھا)تو اسکی (پہلے سے) رہائش (residence)کی وجہ سے"خیارِ شرط" ختم نہ ہوگا۔(بہار شریعت ح۱۱،ص۶۴۷ تا۶۵۶،مسئلہ۶،۸،۱۰،۱۱،۲۲۲۵،۳۸،۴۰،۴۱،مُلخصاً)
{13}(۱)مُؤَکِّل(وکیل بنانے والے،client) نے" وکیل "پر کوئی شرط (precondition) کر دی ہے ("وکالت" ( )۔attorneyship، مثلاًیہ کہہ دیا کہ میں نے تجھے فلاں کام کرنے کا "وکیل" کیا، یا میں یہ چاہتا ہوں کہ تم میری یہ چیز بیچ دو، یا میری خوشی یہ ہے کہ تم یہ کام کردو یہ سب صورتیں(cases)" وکیل" بنانے کی ہیں ) اور وہ شرط پوری طور پر فائدہ مند(beneficial) ہے تو "وکیل"(client worker) کو اُس شرط کو پورا کرنا واجب (اور لازم)ہے۔ مثلاً وکیل بنانے والے نے کہا تھا کہ :اس (تجارت۔trade)کو "خیارِ شرط" کے ساتھ کرنا، مگر وکیل نے بغیر"خیارِ شرط" کے"بیع"(تجارت۔trade) کر دی تو یہ جائز نہیں ہے ()اگر مُؤَکِّل (وکیل بنانے والے)نے کہا تھا کہ میرے لیے اس میں "خیارِ شرط" رکھنا اور وکیل نے"خیارِ شرط" نہیں رکھا ، جب تو" بیع" ہی جائز نہیں ۔ نوٹ: اگر سودے میں مُؤَکِّل کے لیے "خیارِ شرط" رکھا تو، یہ اختیار (option)"وکیل " اور" مُؤَکِّل " دونوں کے لیے ہو گا۔
(۲)اگر مُؤَکِّلنے "مُطلق بیع" کی اجازت دی (یعنی بغیر کسی قید(condition) کے تجارت (trade)
کرنے کا کہا تھا) مگر" وکیل" نے مُؤَکِّل(وکیل بنانے والے) یا کسی تیسرے کے لیے "خیارِ شرط "کر لیا تو یہ "بیع" بھی صحیح ہے
(۳)اگر مُؤَکِّل نے کوئی ایسی شرط (precondition) لگائی جس کا کوئی فائدہ نہیں اس کاکوئی اعتبار(لحاظ) نہیں۔ (بہار شریعت ،ح ۱۲،ص۹۹۲،مُلخصاً)
{14}"مَبِیْع" (یعنی جس چیزکاسوداہوا) خریدار کے پاس تھی اورخریدار نے اُس میں عیب پیداکردیا ( یعنی خراب کردیا)،یا() کسی تیسرے نے"مَبِیْع" میں عیب ڈال دیا(خراب کردیا)، یا()"مَبِیْع" نے خودعیب پیدا کردیا (مثلاً جانور نے چھلانگ لگائی اور ٹانگ ٹوٹ گئی )،یا() آفت سَمَاوی(کسی آسمانی مصیبت مثلاً آسمانی بجلی گرنے) سے عیب پیدا ہوگیا۔ اب اگر "خیارِشرط" خریدار نے لیا تھا تو خریدار کو "ثمن" دینا ہوگا( یعنی طے شدہ قیمت دینی ہوگی) ()اور اگر "خیارِشرط" بیچنے والے کے پاس تھا تو خریدار "قیمت" (market rate) دے گا۔
نوٹ:عیب کا یہ حکم اُس وقت ہے جب وہ عیب ختم نہ ہوسکے۔ مثلاً جانور کی ٹانگ کاٹ دی ()اور اگر ایسا عیب ہو جو دورہوسکتا ہو مثلاً جانور بیمار ہوگیا تو اس کا حکم یہ ہے کہ اگر خریدار"خیارِشرط" کے دنوں میں اس عیب (بیماری) کو دور کردے تو اب کچھ نہیں دے گا ()اگروہ عیب مُدّت(duration) کے اندر ختم نہ ہوا تو "خیارِشرط" کا وقت ختم ہوتے ہی سودا لازم ہو جائے گا(یعنی وہ چیز اب خریدار کی ہوگی)۔
(بہار شریعت ،ح ۱۱،ص۶۵۰،مسئلہ ۱۵،۱۶،مُلخصاً)
{15} جس شخص کے پاس "خیارِشرط" تھا اور وہ"خیارِشرط" کا وقت ختم ہونے سے پہلے ہی فوت ہوگیا تو "خیارِ شرط" ختم ہوگیا ۔یہ نہیں ہوسکتا کہ مرنے والے کے وارثین(یعنی اُس کے مال کے مالک(owner) بننے والوں) کے پاس وہ "خیارِشرط" باقی رہے۔ (بہار شریعت ،ح ۱۱،ص۶۵۳،مسئلہ۲۴،مُلخصاً)
"مَبِیْع" (sold goods)میں جس وصف(خوبی وغیرہ) کی شرط (preconditions)تھی وہ نہیں ہے:
{1} بکری خریدی اس شرط (precondition)کے ساتھ کہ اتنا(مثلاڈیڑہ۔1.5 کلو) دودھ دیتی ہے تو
"بیع فاسد" ( ) (تجارت خراب) ہوگئی اور() اگر یہ شرط کی تھی کہ دودھ زیادہ دیتی ہے تو" بیع فاسد" نہیں۔
{2} ایک مکان خریدا اس شرط پر کہ پکّی اینٹوں (brick house) ( ) سے بنا ہوا ہے وہ کچی اینٹوں (raw brick house) سے بنا ہوا تھا ،یا () باغ خریدااس شرط پرکہ اُس کے سب درخت پھل والے ہیں مگر اُن میں ایک درخت پھل دار نہیں تھا،یا () کپڑا خریدااس شرط پر کہ" کسم "کا رنگا ہوا ہے ("کسم":ایک قسم کا پھول جس سے گہراسرخ رنگ (dark red color)نکلتا ہے اور اس سے کپڑے رنگے( dye کیے) جاتے ہیں) مگر وہ " زعفران " کا رنگا ہوا نکلا("زعفران": ایک قسم کا پھول جس میں لال رنگ کے ریشے(fibers) ہوتے ہیں، ان ریشوں کے رنگ سے کپڑا،
رنگتا( dye ہوتا) ہے)ان سب صورتوں میں " بیع فاسد"ہے۔ (بہار شریعت ح۱۱،ص۶۵۷،مسئلہ۴۵،۴۶،مُلخصاً)
"خیارِ تعیین"(right to settle something according to determination):
{1} چند چیزوں میں سے ایک غیر مُتَعَیَّن (غیرطے شدہ۔un fixed) کو اس طرح خریدا کہ ان میں سے ایک کو خریدتا ہوں تو خریدار اُن میں سے جس ایک کو چاہے مُتَعَیَّن (طے۔fixed) کرلے اس کو "خیارِ تعیین "کہتے ہیں اس کے لیے چند شرطیں (preconditions) ہیں:
(۱) اُن چیزوں میں سے کسی ایک کو خریدے ،یہ نہیں کہ میں نے ان سب کو خریدا(۲) دو(2) یا تین(3) چیزوں میں سے ایک کو خریدے۔ اگر چار(4) میں سے ایک خریدی تو صحیح نہیں (۳)سودے میں یہ بات صاف صاف کر دی گئی ہو کہ ان (چیزوں)میں سے جوتم چاہو لے لو (۴) اس کی مُدَّت (duration)بھی تین (3)دن تک ہونی چاہیے(۵) "خیارِ تعیین " قیمی چیزوں میں ہوگا(یعنی ایسی چیزوں میں ہوگا کہ جن سے ملتی جلتی چیزیں تو بازار میں ہوں، مگر قیمت میں بہت فرق ہوتا ہے) مگر مثلی چیزوں میں نہیں ہوگا(یعنی ایسی چیزوں میں نہ ہو کہ اس طرح کی چیزیں بازار میں ملتی ہیں اور قیمت میں زیادہ فرق نہیں ہوتا، مثلاً انڈا۔egg) ۔
{2}(۱) اگر" خیار ِتعیین" کے ساتھ "خیار ِشرط "بھی رکھا گیا ہو تو اس کی صورت یہ ہوگی کہ پہلے خریدار(تین(3) دن کے اندر)ایک چیز کو طے(fixed) کرلے(" خیار ِتعیین"لے لے) اور اب "خیار ِشرط " کا حکم شروع ہوگیا یعنی اب بھی خریدار کو اختیار (option) ہوگا کہ"خیار ِشرط " کی طے شدہ مُدَّت (duration، زیادہ سے زیادہ تین(3)دن)میں اس سودے کو ختم کرسکتا ہے۔
(۲) "خیار ِتعیین" کے ساتھ "خیار ِشرط "بھی رکھا تھا،لیکن اب تک چیز ہی طے نہ کی تھی اور مُدَّت (duration) بھی ختم ہوگئی تو اب سودا لازم ہو گیااور خریدارپر لازم ہوگا کہ "مَبِیْع"(جسے خریدنا ہے، اُسے)طے کرلے۔
(۲) "خیار ِتعیین" کے ساتھ "خیار ِشرط "بھی رکھا تھا،لیکن اب تک چیز ہی طے نہ کی تھی اور مُدَّت (duration) بھی ختم ہوگئی تو اب سودا لازم ہو گیااور خریدارپر لازم ہوگا کہ "مَبِیْع"(جسے خریدنا ہے، اُسے)طے کرلے۔
(۲) بائع" خیار ِتعیین" میں وہ چیز دے رہا ہے کہ جس میں عیب(defect) ہے لیکن خریدار لینے پر راضی (agree) ہے تو بھی سودا مکمل ہو جائے گا، اور() اگر اس صورت(case) میں خریدار ، راضی نہیں ہے تو بیچنے والا عیب دار(defective)چیز لینے پر زبردستی نہیں کر سکتا بلکہ اب وہ کوئی دوسری چیز لینے کا بھی پابند (bound) نہیں کر سکتا۔
{4} دو چیزوں پر "خیارِ تعیین " تھا مگربائع(بیچنے والے) کے پاس دونوں چیزیں ہلاک (waste)ہوگئیں تو" بیع باطل "ہوگئی (یعنی سودا مکمل طور پر ہی ختم ہوگیا) اور() ایک چیز ہلاک ہوئی مگر دوسری باقی ہے تو جو باقی ہے وہ ہی "بیع "کے لیے مُتَعَیَّن (طے۔fixed) ہوگئی یعنی بائع اس چیز کا لینا خریدار(buyer) پر لازم کرسکتا ہے۔
{5} دو چیزوں پر "خیارِ تعیین " تھا ، خریدارنے دونوں پر قبضہ کرلیا ہے(مثلاً دونوں ہاتھ میں لے لیں) پھر ان
سے ایک چیزہلاک ہوگئی اور دوسری باقی ہے، تو جو ہلاک (waste) ہوئی وہ بیع کے لیے مُتَعَیَّن (طے۔ fixed) ہوگئی ( یعنی جو ہلاک ہوئی وہ خریدار کی تھی)اور جو باقی ہے وہ (خریدار کے ہاتھ میں بیچنے والے کی ) امانت ہے۔
{6}(۱) "خیارِ تعیین " کے ساتھ بیع ہوئی اور ابھی تک دونوں چیزیں بائع(بیچنے والے) ہی کے قبضہ میں(اُسکے پاس) تھیں کہ اُن میں سے ایک میں عیب(defect) پیدا ہوگیا، اب خریدار کو اختیار(option) ہے کہ عیب والی (defective) طے شدہ رقم(decided price) سے لے لے، یا ()دوسری لے لے ،یا ()کسی کو نہ لے۔
(۲) دونوں میں عیب(defect) پیدا ہوگیا تب بھی یہی حکم ہے(چاہے تو کوئی ایک طے شدہ رقم میں لے لے یا سودا ختم کر دے)۔
(۳)اور اگر خریدارقبضہ کرچکا ہے(مثلاً ہاتھ میں لے لیا ہے) اور اُن دونوں چیزوں میں سے ایک عیب دار (defective) ہوگئی تو وہی " بیع" کے لیے مُتَعَیَّن (طے۔fixed) ہے (یعنی وہ خریدار کی ہوگئی)اور دوسری (بیچنے والے کی ہے اور خریدار کے پاس)امانت ہے۔
(۴) اگر دونوں عیب دار(defective) ہوگئیں تو اس کی دو(2) صورتیں ہیں: (a)ان دونوں میں عیب (defect) آگے پیچھے (یعنی پہلے ایک میں عیب ہوا پھر دوسری میں) ہوا تو جس میں پہلے عیب (defect)پیدا ہوا وہ "بیع" کے لیے مُتَعَیَّن (طے۔fixed) ہے (یعنی وہ خریدار کی ہوگئی)اور(b) ایک ساتھ دونوں میں عیب(defect) پیدا ہوا تو ابھی کوئی مُتَعَیَّن (طے۔fixed) نہیں، خریدارجس ایک کو چاہے مُتَعَیَّن (طے ۔fixed ) کرلے(وہ چیزاُس کی ہوگئی) لیکن دونوں کو رد(cancel) کرنا چاہے تو نہیں کرسکتا(یعنی اب سودا ختم نہیں کر سکتا)۔
{7} دو کپڑوں میں "خیارِ تعیین " تھا اور ابھی خریدار نے کسی کو طے نہیں کیا تھا مگر ایک کپڑے کو رنگ( dye کر) دیا تویہی طے(fixed) ہوگیا۔(بہار شریعت ح۱۱،ص۶۵۷ تا ۶۵۹،مسئلہ۴۷،۴۸،۵۰،۵۱،۵۲،۵۳،۵۴،۵۵،۵۹،۶۰،مُلخصاً)
خریدار نے قیمت(price) طے کر لی پھر خودی قبضہ کر لیا(take possession):
{1} خریدار (buyer) نے کسی چیز کا بھاؤ اور "ثمن"(یعنی پیسے) طے کرلیے، مگر ابھی خریدوفروخت نہیں ہوئی (یعنی بیچنے والے نے اُسے یہ چیز نہیں دی تھی) لیکن خریدار نے اُس چیز پر قبضہ کرلیا(مثلاً وہ لے گیا) تو یہ چیز خریدار کے ضمان میں ہے ،ہلاک (waste) ہو گئی تو اس کا تاوان(fine) دینا ہوگا اور یہ تاوان اُس چیزکی واجبی قیمت (market rate) جتنا ہوگا، چاہے یہ واجبی قیمت(market rate) اُتنی ہی ہو جتنا "ثمن"( پہلے پیسوں کو) طے کیا تھا، یا اُس ("ثمن")سے زیادہ یا کم ہو۔
{2}پیسے طے کرکے چیز کولے جانے سے تاوان اُس وقت لازم آتا ہے جب اُس کو خریدنے کے ارادہ سے لے گیا اور ہلاک ہوگئی ورنہ نہیں۔ مثلاً دُکاندار نے گاہک سے کہا یہ لے جاؤ تمہارے لیے دس(10) روپے کاہے، تو خریدار نے کہا: لاؤ اس کو دیکھوں گا !یا، فلاں شخص کو دکھاؤں گا !،یہ کہہ کر لے گیااور وہ چیز ہلاک (waste) ہوگئی تو تاوان (fine)نہیں کیونکہ یہ چیز ابھی امانت تھی (اور امانت اپنی کوتاہی(fault) کے بغیر ضائع (waste) ہو جائے تو اس کا تاوان(fine)نہیں ہوتا)۔
{3} دُکاندار سے تھان مانگ کر لے گیا کہ اگر پسند ہواتو خرید لوں گااور اُس کے پاس ہلاک ہوگیا تو تاوان نہیں اور() اگر یہ کہہ کرلے گیا کہ پسند ہوگا تو دس(10) روپے میں خرید لوں گا وہ ہلاک ہوگیا تو تاوان دینا ہوگا۔ دونوں باتوں میں فرق یہ ہے کہ پہلی صورت(case) میں چونکہ "ثمن"(مثلاً پیسے) نہیں بتائے تھے تو یہ قبضہ (ہاتھ میں لینا) خریداری کی وجہ سے نہیں ہوااوردوسری صورت میں پیسے بتادیے تھے لہٰذا اب یہ لینا خریدار ی کے طور پر تھا(لہذا ضائع ہونے پر تاوان ہے)۔(بہار شریعت ح۱۱،ص۶۵۹تا ۶۶۰، مسئلہ ۵۵،۵۹،۶۰،مُلخصاً)
"خیارِ رؤیَت "کا بیان(right to terminate the transaction upon seeing the item): {1} کبھی ایسا ہوتا ہے کہ چیز کو دیکھے بھالے بغیر خرید لیتے ہیں اور دیکھنے کے بعد وہ چیز نا پسند(dislike)ہوتی ہے۔ شریعت(دینِ اسلام) نے خریدار کو یہ اختیار (option)دیا ہے کہ اگر دیکھنے کے بعد چیز کونہ لینا چاہے تو "بیع" کو" فسخ "( یعنی سودے کو ختم)کرد ے، اس کو" خیارِ رؤیَت" کہتے ہیں۔
{2}حدیثِ پاک میں ہے: جس نے ایسی چیز خریدی جس کو دیکھا نہ ہو تو دیکھنے کے بعداُسے اختیار(option) ہےلے لے یا چھوڑ دے۔(سنن الدارقطنی،کتاب البیوع، الحدیث:۲۷۷۷، ج۳،ص۵)
{3} بائع(بیچنے والے) نے ایسی چیز بیچی جس کو اُس نے دیکھا نہیں مثلاً اُس کو وراثت (یعنی کسی کے انتقال کے بعد ملنے والےمال)میں سے کوئی چیز ملی ہے اور اس نے بغیر دیکھے ہی بیچ ڈالی، تب بھی " بیع"(سودا) صحیح ہے ۔ اب اس (بیچنے والے)کو یہ اختیار(option) بھی نہیں کہ دیکھنے کے بعد سودے کو ختم کردے۔
{4} جس مجلس (جگہ)میں سودا ہوا، وہاں"مَبِیْع"(بیچا گیا سامان)موجود تھا، مگر خریدار نے دیکھا نہ تھا، مثلاً کنستر (تیل کی پیٹیوں)میں گھی یا تیل تھا ،یا() بوریوں میں غلّہ(اناج، جیسے : گندم۔wheat) تھا، یا () گٹھری میں کپڑا تھا (یعنی سوٹ وغیرہ کو کسی کپڑے کے اندر باندھ کر رکھا تھا)اور کھول کر دیکھنے کی صورت نہ بنی ، یا ()وہاں "مَبِیْع" ہی موجود نہ تھی ، اس وجہ سے نہیں دیکھی۔ بہر حال تمام صورتوں میں دیکھنے کے بعد خریدار کو" خیارِ رؤیَت" حاصل ہے، یعنی جب دیکھ لے تو چاہے سودےکو جائز(ok) کرے یا ختم کردے۔ نوٹ: "مَبِیْع" کو بائع (بیچنے والے) نے جیسا بتایا تھا، دیکھنے کے بعد وہ("مَبِیْع") ویسی ہی نکلی،یا ()اُس طرح کی نہ ہو،دونوں صورتوں (cases)میں دیکھنے کے بعد سودا ختم کرسکتا ہے۔
{5} اگر خریدار(buyer) نے دیکھنے سے پہلے کہہ دیا کہ میں نے اپنا " خیارِ رؤیَت" ختم کردیا، تب بھی دیکھنے کے بعدسودا ختم کرنے کا حق (right)باقی رہے گا، کیونکہ " خیارِ رؤیَت" کا حق(right) تو دیکھنے ہی کے وقت ملتا ہے ،دیکھنے سے پہلے" خیارِ رؤیَت" تھاہی نہیں لہذ ا پہلے سے اسے ختم کرنے کا کوئی اعتبار (لحاظ)نہیں ہوگا۔
{6} " خیارِ رؤیَت" کے لیے کسی وقت کی حدّ(limit) نہیں، کہ طے شدہ وقت(decided duration) کے گزرنے کے بعد" خیارِ رؤیَت" باقی نہ رہے، بلکہ یہ اختیار(option) دیکھنے پر ہے جب دیکھے(چاہے کچھ دن بعد دیکھے) اور () دیکھنے کے بعد "فسخ "(یعنی سودا ختم کرنے )کاحق(right) اُس وقت تک باقی رہتا ہے، جب تک صراحۃً(صاف صاف لفظوں میں)یا دلالۃً(اشارۃً) رضا مندی (یعنی سودا قبول (accept) کرنے کی خوشی)نہ پائی جائے۔
{7} کوئی چیز دیکھے بغیر خریدی تو اب دیکھنے سے پہلے بھی خریدار سودا ختم کر سکتا ہے کیونکہ ابھی تک یہ سودا پورا ہوا ہی نہیں تھا اور اس سودے کو پورا کرنا خریدار کے ہاتھ میں تھا۔
{8}" خیارِ رؤیَت" کی وجہ سے،سودا ختم کرنےمیں بائع(خریدار) کی رضا مندی(agreeہونا) ضروری نہیں۔
{9} " خیارِ رؤیَت" کی وجہ سے سودا ختم کرنے میں یہ شرط (precondition)ہے کہ بائع(بیچنے والے) کو سودا ختم ہونے کا علم ہوجائے کیونکہ اگرایسا نہ ہوا تووہ یہی سمجھتا رہے گاکہ سودا ہوگیااور وہ اُس چیز کو بیچنے کے لیےدوسرا گاہک نہیں ڈھونڈے گااور یہ بیچنے والا کا نقصان ہے۔
{10} اگر خریدار (buyer) نے"مَبِیْع"پر قبضہ کرلیا (مثلاً ہاتھ میں لے لیا)اور دیکھنے کے بعد صراحۃً(یعنی صاف صاف لفظوں میں)یا دلالۃً(اشارۃً)اپنی رضا مندی(سودا خریدنے کی خوشی) ظاہر کر دی، یا ()اُس میں کوئی عیب (defect) پیدا ہوگیا ،یا ()کوئی ایسا کام کیا کہ جو چیز کا مالک(owner) ہی کر سکتا ہے، (مثلاً گھر لیا تھا اور کرائے پر دے دیا، یا کسی اور کو وہ چیز بیچ دی، یا) رہن(mortgage) رکھوادی تو ان سب صورتوں (cases) میں " خیارِ رؤیَت" ختم ہو گیا اور اب" بیع"(تجارت۔trade) کو ختم نہیں کرسکتا ۔
{11}" خیارِ رؤیَت"حا صل تھاپھر"مَبِیْع" دیکھ لی اب() اُس چیز کو " خیار شرط " کے ساتھ بیچا، یا ()بیچنے کے لیے قیمت لگائی ، یا() تحفہ دیا مگر قبضہ( یعنی ہاتھ میں) نہیں دیا تب بھی یہ دلالۃً(اشارۃً)رضا مندی ہے اور سودا مکمل ہو گیا یعنی اب خریدار سودا ختم نہیں کر سکتا۔نوٹ: دیکھنے کے بعد "مَبِیْع" پر قبضہ کرلینا بھی رضا مندی (agreeہونا)ہے () یاد رہے کہیہ سب کام "مَبِیْع" دیکھنے سے پہلے ہوئے تو " خیارِ رؤیَت" باقی ہے ۔
{12} (۱)بے دیکھے ہوئے کھیت (farm)خریدا ،اور اُس کو عاریت (یعنی عارضی طور پر کسی کو)دے دیا، اُس مُسْتَعِیر (یعنی جس نے عارضی طور پر لیا، اُس)نے اُس کھیت میں بیج( seed)بویا( plantکیا) تو خریدار کا " خیارِ رؤیَت" ختم ہوگیا۔
(۲) اگر عارضی طور پر لینے والے نے اب تک کچھ نہ بویا( plant نہ کیا) تو خریدار کا" خیارِ رؤیَت" ختم نہیں ہوا۔ (۳) اگر اُس کھیت (farm) میں کا شتکاری(farming) کرنے کے لیے اجیر(نوکر،employee) ہے جس نے خریدارکی خوشی سے کاشت (farming)کی یعنی خریدار نے اُس کام کرنے والے کو منع نہ کیا تو " خیارِ رؤیَت" ختم ہوگیا ۔
{13} کپڑوں کی ایک گٹھری خریدی (یعنی کسی کپڑے میں بندھے ہوئے کپڑے خریدے)،اُن میں سے ایک کو بھی پہن لیا تو " خیارِ رؤیَت" ختم ہوگیا۔
{14} ایک تھان دیکھا تھا، باقی نہیں دیکھے تھے اور سب خرید لیے تو" خیارِ رؤیَت" ہے، مگر واپس کرنا چاہے تو سب واپس کرے۔
{15} خریدار (buyer) کی طرف سے جب تک" خیارِ رؤیَت" ختم نہ ہوا، اُس وقت تک بیچنے والا "ثمن" (مثلاً پیسوں ) کا مطالبہ(demand)نہیں کرسکتا۔
{16}(۱) دو آدمیوں نے مل کر ایک چیز خریدی، دونوں نے اُسے نہیں دیکھا تھا بعد میں صرف ایک نے دیکھ کر رضا مندی ظاہر کردی (یعنی وہ چیز okکر دی) تو اب دوسرا شخص واپس کرنا چاہے تو وہ اکیلا(alone) واپس نہیں کرسکتا ۔ہاں!دونوں اتّفاق سے(agree ہو کر) واپس کرنا چاہیں تو واپس کرسکتے ہیں۔ یاد رہے کہ صرف ایک کے دیکھ کر راضی(agree) ہونے سے سودا مکمل نہیں ہوگا یا دوسرے کو بھی راضی کرنا ہوگا یا پوری "مَبِیْع" واپس کرنی ہوگی۔
(۲) ایک نے دیکھا مگر خریدنے کی بات نہ کی، اب دوسرے نے دیکھا اور واپس کرنا چاہتا ہے تب بھی یہ اکیلا اُس چیز کو واپس نہیں کر سکتا۔ اس چیز کی واپسی کے لیے بھی دونوں کا اتّفاق(agree ہو نا) ضروری ہے۔
(بہار شریعت ح۱۱،ص۶۶۲تا ۶۶۷،مسئلہ۱،۲،۳،۴،۸،۹،۱۲،۱۴،۱۵،۲۱،۲۲،۲۳،۲۷،مُلخصاً)
{17} نابینا(یعنی اندھے )کاخریدوفروخت کرنا جائز ہے() اگر کسی چیز کو بیچے گا تو اب " خیارِ رؤیَت" حاصل نہ ہوگا اور خریدے گاتو " خیارِ رؤیَت" حاصل ہوگا ۔
() "مَبِیْع"(خریدی جانے والی چیز) کو اُلٹ پلٹ کر ٹٹولنا(یعنی ہاتھ سے پکڑ کرچیک کرنا)،دیکھنے کے حکم میں ہے یعنی نابینا(اندھے ) نے ٹٹولا(ہاتھ سے پکڑ کر چیک کیا ) اورپسند کرلیا تو " خیارِ رؤیَت" باقی نہ رہا۔
()کھانے کی چیز کا چکھنا (tasteکرنا)اور سونگھنے کی چیز کا سونگھنا(smellکرنا) کافی (enough)ہے۔
() جو چیز نہ توٹٹولنے سے معلوم ہو اورنہ ہی چکھنے اور سونگھنے سے جانی جاسکے(جیسے زمین ،مکان، درخت وغیرہ ) ، اگر ایسی چیز کے اوصاف ( مثلاًخوبیاں، خامیاں)بتا کر خریدا ہو اور وہ چیز ویسی ہی نکلی ، جیسی بتائی گئی تھی تو اب یہ سودا ختم نہیں ہو سکتا۔ (بہار شریعت ح۱۱،ص۶۷۰،مسئلہ۴۳،مُلخصاً)
"مَبِیْع"(sold goods)میں کیاچیزدیکھی جائے گی:
{1} کھانے کی چیز ہو تو چکھنا ،(taste کرنا)کافی(enough) ہے اور سونگھنے کی ہو تو سونگھنا (smellکرنا) چاہیے ۔ جیسے: عطر، خوشبودار تیل۔
{2}(۱)" عَدَدِی مُتَقَارِب " (جو چیز گنتی سے بکتی ہےلیکن اس کے افراد(individuals) کی قیمتوں میں فرق نہیں ہوتا) مثلاً انڈے، ان میں بعض کا دیکھ لینا کافی (enough)ہے جبکہ باقی اس سے خراب اورکم درجے (low value) کے نہ ہوں۔
(۲) جو چیزیں زمین کے اندر کی پیداوار (production) ہوں اور وہ وزن سے بکتی ہوں، جیسے لہسن(garlic)، پیاز(onion)، گاجر، آلو،وغیرہ،ان چیزوں میں زمین کھود کر تھوڑا سے دیکھنا ، "بیع"(تجارت۔trade) کے لیےکافی (enough)ہے لیکن باقی اس سے کم درجے (low value)کی نہ ہوں(مثلاً تھوڑی سی گاجریں دیکھیں اور باقی بھی اُسی طرح کی ہوں تو ٹھیک ہے) جبکہ بائع نے خود کھود کردکھا یا ہو، یا خریدار نے بیچنے والے کی اجازت سے کھودا ہو۔
(۳) اگر وہ زمینی پیداوار، گنتی(counting) سے بکتی ہوتو کچھ افراد(individuals some) کا دیکھنا کافی (enough)نہیں، چاہے باقی اس سے کم درجے (low value)کی نہ ہوں ، چاہےبیچنے والے نے خود کھودی ہو یا خریدار نے بائع کی اجازت سے کھودی ہو۔
{3}(۱) شیشی میں تیل تھا اور شیشی کو دیکھا تو یہ حقیقتہً(relity) تیل کا دیکھنا نہیں کہ شیشے کی رُکاوٹ موجود ہے۔
(۲) آئینہ دیکھ رہا ہے اور "مَبِیْع" کی شکل اُس میں نظر آرہی ہے تو یہ بھی "مَبِیْع"کودیکھنا نہیں ہے۔
(۳) مچھلی پانی میں ہے جو آرام سے پکڑی جاسکتی ہے، اُس کو خریدااور پانی ہی میں اُسے دیکھ بھی لیا تو کچھ عُلَمائے کِرام فرماتے ہیں کہ:"خیاررویت" باقی ہے کیونکہ پانی میں اصلی حالت معلوم نہیں ہوتی، مچھلی جتنی ہے اُس سے بڑی لگتی ہے۔
{4}(۱)خریدار(جس نے" وکیل" بنایا،client)نے کسی کو قبضے کے لیے "وکیل"(client worker) بنایا (یعنی یہ کہا کہ وہ سامان لے کر آجاؤ) تو سودا مکمل ہونے کے لیے،اس شخص کا"مَبِیْع" کو دیکھنا کافی (enough) ہے یعنی اگر اس شخص نے سامان دیکھ کر پسند کر لیا تو سودا مکمل ہوگیا، اب نہ تو وہ شخص(client worker) سودا ختم کر سکتا ہے اور نہ ہی بھیجنے والا (client)،جبکہ قبضہ کرتے( مثلاًہاتھ میں لیتے) وقت "وکیل"(جسے خریدار نے بھیجا تھا) نے "مَبِیْع" کو دیکھا ہو۔
(۲) اگر قبضہ کرتے وقت "مَبِیْع" ( وہ چیز) چھپی ہوئی تھی ، تو خریدار کا " خیارِ رؤیَت" باقی رہے گا چاہے راستے میں "وکیل" نے کھول کر دیکھ لیا ہو کیونکہ وکیل(client worker) کو قبضہ کرنے( یعنی ہاتھ میں لینے )کا کام دیا تھا اور وہ کام مکمل ہو گیا لہذا اسے دیکھنے کا حق(right) باقی ہی نہ رہا۔
{5}اگر خریدارنے ، خریدنے کا وکیل کیا ہے، تو" وکیل" کا دیکھناکافی(enough) ہے یعنی "وکیل" نے دیکھ کر پسند کرلیا، یا ()خریدنے سے پہلے" وکیل" نے دیکھ لیا تھا تو اب نہ "وکیل"(client worker) سودا ختم کرسکتا ہے نہ ہی مُؤَکِّل (client)۔نوٹ:یہ مسئلہ اُس صورت(case) میں ہے کہ غیر مُتَعَیَّن (غیرطے شدہ ۔un fixed) چیز (مثلاً ایک گائے)کے خریدنے کا وکیل کیا ہو۔اور اگر مُؤَکِّل (client)نے خریدنے کے لیے چیز کو مُتَعَیَّن (طے۔fixed) کردیا ہوکہ مثلاًفلاں چیز، فلاں گائے یا فلاں بکری لے آؤ تو "وکیل" کو " خیارِ رؤیَت" حاصل نہیں۔
{6} کسی مُتَعَیَّن (طے۔fixed) چیزکی ، کسی مُتَعَیَّن (طے۔fixed) چیز سے "بیع"(خرید و فروخت) ہوئی مثلاً کتاب کو کپڑے کے بدلے میں بیچا تو ایسی صورت (case)میں بیچنے والا اور خریدار( دونوں ہی ) کو" خیارِ رؤیَت"حاصل ہے کیونکہ یہاں دونوں خریدار بھی ہوتے ہیں۔
(بہار شریعت ح۱۱،ص۶۶۷تا ۶۷۲،مسئلہ۳۶،۳۷،۳۸،۳۹،۴۰،۴۵،مُلخصاً)
"خیارِ عیب" کا بیان(termination of transaction due to defect):
{1} شریعت(دینِ اسلام) میں "تجارتی عیب" (trade defect) وہ ہوتا ہے کہ جس کی وجہ سے "مَبِیْع" (خریدے گئے سامان) کو واپس کرسکتے ہیں یعنی "عیب" (defect)وہ چیز کہ جس کی وجہ سے تاجروں (traders) کی نظر میں مال (سامان) کی قیمت (price)کم ہوجائے۔
{2}"خیارِعیب"، خریدار(buyer) کو حاصل وہ اختیار(option) ہے کہ جس کی وجہ سے وہ سودا ختم کر سکتا ہے۔
{2}خیارِعیب کے شرائط: خیار عیب کے لیے یہ شرط (precondition)ہے کہ:
(۱) "مَبِیْع"میں وہ عیب (defect)، سودا کرتے ہوئے موجود ہو،یا () سودے کے بعد مگر خریدار کے قبضے (مثلاً ہاتھ میں آنے )سے پہلے عیب (defect)پیدا ہو گیا ہو(تو اب خریدار عیب کی وجہ سے سودا ختم کرسکتا ہے) () خریدارکے قبضہ کرنے کے بعد جو عیب (defect)پیدا ہوا اُس کی وجہ سے "خیارِ عیب" حاصل نہیں ہوگا۔
(۲) پہلے سے جو عیب ہو، خریدار کےقبضہ کرنے کے بعد بھی وہ عیب (defect)باقی رہے۔ اگر خریدار کے پاس وہ عیب (defect) نہ رہا تب بھی "خیارِ عیب" نہ ہوگا۔
(۳) خریدار کو سودا کرتے ہوئے، یا قبضہ کرتے ہوئے اُس عیب (defect) کی معلومات نہ ہوں۔عیب معلوم ہونے پر خریدا ،یا قبضہ کیا تو اب "خیارِ عیب" نہیں رہے گا۔
(۴) اگر بیچنے والے نے پہلے سے بول دیا تھا کہ میں اس چیزکے کسی بھی عیب (defect) کا ذمہ دار (responsible) نہیں تو اب "خیارِ عیب" نہ ہوگا۔
{3} گائے، بھینس(buffalo)، بکری دودھ نہیں دیتی یا اپنا دودھ خو دپی جاتی ہے ،یہ عیب (defect)ہے ()جانور کا کم کھانا بھی عیب (defect)ہے() بیل کام کے وقت سو جاتا ہے یہ عیب (defect)ہے () گدھا خریدا، وہ سُست چلتا (lazy) ہے تو واپس نہیں کرسکتا۔ ہاں! اگر تیز رفتاری (speedy)کی شرط (precondition) کرلی ہو پھر بھی تیز نہ چلتا ہو تو اب خریدار (buyer) کو"خیارِ عیب" حاصل ہے، بیچنے والے کو واپس کر سکتا ہے()گدھے کا نہ بولنا عیب(defect) ہے()مُرغ خریدا جو بےوقت بولتا ہے، واپس کرسکتا ہے۔
{4} (۱)بکری خریدی ،دیکھا تو اُس کے کان کٹے ہوئے ہیں، یہ عیب(defect) ہے() قربانی کے لیے کوئی جانور خریدا جس کے کان کٹے ہوئے ہیں یا اُس میں کوئی ایسا عیب(defect) ہے کہ جس کی وجہ سے قربانی نہیں ہوسکتی ،اُسے واپس کرسکتا ہے
(۲)اگر قربانی کے لیے نہ خریداہو تو واپس نہیں کرسکتا۔ اگر جانور میں ایسی بات ہو کہ جسے عُرف (عادت)میں عیب (defect) کہتے ہیں تو اب اُس بات کی وجہ سے جانور واپس کر سکتے ہیں() اگر خریدنے اور بیچنے والے میں اختلاف(clash) ہو جائے، خریدار کہتا ہے کہ میں نے قربانی کے لیے خریدا تھا اوربائع (بیچنے والا) کہتا ہے: نہیں ، بلکہ تم نے گوشت کے لیے خریدا تھا۔اب اگر یہ بات ، اُس وقت کی ہے کہ جس میں قر بانی کی جاتی ہے اور خریدار کو بھی قربانی کرنی ہوتی ہے تو خریدارکی بات مانی جائے گی۔
{5} گائے یا بکری نجاست کھاتی ہے اور یہ اُ س کی عادت ہے توعیب (defect)ہے اور اگر ہفتہ میں ایک، دو بار ایسا ہوا توعیب نہیں۔ کوئی جانور مکھی کھاتا ہے اگر کبھی کبھی ایسا ہوتا ہو تو عیب(defect) نہیں اور اکثر کھاتا ہو تو عیب(defect) ہے۔
{6} ناپاک کپڑا خریدا مگر خریدار کو اس (کپڑے) کےناپاک ہونے کا معلوم نہ تھا، اب معلوم ہوااگراس قسم کا کپڑا ہے کہ دھونے سے خراب نہیں ہوگا تو واپس نہیں کرسکتا اور () اگر کپڑا ایسا ہے کہ دھونے سے خراب ہوجائے گاتو واپس کرسکتا ہے() اگر کپڑے پر تیل کی چکنائی(oil grease) لگی ہوئی نکلی تو اسے واپس کرسکتا ہے۔
{7} مکان یا زمین خریدی لوگ اُسے" منحوس "کہتے ہیں(مثلاً اس جگہ پر جادو ہے، نقصان ہو جائے گا) تو واپس کرسکتا ہے کیونکہ اگر چہ اس قسم کے خیالات کا اعتبار (لحاظ)نہیں ہوتا مگر بیچناچاہے گا(like to sell) تو اس کے لینے والے نہیں ملیں گے اور یہ ایک عیب (defect)ہے۔
{8} پھل یا سبزی کی ٹوکری خریدی اُس میں نیچے گھاس بھر ی ہوئی نکلی واپس کرسکتا ہے۔
{9} مکان خریدا جس کےپرنالے (چھت سے بارش وغیرہ کا پانی گرنے کا پائپ، جس سے چھت کا پانی نیچے آتا ہے) کا پانی دوسرے کے مکان میں گرتا ہے یا اس کی(گٹر کی) نالی دوسرے کے گھر سے گزرتی ہے اور معلوم ہوا کہ یہ اس گھر کا حق (right، یعنی راستہ)نہیں ہے مگر خریداری کے وقت اس بات کا علم نہیں تھاتو اب واپس کرسکتا ہے، یا ()اس کی وجہ سے جو کچھ قیمت میں کمی پیدا ہو(جو خریدار کو خرچہ کر کے صحیح کرنا پڑے گا)وہ(پیسے) بائع (گھر بیچنے والے)سے واپس لے سکتاہے( )۔
{10} قرآن مجید یا کتاب خریدی اور اُس کے اندر بعض بعض جگہ الفاظ لکھنے سے رہ گئے ہیں واپس کرسکتا ہے۔(بہار شریعت ح۱۱،ص ۶۸۱ تا۶۷۳،مسئلہ۵،۲۶،۲۷،۲۸،۳۲،۳۴،۳۶،۳۷،۳۸،مُلخصاً)
موانع رد( ایسی رُکاوٹیں کہ جن کی وجہ سے عیب والی (defected)چیز واپس نہ ہوسکے) اور نقصان واپس لینا:
{1}خریداری کے بعد عیب(defect) معلوم ہوگیا پھر خریدار (buyer) نے "مَبِیْع"میں ایسی تبدیلی (changes) کی کہ جو صرف مالک(owner) کر سکتا ہےتو اب اسے واپس کرنے کا حق (right) ختم ہوگیا۔
()بیمار جانور خریدا پھر اُس کا علاج کیا ،یا ()اپنے کام کے لیے اُ س پرسوارہوا(اُس پر بیٹھ کرکہیں گیا) تو اب وہ جانور واپس نہیں کر سکتا،اور() اگر بیچنے والے نے پہلے ہی بیماری کا بتا دیا تھا پھر بھی خرید لیا ، تو اس بیماری کی وجہ سے جانور واپس نہیں کر سکتا۔ ہاں! بعد میں دوسری بیماری کا بھی پتا چلا تو اب جانور واپس کر سکتا ہے۔
{2} جانور واپس کرنے کے لیے، اُسی جانور پر سوار ہوا(بیٹھا) ، یا ()اُسی جانور کو پانی پلانے لے گیا ،یا () اُسی کاچارہ(اس کے کھانے کا سامان) خریدنے گیا تواگر اس جانور پر بیٹھ کر جانامجبوری تھی تو یہ عیب(defect) پر رضا مندی (agreeہونا)نہیں ()اگر جانور پر سواری کے بغیر بھی یہ کام ہوسکتے تھے مگر پھر بھی سواری کی تو یہ
عیب پر رضا مندی ہے اور اب یہ جانور واپس نہیں کر سکتا۔
()عیب(defect) معلوم ہونے کے بعد خریدے ہوئے مکان میں رہائش (reside) کرنا، یا() اُس کی مَرَمَّت (repairing) کرانا یا ،()اُس کو ڈھانا(یعنی عمارت گرادینا، دوبارہ تعمیر کے لیے توڑ دینا)، یہ سب وہ کام ہیں کہ ان کے بعداب گھر واپس نہیں کرسکتا۔
{3} خریدار نے "مَبِیْع"کو بیچ دیا،یا () تحفے میں دے دیا اور اس کے بعد عیب(defect) معلوم ہوا تو اب نہ ہی واپس کرسکتا ہے اور نہ ہی نقصان ( عیب کی وجہ سے ہونے والی کمی کی رقم)لے سکتا ہے۔
{4}(۱) بکری یا گائے خریدی اُ سکا دودھ نکال کر استعمال کیا پھر عیب(defect) معلوم ہوا تو واپس نہیں کرسکتا لیکن نقصان ( عیب کی وجہ سے ہونے والی کمی کی رقم)لے سکتا ہے۔
(۲) گائے ،بکری کوبچے کے ساتھ خریدااور عیب(defect) معلوم ہونے کے بعد بچہ نے دودھ پی لیا تب بھی واپس کرسکتا ہے، چاہے بچہ نے دودھ خود ہی پیا ہو، یا خریدار نے اُس بچے کو چھوڑاتھا کہ وہ دودھ پی لے(تب بھی واپس کر سکتا ہے) () اگر خریدار نے خود دودھ نکالا چاہے اپنے لیے ، یا اُس بچہ کو پلانے کے لیے تو اب وہ جانور بائع (بیچنے والے )کو واپس نہیں دے سکتا کیونکہ عیب(defect) معلوم ہو جانے کے بعد، جانور سے دودھ نکالنا، عیب پر راضی(agree) ہونے کی دلیل (ثبوت۔ evidence)ہے۔
{5}(۱) غلّہ(اناج مثلاً گندم۔wheat) خریدا اُس میں سے کچھ کھالیا ،یا() بیچ دیا پھر عیب(defect) معلوم ہوا توجو کھا چکا ہے اُس کا نقصان ( عیب کی وجہ سے ہونے والی کمی کی رقم)لے لے اور باقی کو واپس کرسکتا ہے۔ہاں! جو بیچ چکا ہے اُ س کانقصا ن نہیں لے سکتا۔
(۲)آٹا خریدااُس میں سے کچھ گوندھ (پانی ڈال)کر روٹی پکائی معلوم ہوا کہ کڑوا ہے جوپکا چکا ہے اُس کا نقصان ( عیب کی وجہ سے ہونے والی کمی کی رقم)لے سکتا ہے اور باقی کو واپس کرسکتا ہے۔
{6} کپڑا خریدا اُسے کٹوایا لیکن ابھی سِلوایانہیں، اُس میں عیب(defect) معلوم ہوااُسے واپس نہیں کرسکتا بلکہ نقصان لے سکتا ہے ۔ہاں !اگر بیچنے والا،کٹا ہوا کپڑا واپس لینے پر راضی (agree) ہو جائے تو اب نقصان نہیں لے سکتا ()اگر کاٹنےکے بعدسِلابھی لیا اور عیب (defect)معلوم ہواتو نقصان لے سکتا ہے ۔ دوسری طرف بائع(بیچنے والا) یہ کہے کہ :" نقصان لینے کی جگہ سلا ہوا ہی مجھے واپس کر دو "تو واپس نہیں لے سکتا۔
{7} جو چیز ایسی ہو کہ اُس کی واپسی میں مزدوری (wage)خرچ کرنی پڑے گی تو جہاں سودا ہوا ہے وہاں پہنچانا خریدار کی ذمہ داری (responsibility)ہے یعنی مزدوری (wage) وغیرہ خریدار کو دینی پڑے گی۔
{8} "مَبِیْع"میں کچھ زیادتی کردی مثلاً کپڑے کو سی دیا(stich کیا) ،یا () رنگ( dye کر) دیا، یا() (اناج مثلاً گندم (wheat) یا جو(barley) کو پیس کر(grindکرکے) بُھوننے(roastکرنے) سے)"ستو" (بنایا اور اس)میں گھی، شکر(sugar) وغیرہ ملا دیا، یا ()زمین میں درخت لگا دیا،یا ()تعمیر (construction)کرائی، یا() اُس کو بیچ دیا ، چاہے عیب(defect) معلوم ہونے کے بعد بیچنا ، یا ()"مَبِیْع" ہلا ک (waste)ہوگئی تو ان سب صورتوں (cases) میں نقصان (یعنی عیب کی وجہ سے ہونے والی کمی کی رقم)لے سکتا ہے مگر"مَبِیْع" واپس نہیں کرسکتا۔
{9} گیہوں(گندم۔ wheat)وغیرہ غلّہ خریدا اُس میں مٹی ملی ہوئی نکلی، اگرمٹی اتنی ہی ہے جتنی عادۃًہو تی ہے تو واپس نہیں کرسکتا اور عادت سے زیادہ ہے تو پوری گندم واپس کردے ()یہ نہیں کر سکتا کہ گیہوں الگ کر کے رکھ لے اور مٹی الگ کرکے واپس کر دے اور اس کی قیمت لے لے۔
{10}(۱) بیچنے والے نے بیچتے وقت کہہ دیاکہ :"میں کسی عیب(defect) کا ذمہ دار (responsible) نہیں ہوں" تویہ "بیع"(تجارت۔trade) صحیح ہے اور خریدار (buyer) کو عیب نکلنے پر، اس "مَبِیْع" کے واپس کرنے کا حق (right)باقی نہیں رہا۔
(۲) اگر بائع(بیچنے والے) نے کہہ دیا کہ :"لینا ہو تو لو اس میں سو(100) طرح کے عیب(defect) ہیں"، یا "یہ مٹی ہے"، یا" اسے خوب دیکھ لو، کیسی بھی ہو میں واپس نہیں کروں گا" اس طرح کے واضح جملے کہنے کے بعد، بیچنے والا کسی بھی قسم کےعیب کا ذمہ دار نہیں ہے (یعنی اب اگرعیب نکلاتوبیچنے والے پرلازم نہیں کہ وہ چیزواپس لے) ۔نوٹ: ان صورتوں(cases) میں ہر طرح کے عیب(defect) بیچنے والے سے الگ ہوگئے، چاہے وہ عیب سودا کرتے ہوئے ہوں یا سودے کے بعد قبضے(مثلاً ہاتھ میں لینے) سے پہلے کے ہوں۔
{11} (۱) خریدار نے واپس کرنا چاہا مگر بیچنے والےنے کہا:" واپس نہ کرومجھ سے اتنا روپیہ لے لو "اور دونوں اس بات پر راضی (agree)ہوگئے تو یہ جائز ہے اور اس کا مطلب یہ ہوا کہ بائع نے "ثمن"(قیمت) میں سے اتنے پیسے کم کردیے۔
(۲) اگر بائع نے واپس لینے ہی سے منع کر دیا اور خریدارنے یہ کہا کہ: اتنے روپے مجھ سے لے لو اور "مَبِیْع" کو تم واپس کرلو توایسا کرنا، جائز نہیں ہے کیونکہ یہ روپے جو بائع(بیچنے والا) لے گا، یہ"سود "( ) (interest)اور رشوت ( ) ہے۔
{12} ایک شخص نے دوسرے کو کسی چیز کے خریدنے کا" وکیل"(client worker) کیا تھا" وکیل" نے "مَبِیْع" میں عیب(defect) دیکھااور اسے لینے کے لیے تیار ہوگیا، اب اگر اس عیب والی چیز کی قیمت اتنی ہے کہ جتنی اُس طرح کی عیب والی (defective)چیز کی ہوتی ہے اور اُس نے لے لی تو اب یہ چیز مُؤَکِّل (client) کو لینا پڑیگی ۔ہاں! اگر قیمت زیادہ ہو تو مُؤَکِّل (client)پر یہ سودا لازم نہیں ہوگا۔
نوٹ: یہ بات کئی بار آئی کہ عیب(defect) سے جو" نقصان "ہے وہ لے گا تو اس کی صورت یہ ہے کہ اُس چیز کوجانچنے(چیک کرنے) والوں کے پاس پیش کیا جائے اور وہ لوگ اُس کی قیمت(price) کا اندازہ کریں کہ اگر عیب(defect) نہ ہوتا تویہ قیمت تھی اور عیب(defect) کے ہوتے ہوئے یہ قیمت ہے۔اب دونوں قیمتوں میں جوفرق ہو، وہ بیچنے والے سے خریدار (buyer) لے گا۔ مثلاً :عیب (defect) ہے تو آٹھ ہزار قیمت ہے اور عیب نہ ہوتا تو دس (10) ہزار ہوتی تو اب خریدار، بائع سے دو(2) ہزار روپے لے گا۔
(بہار شریعت ح۱۱،ص۶۸۱ تا ۶۹۰،مسئلہ۳۹،۴۰،۴۱،۴۲،۴۴،۴۵،۴۸،۵۰،۵۲،۶۶،۶۹،۷۰،۷۲،۷۵،۷۶،مُلخصاً)
"غبنِ فاحش" میں رد(قیمت میں واضح فرق کی وجہ سے چیز واپس کرنے)کے احکام:
{1} کوئی چیز" غبنِ فاحش "(قیمت میں واضح فرق)کے ساتھ خریدی ، تو اس کی دو(۲)صورتیں ہیں:
(۱) دھوکا دیکر نقصان پہنچایا ہے ،یا(۲)نہیں۔
(۱)اگر" غبن فاحش "(قیمت میں واضح فرق)کے ساتھ دھوکا بھی ہے تو واپس کرسکتا ہے ورنہ(۲) واپس نہیں کرسکتا۔ "غبن فاحش" کا مطلب: اتنا واضح فرق کہ اندازہ لگانے والے بھی صحیح اندازہ نہیں لگا پا رہے ہوں، مثلاً ایک چیز دس (10)روپے میں خریدی ،کوئی اس کی قیمت پانچ (5)بتاتا ہے، کوئی چھ(6)، کوئی سات (7)،تو یہ" غبن فاحش "ہے۔ اگر اس کی قیمت کوئی آٹھ (8)بتاتا، کوئی نو(9)، کوئی دس(10) تو" غبن یسیر"(ایسا دھوکا کہ جو واضح نہیں)ہوتا ہے۔ ()دھوکے کی تین(۳) صورتیں ہیں:
(۱) کبھی بیچنے والا، خریدنے والے کو دھوکادیتا ہے، مثلاً پانچ (5)کی چیز دس (10)میں بیچ دیتا ہے اور(۲) کبھی خریدار، بیچنے والےکو دھوکا دیتا ہے کہ دس (10)کی چیز پانچ(5) میں خریدلیتا ہے (۳)کبھی بروکر(مال کمیشن پربیچنے والا) دھوکا دیتا ہے (کہ خریدار یا بائع سے پیسے زیادہ لے لیتا ہے)۔ان تینوں صورتوں میں جس کو "غبن فاحش" کے ساتھ نقصان پہنچاہے وہ سامنے والے سے رقم واپس لےسکتا ہے () اگر اجنبی شخص (جس کا سودے سے تعلق نہیں کہ نہ وہ بیچنے والا، نہ خریدنے والا اور نہ ہی بروکر ہے، اُس)نے دھوکا دیا ہو تو واپس نہیں کرسکتا۔
{2} جس چیز کو" غبن فاحش" کے ساتھ خریدا ، اور اُسے دھوکا بھی دیا گیا ہے لیکن اُس شخص نے اُس چیز میں سے کچھ استعمال کر لیا اور بعد میں معلوم ہوا کہ اس میں" غبن فاحش" ہے تو اب بھی واپس کرسکتا ہے یعنی بچی ہوئی چیز پوری واپس کرے اور جو استعمال کر لی اُس کی مثل(اس طرح کی چیز بھی) واپس کرے اور پورے پیسے واپس لے لے۔(بہار شریعت ح۱۱،ص۶۹۱،مسئلہ۷۹،۸۱،مُلخصاً)
(مدنی چینل دیکھتے رہیئے)