’’ دین کے مسائل ‘‘(part 04 B)

نمبر عنوان (topic) Pg
151 علم، علماء کے حقوق(rights) اور باطنی آداب 3
152 اکراہ اور جائز و ناجائز کے مزید (more) مسائل 25
153 عورتوں کے مزید (more) مسائل 39
154 خرید و فروخت (buying and selling) 55
155 مُختلف سودے (different deals) 4b
156 کاروبار کی مختلف صورتیں(different cases) اور مسائل 4b
157 آج کی تجارت 4b
158 اجارہ (Contract of someone by paying wages) 4b
159 آج کا اجارہ 4c
160 شرکت (partnership) 4c
161 مُضَاربَت (sleeping partnership) 4c
162 وکالت(attorneyship) اور حوالہ 4c
163 کفالت (guaranty) 4c
164 رہن (mortgage) 4c
165 حقوق (rights) و استحقاق (laws of rights) 4c
166 سود (interest) 4c
167 بیع صَرف (سونے چاندی کی تجارت) 4d
168 بیع سلم (A type of trade) 4d
169 صُلح (آپس کے کسی معاملے میں ایک بات پر اتفاق کر لینا) 4d
170 کاشت کاری (agriculture) وغیرہ 4d
171 پاکیزہ کاغذات (sacred papers) 4d
172 نکاح 4d
173 جن سے کبھی نکاح نہیں ہو سکتا 4d
174 کفو(ہم پلا، برابر مرتبے۔equal level) سے نکاح کے مسائل 4d
175 مہر (نکاح کرنے پر عورت کو کچھ مال دینا) 4d
176 شادی مُبارک ہو 4e
177 میاں بیوی کے حقوق (rights) 4e
178 ’’عورت کا نفقہ(کھانا، پینا، رہائش۔accommodation،وغیرہ)‘‘ 4e
179 اولاد کے حقوق (rights) 4e
180 اولاد کو کب سکھائیں 4e
181 طلاق 4e
182 کیا طلاق کے بعد نکاح رہ سکتا ہے؟ 4e
183 اپنی بیوی کے لیے خاص (specific) قسم کھانا 4e
184 عورت طلاق لینا چاہے تو کیا کرے؟ 4e
185 عورت کے جسم کے خاص حصّوں کو ماں کے اُن حصّوں کی طرح کہنا 4e
186 عورت سے ظہار کے الفاظ بولنے کا کفّارہ 4e
187 عدّت 4f
188 وقف 4f
189 شرط (precondition) کے مسائل 4f
190 حج کی اصطلاحات(terms) اور باطنی آداب 4f
191 حج اور احرام 4f
192 عمرے کا طریقہ 4f
193 حج کا طریقہ 4f
194 مدینے پاک کی حاضری 4f
195 میرے مرنے کے بعد میرے مال کا کیا ہوگا؟ 4g
196 انتقال کرنے والے کے مال کے مسائل 4g
197 اسلام کی طرف بلانا 4g
198 اسلام میں آنا 4g
199 نئے مسلمان(new muslim) کی پہلی نماز 4g
200 نئے مسلمان(new muslim) اور عبادتیں 4g

’’ مُختلف سودے(different deals)‘‘

فرمانِ آخری نبی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:
لوگوں پر ایک زمانہ(وقت) ایسا آئے گاکہ آدمی پرواہ (یعنی خیال)بھی نہ کریگا کہ اس چیز کو کہاں سے حاصل کیاہے؟ حلال سے یا حرام سے۔(صحیح البخاري،کتاب البیوع،الحدیث:۲۰۵۹، ج۲،ص۷)

واقعہ(incident): مردہ جانور کی کھال
حضرت جابرَضِیَ اللہُ عَنْہ کہتے ہیں کہ مکّہ شریف فتح ہونے(یعنی مسلم حکومت بننے) کے بعد رَسُوْلُاللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نے مکّہ شریف میں فرما یا کہ :اللہ (کریم) اور رَسُوْل (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ)نے شراب ا ور مُردار( یعنی حرام جانور چاہے خود مرا یا کاٹا گیا،یا حلال جانور جو شرعی ذبح کے بغیر مرا) اور خنزیر(pig) اور بتوں(idols) کی بیع(خرید و فروخت) کو حرام قرار دیا(یعنی انہیں خریدنا اور بیچنا حرام ہے)۔ کسی نے عرض کی، یا رَسُوْلَاللہ! صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مُردہ(جانور) کی چربی (fat)کے بارے میں آپ (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ)کیا فرماتے ہیں؟ کیونکہ (مُردہ جانور کی چربی) کشتیوں میں لگائی جاتی ہے اور کھال میں لگاتے ہیں اور لوگ چراغ میں(بھی) جلاتے ہیں (یعنی کھانے کے علاوہ (other) اس کا استعمال جائز ہے یا نہیں)؟ فرمایا: نہیں، وہ (بھی) حرام ہے۔ پھر فرمایا: اللہ کریم یہودیوں(jews) کو قتل کرے، اللہ کریم نے جب چربیوں(fats) کو اُن پر حرام فرمادیا تو اُنھوں نے پگھلا کر(meltکر کے) بیچ ڈالی اور ثمن (یعنی بیچنے سے ملنے والی رقم (amount)کو) کھا لیا۔ (صحیح مسلم،کتاب المساقاۃوالمزارعۃ،الحدیث:۷۱۔(۱۵۸۱)،ص۸۵۲)

مُردار جانور کی چربی (fat)کو بیچنایا اُس سے کسی قسم کا فائدہ اُٹھانا، سب ناجائز ہے اُسے چراغ میں بھی نہیں جلاسکتے ہیں نہ چمڑا پکانے کے کام میں لاسکتے ہیں۔(بہار شریعت ح۱۱،ص ۷۰۸،مسئلہ،۵۰،مُلخصاً)
مُردار( یعنی حرام جانور چاہے خود مرا یا کاٹا گیا،یا حلال جانور جو شرعی ذبح کے بغیر مرا) کے چمڑے(یعنی کھال) کی تجارت بھی "بیع باطل "ہے جبکہ پکایا /سُکھایا(dried animal's skin)نہ ہو، یا اس کی دباغت نہ کرلی ہو (یعنی پکاکر یاسُکھا کر رنگا(colourکیا) نہ ) ہو۔ ہاں ! اس کھال کو پکالیا /سُکھایا ، یا دباغت کر لی تو اب اس کی تجارت جائز ہے اوراس کو کام میں لانا بھی جائز ہے۔ (فتاوی رضویہ ج۲۳،ص۱۵۹،ماخوذاً)
مُردار کا پٹھا(بدن سے ملے ہوئے وہ پیلے ریشے جن کے ملنے سے جسم سکڑتا اور کھولنے سے جسم پھیل جاتا ہے) ، بال، ہڈی، پَر (wing)، چونچ، کھر(جانوروں کے پاؤں) ، ناخن، ان سب کو بیچ بھی سکتے ہیں اور کام میں بھی لاسکتے ہیں۔ ہاتھی کے دانت اور ہڈی کو بیچ سکتے ہیں اور اسکی چیزیں بنی ہوئی استعمال کرسکتے ہیں۔ (بہار شریعت ح۱۱،ص ۷۰۸،مسئلہ،۵۱،مُلخصاً)

بیع باطل :
{1} جس صورت (case)میں تجارت کا کوئی رُکن (یعنی ایسی چیز کہ جس کے بغیر تجارت ہوتی ہی نہیں)، نہ پایا جائے، یا وہ چیز خرید و فروخت(buying and selling) کے قابل (لائق)ہی نہ ہو تو ایسی تجارت کو "بیع باطل" کہتے ہیں ۔
رُکن نہ پائے جانے کی مثال : پاگل، یا ناسمجھ بچّے(in sensible child) نے" ایجاب" (offer)یا
"قبول"(accept) کیا تو یہ تجارت "بیع باطل" ہے کیونکہ شرعاً (دینِ اسلام کی تعلیم کے مطابق)وہ" ایجاب" اور"قبول" کر ہی نہیں سکتا تو یہ تجارت" ایجاب" و "قبول" (یعنی تجارت کے "رُکن")کے بغیر ہے۔ نوٹ: سودے میں پہلی بات "ایجاب" اور دوسرے کا "ہاں" کرنا "قبول" ہے۔ جیسےپہلے نے کہا: میں نے اتنے میں بیچا، یاکہا : میں نے اتنے میں خریدا، تو یہ "ایجاب"اور دوسرے کا "ہاں" کہنا "قبول" ہے۔

جو چیز خریدی جا رہی ہو وہ بیچنے کے قابل نہ ہونے کی مثال :
مُردار ( یعنی حرام جانور چاہے خود مرا یا کاٹا گیا،یا حلال جانور جو شرعی ذبح کے بغیر مرا)،یا خون یا شراب، یا آزاد آدمی کو بیچنا(آج کل سب لوگ "آزاد" ہیں، پہلے ایک انسان دوسرے کا مالک(owner) بن جاتا تھا، مالک کو جو ملتا وہ "غلام" ہوتا)کہ شریعت (دینِ اسلام) کا حکم یہ ہے کہ ان چیزوں کی خرید و فروخت (buying and selling)نہیں ہو سکتی ۔
{2} "مال" صرف پیسے ہی کو نہیں کہتے بلکہ ہر وہ چیز کہ جس کی طرف طبیعت (یعنی دل) اس طرح مائل (راغب) ہو کہ اُس چیز کو لیا، یا دیا جاسکے ، (اُس چیز کی حفاظت(safety) کے لیے)دوسروں کو اُس چیز سے دور رکھا جائے ، ضرورت پڑنے پر استعمال کرنے کے لیے جمع رکھا جائے۔
تھوڑی سی مٹی جب تک وہ اپنی جگہ پر ہے مال نہیں اور اس کی تجارت بھی " بیع باطل "ہے ۔ ہاں! اگر اُسے دوسری جگہ لے گئے ہوں تو اب وہ "مال "ہے اور اسکی خرید وفروخت (buying and selling) جائز ہے۔
گیہوں (wheat)کے ایک دانے کی تجارت بھی "بیع باطل" ہے۔ {3} معدوم ( وہ چیز جس کا ابھی وجودہی نہ ہو یعنی وہ بنی ہی نہیں، یا وہ دودھ جو تھن (animal udder)سے باہر نہیں آیا، یا جانور کو وہ بچہ جو پیٹ میں ہو، ان) کی تجارت "بیع باطل" ہے۔
{4} جوچیز زمین کے اندر پیدا ہوتی ہے، جیسے مولی(radish)، گاجر (carrot)وغیرہ اگر اب تک پیدا نہ ہوئی ہویا پیدا ہونا معلوم نہ ہواس کی تجارت بھی "بیع باطل "ہے اور اگر معلوم ہوکہ پیدا ہوچکی ہے تو اب اس کی تجارت " بیع صحیح "(یعنی اسے بیچا جا سکتا)ہےلیکن خریدارکو " خیارِ رؤیَت " ( )حاصل ہوگا۔ (بہار شریعت ح۱۱،ص۶۹۷،۶۹۶،مسئلہ۱،۳،۵،مُلخصاً)
{5}" بیع باطل "کا حکم یہ ہے کہ "مَبِیْع" (یعنی خریدی ہوئی چیز)پر اگر خریدار(buyer) کا قبضہ بھی ہوجائے (مثلاً ہاتھ میں بھی آجائے) تب بھی خریدار اُس کا مالک (owner)نہیں ہوگا اور خریدار کے پاس وہ چیز "امانت" ہوگی۔(بہار شریعت ح۱۱،ص ۷۰۱،مسئلہ،۲۳، مُلخصاً)

بیع فاسد:
{1} اگر "رکنِ بیع"( مثلاً " ایجاب" (offer)یا "قبول"(accept) کرنے) یا محلِ بیع( یعنی خریدی گئی چیز) میں خرابی نہ ہو بلکہ اس کے علاوہ (other) کوئی خرابی ہو تو وہ "بیع فاسد "(یعنی وہ سودا خراب)ہے ۔
مثلاً ثمن ( سودےکی قیمت۔price) میں شراب دی جارہی ہو ،یا "مَبِیْع" (یعنی بیچی جانے والی چیز)کسی وجہ سے خریدار کو دے نہ سکتا ہو،یا تجارت میں کوئی ایسی شرط (precondition) ہو کہ جو عقد (معاہدے۔ agreement ) کے تقاضے (requirement)کےخلاف(against) ہو (تو "بیع فاسد" ہے)۔ (بہار شریعت ح۱۱،ص۶۹۶،مسئلہ۱،مُلخصاً)
{2} تجارت میں شرط لگانے کی تین(3) صورتیں(cases) ہیں:(۱) تجارت میں ایسی شرط (precondition) لگانا صحیح ہے کہ خود عقد(سودا) اُس کا تقاضہ کرتا ہے (required ہو) یعنی وہ شرط نقصان دینے والی نہیں ہو۔مثلاً بائع(بیچنے والے ) کو اس بات کا پابند(bound) کرنا کہ وہ "مَبِیْع"(خریدی گئی چیز) پر قبضہ دلائے(مثلاً خریدار کےہاتھ میں دے)، یا ()خریدار کو اس بات کا پابند (bound) کرنا کہ وہ " ثمن "(مثلاً روپے) پہلے دے پھر چیز لے ۔
(۲)تجارت میں ایسی شرط (precondition)لگانا بھی صحیح ہے کہ خود عقد(سودا) اُس کا تقاضہ تو نہیں کرتا مگر وہ شرط، اُس سودے کے لیے مُناسب(یعنی بہتر) ہو۔جیسے "ثمن" نہ دینے کی صورت(case) میں خریدار فلاں چیز "رہن " (mortgage)رکھوائے گا ، یا خریدار "ثمن "(مثلاً پیسوں)کے لیے کوئی ضامن (guarantor) دے گا۔
نوٹ: اس صورت(case) میں جس کو ضامن(guarantor) بتایا جارہا ہو،اُس کا اُسی مجلس(جگہ) میں ضمانت (guarentee) قبول(accept) کر لینا بھی ضروری ہے اگر اُس نے ضمانت قبول نہ کی تو تجارت "بیع فاسد" ہو جائے گی(یعنی سودا خراب ہو گا)۔
بیچنے والے نےخریدار سے ضمانت یا رہن (mortgage) مانگا پھر اس خریدار نے منع کیا تو بائع (seller) کو اختیار(option) ہے کہ چاہے تو سودا ختم کر دے، اسی طرح خریدار نے بیچنے والے سے ضامن مانگایعنی میں اس شرط سے خریدتا ہوں کہ اگر "مَبِیْع"میں کسی کا حق (right)نکلا تو فلاں شخص "ثمن" واپس دلائے گا تو یہ شرط بھی جائز ہے۔
(۳) تجارت میں ایسی شرط لگاناکہ وہ نہ تو تجارت کے لیے لازم ہو ، نہ مُناسب ہو مگر شریعت (یعنی دینِ اسلام) نے اس طرح کی شرط لگانے کی اجازت دی ہو تو تجارت میں ایسی شرطیں (preconditions) لگائی جاسکتی ہیں۔ مثلاً تجارت میں "خیارِ شرط" ( ) رکھنا، یا وہ شرط ایسی ہو کہ عام طور پر مسلمان اُس پر عمل کرتے ہیں جیسے آج کل گھڑیوں میں گارنٹی (guarentee) سال، یا دو(2)سال کی ہوا کرتی ہے کہ اس مُدَّت (duration) میں خراب ہوگی تو ٹھیک کروا کر دینے کا ذمہ دار (responsible) بائع(بیچنے والا) ہوگا، تجارت میں ایسی شرط رکھنابھی جائز ہے۔
یاد رہے کہ جس شرط کا نہ ہی مسلمانوں میں "تَعَامُل"(یعنی رواج،practiceنہیں) ہو اور نہ ہی شریعت نے اُس کی اجازت دی ہو، (اب) ایسی شرط تجارت میں لگائی تو (یہ تجارت) "بیع فاسد" ہو جائے گی(یعنی سودا خراب ہوگا)۔ مثلاً کپڑاخریدااور یہ شرط لگائی کہ بائع(seller) اس کو کاٹ کر اورسی کر(stitchکر کے)دے گا(تو یہ"بیع فاسد" ہے )۔
اس طرح کی شرط (precondition)کے ساتھ مکان خریدنا بھی " بیع فاسد" ہے کہ بیچنے والے نے یہ شرط لگا دی کہ:" میں گھر بیچ رہا ہوں مگر دو(2)سال تک اس میں کرائے پر رہونگا" کیونکہ یہ شرط تجارت کے تقاضوں(requirements)کےخلاف(against) ہے، اس میں بیچنے والے کا فائدہ ہے، اس پر عُرف (یعنی رواج،practice)بھی نہیں ہے اور نہ ہی شریعت (یعنی دینِ اسلام)نے اس طرح کی صورت (case) کو جائز فرمایا ہے لہٰذا اس شرط کے ساتھ بیچنا،جائز نہیں ہے بلکہ یہ سودا"بیع فاسد" ہوا، خریدنےا ور بیچنے والے(دونوں ہی) گنا ہگار ہوئے اور دونوں پر لازم ہے کہ اس سودے کو ختم کر دیں۔ ( محرم الحرام1440،ماہنامہ فیضانِ مدینہ، دارالافتاء اہلسنّت ، مُلخصاً)
{3}"شرطِ فاسد "( وہ شرط(precondition) جو سودے کے تقاضے کےخلاف ہو)سے "بیع فاسد" (یعنی تجارت خراب)ہوتی ہے اور "بیع فاسد"(ایسی تجارت) حرام ہے۔(فتاوی رضویہ ، جلد۱۷،ص۱۷۰،مُلخصاً) بے شک "بیع فاسد" غصب (مثلاً کسی کی چیز چھین لینے) کے حکم میں ہے۔(فتاوی رضویہ ، جلد۱۷، ص۴۹۹، مُلخصاً) "بیع فاسد" (ایسی خراب تجارت) واجبُ الْفَسْخ(یعنی اسے ختم کرنا لازم) ہے۔ (فتاوی رضویہ ، جلد۱۷،ص۱۶۵،مُلخصاً) "بیع فاسد" میں بھی قبضے(مثلاً سامان ہاتھ میں لینے) کے بعد، مِلک(ownership) خریدار (buyer)کو مل جاتی ہے مگر یہ" مِلکِ خبیث" ہے۔(فتاوی رضویہ ، جلد۱۷،ص۱۷۰،مُلخصاً) " مِلکِ خبیث" سے جو چیز ملتی ہے، اُس کے مالک(owner)پر فرض ہوتا ہے کہ وہ اُس ناپاک مال کوجن جن سے لیا ہے، انہیں واپس دے دے۔ اگر وہ زندہ نہ رہے ہوں تو ان کے وارثوں(یعنی اُن لوگوں کو کہ جو مرنے والے کے بعد، اُس کے مال کے مالک بن جاتے ہیں) کو دے دے، وہ بھی نہ ملیں تو(شرعی فقیروں کو)صد قہ کردے۔(فتاوی رضویہ ، جلد۱۷، ص۳۸۰، مُلخصاً) فساد(یعنی "بیع فاسد" کی خرابی)کوختم کرنے کے لئے، اُس سودے کو ختم کرنا بائع(بیچنے والا)اور خریدار (دونوں ) میں سے ہر ایک پر واجب (اور لازم)ہے ،جب تک "مَبِیْع"(بیچی ہوئی چیز) خریدار(buyer) کے پاس اپنی (پرانی) حالت میں موجود ہو، چاہےقبضے(مثلاً سامان ہاتھ میں لینے ) سے پہلے یا قبضے کے بعد کی حالت میں ہو۔ (فتاوی رضویہ ، جلد۱۷، ص۵۶۷، مُلخصاً) یعنی وہ سامان واپس کیا جائے گا اوررقم (amount)لے لی جائے گی۔
{4}کوئی چیز مُتَعَیَّن (طے۔fixed) کی مثلاً یہ کپڑا، ہزار(1000) روپے میں لیا، مگر وہ تجارت " بیع فاسد" تھی اور"مَبِیْع" و"ثمن" ایک دوسرے کو دے دیا(یعنی بیچنے والے نے قیمت(price) لے لی اورخریدار نے چیز لے لی) پھر خریدار نے "مَبِیْع" سے نفع (profit) اُٹھایا ، یا استعمال کر لیامثلاً کپڑا آگے بیچ دیا ، یا بائع (seller) نے "ثمن " (مثلاً پیسوں)سے نفع اُٹھایا، یا استعمال کر لیا تو اب:(۱) بیچنے والے نے جو پیسے استعما ل کیے، وہ حلال ہیں جبکہ(۲) خریدار کے لیے صرف(وہ) نفع (profit) "خبیث" ہے(کہ جو اُس نے آگے بیچ کر حاصل کیا)، اُس کے لیے حکم ہے کہ اُسے جو نفع ملا ہے، صرف اُس نفع (profit) کو صدقہ کر دے۔

اگر "بیع فاسد" میں دونوں طرف سے سامان ہو مثلاًاُونٹ کو گھوڑے کے بدلے میں بیچا اور دونوں نے قبضہ کرکے(ہاتھ میں لے کر) نفع اُٹھایا(مثلاً آگے بیچ دیا) تو دونوں کے لیے صرف نفع (profit)"خبیث" ہے یعنی دونوں ہی صرف نفع کی رقم (amount)صدقہ کریں گے۔(بہار شریعت ح۱۱،ص۷۱۸،مسئلہ۹۰،مُلخصاً)
{5} اِکراہ (مثلاً جان سے مار دینے یا جسم کا کوئی حصّہ کاٹنےکی دھمکی)اور جَبر(اسی طرح مجبور کرنے) کی وجہ سے تجارت ہوئی تو یہ بھی "بیع فاسد" ہے مگر جس پر زبردستی کی گئی ہے، اُسے یہ سودا ختم کرنا واجب نہیں بلکہ اختیار (option)ہے کہ ختم کرے یا جائز (ok) کردے مگر جس نے خود زبردستی کی ہے اُس پر سودا ختم کرنا واجب(یعنی لازم) ہے۔
{6} "بیع فاسد "میں اگرخریدار (buyer)نے "مَبِیْع" پر بائع (بیچنے والے)کی اجازت کے بغیر قبضہ کر لیا تو یہ وہ قبضہ نہیں ہےکہ جس سے تجارت مکمل ہو، نہ ہی خریدار اُس چیز کا مالک(owner) ہوا اورنہ اس چیز میں کوئی ایسی تبدیلی کر سکتا ہے کہ جو مالک کرسکتا ہے۔
{7}(۱) زندہ جانور کا گوشت، چربی(fat) ، چمڑا، سری پائے ، زندہ دُنبہ کی چَکّی(دنبے کی چوڑی دُم) کی بیع (یعنی خریداری)ناجائز ہے۔ (۲)دُنبے یا بھیڑ کے جسم پر اُون (wool)موجود ہے، ابھی کاٹا نہیں ہے، یا گھی کہ جو ابھی دودھ سے نکا لانہ ہو، یا شہتیر ( وہ لکڑی کہ جو چھت بنانے میں لگائی جاتی ہے) کہ جو ابھی چھت میں ہے، یا ایساتھان کہ جسے پھاڑ کر نہ بیچاجاتا ہو، اُس (مثلاً کرتے یا شلوار ) میں سے ایک گز آدھ گز کی بیع کرنا، یہ سب ناجائز ہیں۔ (بہار شریعت ح ۱۱،ص۶۱۷،۷۱۵، مسئلہ ۳۸، مُلخصاً)
{7}(۱) زندہ جانور کا گوشت، چربی(fat) ، چمڑا، سری پائے ، زندہ دُنبہ کی چَکّی(دنبے کی چوڑی دُم) کی بیع (یعنی خریداری)ناجائز ہے۔ (۲)دُنبے یا بھیڑ کے جسم پر اُون (wool)موجود ہے، ابھی کاٹا نہیں ہے، یا گھی کہ جو ابھی دودھ سے نکا لانہ ہو، یا شہتیر ( وہ لکڑی کہ جو چھت بنانے میں لگائی جاتی ہے) کہ جو ابھی چھت میں ہے، یا ایساتھان کہ جسے پھاڑ کر نہ بیچاجاتا ہو، اُس (مثلاً کرتے یا شلوار ) میں سے ایک گز آدھ گز کی بیع کرنا، یہ سب ناجائز ہیں۔ (بہار شریعت ح ۱۱،ص۶۱۷،۷۱۵، مسئلہ ۳۸، مُلخصاً) {8}غلام بیچا اور یہ شرط (precondition)کی کہ وہ غلام بائع(پرانے مالک) کی ایک مہینے تک خدمت کریگا،یا مکان بیچا اور شرط کی کہ بائع(بیچنے والا) ایک مہینے تک اُس میں رہائش(accommodation) رکھے گا، یا یہ شرط کی کہ خریدار مجھے اتنا روپیہ قرض دے گا، یا فلاں چیز تحفے میں دے گا، یا مخصوص (specific) چیز بیچی اور یہ شرط کی کہ ایک مہینے تک "مَبِیْع"(بیچےگئےسامان) پر قبضہ(مثلاً ہاتھ میں) نہ دے گاان سب صورتوں (cases)میں "بیع فاسد"(یعنی سودا خراب) ہے۔(بہار شریعت ح ۱۱،ص۷۰۲، مسئلہ ۲۸، مُلخصاً)
{9} "بیع فاسد "کوختم کرنے میں دوسرے شخص کا راضی(agree) ہونا ضروری نہیں ہے بلکہ اُس کے سامنے ختم کرنا بھی ضروری نہیں لیکن اُسے معلوم ہو جائے کہ سودا ختم کر دیا گیا ہے
{10} خریدار نے "مَبِیْع"(خریدےگئےسامان) کو واپس دے دیا یعنی بائع(seller) کے سامنے رکھ دیا کہ اگر بائع ( بیچنے والا) لینا چاہتا تو لے سکتا تھا مگر بائع(seller) نے اُس (سامان ) کو لینے سے انکار (denial، منع) کر دیا اور خریدار اُ سکے پاس چھوڑ کر چلا گیا تو خریدار کی ذمہ داری (responsibility) ختم ہو گئی یہاں تک کہ اب وہ چیز ضائع (waste) ہوئی تو وہ بائع ( بیچنے والے) ہی کی چیز ضائع ہوئی۔
{10} خریدار نے "مَبِیْع"(خریدےگئےسامان) کو واپس دے دیا یعنی بائع(seller) کے سامنے رکھ دیا کہ اگر بائع ( بیچنے والا) لینا چاہتا تو لے سکتا تھا مگر بائع(seller) نے اُس (سامان ) کو لینے سے انکار (denial، منع) کر دیا اور خریدار اُ سکے پاس چھوڑ کر چلا گیا تو خریدار کی ذمہ داری (responsibility) ختم ہو گئی یہاں تک کہ اب وہ چیز ضائع (waste) ہوئی تو وہ بائع ( بیچنے والے) ہی کی چیز ضائع ہوئی۔
{12} "بیع فاسد" کو ختم کردیا تو بائع(بیچنے والا) "مَبِیْع"(بیچے گئے سامان)کو اُس وقت تک واپس نہیں لے سکتا جب تک اُس کی طے شدہ (decided)رقم یا مارکیٹ ریٹ(market rate)واپس نہ کرے۔اس واپسی کے لیے یہ لازم نہیں کہ بیچنے والا وہی روپے/نوٹ واپس کرے بلکہ وہ اُتنی رقم (amount)واپس کرے گا چاہے وہی روپے / نوٹ اس کے پاس موجود ہوں۔ (بہار شریعت ح۱۱،ص ۷۱۷،مسئلہ۸۰،مُلخصاً) بیع کب باطل؟ کب فاسد؟ کب جائز:
{1}(۱) جومچھلی دریا (river) میں ہےیعنی ابھی اُس کاشکار ہی نہیں کیا اوراُسے پیسے سے بیچ دیاتو یہ تجارت بھی " بیع باطل" ہے کیونکہ بیچنے والا، اُس مچھلی کا ابھی مالک(owner) ہی نہیں ۔
(۲) اگر اُس مچھلی کو پکڑ کر پھر دریا میں ڈالا اور بیچ دیا تو اب یہ "بیع فاسد" (یعنی سودا خراب)ہےکیونکہ وہ اپنی مچھلی کسی دوسرے کو دینے کی (فی الحال/ابھی ) طاقت نہیں رکھتا۔
(۳) مچھلی کو شکار کرنے کے بعد کسی گڑھے میں ڈالدیا اور وہ گڑھا ایسا ہے کہ اُس سے بغیر کسی چیز کے خود ہی(یعنی اپنے ہاتھوں سے) مچھلی پکڑ سکتا ہے تو ایسے گڑھے میں موجود مچھلی کو بیچنا جائز ہے۔
(۴) اگر مچھلی پکڑنے کے لیے شکار کرنے کی ضرورت ہوگی یعنی کانٹے یا جال وغیرہ سے پکڑنا پڑے گا توجب تک پکڑنہ لے اُس کی تجارت کرنا صحیح نہیں۔ نوٹ: اگر کسی نے گڑھا بنایا ہی اس لیے ہے کہ دریا کی لہر(پانی ) سے مچھلی یہاں آئے تو ہم اسے بیچیں گے، اب
کوئی مچھلی دریا سے گڑھے میں آگئی تو یہ مچھلی اُسی کی ہے کہ جس نے گڑھا بنایا ہے، دوسرے آدمی کو وہ مچھلی لینا جائز نہیں ہے۔ اب اگر جال سے اُس مچھلی کو پکڑ سکتے ہیں تو ابھی (جال میں لیے بغیر بھی) اس کی تجارت جائز ہے۔
{2}(۱) پرند(bird)جو ہوا میں اُڑرہا ہے اگر اُس کو ابھی تک شکار نہ کیا ہو تو اس کی تجارت ،"بیع باطل "ہے۔
(۲)اگر شکار کرکے(پکڑ کر) چھوڑدیا ہے تو اب تجارت ،"بیع فاسد"( یعنی سودا خراب) ہے کیونکہ بیچنے والے کو (فی الحال/ابھی )یہ طاقت ہی نہیں کہ واپس لا سکے۔
(۳) اگر وہ پرند ایسا ہے کہ اِس وقت تو ہوا میں اُڑرہا ہے مگر پالتو (pet)ہے کہ خود واپس آجائے گا جیسے پالتوکبوتر (pet pigeon) واپس آجاتے ہیں تو انہیں بیچنا درست(یعنی صحیح) ہے کیونکہ بظاہر تو وہ پرندہ ہاتھ میں نہیں ہے مگر شرعی حکم کے مطابق (according)یہ بھی ایک طرح سے ہاتھ میں ہے ۔ (بہار شریعت ح۱۱،ص۷۰۴ ،مسئلہ۳۷،مُلخصاً)
{3}(۱) پھل اُس وقت بیچے کہ جب وہ نمایاں (یعنی صحیح طرح بنے )بھی نہیں تھے تو یہ تجارت " بیع باطل "ہے (۲)اگر پھل ظاہر ہوچکے( یعنی نظر تو آرہے )تھے مگر اتنے بڑے نہیں تھے کہ ان سے فائدہ اُٹھایا جاسکے تو اس کی تجارت صحیح ہے مگرخریدار(buyer) پر فوراً توڑ لینا ضروری ہے ۔
(۳) اگر یہ شرط (precondition) رکھی تھی کہ پھل ابھی چھوٹے ہیں ، جب تک تیارنہیں ہونگے درخت پر رہیں گے تو اب یہ تجارت،" بیع فاسد" ہے ۔ ہاں! سودا کرتے ہوئے تو یہ شرط نہیں کی تھی مگر سودا مکمل ہونے کے بعد بائع(seller)نے پھل درخت پر لگے رہنے کی اجازت دے دی تو اب پھل تیار ہونے تک درخت پر لگےرہنے دینا صحیح ہے۔ (بہار شریعت ح۱۱،ص۷۰۵،مسئلہ۴۳،مُلخصاً)
{4} سودےمیں" ثمن"(مثلاً پیسوں) کا ذکر نہ ہوا یعنی یہ کہا کہ جو بازار میں اس کی قیمت(price)ہے ، وہی دےدینا یہ بھی " بیع فاسد" ہے اور ()اگر یہ کہا کہ "ثمن "(یعنی پیسے)کچھ نہیں تو" بیع باطل "(یعنی یہ تجارت ہی نہیں) ہے کہ بغیر" ثمن" کےتجارت ہوتی ہی نہیں۔(بہار شریعت ح۱۱،ص۷۰۱ ، ۷۰۳،مسئلہ۲۵،۲۹،مُلخصاً)
کچھ چیزوں کا آدمی مالک کب بنتا ہے؟:
{1} کسی کے گھر کے اندر شکار (مثلاً جنگل کا جانور کہ جس کا کوئی مالک نہیں ہوتا)چلا آیا اور اس شخص نے اُس جانور کو پکڑنے کے لیےدروازہ بند کرلیاتویہ(گھر والا) مالک ہے، اب دوسرے شخص کو(یہ جانور) پکڑنا، جائز نہیں(پہلا شخص اسے بیچ سکتا ہے)۔
{2} ایک شخص کی زمین میں شہد کی مکھیوں نے چھتا (bee hive)بنایا تو شہد کا مالک وہی شخص ہے کہ جس کی زمیں ہے، چاہے اس نے زمین کو اسی لیے خالی کر کےرکھا ہو کہ شہد کی مکھیاں چھتا بنائیں، یا اس کام کے لیے زمین کو خالی نہ رکھا ہو۔ اس کی دوسری مثال خود بہ خود اُگنے والا(self-growing) درخت ہے کہ یہ چیزیں زمین والے کی ہیں( وہ انہیں بیچ سکتا ہے)۔
{3} ہندوستان (موجودہ پاکستان، بنگلہ دیش، ہند، نیپال، سری لنکا) میں تالاب(pond)مچھلیوں کے شکار کے لیے ٹھیکے(کرائے) پر دے دیتے ہیں ، ایسا کرناجائز نہیں ہے(اس کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ مالک مچھلیوں کا شکار خود کر کے بیچے یا اس کام کے لیےوقت کے اجارے(wages) پر کچھ ملازم رکھ لے)۔
{4} (شادی وغیرہ خوشی میں) روپے پیسے لُٹائے جارہے تھے، اگر کسی نے اپنے کرتے کے دامن کو اس لیے پھیلایا تاکہ اس میں پیسے گریں تو میں لوں گا تو جتنے اس کے دامن میں آئے ، وہ سب اُسی شخص کے ہیں اور اگر دامن اس لیے نہیں پھیلایا تھا مگر دامن میں گر گئے اور اُس شخص نے دامن سمیٹ لیا (یعنی بند کر دیا)تب بھی وہ اس رقم (amount)کا مالک ہو جائے گا اور اگر یہ دونوں باتیں نہ ہوں تو دامن میں گرنے سے اس رقم (amount)کا مالک نہیں ہوگا یعنی دوسرا بھی اس کے دامن سے لے سکتا ہے۔
نوٹ: شادی میں چھوہارے (سوکھی کھجوریں)اور شکر (میٹھے ٹکڑے)لُٹاتے ہیں ان کابھی یہی حکم ہے۔ (بہار شریعت ح۱۱،ص۷۰۳ تا ۷۰۵،مسئلہ۳۰،۳۱،۳۳،۳۴،۳۵،۳۶،مُلخصاً)

مختلف سودے :
{1}دو کپڑوں میں سے کسی ایک کو خریدنا، جائز نہیں ۔ ہاں ! "خیارِ تعیین" ہو سکتا ہے۔
{2} چراگاہ (pasture، جہاں جانور گھانس وغیرہ کھاتے ہیں)میں جو گھاس (لگی ہوئی)ہے اُس کی تجارت بھی "بیع فاسد" ہے۔ ہاں !اگر مالک نےگھاس کاٹ کر جمع کرلی تو اب اس کی تجارت درست (یعنی صحیح)ہے کیونکہ اب یہ اسی طرح ہے کہ جس طرح (دریا وغیرہ کے)پانی کو گھڑے(pits)، مٹکے(water pot)، وغیرہ میں بھر نے کے بعد بیچنا جائز ہوتا ہے۔(بہار شریعت ح۱۱،ص۷۰۵،مسئلہ۴۰،۴۱،مُلخصاً)
{3}کسی چیز کو بیچا لیکن ابھی اس کے پیسے پورے نہیں لیے تھے پھر اُسی چیز کو خریدار سے کم قیمت میں خرید لیا تو ایسا کرنا جائز نہیں ہے ،چاہے اُس وقت (اُس چیز کی) قیمت کم ہوگئی ہو اگرخریدار مرگیا تب بھی اُس کے وارثوں سے(یعنی اُن لوگوں سے کہ جو مرنے والے کے بعد، اُس کے مال کے مالک بن جاتے ہیں)، اُس چیز کو کم قیمت میں خریدنا جائز نہیں ہے ۔
اگر بائع(بیچنے والا) مرگیا اوراس (بائع)کے وارث نے ، وہی چیز خریدار سے کم قیمت میں خریدی تو جائز ہے۔
{4} تیل(oil) بیچا اور یہ بات طے کی کہ برتن کے ساتھ وزن (weight) کیاجائے گاا ور برتن کی جگہ اتنا(مثلاً ایک کلو) وزن کاٹ دیا جائے(یعنی تیل برتن کے ساتھ بارہ(12)کلو ہوگا تو گیارہ(11) کلو کے پیسے دینگے) تویہ ناجائز ہے اگر یہ بات طے ہوئی کہ برتن کا جتنا وزن ہوگا، اُتنا کاٹیں گے جیسےبرتن ایک(1) کلو ہو تو ایک کلو، اگر دو (2)کلو ہو تو دوکلو(مثلاً برتن دو(2) کلو کا ہے اور برتن کے ساتھ تیل بارہ(12)کلو ہے تو اب دس(10) کلو تیل کے پیسے دئیں گے) تو یہ جائز ہے۔
{5} جس بیع میں "مَبِیْع" (خریدا گیا سامان)یا "ثمن"(مثلاً پیسے) معلوم نہ ہوں تو وہ تجارت،" بیع فاسد "ہے۔ یعنی ایسی صورت (case) ہوکہ جس میں جھگڑا ہو سکتا ہو تو یہ سودا خراب ہے۔ اگر صورتِ حال ایسی ہو کہ سامان سامنے رکھا ہے مگر وزن معلوم نہیں تب بھی سودا صحیح ہے، مثلاً گیہوں (wheat)کی پوری بوری پانچ ہزارمیں خریدلی اور معلوم نہیں کہ اس میں کتنے گیہوں(wheat) ہیں (تو یہ سودا جائز ہے)،یا کپڑے کی گٹھڑی خریدلی(یعنی بندھے ہوئے بہت سے کپڑے خریدے) اور معلوم نہیں کہ اس میں کتنے تھان (roll)ہیں(تب بھی یہ سودا جائز ہے)۔
{6} کوئی چیز بیچی اور اس کی رقم (amount) لینے کی کوئی مُدَّت (duration) طے نہیں کی تو بیچنے والا جب چاہے پیسے مانگ سکتا ہے اوررقم (amount)نہ ملنے پر "مَبِیْع" (بیچی گئی چیز)کو روک بھی سکتا ہے ۔
اگر سودے میں رقم (amount)کی مُدَّت (duration)طے ہوئی تھی تو اُس وقت سے پہلے بائع( بیچنے والا) نہ تو رقم (amount)مانگ سکتا ہے اور نہ ہی "مَبِیْع" (بیچی گئی چیز)کو روک سکتا ہے ۔
اگر سودے میں رقم (amount)کی مُدَّت (duration) صحیح طرح معلوم نہ ہو مگر معلومات کی وہ کمی (جِہالت) جھگڑے کی طرف نہ لے جاتی ہو یعنی اس( وقت) کی معلومات ہو سکتی ہو تو بھی تجارت صحیح ہے۔ مثلاًنَوروز(ایرانی حساب سے سورج کے سال کاپہلادن ،یہ ایرانیوں کی خوشی کاسب سے بڑا دن ہے)، یا مَہرگان(ایرانی مہینے کا سولھواں (16th )دن)،یا ہولی(ہندوؤں کا ایک دن جو موسم بہار میں منایا جاتا ہے)، یا ()دیوالی(ہندوؤں کا ایک دن) کہ اکثر مسلمان صحیح طرح اس کا وقت نہیں جانتے کہ یہ دن کب ہونگے لیکن جو مسلمان ان دنوں کو جانتے ہوں تو ان کی تجارت صحیح ہے (مگرمسلمانوں کواپنے کاموں میں کفّار کے مذہبی دنوں کا لحاظ(خیال) رکھنا اچھی بات نہیں ہے) ۔
اگر سودے میں رقم (amount)کی مُدَّت (duration) صحیح طرح معلوم نہیں ہوسکتی تو ایسا وقت طے کرنے سے تجارت، "بیع فاسد" ہو جائے گی۔ مثلاً جس دن کھیت(fields) کٹیں گے، اُس دن پیسے دونگا تو"بیع فاسد" ہے کیونکہ یہ دن آگے پیچھے ہو جاتے ہیں۔ہاں! اس دن کے آنے سے پہلے یہ مُدَّت (duration) ختم کر دی تو تجارت صحیح ہو جائے گی۔ (بہار شریعت ح۱۱،ص۷۰۸ تا۷۱۲،مسئلہ۵۲،۵۹،۶۶،۶۷،۶۹،مُلخصاً)

وہ باتیں کہ جن کی وجہ سے تجارت ختم نہیں کر سکتے:
{1}" بیع فاسد "میں خریدار نے قبضہ کرنے کے بعد اُس چیز کو بائع (یعنی جس سے خریدا تھا، اُس)کے علاوہ کسی تیسرے (3rd )کے ہاتھ بیچ ڈالا اور وہ تجارت "بیع صحیح" تھی، یا وہ چیز کسی کے ہاتھ ،تحفے میں دے دی، یا وہ چیز غلّہ (اناج ۔grain )تھی اُسے پسوادیا(grind کروادیا)۔ یا اُس کو دوسرے غلّے(اناج ۔grain ) میں ملادیا، یا وہ جانورتھا ذبح کرڈالا(کاٹ دیا) یعنی وہ چیز کسی طرح خریدارکی مِلک(ownership) سے نکل گئی تو اب "بیع فاسد" نافِذ (یعنی پوری)ہو جائے گی اور اب اس تجارت کو ختم نہیں کر سکتے۔ (بہار شریعت ح۱۱،ص۷۱۵ ،مسئلہ۷۹،مُلخصاً)
{2} "مَبِیْع" کو خریدار (buyer)نے کرایہ پر دیدیا تو اب بھی اُس تجارت کو ختم کرسکتے ہیں۔
{3}"بیع فاسد" سے زمین خریدی پھراُس میں درخت لگا دیا،یا گھر خریدا تھا اُس میں تعمیر (construction) کر دی توخریدار پر قیمت(price) دینی واجب ہے اور اب تجارت ختم نہیں کرسکتے۔
{4} (۱) اگر "مَبِیْع"(خریدے گئے سامان)میں زِیادت مُتَّصِلَہ غیرمُتَوَلِّدَہ ہوئی (یعنی "مَبِیْع" میں ایسا اضافہ ہوا کہ جو "مَبِیْع" کی وجہ سے نہیں ہوا بلکہ اُس کے ساتھ کوئی چیز ملا دی گئی) تو اب وہ تجارت ختم نہیں کر سکتے۔ مثلاً کپڑے کو رنگ دیا، سی دیا(stitchکر دیا)، ستّو(مختلف چیزوں کے آٹے) میں گھی ملا دیا، گیہوں (wheat)کا آٹا پسوا لیا(grind کروالیا)، روئی کا سوت کات لیا ( ) ۔
(۲) اگر "مَبِیْع"(خریدے گئے سامان)میں زِیادت مُتَّصِلَہ مُتَوَلِّدَہ ہوئی (یعنی خود"مَبِیْع" میں ایسا اضافہ ہواکہ جو "مَبِیْع" ہی کی وجہ سے ) تو تجارت ختم ہوسکتی ہے،مثلاً جانور کا موٹا ہونا۔
(۳) اگر "مَبِیْع"(خریدے گئے سامان)میں زِیادت مُتَّصِلَہ مُنْفَصِلَہ ہوئی (یعنی خود "مَبِیْع" میں تو اضافہ نہ ہوا لیکن "مَبِیْع" ہی کی وجہ سے کوئی اضافہ ہوا ) تو بھی تجارت ختم ہوسکتی ہے،مثلاً مادہ جانور تھا(female animal) اور اس کے بچّہ ہوگیا۔ اس صورت(case) میں جب تجارت ختم کی جائے گی تو اضافہ (مثلاً بچّہ) بھی بائع (seller) کو دیا جائے گا۔(بہار شریعت ح۱۱،ص۷۱۵ تا ۷۱۷،مسئلہ۷۹،۸۰،۸۲،۸۴،۸۵،۸۶،۸۷،مُلخصاً)

حرام مال کوکیاکرے:
{1} مُوْرِث(یعنی میّت) نے حرام طریقہ پر مال حاصل کیا تھا، اب وَارِث (یعنی مرنے والے کے بعد جو میّت کے مال کا مالک بنا)کو ملا ، اگر وَارِث کو معلوم ہے کہ یہ مال فلاں کا ہے تو اس پر واجب ہے کہ اُسے دے دے کہ جس کا مال ہےاور یہ تو معلوم ہو کہ "کسی کا مال "ہے مگر یہ معلوم نہیں ہوکہ کس کا مال ہے ؟تو مالک (owner) کی طرف سے(اس مال کو) صدقہ کردے اور ()اگر مُوْرِث کےمال میں حرام اور حلال خلط (mix) ہے۔ یہ نہیں معلوم کہ کون ساحرام ہے؟ اور کون سا حلال؟ مثلاً اُس نے رشوت لی تھی ، یا سود لیا تھا اور(اُس کا جائز کاروبار بھی تھا، اب) وہ حرام مال، حلال مال کے ساتھ ایسا خلط(mix) ہوا کہ الگ نہیں ہوسکتا تو شریعت(دینِ اسلام) نے (آسانی کے لیے) حکم یہ دیا ہے کہ وَارِث (یعنی مرنے والے کے بعد جو میّت کے مال کا مالک بنا، اُس شخص)کو اِس مال کا استعمال کرنا، یا بیچنا حلال ہےلیکن دیانت(یعنی دینِ اسلام کا اعلیٰ حکم ) یہ ہے کہ اس مال کو استعمال کرنے سے بچنا چاہیے۔
{2} خریدارپر لازم نہیں کہ بائع(یعنی بیچنے والے) سے یہ پوچھے کہ جو مال تم بیچ رہے ہویہ حلال ہے یا حرام ؟۔ ہاں! اگر بیچنے والا ایسا شخص ہے کہ حلال وحرام ہر طرح کا مال بیچتا ہے مثلاً کاروباری طریقے سے بھی مال لیتا ہے، چوری یا غصب شدہ (مثلاً چھینا ہوا) مال بھی لے کر بیچ دیتا ہے تو احتیاط (caution) یہ ہے کہ پوچھ لے پھر حلال ہوتوخریدے ورنہ( حرام ہو تو) خریدنا، جائز نہیں ہے۔
{3} مکان خریدا تو اُس کی کَڑیوں(وہ لکڑیاں جو عام طور پر چھت میں استعمال ہوتی ہیں ) میں پیسے ملے تو مکان بیچنے والے کو واپس کرے اوروہ لینے سے منع کرے تو صدقہ کردے۔ (بہار شریعت ح۱۱،ص۷۱۹،مسئلہ۹۲،۹۳،۹۴،مُلخصاً)

جائز اور ناجائز تجارت:
{1} لوبیا(beans)کے بیج اور چاول اور تِل (sesame)کو بیچنا جائز ہے، چاہے یہ سب چھلکے(pods) کے اندر ہوں ، اسی طرح اخروٹ(walnuts)، بادام(almonds)، پستے(pistachios) کی تجارت جائز ہے، چاہے یہ سب بھی چھلکے (pods)میں ہوں اسی طرح گیہوں (wheat)کے دانے "بالی" میں ہوں، تب بھی اس کی تجارت جائز ہے
یاد رہے:
ان سب صورتوں (cases)میں یہ بیچنے والےکے ذمہ داری(responsibility) ہے کہ اوپر کے چھلکے اور بالیاں وغیرہ اُتار کر دے۔ ہاں! اگر سوداچھلکوں کے ساتھ ہی ہوا تھاتو اب چھلکے وغیرہ نکال کردینا بائع ( بیچنے والے) کی ذمہ داری نہیں ہے۔
{2} گٹھلیاں(date kernels) جو کھجور میں ہوں، یا کپاس(cotton) کے بیج جو روئی کے اندر ہوں ،یا دودھ جو تھن (animal udder)کے اندر ہوان سب کی تجارت ناجائز ہے کیونکہ یہ سب چیزیں عُرفاً (عادت کے مطابق)معدوم سمجھی جاتی ہیں (یعنی لوگوں کے نزدیک یہ چیزیں موجود ہی نہیں ہیں )۔ہاں! کھجور سے گٹھلیاں، یا کپاس سے بیج، یا تھن سے دودھ نکالنے کے بعد ، ان چیزوں کی تجارت جائز ہے۔
{3}(۱) پانی جب تک کوئیں(well) یانہر(canal) میں ہے اُس کی تجارت جائز نہیں ہے۔ ہاں! اگر پانی کو گھڑے (pits)وغیرہ میں بھر لیا تو اب بھرنے والامالک (owner)ہوگیا، لہذا وہ اس کی تجارت کرسکتا ہے۔ (۲)بارش کا پانی جمع کرلینے سے بھی (جمع کرنے والا)مالک ہوجاتا ہے لہذا وہ اس پانی کو بیچ سکتا ہے۔
(۳)پکّا حوض (water reservoir) میں جو پانی جمع کرلیا ہے، اُسے بیچنے کے لیے شرط ہے کہ زمین سے پانی آنے کا سلسلہ ختم ہو گیا ہو تو اب اسے بیچ سکتا ہے ۔(بہار شریعت ح۱۱،ص۶۹۷،۶۹۸،مسئلہ۷،۸،۹،۱۰،مُلخصاً)
{5} "مَبِیْع"(جو چیز بیچی جارہی ہے، اُس)کی طرف اشارہ کیا اور نام بھی لے لیا مگر جس کی طرف اشارہ ہے اُس کاوہ نام نہیں(غلطی ہوگئی) مثلاً کہا کہ اس" گائے" کو اتنے میں بیچااور وہ" گائے" نہیں بلکہ" بیل"(ox) ہے ، اس کی دو (2)صورتیں ہیں :(۱) اُس چیز کا جونام لیا گیا اورجس کی طرف اشارہ ہے دونوں کی ایک "جنس" ہوں (یعنی ان چیز وں سے ایک جیسا کام لیا جاتا ہو ) ، یا (۲) دونوں الگ الگ جنس ہوں۔ (۱) اگر نام الگ اور اشارہ الگ چیز پر کیامگر" جنس" ایک ہی ہے تو تجارت صحیح ہے لیکن خریدار(buyer) کو اختیار (option) ہے کہ لینا چاہے تو لے لےیا نہ لے ، جیسے"گائے" کی طرف اشارہ کیا اور نکلا " بیل"
نوٹ:
جانور وں میں نر(male)اورمادہ(female) ایک ہی" جنس" میں لیے جاتے ہیں
(۲)"جنس "مختلف (different)ہو تو" بیع باطل" ہے کیونکہ اس صورت (case)میں سودا، اُس چیز کا ہوا ہی نہیں کہ جس کا نام لیا گیا ہےاور جو چیز موجود ہی نہیں ہوتی اس کی تجارت (عام حالت میں ) "بیع باطل" ہوتی ہے۔ (بہار شریعت ح۱۱،ص۶۹۷،۶۹۶،مسئلہ۱۴،مُلخصاً)
{6} پورا گاؤں بیچاجس میں قبرستان(graveyard) اور مسجد یں بھی ہیں لیکن سودے میں ایسے جملے نہیں بولے کہ جس سے یہ سمجھا جائے کہ ان چیزوں کو نہیں بیچا تب بھی تجارت صحیح ہے کیونکہ یہ بات معلوم (understood)ہے کہ ان چیزوں کو نہیں بیچا جارہا لہذا یہ چیزیں سودے سے استثنا (exclude) مانی جائیں گی۔نوٹ: قبرستان(graveyard) اور مسجد یں" وقف" کی جگہیں ہیں، یہ بیچی نہیں جاسکتیں
{7} انسان کے بال(hair) کی خرید و فروخت (buying and selling) درست نہیں اور اُنھیں کام میں لانا بھی جائز نہیں، مثلاً ان کی چوٹیاں (braids of hair) بنا کر عورتیں استعمال کریں حرام ہے، حدیثِ پاک میں اس پر لعنت(رحمت سے دوری کی دعا) فرمائی۔
{8} جو چیز بیچنے والے کی مِلک(ownership) میں نہ ہو اُسے بیچنا جائز نہیں ہے۔ چاہےاُمید(hope) ہو کہ بیچنے والا اسے خریدلے گا ،یا تحفے میں مل جائے گی ، یا وراثت(یعنی کسی کے انتقال کے بعد خریدار کے حصّے میں آجائے گی)، یا کسی اور صورت میں خریدار کو مل جائے گی مگر ابھی اس کی خرید وفروخت (buying and selling) نہیں کر سکتا آجکل بہت سے تاجر (trader) اس طرح خرید وفروخت کرتے ہیں، یہ جائز نہیں ہے ۔ اگر آن لائن کاروبار (on line business) میں خریدنے سے پہلے گاہک (customer)سےخرید و فروخت کا عقد (سودا۔ agreement) کیے بغیر صرف فرمائش لی (یعنی order لے لیا) پھرخود وہ چیز خرید کر اس پرقبضہ کر کے (مثلاً ہاتھ میں لے کے) ، گاہک (customer)کوپہنچا دیااوراس سے پیسے لے لیے تو یہ تجارت جائز ہے،اسے" بیع تعاطی" (یعنی کچھ بولے بغیر ایک دوسرے سے سامان اور پیسے لے دے کرسوداکر لینا) کہتے ہیں۔ یاد رہے کہ اگرچیزخریدنے سے پہلے ہی گاہک (customer)سے خرید و فروخت(buying and selling) کا پورا عقد (agreement) کرلیا تو اب بیچنا درست نہیں ہے کیونکہ جب چیز بیچی جائے تو ضروری ہے کہ بائع(seller) اس چیز کا مالک (owner)ہو ۔(دارالافتاء اہلسنّت غیر مطبوعہ، فتوی نمبر:wat:58، مُلخصاً)
{9} جو چیز ابھی تیار ہی نہیں ہے(چاہے کچھ دن میں بن جائے گی )، اس کی خرید و فروخت (buying and selling)بھی (عام حالت میں)" بیع باطل " ہے۔ مثلاً کپڑا جو ابھی بنا ہی نہیں ہے مگر اُمید ہے کہ یہ بن جائے گا تو ابھی اس کی خرید وفروخت (buying and selling)معدوم(غیر موجود چیز) کی تجارت ہوگی اور یہ ناجائز ہے۔
{10}اگردوسرے کی چیز وکیل (client worker) نےبیچی ، یا ()فضولی (یعنی مالک کی اجازت کے بغیر خود بیچنے والے ) نے بیچی تو یہ ناجائزنہیں ہے۔ وکالت (attorneyship) سے یہ تجارت ہو جائے گی مگر فضولی کی تجارت، مالک(owner) کی اجازت پر پوری ہوگی(چاہے تو جائز(ok) کر دے یا چاہے تو منع کر دے)۔ (بہار شریعت ح۱۱،ص۶۹۹ تا۷۰۱، مسئلہ ۱۶،۱۷، ۲۰، ۲۱،۲۲ ،مُلخصاً)
نوٹ:
بیع سلم اور بیع استصناع کی صورتیں اوپر بیان کیے ہوئے مسائل سے الگ ہیں۔
{11} ریشم کے کیڑے(silkworms) اوران کے انڈوں کی خرید وفروخت (buying and selling) جائز ہے۔
{12} تیل ناپاک ہوگیا ،اس کی تجارت جائز ہے اورکھانے کے علاوہ، اُس کودوسرے کام میں لانا بھی جائز ہے۔ مگر یہ بات ضروری ہے کہ خریدار (buyer)کو معلوم ہو کہ یہ ناپاک ہے تاکہ وہ اس کھانے پکانے میں استعمال نہ کرے۔یاد رہے کہ ناپاک ہونا عیب(ایک کمی) ہے اور عیب والی چیز کو بتا کر بیچنا ضروری ہے۔
نوٹ:
ناپاک تیل مسجد میں جلانامنع ہے لیکن گھر میں جلا سکتا ہے۔ ناپاک تیل کا استعمال بدن وغیرہ پر جائز ہے مگر بدن یا کپڑے میں جہاں لگ جائے گا وہ حصّہ ناپاک ہوجائے گا ، اُسے پاک کرنا پڑیگا۔
{13}خنزیر(pig) کے بال بلکہ اس کے جسم کے کسی بھی حصّے کی تجارت، " بیع باطل "ہے ۔
{14} مُردار( یعنی حرام جانور چاہے خود مرا یا کاٹا گیا،یا حلال جانور جو شرعی ذبح کے بغیر مرا) کی چربی(fat) کو بیچنایا اُس سے کسی قسم کا فائدہ اُٹھانا، ناجائز ہے نہ تو اُسے چراغ میں جلاسکتے ہیں اور نہ ہی چمڑا پکانے کے کام میں لاسکتے ہیں۔ مُردار کا پٹھا(اندرونِ جسم میں پائے جانے والے وہ ہلکے پیلے ریشے/ ڈوریاں کہ جن سے جسم کے حصّے سکڑتے( shrink کرتے) اورپھیلتے(expanded ہوتے) ہیں) ، بال، ہڈی، پَر(wing)، چونچ(beak)، کُھر(گائے ،بکری اور ہرن وغیرہ کے پاؤں) ، ناخن، ان سب کو بیچ بھی سکتے ہیں اور کام میں بھی لاسکتے ہیں۔ ہاتھی کے دانت اور ہڈی کو بیچ سکتے ہیں اور اسکی بنی ہوئی چیزیں ، استعمال بھی کرسکتے ہیں۔ (بہار شریعت ح۱۱،ص۷۰۶ تا ۷۰۸،مسئلہ،۴۴،۴۶،۴۷،۴۸،۴۹،۵۰،۵۱،مُلخصاً) مُردار( یعنی حرام جانور چاہے خود مرا یا کاٹا گیا،یا حلال جانور جو شرعی ذبح کے بغیر مرا) کے چمڑے(یعنی کھال) کی تجارت بھی "بیع باطل "ہے جبکہ پکایا /سُکھایا(dried animal's skin)نہ ہو، یا اس کی دباغت نہ کرلی ہو (یعنی پکاکر یاسُکھا کر رنگا(colourکیا) نہ ) ہو۔ ہاں ! اس کھال کو پکالیا /سُکھایا ، یا دباغت کر لی تو اب اس کی تجارت جائز ہے اوراس کو کام میں لانا بھی جائز ہے۔ (فتاوی رضویہ ج۲۳،ص۱۵۹،ماخوذاً)

’’کاروبار کی مختلف صورتیں(different cases) اور مسائل‘‘

فرمانِ آخری نبی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:
کوئی شخص اپنے بھائی کی بیع (یعنی سودے)پر بیع (سودا)نہ کرے۔(صحیح مسلم،کتاب البیوع، الحدیث:۸۔ (۱۴۱۲)، ص۸۱۴) یعنی جب ایک شخص نے دام (rate)طے کر لیا ہو تو دوسرا شخص اُس کا دام(rate) نہ لگائے۔ (بہار شریعت ح۱۱،ص۷۲۰،مُلخصاً)
واقعہ(incident): مٹی بھی خریدتے تو فائدے میں رہتے
حدیث شریف کی سب سے اہم کتاب’’بخاری شریف‘‘ میں ہے، حضرت عُرْوَة اِ بْنِ أَبِي الجَعْد رَضِیَ اللہُ عَنْہ کہتے ہیں کہ رَسُوْلَ اﷲ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نے ان کو ایک دینار دیا تھا کہ حضور (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ) کے لیے بکر ی خرید لائیں۔ انھوں نے ایک دینار کی دو (2)بکریاں خرید کر ایک کو ایک دینار میں بیچ ڈالا اور حضور (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ) کی خدمت میں ایک بکری اور ایک دینا ر لا کر پیش کیا، اُن کے لیے حضور(صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ) نے دُعا کی تو ان کی تجارت میں برکت (blessing)ہو گئی۔ اس دعا کا فائدہ یہ ہواکہ مٹی بھی خریدتے تو اُس میں نفع (profit) ہوتا۔(صحیح البخاري،کتاب المناقب،الحدیث:۳۶۴۲،ج۲،ص۵۱۳)
مکروہ بیع ( یعنی ناپسندیدہ خرید وفروخت):
{1}"بیع مکروہ" ایسی تجارت ہے کہ جو شرعاً(یعنی دینِ اسلام میں)منع ہے اور اس کا کرنے والا گنہگار بھی ہوگا مگر اس کی خرابی " بیع فاسد" سے کم ہے لیکن پھر بھی کچھ عُلَمائے کِرام فرماتے ہیں کہ اس تجارت کو بھی ختم کر دیا جائے۔
{2}اذان ِجمعہ شروع ہونے سے نمازِ جمعہ ختم ہونے تک خرید وفروخت (buying and selling) کرنا "مکروہ تحریمی"، ناجائز و گناہ اور جہنّم میں لے جانے والا کام ہے۔یہاں" اذان" سے مراد" پہلی اذان" ہے کہ پہلی اذان ہی سے نمازِ جمعہ کی تیاری کے لیے کوشش کا وقت شروع ہوتا اور اب نماز کے لیے جانے کی کوشش واجب(اور لازم ) ہوجاتی ہے ۔ہاں! جن لوگوں پرجمعہ کی نماز واجب نہیں ہوتی،اُن کا تجارت کرنا بھی مکروہ نہیں ، مثلاً عورتیں یا مریض ۔ مشورہ ہے کہ مسجد انتظامیہ/کمیٹی کو چاہیے کہ جمعہ کی نماز سے پہلے ہونے والا (اردو وغیرہ کا)بیان پہلے رکھوائیں پھر پہلی اذانِ جمعہ پھر سنتیں پھر دوسری اذان و (عربی)خطبہ و نماز ہو، تاکہ(سُست/غافل) لوگ پہلی اذان کے بعد جمعہ کی کوشش میں مصروف (busy)نہ ہونے کی وجہ سے گناہ گار نہ ہوں۔
{3} "نَجْش" بھی مکروہ ہے کہ خود پیارے آقاصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نے اس سے منع فرمایا ۔"نَجْش" یہ ہے کہ دو آدمی آپس میں خرید و فروخت (buying and selling) کرنا چاہتے ہیں، بات چیت کر رہے ہیں، اب تیسرا شخص(3rd person) آئے اور "مَبِیْع" (خریدے جانے والے سامان)کی قیمت کو بڑھا دے لیکن یہ تیسرا شخص خود خریدنے کی نیّت (intention) نہیں رکھتا بلکہ یہ تیسرا آدمی اس لیے دام(قیمت۔rate) بڑھا رہا ہے تاکہ پہلے سے موجود گاہک (customer) کی "مَبِیْع" (خریدے جانے والے سامان) میں دلچسپی بڑھے اور وہ زیادہ پیسوں میں خرید لے۔ اصل میں (in reality) یہ خریدار کو دھوکا دیا جارہا ہوتاہے جیسا کہ کچھ دُکاندار، اپنے پاس اس طرح کے ملازم (servant) رکھتے ہیں کہ جب کوئی گاہک آتا ہے تو یہ بھی گاہک بن کر آجاتے اور قیمت زیادہ لگا دیتے ہیں جسے دیکھ کر پہلا گاہک دھوکا کھا جاتا ہے۔ گاہک کے سامنے"مَبِیْع"(یعنی سامان)کی تعریف میں ایسی خوبیاں(qualities) بتانا کہ جو باتیں اس چیز میں نہ ہوں تاکہ خریدار دھوکا کھاجائے ،یہ بھی" نجش"( اور مکروہ )ہے۔ یاد رہے کہ جس طرح ایسا کرنا "تجارت "میں منع ہے ، اسی طرح "نکاح" ،"اجارہ"، وغیرہ میں بھی منع ہے۔
{4} پیارے آقاصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نے "تَلَقِّی جَلَب" سے بھی منع فرمایا ہے۔ یعنی شہر کے باہر سے تاجر (trader) جو غلّہ(اناج ۔grain ) لا رہے ہیں اُن کے شہر میں آنے سے پہلے ہی خریدلینا ۔اس کی دو (2) صورتیں ہیں : (۱)ایک یہ کہ اہل شہر کو غلّہ(اناج ۔grain ) کی ضرورت ہے اوریہ اس لیے ایسا کرتا ہے کہ غلّہ(اناج ۔grain ) ہمارے پاس ہی ہوگا پھر جتنا مہنگا بیچنا چاہیں گے، بیچیں گے۔ (۲) دوسری صورت یہ ہے کہ شہر والا، غلّہ لانے والے تاجروں کو شہر کا دام (rate) غلط بتا کر اُس کا مال خریدنا چاہے( مثلاً شہر میں ایک چیز مہنگی بکتی ہے، شہر والےنے کہا کہ یہ چیز آج کل بہت سستی ہے اور دھوکا دیکر وہ مال خریدنا چاہتا ہے) ،تو یہ بھی منع ہے۔ نوٹ:
اگر یہ دونوں باتیں نہ ہوں تو شہر کے باہر جا کر مال خرید لینا منع نہیں ہے۔
{5} حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نے اس سے منع فرمایا کہ شہری آدمی دیہاتی (villager)کے لیے" بیع" کرے(صحیح مسلم،کتاب البیوع، الحدیث:۱۹۔(۱۵۲۱)،ص۸۱۶) یعنی دیہاتی کوئی چیز بیچنے کے لیے بازار میں آتا ہے لیکن وہ قیمت (rate) نہیں جانتا اور سستی بیچ ڈالے گا تو کوئی شہری کہتا ہے :"تو مت بیچ"، میں مہنگےداموں(اچھی قیمت) میں بکوا دونگا اور وہ شہری اس دیہاتی کا بروکر (broker)بن کر بیچتاہے(اس سے منع کیا گیا ہے)۔ (بہار شریعت، ح۱۱،ص ۷۲۴،مُلخصاً)
(۱)حرام: یہ ہے کہ بستی میں کوئی شخص غلّہ(اناج ۔grain ) لے کر آئے تو کوئی آدمی وہ سارا خریدلے پھر جتنا مہنگا چاہے ، اُتنا مہنگابیچے کہ جس کی وجہ سے بستی والوں پر تنگی ہوجائے(لوگ تکلیف میں آئیں)۔(۲) مکروہ: یہ ہے کہ اس طرح خریدنے سے بستی پر تنگی (تکلیف)تونہ ہو مگر خریدنے والا یہ چاپتاہو کہ قحط پڑے (بستی میں غلّہ کم ہو جائے) اور مجھے بہت نفع (profit)ملے۔ (۳) جائز : یہ صورت(case) ہے کہ اوپر بتائی ہوئی دونوں باتوں کے علاوہ ہو(یعنی نہ تو بستی والے تنگ ہوں اور نہ ہی غلّہ خریدنے والا یہ چاہتا ہو کہ بستی والوں کا غلّہ کم ہو جائے)، تو اب بالکل بھی کراہت (مکروہ) نہیں ۔ ( فتاویٰ رضویہ،ج۱۷، ص۱۹۲، مُلخصاً)
{6}" اِحْتِکَار" یعنی غلّہ(اناج ۔grain ) روکنے کی ایک صورت یہ ہے کہ جب دام (rate)کم ہو تو غلّہ(اناج ۔grain ) خریدلے مگر اُسے نہ بیچے بلکہ روک لے(stockکر لے)، پھر جب لوگ بہت پریشان ہوں گے تو اب خوب مہنگا کر کے بیچے اگر یہ صورت(case) نہ ہو بلکہ جب غلّہ(اناج ۔grain ) آیاخریدلیا، بیچا نہیں مگر جب دام (rate) بڑھ گئے توبیچ دیتا ہے یہ " اِحْتِکَار" نہیں ہے اور نہ ہی ایسا کرنا منع ہے۔ غلّےکے علاوہ ، کسی چیز میں " اِحْتِکَار"نہیں ہوتا۔(بہار شریعت ح۱۱،ص۷۲۲ تا ۷۲۵،مسئلہ۱،۲،۳،۴،۵،۶،۷،مُلخصاً)
دوسری جگہ سے غلّہ(اناج ۔grain ) خرید کر لایا، اگر وہاں سے عموماً یہاں غلّہ(اناج ۔grain )آتا ہے تو اس کا روکنا بھی " اِحْتِکَار" ہے اگر وہاں سے یہاں غلّہ(اناج ۔grain ) لانے کی عادت جاری نہ ہو تو روکنا "اِحْتِکَار"نہیں۔ نوٹ: اس دوسری صورت میں بھی بیچ ڈالنا مستحب(اور ثواب کا کام) ہے کہ روکنے میں یہاں بھی ایک طرح کی کراہت (یعنی یہ بھی ایک طرح سے مکروہ ہی)ہے۔
" اِحْتِکَار" اسی وقت ہوتا ہے کہ جب غلّہ روکنا وہاں کے لوگوں کی تکلیف کا سبب بنے اور مہنگائی ہو جائے، یا یہ صورت (case)ہو کہ سارا غلّہ(اناج ۔grain ) اسی کے پاس ہو اور قحط پڑنے کا خوف ہو یعنی پھر دوسری جگہ غلّہ(اناج ۔grain ) نہ ملے گا۔
اسی طرح اپنی زمین کا غلّہ(اناج ۔grain ) روک لینا " اِحْتِکَار" نہیں۔ ہاں! اگر یہ شخص قحط پڑنے(دوسری جگہوں پر اناج ختم ہونے) کا انتظار کر رہا ہے تو اس بری نیّت(bad intention) کی وجہ سے گنہگار ہوگا ۔
" اِحْتِکَار" انسان کے کھانے کی چیزوں میں بھی ہوتا ہے، مثلاً اناج ، انگور بادام وغیرہ ۔اسی طرح "اِحْتِکَار" جانوروں کے چارے(کھانے کی چیزوں) میں بھی ہوتا ہے جیسے گھاس وغیرہ۔ (بہار شریعت ح۱۱،ص۴۸۳،مسئلہ۱۸ تا ۲۶،مُلخصاً)
بیع فضولی کا بیان:
{1}"فضولی" اُس شخص کو کہتے ہیں کہ جو دوسرے کے حق (right)میں بغیر اجازت تَصَرُّف (یعنی دخل اندازی، کاروائی)کرے، مثلاً بغیر اجازت کسی دوسرے کی چیز بیچ دینا۔"بیع فضولی" وہ تجارت ہے کہ جو مالک (owner) کی اجازت کے بغیر کوئی دوسرا شخص اپنی طرف سے کردے۔
{2} "فضولی" نے دوسرے کی چیز بغیر اجازت بیچ دی تو یہ"تجارت" پوری نہیں ہوئی ، مالک اجازت دے گا تو یہ تجارت پوری ہوگی ، اگر اجازت نہ دی تو یہ تجارت ختم ہو جائے گی ۔ اگر "فضولی" نے خود وہ چیز اپنے ہی ہاتھ فروخت کی (یعنی دوسرے کی چیز اسکی اجازت کے بغیر اپنے آپ کو بیچی اور پھر خود خریدلی مثلاً یہ کہا کہ:" میں نے اس شخص کی طرف سے بیچی اور میں نے ہی خریدی")تو تجارت ہی نہ ہوئی۔
{3} " بیع فضولی" کو جائز (ok)کرنے کے لیے یہ شرط (precondition)ہے کہ "مَبِیْع"(بیچی گئی چیز) موجود ہو اگر "مَبِیْع" ہی استعمال ہوگئی یا ختم ہوگئی تو تجارت کس چیز کی جائز(ok) کریں گے؟ " بیع فضولی" کو جائز (ok)کرنے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ فضولی(بغیر اجازت بیچنے والا) اور خریدار (buyer) دونوں اپنے حال پر ہوں یعنی یہ نہ ہو کہ انہوں نے ہی سودا ختم کر دیا ہو،جب سودا ہی نہ رہا تو جائز (ok) کس چیز کو کریں گے؟ اگر ان دونوں (یعنی "فضولی" اور "خریدار") میں سے کوئی(ایک بھی) مرگیا تو اب بھی اس سودے کو جائز (ok) نہیں کیا جاسکتا ۔
{4} مالک کا یہ کہنا:" تونے بُراکیا" ،یا "تونے اچھا کیا"، یا "ٹھیک کیا"، یا" مجھے تجارت کی مشکلوں سے بچا لیا" ، یا "خریدار کو پیسے تحفے میں دے دینا"، یا"خریدار کو پیسے صدقہ کردینا"،یہ سب الفاظ مالک کی طرف سے اجازت کے ہیں۔ اگر یہ کہا:" مجھے منظور نہیں"، یا "میں اجازت نہیں دیتا"تو یہ سودا،رَد (cancel)ہوگیا۔
{5} مالک کو پتا چلا کہ "فضولی" نے اس کی فلاں چیز بیچ دی اور مالک نے جائز(ok) کردی لیکن ابھی "ثمن" (یعنی کتنے پیسوں میں بیچی، یہ ) معلوم نہیں ہوا تھا پھر بعد میں جب پیسوں کا معلوم ہوا تو مالک اب یہ سودا،رَد (cancel) نہیں کر سکتا۔
{6}" فضولی" نے مالک کے سامنے، اس کی چیز بیچ دی اورمالک خاموش رہا یعنی انکار نہ کیا (مثلا ً اس طرح کی کوئی بات نہیں کی کہ "میں اس سودے کی اجازت نہیں دیتا") تب بھی اسے مالک کی اجازت نہ کہا جائے گا۔ (بہار شریعت ح۱۱،ص۷۲۶ تا ۷۳۱،مسئلہ۴،۵،۷،۱۰،۲۰،۲۲،۲۵،مُلخصاً)
اقالہ :
{1} دوآدمیوں نے جو عقد(مثلاً سودا) کیا ہو، اُسے اُٹھا دینے (ختم کر دینے)کو "اقالہ" کہتے ہیں۔ یہ کہا:" میں نے اقالہ کیا"، یا " میں نے چھوڑ دیا"، یا " میں نے فسخ (ختم)کیا "،یا دوسرے کے کہنے پر "مَبِیْع" (بیچا گیا سامان) واپس کر نا اور دوسرے کا واپس لینا،یا دوسرے کے کہنے پر"ثمن "(مثلاً پیسوں) کو واپس کرنا اور دوسرے کا لے لینا، یہ سب " اقالہ" کی مثالیں ہیں ۔ دونوں میں سے ایک "اقالہ "کرنا چاہتا ہے تودوسرے کا "اقالہ"قبول(accept)کرلینا، مستحب ہے اور ثواب کا کام ہے۔
{2} "اقالہ" کرنے کی کچھ شرطیں (preconditions) ہیں: (۱) دونوں(بیچنے والے اور خریدار) کا راضی (agree) ہونا۔(۲) مجلس (جگہ) کاایک ہونا۔(۳) اگر "بیع صرف "(سونے چاندی کی تجارت) ( )کا "اقالہ" ہو تو اُسی مجلس(جگہ) میں ایک ساتھ سونا/چاندی کا واپس ہونا۔ (۴)"مَبِیْع" (بیچی گئی چیز)کا موجود ہونا توشرط (precondition)ہے مگر "ثمن "(مثلاً پیسوں)کا باقی رہنا شرط نہیں(یعنی پیسے استعمال کر لیے ہوں تب بھی "اقالہ" ہو سکتا ہے)۔(۵)"مَبِیْع" ایسی چیز ہو جس میں خیارِ شرط ،خیارِ رؤیَت ، خیارِ عیب( ) کی وجہ سے بیع ختم ہوسکتی ہو یعنی "مَبِیْع" ایسی نہ ہو کہ جس میں کوئی اضافہ ہونے کی وجہ سے، تجارت کو ختم نہیں کیا جاسکتا ہو (جیسے کپڑے کو رنگ دینا، گھر میں نئی تعمیرات(new construction) کروادینا)کیونکہ ایسا اضافہ ہونے کے بعد" اقالہ" نہیں ہوسکتا۔ (۶)بائع نے "ثمن "( پیسے) پر قبضہ کرنے (مثلاً ہاتھ میں لینے) سے پہلے ہی تحفہ نہ دیا ہو(کیونکہ اس صورت(case) میں"اقالہ" نہیں ہوسکتا)۔
{3} "اقالہ" میں دوسرے کا قبول(accept) کرنا بھی ضروری ہے یعنی صرف ایک شخص "اقالہ" نہیں کرسکتا اور یہ بھی ضرور ی ہے کہ قبول(accept) اُسی مجلس(جگہ) میں ہو لہٰذا اگر ایک نے "اقالہ" کے الفاظ کہے مگر دوسرے نے قبول (accept)نہیں کیا، یا ()مجلس(یعنی وہاں سے جانے) کے بعد قبول (accept) کیا تو " اقالہ" نہ ہوا۔
{4} بائع (seller)نے اگر خریدار(buyer) سے کچھ زیادہ رقم (amount) لے لی ، اب خریدار "اقالہ" کرانا چاہتا ہے تو بائع (بیچنے والے) کو چاہیے کہ "اقالہ" کردے۔ ہاں! اگر خریداری (سودے) میں بہت زیادہ دھوکا ہوا ہے تو اب خریدار اکیلے (alone) ہی "اقالہ" کر سکتا ہے۔
{5} "اقالہ "کرتے ہوئے"مَبِیْع" موجود تھی مگر واپس دینے سے پہلے ہی ہلاک ہوگئی تو اب " اقالہ" نہیں ہو سکتا۔
خریداری ہوئی ،اگر کم یازیادہ پر اقالہ ہواتو ایسی شرط (precondition)"باطل "ہے (یعنی کم اور زیادہ پیسوں پر "اقالہ" نہیں ہوسکتا) ۔ ہاں! اگر "مَبِیْع"میں نقصان(عیب) آگیا ہے توکمی کے ساتھ "اقالہ" ہوسکتا ہے۔
{7} کپڑا خریدا اور اُس کو واپس کرنے گیا اس نے "اقالہ" کا لفظ زبان سے نکالاہی تھا کہ بائع (بیچنے والے)نے فوراًکپڑا لے کر کاٹ دیا تو یہ بھی "اقالہ" ہے اور ایسا کرنا بھی اقالے کو قبول(accept) کرناہے۔
{8}اقالہ کو شرط (precondition) پر مُعَلَّق کرنا(مثلاً اگر ایسا ہوا تو "اقالہ" ہو جائے گا) صحیح نہیں۔ جیسے بیچنے والےنے خریدار سے کہا: میں نے یہ چیز تمہیں بہت سستی دی ہے تو خریدارنے کہہ دیا:اگرتمہیں اس سے زیادہ دینے والا گاہک(customer) مل جائے تو اُسے زیادہ میں بیچ دینا۔ تیسرے شخص نے اُس چیز کا دام (rate) زیادہ لگا دیا تو بائع(seller) تیسرے شخص کو نہیں بیچ سکتا کیونکہ یہ پہلے سودے کا "اقالہ" ہوگا اور اس طرح "اقالہ" نہیں کر سکتے۔(بہار شریعت ح۱۱،ص۷۳۴ تا ۷۳۷،مسئلہ۱،۲،۵،۶،۷،۱۴،۱۸،۱۹،۲۰،مُلخصاً)

"مرابحہ"(نفع (profit) کے ساتھ تجارت) اور "تولیہ" (بغیر نفع (profit) کے تجارت):
{1} کبھی ایسا ہوتاہے کہ خریداراتنا سمجھدار(sensible) نہیں ہوتا کہ خود واجبی قیمت (market rate)پر چیز خریدسکے تو اُسے کسی دوسرے شخص پر بھروسہ (trust)کرنا پڑتا ہے کہ جو اُسے سامان خرید کر دلا دے۔ اب اس کی دو صورتیں ہوتی ہیں: (۱) دوسرا شخص جس قیمت میں خریدے گا، اُسی میں پہلے کو دے گا۔(۲) دوسرا شخص جس قیمت میں خریدے، اُس پر نفع (profit) رکھ کر پہلے شخص کو دے گا۔ قیمت پر دینا(rate to rate)"بیع تولیہ" ہے جبکہ نفع رکھ کر دینا" بیع مُرابحہ" ہے۔ "بیع مطلق"(یعنی عام تجارت) اور ان(یعنی "بیع تولیہ" اور" بیع مُرابحہ") میں صرف اتنا ہی فرق ہے کہ یہاں اپنی خرید کا دام(rate) بتا نا ہوگا پھر اگراُتنی ہی رقم (amount) لینا چاہتا ہے تو"بیع تولیہ" ہے اور اگر نفع (profit) کی ایک مُتَعَیَّن (طے شدہ۔fixed) رقم زیادہ کرتاہے تو" بیع مُرابحہ"ہے۔ نوٹ: یہاں خریدار(buyer)نے بائع(بیچنے والے) پر بھروسہ (trust)کیا ہے لہٰذا سچائی اور امانت سے یہ کام لینا ضروری ہے۔
{2} چیز کی قیمت(price) ، اس پر ہونے والے اخراجات (expenses) اور نفع (profit) سب کچھ بتایا تو "بیع مُرابحہ" ہے()اگر نفع (profit) کچھ نہیں لیا تو اس کو "بیع تولیہ"کہتے ہیں۔ نوٹ:جو چیز خریداری کے علاوہ (other) کسی اور طریقہ سے مِلک(ownership)میں آئی تو اُس میں نفع (profit) لگا کر " بیع مُرابحہ"ا اور بغیر نفع "بیع تولیہ"کرسکتے ہیں۔مثلاً خریدار کوکسی نے وہی چیز تحفے میں دے دی، یا ()وراثت (یعنی کسی کے انتقال کے بعد ملنے والےمال) میں ملی پھر اُس کی بازاری قیمت (market rate)لگا کر" بیع مُرابحہ"ا ور "بیع تولیہ"کر لی۔
{3} " بیع مُرابحہ" کا نفع (profit) معلوم ہونا ضروری ہے ۔ مثلاً اس طرح " بیع مُرابحہ" کی کہ ہردس پر ایک روپیہ نفع (profit) ہوگا( یعنی دس (10)کی چیز ، گیارہ (11) روپے کی اوربیس (20)کی چیز، بائیس(22) روپے کی پڑے گی) ۔یاد رہے کہ یہ "نفع " سودا طے(final) کرتے وقت یا اسی مجلس(جگہ) میں طے کرنا ضروری ہے۔ اگر یہ طے نہ ہوا تو " بیع فاسد" ہو جائے گی۔ (بہار شریعت ح۱۱،ص۷۳۸،مسئلہ۱،۴،۶،مُلخصاً)
کون سے خرچے(expenses) کا، رَاس ُالْمَال(capital) میں اضافہ کیا جائے گا:
{1}تجارت میں جب چیز خریدی جاتی ہے تو اس پر خرچہ بھی کرنا پڑتا ہے(مثلاً جانور لیا اور اُسے چارہ کھلایا)، جبکہ دوسری طرف " بیع مُرابحہ"ا ور"بیع تولیہ" میں چیز کی قیمت بھی بتانی پڑتی ہے۔ کونسا خرچہ(expense) ، "مَبِیْع" میں ملا یا جائے گا؟ اس کا قاعدہ/اصول یہ ہے کہ یہاں تاجروں (traders) کا عُرف (اور ان کی عادت کو) دیکھا جائے گا کہ وہ لوگ جس خرچے کو "مَبِیْع" کے ساتھ ملاتے ہیں؟ تو اُسے ملایا جائے گا اور جسے نہیں ملاتے تو اُس خرچےکو نہیں ملایا جائے گا۔
جو خرچہ ملایا جائے گا، اُسے ملانے کے بعد بائع (seller)یہ نہ کہے:" میں نے اتنے میں خریداہے "کیونکہ یہ تو جھوٹ ہے بلکہ یہ کہے:" مجھے اتنے میں پڑی ہے"۔
{2} رَاس ُالْمَال(capital، خریدے گئے سامان کی قیمت) ہی سے" بیع مُرابحہ" اور"بیع تولیہ" ہوتی ہے (کہ اس پر نفع (profit) رکھاتو "بیع مُرابحہ"اور نہ رکھاتو "بیع تولیہ") مگرکچھ خرچےاس میں ملائے جاتے ہیں ۔ مثلاً تھان خریدا اور اُسے دُھلوانے کی ضرورت ہے اور دُھلوایا تودھوبی کی اُجرت (wages) اس تھان میں ملائیں گےجانور کو کھلایا ہے تو اس خرچے کو بھی رَاس ُالْمَال(capital) سے ملائیں گے۔ نوٹ:اگراُس جانور کو کھلانے کے بعد اُس جانور سے دودھ لیا، یا اُس کا گھی بنایا تو اب اُس چارے(جانور کے کھانے) کی رقم میں سے اس (دودھ وغیرہ) کی رقم کو کم کریں۔ مرغی پر کچھ خرچ کیا اور اُس نے انڈے دیے ہیں تو انڈے کی قیمت کم کر کےباقی خرچے کی رقم کو ملائیں گے۔ "کھیت" یا "باغ "کو پانی دیا ہے ،اُس کو صاف کرایا ،یا پانی کی نالیاں(drains) درست کرائیں، یا اُس میں درخت لگا یا تو یہ خرچہ ملایا جائے گا۔ مکان کیمَرَمَّت(repairing)کرائی ہے صفائی کرائی پلاستر(plaster)کرایا کنواں (well) کھدوایا تو ان سب اخراجات(expenses) کو ملایا جائے گا بروکر (broker)کو جو کچھ دیا گیا ہے، وہ بھی ملایا جائے گا۔
{3} چرواہے (جانور کو گھانس وغیرہ کھلانے کے لیے جنگل وغیرہ میں لے کر جانے والے)کی اُجرت(wages) ،یا ()خود (" بیع مُرابحہ"ا ور"بیع تولیہ" کرنے والے) پر ہونے والے اخراجات ، مثلاً جانے آنے کا کرایہ اور سفر کا کھانا پینا، یا جو کام خود کیا ، یا کسی نے مفت کردیا تو ان سب کو نہیں ملائیں گے۔
{4} گھوڑے کا علاج کرایا اورعلاج کرنے والے کو اُجرت(wages) دی، یا ()جانور بھاگ گیا کوئی پکڑ کر لایا اُسے مزدوری (wage) دی، اس کو رَاس ُالْمَال(capital)سے نہیں ملائیں گے۔
{5}"مَبِیْع" میں کوئی عیب بعد میں معلوم ہوااور خریدار ا س پر راضی(agree) ہوگیا تو بھی" بیع مُرابحہ" ہو سکتی ہے یعنی عیب کی وجہ سے" ثمن"(یعنی پیسوں) میں کمی کرنے کی ضرورت نہیں() اسی طرح اگر" بیع مُرابحہ" کے بعد بائع(بیچنے والے) کی خیانت(cheating)معلوم ہوئی (مثلاً اُس نے چیز کم میں خریدی اور رقم زیادہ بتائی) مگر خریدارنے"مَبِیْع"کوواپس نہیں کیابلکہ اُس تجارت پرراضی(agree)رہاتوبائع(seller)نےجس" ثمن" (مثلاً پیسوں ) پر خریدی کی تھی ،اُسی پر" بیع مُرابحہ" کریگا۔
{6} جس وقت بائع نے خریدی تھی اُس وقت قیمت زیادہ تھی مگر بعد میں قیمت کم ہوگئی تواس بات کو بتانا، بائع(seller) پر لازم نہیں۔ ()کوئی چیز مہنگی خریدی اور لوگ اتنی مہنگی نہیں لیتے تو " بیع مُرابحہ" و"بیع تولیہ" میں یہ بات بتانا ضروری ہے۔ (بہار شریعت ح۱۱،ص۷۴۱ تا ۷۴۶،مسئلہ۱،۴،۶،۸،۹،۱۰،۱۱،۱۲،۱۳،۱۵،۱۶،۲۵،۲۷،۲۹،۳۰،۳۱،۳۲،مُلخصاً)
جائیداد غیر مَنْقُوْلَہ اور شُفعہ کا بیان:
{1} جائدادِغیر مَنْقُوْلَہخریدی (یعنی جو ایک جگہ سے دوسری جگہ نہ جاسکتی ہو،مثلاً گھر) ، اُس کو قبضہ کرنے (مثلاًہاتھ میں لینے)سے پہلے ہی بیچنا جائز ہے کیونکہ اس کاہلاک (تباہ /ختم )ہونا بہت ہی کم ہوتاہے۔ اگر وہ ایسی چیز ہو کہ جس کے ضائع (waste)ہونے کا ڈر ہوتوجب تک قبضہ نہ کرلے (مثلاً ہاتھ میں نہ لے لے)،آگے نہیں بیچ سکتا مثلاً دریا کے کنارے کا(by the river) گھر ۔
{2} غیر مَنْقُوْلَہ جائداد (مثلاً گھر)کو کسی شخص نے جتنے میں بیچا تو کچھ شرطوں (preconditions)کے ساتھ، دوسرے شخص کو یہی جگہ، اُسی قیمت(price) میں خریدنے کاحق(right) ، " شُفعہ" کہلاتاہے(مثلاً مالک نے ایک گھر ایک کروڑ (ten million)کا بیچا تو کسی دوسرے شخص کو یہ اختیار(option) ہو کہ اگر چاہے تو وہ یہ گھر ایک کروڑ(ten million) میں لے لے، اسے" شُفعہ" کہتے ہیں)۔ "شُفعہ" وہ شخص کر سکتا ہے جس کا اپنا گھر یا اپنی زمین، اُس جائداد(یعنی گھر یا زمین) سے ملی ہوئی ہو کہ جسے بیچا گیا ہے۔ چاہے وہ شخص بیچی گئی زمین میں شریک(partner) ہو یا بیچی گئی جگہ کا پڑوسی ہو۔ یہاں اس کی ضرورت نہیں کہ خریدار(buyer)اس پر راضی (agree)ہو تو ہی" شُفعہ "کیا جائے گا بلکہ وہ راضی ہو یا ناراض (upset)ہرصورت میں (in any case) " شُفعہ " کا حق(right) پڑوسی یا شریک (partner) کو حاصل ہوتا ہے،اس حق(right) رکھنے والے کو "شَفیع "کہتے ہیں۔
{3}" شُفعہ کی کچھ شرطیں (preconditions) ہیں: (۱)جائداد ،" بیع"(یعنی تجارت) یا "معنی بیع"(مثلاً صُلح یعنی کسی بات پراتفاق کرنے) سے ملی ہو۔اگر ان دونوں باتوں سے جائداد نہ ملی ہو تو "شُفعہ "نہیں ہوسکتا مثلاً تحفے ، یا صدقے، یا وراثت (یعنی کسی کے انتقال کرنے کی وجہ سے )ملی ہو تو اُس پر "شُفعہ "نہیں ہوسکتا۔ (۲) "مَبِیْع"(بیچی گئی جگہ) جائداد غیر مَنْقُوْلَہ(مثلاً زمین) ہو، مَنْقُوْلَہ(ایک جگہ سے دوسری جگہ چلی جانے والا مثلاً عارضی خیمہ۔temporary tent ) نہ ہو۔ (۳)بائع(بیچنے والے) کی مِلک(ownership) مکمل ختم ہوگئی ہو لہٰذا "خیارِ شرط"( زیادہ سے زیادہ تین(3)دن کے اندر سوداختم کرنے کے اختیار(option) پر) دی ہوئی نہ ہو کیونکہ اس پر " شُفعہ "نہیں ہوسکتا ۔یعنی جب " خیارِ شرط" ختم ہو کر تجارت مکمل ہوگی تو "شُفعہ "ہوسکتا ہے۔(۴)بائع (seller) کا حق(right) بھی ختم ہوگیا ہو کہ "مَبِیْع"کے واپس لینے کا اُسے حق(right) نہ ہو یعنی "بیع فاسد" نہ ہو بلکہ سودا صحیح طرح مکمل ہو گیا ہو۔ہاں !اگر " بیع فاسد" کے بعد دوبارہ صحیح طرح اس جگہ کی خرید وفروخت (buying and selling) کر لی تواب "شُفعہ" ہوسکتا ہے ۔(۵) بیچی گئی جائداد پر ایسی جگہ کی وجہ سے "شُفعہ" کرنے کا حق (right) ہوتا ہے کہ جو(پڑوس یا شرکت کی صورت میں) بیچنے کے وقت"شَفیع " (شُفعہ کا اختیار(option)رکھنے والا)کی مِلک (ownership) میں ہو (یعنی ایک جائداد بیچی گئی ، اس کے بعد کسی نے اُس جائداد کے پڑوس کی جگہ لے لی تو اب وہ پہلے بکنے والی جائداد پر" شُفعہ " نہیں کر سکتا، یا کسی شخص کے پاس بیچی گئی جائداد کے ساتھ کی جگہ کرائے پر تھی ،یا ()عارضی طور پر (temporary) تھی تو وہ بھی "شُفعہ " نہیں کرسکتا) ۔(۶) " شُفعہ " کرنے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ "شَفیع "(شُفعہ کا اختیار (option)رکھنے والا) اپنی پڑوس میں بکنے والی جائداد پر نہ تو صاف صاف لفظوں سے راضی(agree) ہوا ہو، اور نہ اس کے بکنے پر راضی ہونے کا کوئی اشارہ کیا ہو۔ (بہار شریعت ح۱۱،ص۲۳۳ تا ۲۳۴،مسئلہ۱،۲،مُلخصاً)
{4} " شُفعہ "، طلب کیا جاتا(یعنی مانگا جاتا)ہے۔"طلب" کے تین(3) درجے(steps) ہیں۔ (۱)طلب مُوَاثَبَہ، (۲)طلب تقریر/ طلبِ اِشہَاد ، اور(۳)طلب تَمْلِیْک۔
(۱) طلب مُوَاثَبَہ یہ ہے کہ جیسے ہی پڑوسی کو جائداد بکنے(sellہونے) کا معلوم ہو تو فوراً، اُسی وقت یہ ظاہر کر دے (مثلاً کہہ دے)کہ میں "شُفعہ " طلب کرتا (یعنی مانگتا )ہوںاگر بکنے کا معلوم ہواور" طلب "نہ کی تو "شُفعہ"کا حق(right) نہ رہا بہتر یہ ہے کہ اپنے طلب کرنے پر لوگوں کو گواہ (witness)بھی بنالے تاکہ یہ نہ کہا جاسکے کہ اس نے " طلب مُوَاثَبَہ " نہیں کیا۔
(۲) طلب تقریر/ طلبِ اِشہَاد :
: "طلب مُوَاثَبَہ "کے بعد" طلبِ اِشہَاد " ہوتاہے ۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ پڑوسی خریدار، یا بائع(بیچنے والے) ،یا اُس جگہ جا کر کہ جسے بیچا گیا،گواہوں کے سامنے"طلب" کرے۔ اگر اُس جگہ جا کر طلب کرے تویہ کہے کہ:" فلاں شخص نے یہ جائداد خریدی ہے اور میں اس کا "شَفیع " (شُفعہ کا اختیار(option)رکھنے والا) ہوں اور میں یہاں آنے سے پہلے" طلب شُفعہ" کرچکا ہوں اور اب پھر طلب (طلب تقریر/ طلبِ اِشہَاد )کرتا ہوں ،تم لوگ بھی اس کے گواہ رہو"۔
اگر خریدار کے پاس"طلب" کرے تو یہ کہے کہ:" تم نے فلاں جائداد خریدی ہے اور میں اس کے پڑوس کی فلاں جگہ کا مالک ہونے کی وجہ سے، خریدی گئی جگہ کا "شَفیع "ہوں (اور "شُفعہ" طلب کرتا ہوں )۔ اگر بائع (seller)کے پاس "طلب " کرے تو یوں کہے کہ:" تم نے فلاں جائداد بیچی ہے اور میں اس کے پڑوس کی فلاں جگہ کا مالک ہونے کی وجہ سے، بیچی گئی جگہ کا "شَفیع "ہوں (اور "شُفعہ" طلب کرتا ہوں ) ۔
(۳)طلب تَمْلِیْک: "شفعہ" کرنے والاقاضی کے پاس جاکریہ کہے کہ:" فلاں شخص نے فلاں جائداد خریدی ہے اور میں اس کے پڑوس کی فلاں جگہ کا مالک ہونے کی وجہ سے، بیچی گئی جگہ کا "شَفیع "ہوں، مجھے وہ جائداد دلادی جائے۔(بہار شریعت ح۱۱،ص ۲۴۴ تا۲۴۰، مسئلہ ،۱،۷،۹،۱۶ ،مُلخصاً)
"مَبِیْع"(بیچی گئی چیز)ا ور "ثمن"(مثلاً پیسوں) کو استعمال کرنا:
{1} منقول چیز(جو ایک جگہ سے دوسری جگہ جاسکے) خریدی تو جب تک قبضہ نہ کرلے (مثلاً ہاتھ میں نہ لیا)اُس کو آگے بیچ نہیں سکتے۔ ہاں! قبضہ کیے بغیر تحفے میں دے سکتے ہیں، یا صدقہ کر سکتے ہیں ، یا رہن (mortgage) رکھ سکتے ہیں قرض اور عارضی استعمال(temporary use) کے لیے دے سکتے ہیں ۔
{2} منقول چیز قبضے سے پہلے بائع(بیچنے والے) ہی کو تحفے میں دے دی اور بائع(seller) نے قبول(accept) بھی کرلی تو "بیع"(یعنی خرید و فروخت) ختم ہوگئی (یعنی خریدار کو اس کی رقم دینا لازم نہیں ہے) اور اگر بائع ہی کو بیچ دی تو یہ دوسری تجارت صحیح نہیں ہے، پہلی تجارت ہی باقی ہے۔
{3} بائع نے خریدار(buyer) کے قبضے(مثلاً ہاتھ میں آنے) سے پہلے ہی "مَبِیْع" کو استعمال کیا ، یا اُس میں کوئی تبدیلی کی تو اس کی دو (2)صورتیں(cases) ہیں: (۱)خریدار کے حکم سے ایسا کیا، یا (۲)بغیر حکم کے ایسا کیا۔
۱) بائع (seller)نے خریدار کے قبضے سے پہلے"مَبِیْع" کو خریدار کے کہنے پر استعمال کیا، یا اُس میں کوئی تبدیلی کی تو یہ بھی خریدار کا قبضہ مانا جائے گا(یعنی یہ کہا جائے گا کہ ایک طرح سے یہ چیز خریدار کے ہاتھ میں چلی گئی)۔ مثلاً خریدار نے کہا اس کو تحفے میں دے دو،یا کرائے پر دےدو اوربائع(بیچنے والے) نے ویساکردیا، جیسا خریدار نے کہا تھا، تو یہی کہیں گے کہ یہ چیز اب خریدار کے ہاتھ پہنچ گئی ہے۔ (۲) بائع(seller) نے خریدار کے قبضے سے پہلے"مَبِیْع" کو خریدار کے کہے بغیر استعمال کیا، یا اُس میں کوئی تبدیلی کی،مثلاً وہ چیز رہن (mortgage)رکھ دی، یا اُجرت پردے دی ، یا امانت رکھ دی اور وہ بیچی گئی چیز ہلاک (تباہ/ختمwaste/) ہوگئی تو تجارت ختم ہوگئی (اور یہ نقصان، بیچنے والے ہی کا ہوا)۔
ہاں! اگر وہ چیز بائع(بیچنےوالے) نے کسی کو عارضی استعمال(temporary use) کے لیے دی تھی ، یا تحفے میں دی تھی ، یا رہن (mortgage) میں دی تھی اور خریدار نے جائز (ok)کردیا تویہ بھی خریدار کا قبضہ ہوگیا۔
{4} ایک چیزخریدی تھی اُس پر قبضہ نہیں کیا بائع (seller)نے دوسرے کے ہاتھ زیادہ قیمت(rate) میں بیچ ڈالی اور خریدار نے تجارت کو جائز(ok) بھی کردیا تب بھی یہ تجارت درست نہیں کیونکہ یہ دوسری تجارت، پہلی تجارت کے قبضے سے پہلے ہوئی ہے۔
{5} جس نے کیلی (ماپ measure/کی ) چیز کیل(measure) کے ساتھ، یا وزنی چیز(weighty) وزن(weight) کے ساتھ خریدی ،یا عددی(countable) چیز گنتی(counting) کے ساتھ خریدی تو جب تک ناپ (measure) ، یا وزن(weight) ،یا گنتی(counting) نہ کرلے اُ س کو آگےبیچنا بھی جائز نہیں اور کھانا بھی جائز نہیں۔ اگر سامان اندازے سے خریدا ہے مثلاً "مَبِیْع" جوسامنے موجود ہے ، اُسےدیکھ کر ساری خریدلی ، نہ یہ کہا کہ :"اتنے کلو خریدا"، نہ یہ کیا کہ: "اتنا لیٹر خریدا"، نہ یہ کہا کہ: " اتنی تعداد میں (مثلاً بارہ عدد 12 pieces/) خریدا" تو یہ تجارت جائز ہے بعد میں بھی اسے ناپنے(measureکرنے) ، وزن کرنے اور گننے (count کرنے) کی ضرورت نہیں۔
{6} سودے کے بعد بیچنے والے نے خریدار کے سامنے ناپا (measure کیا) ،یا وزن کیا، تو اب خریدار کو دوبارہ ناپنے (measure کرنے) ، یا وزن کرنےکی ضرورت نہیں ۔ اگر سودے سےپہلے،بائع نے خریدار کے سامنے ناپا ، یا وزن کیا تھا تو سودے کے لیے یہ کافی(enough) نہیں ہے یعنی دوبارہ ناپے، یا وزن کیے بغیراُس چیز کا کھانا یا کسی اور کو بیچناجائز نہیں ہے۔
{7} مَوْزُوْنی(وزن سے بیچی جانے والی )چیزیں یا مکیلی (ماپ (measure)کے ساتھ بیچی جانے والی) چیزیں، "بیع تَعَاطِی" (یعنی کچھ بولے بغیر ایک دوسرے سے سامان اور پیسے لے دے کرسوداکر نے)کے ساتھ خریدیں توخریدار (buyer)کاناپنا(measure کرنا) ، یا وزن کرنا ضروری نہیں، صرف قبضہ کرلینا(مثلاً سامان اور پیسے ہاتھ میں لے لینا ہی) کافی(enough) ہے۔
{8} "ثمن "(مثلاً پیسوں) کو قبضہ کرنے (مثلاً ہاتھ میں لینے)سے پہلے ہی استعمال کرنا، جائز ہے۔اس پیسے کو تجارت، تحفے، صدقہ، اجارہ(wages) وغیرہ میں استعمال کر سکتے ہیں (مثلاً خریدار کو کہہ سکتے ہیں کہ یہ رقم فلاں کو تحفے یا تنخواہ(salary) میں دے دو)۔ (بہار شریعت ح۱۱،ص۷۴۷ تا ۷۵۰،مسئلہ۱،۲،۳،۴،۶،۷،۸،۹،۱۲،مُلخصاً)
"ثمن"و"مَبِیْع" میں کمی ، زیادتی کرنا:
{1} خریدار نے بائع (بیچنے والے)کے لیے پیسوں میں کچھ اضافہ کردیا (مثلاً ساڑھے چار سو(450)ر وپے میں کوئی چیز خریدی اور پانچ سو(500) کا نوٹ دے کر کہا کہ پورے ہی رکھ لو)، یا بائع(seller) نے "مَبِیْع"میں اضافہ کردیا (مثلاً سو (100 )روپے میں بارہ(12)کیلے لیے تھے لیکن دیتے ہوئے دو(2) کیلے زیادہ دے دیے) تویہ جائز ہے۔ خریدارنے"ثمن"(مثلاًپیسوں)میں اضافہ کیا تواس اضافےکےلازم ہونےکےلیےشرط (precondition) ہے کہ بائع(بیچنے والے) نے اُسی مجلس(جگہ) میں قبول(accept) بھی کرلیا ہواور اُس مجلس میں قبول نہیں کیا( چاہے بعد میں قبول بھی کرلیا) تب بھی وہ اضافہ(خریدار کو دینا) لازم نہیں۔
یہ بھی شرط ہے کہ"مَبِیْع" (خریدا گیا سامان)موجود ہو۔ "مَبِیْع"کے ہلاک ہونے کے بعد "ثمن" (مثلاً پیسوں) میں اضافہ نہیں ہوسکتا ۔ "مَبِیْع"میں بائع (seller)نے زیادتی کی تو خریدار(buyer) کا اُسی مجلس میں قبول(accept) کرناشرط ہے لیکن اس میں یہ شرط نہیں کہ "مَبِیْع"باقی رہی ہو،"مَبِیْع" ہلاک ہوگئی ہو تب بھی اُس میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
{2} "ثمن"(مثلاً پیسوں) میں بائع(بیچنے والا) کمی کرسکتا ہے مثلاً سو(100)روپے میں ایک چیز بیچی مگر بیچنے والے نے سوچاکہ خریدار(غریب مسلمان لگ رہا ہے، اس) کے لیے یہ مہنگی ہےتو بائع (seller)نے پیسے کم کردیے، اس طرح کرنا، جائز(اور اچھی نیّت کی وجہ سے ثواب کا کام) ہے۔ اس کے لیے، یہ بھی شرط (precondition) نہیں کہ "مَبِیْع" باقی رہے (یعنی بیچی گئی چیز اگر استعمال بھی ہوگئی ہو تب بھی یہ کمی ہوسکتی ہے) بلکہ یہ کمی پیسے ہاتھ میں لے لینے کے بعد بھی ہوسکتی ہے۔
{3} کمی یازیادتی (اضافہ)جوکچھ بھی ہوا، چاہے سودے کے بعد ہوا ہو، اسے اصل عقد(سودے)سے ملائیں گے، مثلاً تجارت سو(100)روپے میں ہوئی پھر بائع (seller)نے دس(10)روپے کم کردیے تو یہ کہا جائے گا کہ سودا نوّے(90)روپے کا ہوا۔ اسی طرح بارہ(12 ) کیلے کی بات ہوئی اور بائع(بیچنے والے) نے چودہ (14)کیلے کر دیے تو کہیں گے کہ سودا چودہ(14)کیلوں کا ہوا ہے۔
{3}کمی یازیادتی (اضافے) کو اصل سودے سے ملانے کا اثر(نتیجہ ):
(۱) " بیع مُرابحہ" و"بیع تولیہ" میں تبدیلی کے بعد کی رقم دیکھی جائے گی ۔
(۲) اگر بائع (بیچنے والے)نے شروع میں زمین کی قیمت (rate ) زیادہ رکھی تھی پھر بعد میں کم کر دی تو "شُفعہ" اسی رقم پر ہوگا کہ جو دام (rate) کم کرنے کے بعد بنی۔نوٹ: اگر خریدارنے بعد میں قیمت بڑھا دی تھی تب بھی پہلے دام(یعنی کم قیمت) پر" شُفعہ "ہوگا، اس لیے کہ "شَفیع "(شُفعہ کا اختیار(option)رکھنے والے)کا حق(right) ثمن اوّل (پہلے دام) سے ہوچکا تھا،اب اس حق (right) پر زیادتی نہیں ہوسکتی (اضافہ نہیں کیا جاسکتا)۔
(۳) بائع(بیچنے والے) کو یہ حق(right) ہوتا ہے کہ جب تک سامان کےپورے پیسے نہ ملیں،"مَبِیْع"(بیچی گئی چیز)کوروک لے۔اب اگر چیز کی قیمت بڑھا دی گئی تھی اور خریدار نے پہلے طے ہونے والی (کم) رقم مکمل دے دی تب بھی بائع،"مَبِیْع" کو روک سکتا ہے۔
(۴) "بیع صرف"( ) (سونے چاندی کی تجارت) میں کمی یا اضافہ کرنے پر اس بات کو دیکھنا بہت ضروری ہے کہ دونوں طرف برابری رہے مثلاً چاندی کو چاندی سے بیچا تھا اور پہلے دونوں طرف برابری تھی پھرایک نے زیادہ ،یا ()کم کردی ، دوسرے نے اس بات کو قبول(accept) کرلیا اور زائد یا کم پر قبضہ بھی ہوگیا(مثلاً ہاتھ میں لے لی) تو عقد(یعنی یہ سودا) "فاسد"( خراب) ہوگیا۔(بہار شریعت ح۱۱،ص ۷۵۲ تا۷۵۰،مسئلہ۱۶،۱۷،۱۸،۱۹،۲۰،مُلخصاً)
دَین(کاروباری قرض) میں جلدی کرنا:
{1} سودا ہوگیا پھربائع(بیچنے والے) نے خریدار(buyer) کو پیسے دینے میں مہلت دی(timeدیا) یعنی رقم دینے کی مُدَّت (duration) طے کردی اورخریدار نے بھی قبول (accept) کرلی تو اب یہ سودا، ادھار پر ہوگیا یعنی بائع(seller) اُس وقت سے پہلےخریدار سے رقم نہیں مانگ سکتا۔ نوٹ:ہر "دَین" (کاروباری قرض) کا یہی حکم ہے کہ پہلے جس کی مُدَّت (duration) طے نہ ہواور بعد میں طے ہوجائے تو وہ"دَین" مِیعَادِی( مُدَّت والا) ہوجاتا ہے مگر مَدیُون (جسے قرض دیا گیا)کا قبول(accept) کرنا شرط (precondition) ہے۔ اگر اُس نے انکار (denial) کردیا تو"دَین" مِیعَادِی نہ ہوگا فوراً اُس کا ادا کرنا واجب ہوگا اور دائِن (قرض دینے والا) جب چاہے گا مطالبہ(demand) کرسکے گا۔
{2} دَین کی مُدَّت (duration) کبھی معلوم ہوتی ہے، مثلاً فلاں مہینے کی فلاں تاریخ اور کبھی مجہول (یعنی معلوم نہیں ہوتی )مگر جہالت یَسِیرہ (معلومات کی وہ کمی(جِہالت) کہ جوجھگڑے کی طرف نہ لے جاتی ہو یعنی اُس وقت کی معلومات ہو سکتی ہو، مثلاً حاجیوں کے واپس آنے اور فصل کٹنے کے دن کا کہا) ہو تو جائز ہے۔ اور اگرزیادہ جہالت ہو مثلاً جب آندھی آئے گی یا پانی برسے گا تو اب یہ مُدَّت (duration) باطل ہے(یعنی اس مُدَّت کو نہیں مانا جائے گا)۔
{3} کچھ "دَین" ایسے ہوتے ہیں کہ اُن میں مُدَّت (duration)طے بھی کر لی جائے تب بھی وہ مِیعَادِی (مُدَّت والے) نہیں ہوتے:
(۱) پیسے قرض دیے تو یہ مِیعَادِی نہیں ہوتے ، چاہے کوئی مُدَّت (duration) بھی طے کر لی ہو یعنی قرض دینے والا، جب چاہے مانگ سکتا ہے۔
(۲) "بیع صرف" (سونے چاندی کی تجارت) ہاتھوں ہاتھ ہی ہوگی، قرض پر نہیں ہوسکتی ۔
(۳)بیع سلم کا"ثمن "جس کو رَاس ُالْمَال(capital)کہتے ہیں، اس کی مُدَّت (duration) طے کرنا جائز نہیں ہے، اُسی مجلس(جگہ) میں (رقم پر)قبضہ کرنا( مثلاًبائع کے ہاتھ میں دینا) ضروری ہے
(۴)خریدار (buyer)نے "شَفیع "(شُفعہ کا اختیار(option)رکھنےوالے)کے لیے مُدَّت (duration) طے کردی،تو یہ بھی صحیح نہیں ہے۔
{4}کچھ صورتوں(cases) میں قرض واپسی کی مُدَّت (duration) طے کرنا صحیح ہے: (۱) قرض لینے والا، قرض کا انکار (denial)کر رہا تھا(یعنی کہتا تھا کہ" میں نے قرض نہیں لیا") بعد میں ایک رقم (amount)پر "صلح" ہوئی(اتفاق ہوگیا) اور اس رقم کی واپسی کے لیے مُدَّت (duration) طے کر لی، تویہاں مُدَّت طے کرناصحیح ہے ۔ (۲) قرض لینے والے نے اپنے قرض کا حوالہ کروادیا(یعنی اب وہ قرض ، تیسرا آدمی(3rd person) دے گا اور قرض دینے والے نے یہ بات مان لی) پھر قرض دینے والے نے اُس (تیسرے) شخص کو مہلت دے دی (timeدے دیا) تو یہ صحیح ہے ۔ (۳) کسی شخص نے وصیّت کی (یعنی کہا )کہ فلاں شخص پر جو میرا قرض (باقی)ہے، میرے مرنے کے بعد ایک سال تک اُسکو مہلت(time) ہے تو قرض مِیعَادِی ہوجائے گا(یعنی اب اپنے وقت پر ہی واپس ملے گا)۔ (بہار شریعت ح۱۱،ص۷۵۲ تا ۷۵۴،مسئلہ۲۳،۲۴،۲۶،۲۷،مُلخصاً)

اِقرار :
{1} اپنے یا کسی دوسرے کے حق(right) کی خبر دینے کی تین(3) صورتیں (cases) ہیں:
(۱) اگر اپنے حق (right)کی خبر دیگاکہ فلاں پر میرا یہ حق ہے تویہ "دعویٰ"(claim) ہے۔
(۳) اگر کسی دوسرے کا حق(right) اپنے اوپر ہونے کی خبر دیگا تو یہ " اِقرار" (ایک چیز کو ماننا،accept کرنا)ہے۔ جس چیز کا "اِقرار" کیا، وہ چیز "مُقِرّ"(یعنی اِقرار کرنے والے)پر لازم ہو جاتی ہے۔
{2} ایک چیز جو "زید"(پہلے شخص) کی مِلک(ownership) میں ہے ،"عمر" (دوسرا شخص)کہتا ہے کہ یہ "بکر" (تیسرے شخص) کی ہے تو "عمر "(دوسرے شخص)کا یہ کہنا بھی " اِقرار "ہے یعنی زندگی میں کبھی ، اگر "عمر "(دوسرا شخص) اُس چیز کا مالک(owner) بن جائے گا تو اُسے یہ چیز "بکر"(تیسرے شخص) کو دینا واجب ہوگا۔
{3} ایک شخص نے کسی بات کا "اِقرار" کیا تو صرف اس "اِقرار"(accept کرنے) کی وجہ سے اُس (شخص)پر دعویٰ (claim)نہیں ہوسکتا یعنی مُقِرلہ (جس کے لئے" اِقرار" کیاگیا)یہ نہیں کہہ سکتا کہ:" جب اس شخص نے مان لیا ہے کہ وہ چیز میری ہے تو مجھے وہ چیز دلائی جائے "کیونکہ یہ(اِقرار،accept کرنا) تو ایک "خبر" (اطلاع۔information)ہے اور "خبر"جھوٹی بھی ہوسکتی ہے ۔ہاں !اگر اِقرارکرنے والا خود اپنی مرضی سے، وہ چیز دے دیتا ہے کہ جس کا "اِقرار"(accept) کیاتو یہ ایک تحفہ دینا ہوگا ۔ (بہار شریعت ح۱۳،ص ۱۰۷۴،۱۰۷۵،مسئلہ۱،۲،۳،مُلخصاً)
{4} ایک شخص نے اپنی چیز دوسرے شخص کو بیچنے کے ليے دی، مُؤَکِّل(وکیل بنانے والا،client) مر گیا وکیل(client worker) کہتا ہے میں نے وہ چیز ہزار (1000)روپے میں بیچ ڈالی اورپیسے بھی لے لیے ہیں ۔ اگروہ چیز موجود ہے تو وکیل(client worker) کی بات نہیں مانی جائے گی اور(وہ چیز) ہلاک ہو چکی ہے تو مُؤَکِّل کی بات مانی جائے گی۔(بہار شریعت ح۱۳،ص ۱۱۰۲،مسئلہ۹،مُلخصاً) خريد و فروخت میں" اِقرار":
{1}(۱) ایک نے دوسرے سے کہا:" یہ چیز میں نے کل تمہارے ہاتھ بیچی مگر تم نے قبول (accept)نہیں کی"۔ دوسرے نے کہا: "میں نے قبول (accept)کر لی تھی "تو خریدار(buyer) کی بات مانی جائے گی ۔ (۲) اگر خریدار نے کہا :"میں نے یہ چیز تم سے خریدی تھی تم نے قبول(accept) نہ کی تھی" اور بائع(بیچنے والے) نے کہا کہ: "میں نے قبول(accept) کی تھی تو بائع (seller) کی بات مانی جائے گی"۔
{2} یہ" اِقرار" کیا کہ میں نے یہ چیز فلاں کے ہاتھ بیچی اور پیسے بھی لے لیے ہیں، یہ "اِقرار" صحیح ہے۔
{3} (۱) یہ "اِقرار "کیا کہ میں نے فلاں شخص کے ہاتھ مکان بیچا ہے ،اب یا تو (a)اُس مکان کو مُتَعَیَّن (طے ۔fixed ) نہیں کیا ، یا(b) اُس مکان کو مُتَعَیَّن (fixed) کر دیا پھر انکار(denial) کر دیا (مثلاً کہا کہ:"میں نے نہیں بیچا")تو(چاہے مکان مُتَعَیَّن کیا ہو یا نہ کیا ہو، )وہ" پہلااِقرار"،"باطل "ہے(یعنی یہی کہا جائے گا کہ اُس نے مکان نہیں بیچا)۔ (۲)اگر مکان کو مُتَعَیَّن (fixed) کر دیا اور اس کی حدود(boundary) اور پیسے بتا کر"اِقرار" کیا تو اب انکار (denial) نہیں کر سکتا۔
{4}(۱) ایک مُتَعَیَّن (طے۔fixed) چیز کے خریدنے کا وکیل(client worker) بنایا۔ وکیل" اِقرار" کرتا ہے کہ میں نے وہ چیز سو(100) روپے میں خرید لی اوربائع (بیچنے والا)بھی یہی کہتا ہے مگر مُؤَکِّل (وکیل بنانے والے،client) انکار (denial)کرتا ہے(مثلاً کہتا ہے کہ تم نے سو(100) روپے سے کم میں خریدی ہے) تو اس صورت میں وکیل(client worker) کی بات مانی جائے گی۔
(۲) اگر غیر مُتَعَیَّن (غیر طے شدہ۔un fixed) چیز کے خریدنے کا وکیل(client worker) تھا اور اُسکی جنس(قسم)،صفت (خوبیاں)اور "ثمن"(مثلاً پیسے) بتادیے تھے (مثلاً لال میٹھے سیب لے آؤ، پانچ سو(500) روپے کے)۔وکیل (client worker)کہتا ہے کہ:" میں نے یہ چیز ویسی ہی لی ہے، جیسی مُؤَکِّل (وکیل بنانے والے،client) نے بتائی تھی مگر مُؤَکِّل انکار کرتا ہے(کہتا ہے کہ میں نے ایسی چیز لانے کا نہیں بولا تھا) ،تو اگر مُؤَکِّل نے "ثمن"(پیسے) دے دیےتھےتو اب وکیل(client worker) کی بات مانی جائے گی اور اگر پیسے نہیں دیے تھے تو مُؤَکِّل (وکیل بنانے والے) کی بات مانی جائے گی۔ {5} دو آدمیوں نے مل کر چیز بیچی ، ان میں ایک نے عیب (خریدے گئے سامان میں نقص/کمی)کا "اِقرار" کر لیا مگردوسرا انکار کر رہا ہے(مثلاً کہہ رہا ہے کہ یہ چیز ٹھیک تھی)، تو خریدار عیب (کمی ) کا "اِقرار" کرنے والے کو وہ چیز واپس کر سکتا ہے، دوسرے کو واپس نہیں کر سکتا ۔ (بہار شریعت ح۱۳،ص۱۱۰۰،مسئلہ ۱۵تا۱،مُلخصاً)
{6} نامعلوم چیزکا اقرار کیا، مثلاً یہ کہا کہ میرے اوپرفلاں کی ایک چیز ہے ،یا یہ کہا کہ میری طرف فلاں شخص کا ایک حق(right) نکلتا ہے تو یہ بات کہنے والے کو مجبور(force) کیا جائیگا کہ وہ بتائے کہ اُس کی طرف کیا چیز ہے ؟،یا اُس کی طرف کیا حق(right) نکلتا ہے؟ یاد رہے کہ اس طرح کہنے والے کو ایسی چیز بتانی ہوگی کہ جس کی کوئی قیمت(price) بھی بنتی ہو ۔اس طرح نہیں کہہ سکتا کہ فلاں شخص کا میری طرف گیہوں (wheat) کا ایک دانہ نکلتا ہے، یا مٹی کا ایک ڈھیلا(مٹی کا ایسا ٹکڑا کہ جس کی کوئی قیمت بنتی ہے، جسم کی صفائی کے کام آتا) ہے۔ (بہار شریعت ح۱۳،ص۱۰۷۶،مسئلہ ۱۱،مُلخصاً)
() "مُقِرّ"(یعنی اِقرار کرنے والے) نےنامعلوم چیزکا اقرار کیا ( مثلاً یہ کہا کہ میرے اوپرفلاں کی ایک چیز ہے) پھر(لوگوں کے) پوچھنے پراُس نے وہ چیز بھی بتادی مگر مُقِرلہ (جس کے لئے" اِقرار" کیاگیا)یہ کہتا ہے کہ جو چیز میری اُس کی طرف نکلتی ہے، وہ اُس سے زیادہ ہے جو اُس نے بتایا، تو قسم کے ساتھ "مُقِرّ"(یعنی اِقرار کرنے والے) کی بات مانی جائے گی۔ (بہار شریعت ح۱۳،ص۱۰۷۷،مسئلہ ۱۲،مُلخصاً)
{7} دَین مؤجل(ایسے کاروباری قرض ) کا اقرار کیا( کہ جس کو پورا کرنے کی کوئی مُدَّت (duration) بھی ہو مثلاً یہ کہا کہ مجھ پر فلاں شخص کے اتنے روپے ، اس تاریخ، اس مہینے کو دینے ہیں) مُقِرلہ (جس کے لئے "اِقرار" کیاگیا)یہ کہتا ہے کہ جو وقت دیا گیا تھا ، وہ تو ختم ہوگیا ہےتو قرض فوراً واپس دینا واجب ہو گا ہاں! اگر "مُقِرّ"(یعنی اِقرار کرنے والا) ثبوت ( گواہ وغیرہ) دے دے تو اُس کی بات مانی جائے گی ۔ (بہار شریعت ح۱۳،ص۱۰۸۲،مسئلہ ۳۹،مُلخصاً)
{8} ایک سو ایک(101) روپیہ کہا تو پورے ایک سو ایک روپے دینا ہی لازم ہونگے ایک سو(اور) ایک ( کپڑے کے)تھان(roll) کہا،یا ایک سو (اور)دو(کپڑے کے) تھان(roll ) کہا تو ایک سو (100)کے بارےمیں پوچھا جائے گا کہ ان ایک سو(100)سے کیا مراد ہے(یعنی یہ سو کیا ہیں؟ تھان یا کچھ اور)۔ (بہار شریعت ح۱۳،ص۱۰۸۳،مسئلہ ۴۱،مُلخصاً)
{9} اقرار (ایک چیز کو ماننے،accept کرنے)میں "خیارِشرط " ( ) ذکر کیا (یعنی یہ کہا یہ چیز اس نے خرید لی تھی مگر سودا باقی رکھنے یا ختم کرنے کا اختیار(option) بھی تھا) تو بھی یہ "قرار " صحیح ہے لیکن "خیارِشرط " باطل ہے(نہیں مانا جائے گا) اور وہ چیزبغیر" خیارِشرط "کے لازم ہوجائے گا(یعنی وہ چیز اُس شخص کی ہوگی کہ جس کے لیے "اقرار" کیا گیا اور کسی کو اس سودے (تجارت/ خرید وفروخت)کو ختم کرنے کا اختیار (option) نہیں ہوگا)۔(بہار شریعت ح۱۳،ص۱۰۸۶،مسئلہ۵۶،مُلخصاً)
" اِقرار" کے مزید مسائل:
{1}(۱) "استثنا"( exclude کرنے) کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ مستثنیٰ (جس چیز کو حکم سے الگ کیا، اُس)کے نکالنے کے بعد جو کچھ باقی بچتا ہے، حقیقت میں صرف وہ ہی بات کہی گئی ہے۔ مثلاً یہ کہا کہ فلاں کے میرے اوپر دس (10)روپے ہیں مگر تین (کم ہیں)اسکا مطلب یہ ہوا کہ سات (7)روپے ہیں۔
(۲)"استثنا "میں شرط (precondition) یہ ہے کہ وہ پچھلی گفتگو سےملا ہوا ہو یعنی بغیر ضرورت کے بیچ میں کوئی بات یا کوئی فاصلہ (gap)نہ ہواگر کسی ضرورت کی وجہ سے فاصلہ (gap)ہو گیا تو یہ نہیں کہیں گے کہ بات بدل گئی ۔ مثلاً سانس ٹوٹ گیا، کھانسی آگئی، کسی نے منہ بند کر دیا پھر دوسرا جملہ بولا تب بھی دوسرے جملے کو پہلے جملے کے ساتھ ملایا جائے گا بیچ میں اُسے آواز دی کہ جس کے بارے میں "اقرار" کیا گیا تھا تب بھی دوسرا جملہ ، پہلے جملے کے ساتھ ہی مانا جائے گا،مثلاً خالد کے میرے اوپر ایک ہزار روپے ہیں (سنو! خالد بھائی)مگر دس (کم ہیں) ،تویہ استثنا (exclude کرنا) صحیح ہے۔
(۳) "استثنا" کے ساتھ "اقرار" کیا مگر بیچ میں کسی دوسرے کو آواز دی کہ جس کے بارے میں "اقرار" نہیں تھا تو یہ استثنا (exclude کرنا)صحیح نہیں ، مثلاًاگر یہ کہا میرے اوپر خالد کے دس (10)روپے ہیں، (زاہد بھائی ) تم گواہ رہنا مگر تین(کم ہیں)، یعنی اس صورت (case) میں پورے دس (10) روپے ہی دینے ہوں گے۔ (بہار شریعت ح۱۳،ص۱۰۹۲،۱۰۹۳،مسئلہ۱،مُلخصاً)
{3} کیلی (ماپ (measure)کے ساتھ بیچی جانے والی چیز) ، وزنی (وزن (weight)کے ساتھ بیچی جانے والی چیز)اور "عَدَدِی غیر مُتَفَاوِت"(جوچیزیں گنتی سے بکتی ہیں لیکن ان کے چھوٹے بڑے ہونے کی وجہ سے قیمتوں (prices)میں زیادہ فرق نہیں آتا) میں سےروپے(چاندی کےبنے ہوئے سکّوں۔ silver coins)، اشرفی (سونے کےبنے ہوئے سکّوں۔ gold coins) سے استثنا(exclude) کرنا صحیح ہے اور قیمت(price) کااستثنا (exclude) کرنا صحیح ہے۔
کسی نے کہا :میرے اوپر زید کی ایک اشرفی (یعنی سونے کا سکّہ)ہے مگر ایک روپیہ(یعنی چاندی کا ایک سکّہ کم ہے) تو(اس طرح کہنا صحیح ہے یعنی سونے کے سکّے کی قیمت (price) میں سے چاندی کے ایک سکّے کی قیمت کم کر کے باقی رقم دینی ہوگی()اگرصورت(case) یہ ہو کہ دونوں چیزوں کی قیمت(price) برابرہوں (مثلاً یہ کہا کہ : میرے اوپر زید کی ایک اشرفی (یعنی سونے کا سکّہ)ہے مگر پچاس(50) روپے(یعنی چاندی کے پچاس سکّے (کم ہیں) اور دونوں چیزوں کی قیمت برابر بن رہی ہے)تب بھی استثنا ( exclude کرنا)صحیح ہے اور اب سامنے والے(مثلاً زید ) کو کچھ دینا لازم نہ ہو گا() یاد رہے کہ ان کے علاوہ (except)دوسری چیزوں کا روپے اور اشرفی سے استثنا(exclude) کیا ،تو ایسا کرنا ہی صحیح نہیں۔(بہار شریعت ح۱۳،ص۱۰۹۴،مسئلہ۵،مُلخصاً) یہ کہا کہ زیدکے میرے اوپر ہزار (1000)روپے (چاندی کے سکّے) اور سو (100)اشرفیاں (سونے کے سکّے ہیں)مگر ایک سو(100) روپے اور دس(10) اشرفیاں (کم ہیں)تو نو سو (900)روپے(یعنی 900چاندی کے سکّے) اور نوے (90)اشرفیاں (یعنی 900چاندی کے سکّوں کے ساتھ 90سونے کے سکّے)لازم ہیں۔ (بہار شریعت ح۱۳،ص۱۰۹۴،مسئلہ۸،مُلخصاً)
{4} "اقرار" (ایک چیز کو ماننے،accept کرنے) کے ساتھ ہی اِنْ شَاءَ اللہ!(یعنی اللہ کریم نے چاہا تو)کہہ دیا، تو اس سے "اقرار" باطل(ختم) ہو جائے گا۔(بہار شریعت ح۱۳،ص۱۰۹۵،مسئلہ۸،مُلخصاً)
تجارت کے مختلف مسائل:
{1} مٹی کی گائے (cow)،بیل(ox) ،ہاتھی(elephant)، گھوڑا(horse)، اور ان کے علاوہ (other) دوسرے کھلونے بچوں کے کھیلنے کے لیے خریدنا،جائز نہیں ہے۔ ان چیزوں کی کوئی قیمت(price) بھی نہیں اگر کوئی شخص انھیں توڑ پھوڑ دے تو اُس پر تاوان(اس کی اصل قیمت (actual price) یا ویسی ہی چیز دینا) واجب نہیں۔
{2} کُتا(dog)، بلی(cat)، ہاتھی(elephant)، چیتا(cheetah)، باز(eurasian goshawk)، شکرا،(باز کی قسم کا ایک شکاری پرندہ،shikra)،بَہری(ایک شکاری پرندہ،peregrine falcon)، ان سب کی تجارت جائز ہے۔ شکاری جانور (شکار کرنا)سیکھا ہوا ہو یا سیکھا ہوا نہ ہو، دونو ں کی خرید وفروخت (buying and selling) صحیح ہے۔ اگر یہ جانور شکار کرنا سیکھے ہوئے نہ ہوں تو ان کی خرید و فروخت (buying and selling) کے لیے یہ ضرور ی ہے کہ انہیں (شکار کرنا) سکھایا جاسکتا ہو لہذا بہت زیادہ کاٹنے والے،پاگل کتے(جسےشکار کرنا سکھایا نہ جاسکتا ہو)کی تجارت درست (یعنی صحیح) نہیں ہے۔ {3} بندر(monkey) کو کھیل اور مذاق کے لیے خریدنا منع ہے اور اُس کے ساتھ کھیلنا اور مذاق وغیرہ کرنا بھی حرام ہے۔
{4} جانور یازراعت/کھیتی(agriculture) یا مکان (مثلاً گھر)کی حفاظت(safety)کے لیے ،یا )شکار کے لیے کُتا پالنا جائز ہے اور )یہ کام نہ ہوں تو اب پالناجائز نہیں ہے۔ جس صورت میں پالنا جائز ہے اُس میں بھی گھرکے اندر نہ رکھے۔ہاں! اگر چور یا دشمن کا خوف ہے تو مکان کے اندر بھی رکھ سکتے ہیں۔
{5} مچھلی کے علاوہ (other)پانی کے تمام جانور مینڈک(frog)، کیکڑا (crab) اور حشرات الارض (کیڑوں، insects))اور دوسرے زمینی جانور)مثلاً چوہا(mouse)، چھچھوندر(moles)، گھونس( ایک قسم کا بڑا چوہا)، چھپکلی(lizard)، گرگٹ(chameleon)، گوہ (ایک طرح کی بڑی چھپکلی ) ، بچھو(scorpion)، چیونٹی(ant) کی خرید وفروخت (buying and selling) نا جائز ہے۔ (بہار شریعت ،ح۱۱،ص۸۰۸تا۸۱۴،مسئلہ۱،۲،۳،۴،۵،۸،۱۰،۱۶،۱۷،۱۸،۲۱،۲۲،مُلخصاً)
بچے کی خرید و فروخت (buying and selling)
{1} نابالغ کے کاموں کی تین(3) قسمیں(types) ہیں: (۱)جن کاموں میں صرف فائدہ ہو: جیسے: کسی نے تحفہ دیا تو وہ لے لینا، اسلام قبول (accept)کرنا، وغیرہ۔ اس طرح کے کاموں میں ولی(guardianمثلاً والد صاحب) کی اجازت ضروری نہیں۔
(۲) جن کاموں میں صرف نقصان ہو:یعنی دنیوی نقصان ہو، چاہے آخرت میں اُن کاموں کا فائدہ ہو، جیسے: صدقہ کرنا، قرض(loan)دینا،وغیرہ۔ اس کا حکم یہ ہے کہ ولی (guardianمثلاً والد صاحب) اجازت دے تب بھی نابالغ بچہ نہیں کرسکتا (یعنی اُس کا مال نہ صدقہ کیا جاسکتا ہے، نہ قرض دیا جاسکتا ہے)۔
(۳) جن کاموں میں فائدہ اور نقصان(دونوں طرح کی باتیں) ہو :جیسے تجارت، اِجارہ(مُلازم رکھنا)، وغیرہ تو ان کاموں کے لیےولی(guardianمثلاً والد صاحب) کی اجازت ضروری ہے۔ یاد رہے کہ: یہاں نابالغ سے مراد وہ ہے کہ جو خرید و فروخت (buying and selling)کا مطلب سمجھتا ہو،جو اتنا نا سمجھ (insensible)ہو کہ خرید و فروخت جانتا ہی نہیں ہے، تو اُسے اجازت دی ہی نہیں جاسکتی۔ نوٹ: "معتوہ"(آدھا پاگل یعنی کبھی صحیح ہو جاتا ہے اور کبھی پاگل) کے بھی وہی مسائل ہیں کہ جو نابالغ سمجھدار (sensible)کے ہیں۔
{2} جب ولی نے تجارت کی اجازت دے دی تو نابالغ بچے نے جس قیمت (price)پر بھی خرید و فروخت (buying and selling)کی، وہ جائز ہے لیکن() اجازت سے پہلےجو سودا کیا تھا، اُس کی بھی اجازت لینا ضروری ہے یعنی اگر ولی (guardianمثلاً والد صاحب) نے اجازت دے دی تو وہ سودا پورا(یعنی صحیح ) ہو جائے گا۔
نوٹ:اجازت کے بعد نابالغ کا تجارت کرنا، بالغ کی طرح ہے۔
{3}ولی (guardianمثلاً والد ) نے نابالغ بچے کو تجارت کرتے ہوئےدیکھا اور منع نہ کیا یعنی خاموش رہا تو یہ خاموشی بھی (نابالغ کو تجارت کرنے کی)اجازت دینا ہے۔
{4}باپ نے اپنے دو نابالغ بیٹوں کو(تجارت کی ) اجازت دے دی توان میں سے ایک نے دوسرے سے کوئی چیز خریدی ،یہ تجارت بھی جائز ہے۔(بہار شریعت ح۱۵،ص ۲۰۴ تا۲۰۶،مسئلہ۱،۲،۶،۱۰،مُلخصاً)
{1} حَجر کے اسباب تین (3)ہیں(یعنی تین باتوں کی وجہ سے پابندی لگائی جاتی ہے): (۱)نابالغی،(۲) جنون (پاگل ہونا)،(۳) غلامی (آج کل سب لوگ "آزاد" ہیں، پہلے ایک انسان دوسرے کا مالک(owner) بن جاتا تھا، مالک کو جو ملتا وہ غلام ہوتا) ۔
نتیجہ یہ ہوا کہ آزاد، عاقل(یعنی جو پاگل نہ ہو)، بالغ پر خرید وفروخت (buying and selling) کی پابندی نہیں لگائی جاسکتی۔
{2}اگر کسی شخص کے کاموں سے عام لوگوں کو نقصان ہو رہا ہو تو اُسےروک دیا جائے گا۔ مثلاً طبیب (doctor) کہ فن طِبّ (medical science) میں مہارت نہیں رکھتا(not skilled) اور علاج کرنے کو بیٹھ جاتا ہے لوگوں کو دوائیں (medicines)دے کر ہلاک (یا بیمار)کرتا ہے۔ ()آج کل ایسا کئی جگہ ہوتا ہے کہ طِبّ (medical science) پڑھ لیتے ہیں اور علاج کرنانہیں آتا، سند(certificate) لے کر کے مطب(clinic) کھول لیتے ہیں اور ہر طرح کے مریض كو دوا دينا شروع كر ديتے ہیں ۔وہ اس طرح کہنا، اپنی شان کے خلاف (against)سمجھتے ہیں کہ:" میری سمجھ میں مرض نہیں آیا" ایسوں کا علاج کرنا، کیسے جائز ہو سکتا ہے؟
علاج کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ایک عرصے(وقت)تک ، ماہراستاد (expert teacher)کے پاس بیٹھے، ہر قسم کا علاج دیکھے، استاد کی موجودگی میں علاج کرے اور جو علاج سمجھ میں آئے وہ استاد پر پیش کرتا (یعنی پوچھتا)رہے۔ جب استاد کی سمجھ میں آجائے کہ یہ شخص اب علاج میں ماہر (expert)ہوگیا ہے اورعلاج کی اجازت دے تو اب علاج کر سکتا ہے۔
{3}اسی کی دوسری مثال جاہل مولوی ہے کہ لوگوں کو غلط فتوے دے کر خود بھی گمراہ(ہدایت سے دور) اور گنہگار ہوتا ہے اور دوسروں کو بھی گمراہ (ہدایت سے دور)کرتا ہے(بڑے علماء ایسے شخص کو مسائل بتانے سے روک دیں گے)۔
حضرت علَّامہ، مولانا، مُفتی امجد علی اعظمیرَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کچھ اس طرح فرماتے ہیں: پہلی بات تو یہ ہے کہ عام طور پر درس نظامی جو ہندوستان(موجودہ پاکستان، بنگلہ دیش، ہند) کے مدرسوں میں ہو رہا ہے، اس پڑھائی کو پورا کرنے والے ہی بہت کم لوگ ہیں پھر جو پڑھائی کے سال مکمل کرتے ہیں اُن میں بھی ایک تعداد تھوڑا بہت پڑھ کر سند(certificate) حاصل کر لیتی ہے۔ اب اگر صحیح طرح بھی پڑھا تو اس پڑھنے کا یہ فائدہ ہوتا ہے کہ(درسِ نظامی مکمل کرنے والا) کتابیں دیکھ کر محنت کر کے علم حاصل کرسکتا ہےکیونکہ درس نظامی میں دینی تعلیم جتنی ہے (اس کا مقصد راستہ دکھانا، چلناسکھاناہے)، اُس تعلیم کی وجہ سے شرعی مسائل پر مکمل مہارت(complete skills) نہیں آتی۔
نوٹ:
یہ بات ذہن میں رہے کہ حضرت علَّامہ، مولانا، مُفتی امجد علی اعظمیرَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ بہت بڑے عالم، مُفتی، طبیب اور امامِ اہلسنّت، اعلیٰ حضرت، پیر طریقت، حضرت علَّامہ مولانا ، اماماحمد رضا خان قادِری رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے خلیفہ ہیں (یعنی امامِ اہلسنّت رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے انہیں اس بات کی اجازت دی تھی کہ وہ دوسروں کو مُرید کر یں)۔ آپ بہت بڑے عالم تھے اور یہ باتیں آپ زیادہ سمجھتے ہیں اور آپ کی شان یہ ہے کہ آپ طلباء اور علماء کو سمجھا رہے ہیں البتہ ہم (عام لوگوں) کے لیے لازم ہے کہ درسِ نظامی پڑھے ہوئے، سُنی صحیح العقیدہ، عالم کی تعظیم (respect) کریں اور ان سے دین سیکھیں۔ دوسری بات یہ بھی ذہن میں رہے کہ "درسِ نظامی " پڑھ کر بہت سے حضرات، مفتی، عالم، مُدرِّس(قرآن و حدیث پڑھانے والے) بنے اور "درسِ نظامی " ہی کی برکت سے بہت سے حضرات دین کی خدمت کر رہے ہیں۔
حضرت علَّامہ، مولانا، مُفتی امجد علی اعظمیرَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ مزید کچھ اس طرح فرماتے ہیں: درس نظامی صحیح طرح نہ پڑھنے والوں میں ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں کہ اگر کسی نے ان سے مسئلہ پوچھا تو یہ کہنا ہی نہیں جانتے کہ "مجھے معلوم نہیں" یا" کتاب دیکھ کر بتاؤں گا " بس جو سمجھ میں آیا، مسئلہ بتا دیا ۔ بڑے بڑے علماء کرام رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِمْ بلکہ صحابہ کرام رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمْ کی زندگی کی طرف اگر نظر کی جائے تومعلوم ہوتا ہے کہ وہ زبردست مُجتَہِد ( )تھے، مگر جو بات معلوم نہ ہوتی تو صاف فرما دیا کرتے کہ :"مجھے معلوم نہیں"۔
ان نئے نئے "درس ِ نظامی" مکمل کرنے والے مولویوں کوہم خیر خواہانہ(بھلائی کی) نصیحت کرتے ہیں کہ "درس نظامی" مکمل کرنے کے بعد "فقہ" و "اصول "و "کلام "و "حدیث" و "تفسیر"(دیگر علمِ دین) کا بہت مطالعہ کریں۔ دین کے مسائل جو معلوم ہوں، انہیں بیان کریں اور جہاں سمجھنے میں مشکل آئے تو دوسروں سے
بغیر شرمائےپوچھ لیں۔ یاد رہے کہ ہم عام لوگ کسی عالم دین کے بارے میں یہ نہیں بول سکتے کہ "یہ دینی مسائل (دینی حکم) غلط بتاتے ہیں۔ ہاں! اگر کسی سنّی مُفتی صاحب/ بڑے عالم صاحب ہمیں قرآن وحدیث کے حوالے(refrence) سے کسی خطیب صاحب کی بتائی ہوئی بات میں ہونے والی غلطی بتا دیتے ہیں تو ہم مُفتی صاحب ہی کی بات مانیں گے مگر عالم صاحب کو بُرا بھلا نہیں کہیں گے کیونکہ وہ بھی انسان ہیں، ان سے غلطی ہو سکتی ہے اور ہمیں یہی حکم ہے کہ ہم مُفتی صاحب کے ساتھ ساتھ اُن عالم صاحب کی بھی عزّت کریں گے۔یہ بات بھی یاد رہے کہ اگر کوئی مولوی، اسلامی عقیدوں کے خلاف بات کرے گا تو اُس کی بات ہرگز نہیں مانی جائے گی کیونکہ وہ "بدمذہب" ، گمراہ اور جہنّم میں جانے کا حقدار (entitled)ہے ۔( ) علم ہونے کے بعد گمراہی آسکتی ہے، آخر شیطان بھی علم ہونے کے باوجود گمراہ ہوا بلکہ وہ تو قیامت تک گمراہ کرنے والا بن گیا
{4} مجنون(یعنی پاگل) نہ "طلاق" دے سکتا ہے نہ "اِقرار" کرسکتا ہے، اسی طرح نابالغ کا حکم ہے ۔ مجنون(پاگل) اگر ایسا ہے کہ کبھی کبھی اسے افاقہ(یعنی صحیح ) ہو جاتا ہے اور کبھی پوری طرح صحیح ہو جاتا ہے تو جب صحیح حالت میں (comes into the right state) ہے تو اس پر جنون(پاگل والا) حکم نہیں ہے ۔
{3} نابالغ نے ایسا عقد(یعنی سودا) کیا جس میں فائدہ اور نقصان( دونوں) ہوتے ہیں جیسے :خرید و فروخت (buying and selling) کہ نہ ہمیشہ اس میں فائدہ ہوتا ہے اور نہ ہمیشہ اس میں نقصان ہوتا ہے۔ اگر وہ بچّہ خریدنے اور بیچنے کے معنی سمجھتا ہے یعنی وہ جانتا ہے کہ خریدنے سے یہ چیز میری ہو جائے گی اور بیچنے سے یہ چیز میری نہیں رہے گی بلکہ دوسرے کی ہو جائے گی تب بھی اس کا کیا ہوا سودا، ولی(guardianمثلاً والد صاحب) کی اجازت کے ساتھ پورا ہوگا کہ ولی نےجائز(ok) کر دیا تو سودا پورا ہو جائے گا، اگر منع کیا تو سودا ختم ہو جائے گا۔
اگر بچّہ اتنا بھی نہ جانتا ہو کہ بیچنا اور خریدنا کسے کہتے ہیں تو اس کا عقد "باطل "ہے(یعنی یہ سودا ہوا ہی نہیں) ولی کے جائز (ok)کرنے سے بھی جائز(ok) نہیں ہوگا() مجنون(پاگل) کا بھی یہی حکم ہے۔
نابالغ اور پاگل کے کاموں میں "حَجر" کا حکم نہیں ہوتا یعنی اُن کے کاموں کے بارے میں یہ نہیں کہہ سکتے کہ نابالغ اور پاگل کے کاموں کی کوئی حیثیت(value) نہیں ہے لہٰذا نابالغ یا پاگل نے کسی کی کوئی چیز ضائع (waste) کر دی تو تاوان لیا جائے گا (یعنی اس کی اصل قیمت (actual price) یا ویسی ہی چیز لی جائے گی)۔
یہ بھی نہیں ہو سکتا کہ جب بچّہ بالغ ہوگا، یا پاگل ہوش میں آئے گا تواس وقت تاوان لیا جائے گابلکہ اس کے مال سے تاوان دے دیں گے۔یہاں تک کہ اگر ایک(1) دن کے بچّے نے کروٹ لی اور کسی شخص کی شیشی (vial) ٹوٹ گئی تو اس کا بھی تاوان لیا جائےگا۔
6} نابالغ جس کا مال "ولی"(guardianمثلاً والد صاحب) یا "وصی"(مرنے سے پہلے، میّت نے یتیم بچّےکے مال وغیرہ کی دیکھ بھال کرنے کی جسے وصیّت کی ہو،اُس) کے پاس تھا، وہ(بچّہ) بالغ ہو گیا اور اس کی حالت اچھی معلوم ہوتی ہے کہ اس کی سمجھ ٹھیک ہے (یعنی مال کو طریقے سے خرچ کرتا ہو اور بے طریقے خرچ کرنے سے رکتا ہے)تو اس کے سب مال، اسے دے دیے جائیں اور ()اگر اُسے مال خرچ کرنے کی صحیح سمجھ نہ ہو تو اس کا مال ، اُسے نہیں دیا جائے گا جب تک اس کی عمر پچیس (25)سال کی نہ ہو جائے۔ اس کےتصرفات(یعنی کام مثلاً خرید و فروخت۔ buying and selling) بھی پچیس (25)سال سے پہلے نافِذ(ok) نہیں ہوں گے ۔ اس عمر تک پہنچنے کے بعد بھی (مال استعمال کرنے کی )سمجھ نہ ہوا تو امام اعظم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے نزدیک اب اسکا مال، اُسے دے دیا جائے وہ جو چاہے کرے ،مگر صاحبین (یعنی امام ابو یوسف اور امام محمد)رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِمَا فرماتے ہیں کہ اب بھی اُسے مال نہ دیا جائے، جب تک مال خرچ کرنے کی سمجھ نہ آجائے ، چاہے اُس کی عمر ستر(70) سال کی ہوجائے۔(بہار شریعت ، ح۱۵، ص۱۹۹، مسئلہ ۲، ۴، ۶، ۹، ۱۱، مُلخصاً) صاحب ہدایۃ (امام ابو الحسن علی بن ابو بکر رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ)نے امام اعظم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے قول( بتائے ہوئے مسئلے) کو ترجیح دی (یعنی ان کے نزدیک اسی مسئلے پر عمل کیا جائے گا)۔(فتاوی رضویہ ج۱۸، ص ۵۳۷، مُلخصاً)
{7} اگر کوئی بالغ ،عقل اور شریعت کے خلاف(against) اپنا مال برباد کرتا ہے۔ مثلاً گانے بجانے والوں کو دے دیتا ہے، تماشہ کرنے والوں (spectators)کو دیتا ہے، کبوتر بازی میں مال اڑاتا ہے، مہنگے مہنگے کبوتر خریدتا ہے، پتنگ بازی ، آتش بازی (fire work)میں اور طرح طرح کی بازیوں(کھیل کود) میں مال ضائع(waste) کرتا ہے۔ خرید و فروخت میں بے محل ٹوٹے میں پڑتا ہے(یعنی بہت نقصان اُٹھاتا ہے)کہ ایک روپیہ کی چیز ہے دس (10) پانچ(5) میں خرید لی، یا دس(10) کی چیز ہے
اوربلاوجہ ایک(1) روپے میں بیچ ڈالی۔ ان صورتوں (cases) میں صاحبین (یعنی امام ابو یوسف اور امام محمد) رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِمَا کے نزدیک حجر کر سکتے ہیں(، پابندی ڈال سکتے ہیں یعنی اُس بالغ کو بھی اُس کے پیسے نہیں دیے جائیں گے) اور یہاں اسی پر فتویٰ دیا جائے گا(یعنی اس صورت(case) میں اسی مسئلے پر عمل کیا جائے گا)۔(بہار شریعت ، ح۱۵، ص ۲۰۱، مسئلہ۹، مُلخصاً)

’’آج کی تجارت(trade) ‘‘


فرمانِ آخری نبی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:
جو بندہ حرام مال حاصل کرتا ہے، اگر اُس کو صدقہ کرے تو قبول (accept)نہیں ہوتا،اگر خرچ کرے تو اُس کے لیے اُ س میں برکت نہیں ہوتی اور اپنے بعد چھوڑ کر مرے تو جہنّم میں جانے کا سامان ہے (''المسند''للإمام احمد بن حنبل،مسند عبد اللہ بن مسعود،الحدیث:۳۶۷۲،ج۲،ص۳۳، مُلخصاً) یعنی مال کی تین حالتیں(conditions) ہیں، اگر مال حرام ہو تو تینوں حالتیں ہی خراب ہیں۔(بہار شریعت ح۱۱،ص۶۱۱،مُلخصاً)
واقعہ(incident): تجارت(trade) کرنے والے بزرگ
حضرت بَہاءُالدِّین زَکَرِیّا سُہَروَرْدِی ملتانی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ(پیری مریدی کے)سلسلہ ” سہروردیہ “کےبڑے بزرگ ہیں۔آپ اللہ کریم کےولی ، بڑے زمیندار(landowner) اورتاجر(trader)بھی تھے دنیا کے کئی ملکوں(countries) میں لوگ آپ کا مال لے کرجاتے تھے، جس سےلاکھوں روپےآپ کےپاس آتے تھے۔ آپ بہت ہی سخاوت کرنے (یعنی غریبوں پر خرچ کرنے) والے تھے۔آپ تجارت(trade) اور کھیتی باڑی (cultivation) سےحاصل ہونے والاتمام مال غریبوں فقیروں،مسافروں وغیرہ پرخرچ کردیتے تھے ۔
(فیضان بہاء الدین زکریا ،ملخصا)
ایک مرتبہ (once)حضرت بَہاءُالدِّین زَکَرِیّا سُہَروَرْدِی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ اپنے کمرے میں عبادت کر رہے تھے۔کچھ مُرید (disciples)بھی آپ کےپاس بیٹھے ہوئے تھے۔ اچانک(suddenly) آپ ا پنی جائے نمازسے اُٹھے اوررقم (amount) کی ایک تھیلی ہاتھ میں لے کر باہر نکل گئے ۔مُرید بھی حیران (surprise) ہوکر آپ کےپیچھے چل پڑے،باہر آکر دیکھا کہ کچھ لوگ ایک غَریب شخص کو اپنا دیا ہوا قرض (loan)مانگتے ہوئے اسے تنگ کر رہے ہیں اور اس شخص کے پاس ایک روپیہ بھی نہیں تھا۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے قرض مانگنےوالوں کو بلا کر فرمایا : یہ تھیلی لےلو اورجتنا اس شخص کا قرض (loan)ہے،اُتنا نکال لو۔قرض مانگنے والے کے دل میں لالچ آگئی اوراس نےاپنےقرض سے کچھ روپے زیادہ لینے چاہے۔فوراً اس کا ہاتھ خشک ہو گیا(یعنی ایک ہی جگہ رُک گیا ،اب ہاتھ ہلانے کی طاقت نہیں رہی ) چِلّا کربولا :حضور معاف فرمائیے،میں زیادہ لینے سے توبہ کرتا ہوں۔فوراً اس کا ہاتھ ٹھیک ہو گیا۔غریب شخص کا قرض ادا ہوگیا، وہ حضرت بَہاءُالدِّین زَکَرِیّا سُہَروَرْدِی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کو دعائیں دینے لگا۔آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ مریدوں کےساتھ اپنے کمرے کی طرف واپس تشریف لےآئے اور فرمایا: اللہ کریم نے مجھےاس شخص کی مدد کے لئے بھیجا تھا ۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہ !اس کا قرض (loan)ادا ہو گیا ۔
(فیضان بہاء الدین زکریا ،ص۴۲)
تجارت(trade) اور مُلازمت کے مختلف (different)مسائل:
{1}ان باتوں کا خیال ہر طرح کی تجارت میں رکھیں :
خرید وفروخت (buying and selling) نقد (cash) ہو یا ادھار(credit) ، اس میں کچھ چیزوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ (۱)پہلی بات یہ ہےکہ شروع ہی میں طے کر لیا جائے کہ سود ا نقد(cash) ہے یا ادھار(credit)۔ (۲)دوسری بات یہ کہ ادھار کی صورت (in case of credit)میں رقم دینے کا وقت بھی معلوم ہو۔ (۳)تیسری بات یہ کہ کوئی ناجائز شرط (precondition)بھی نہ ہو مثلاً رقم دینے کے وقت سے تاخیر(late) ہونےکی صورت میں جرمانہ (fine)وغیرہ کی شرط (precondition) نہ ہو۔ ان چیزوں کا خیال رکھتے ہوئے خرید و فروخت (buying and selling) جائز ہے ۔( ربیع الثانی 1441،ماہنامہ فیضانِ مدینہ، دارالافتاء اہلسنّت ، مُلخصاً)
{2}ادھار میں بیچی ہوئی چیز کو کم قیمت میں واپس خریدناکیسا؟:
قرض لینے والے کا دکاندار سے اس طرح کہنا کہ:" آپ کی دکان میں موجود یہ موٹر سائیکل(bike) میں ساٹھ ہزار (60000)روپے اُدھار میں خریدتا ہوں اوررقم (amount) آہستہ آہستہ چھ(6) مہینے میں آپ کو دوں گا" پھر بائیک لے لینے کے بعد وہی بائیک اسی دکاندار کونقد(cash) میں پیتالیس ہزار( 45000) روپے کی بیچنا ، ناجائز و گناہ اور اس طرح نفع (profit) لینا بھی ناجائز وحرام ہے ۔ اس مسئلے کی تفصیل(detail) یہ ہے کہ بائع (بیچنے والا)جب کوئی چیزبیچ دے، تو اس کی قیمت (price)پر قبضہ کرنے (مثلاً پیسے ہاتھ میں لینے)سے پہلے ہی وہی چیز اسی شخص یا اس کے وکیل (client worker)سے کم قیمت میں نہیں خرید سکتا ، کیونکہ ابھی تک اسے اس چیز کی اصل قیمت (actual price) ہی نہیں ملی ہے اور اصل قیمت (actual price) ملنے سے پہلے ہی کم قیمت میں خریدنے سے دکاندار کو جو پندرہ ہزار( 15000) کا فائدہ (profit) ملے گا ، وہ بھی سُود (interest)ہی کی ایک صورت ہے کیونکہ یہ نفع (profit) بغیر کسی چیز کے بدلے میں مل رہا ہے لہٰذا اس طرح خریدنا اور نفع (profit) کمانا ،ناجائز وحرام ہے۔
( ربیع الاول 1441،ماہنامہ فیضانِ مدینہ، دارالافتاء اہلسنّت ، مُلخصاً)
{3}مخصوص(specific) دکانداروں کو مال بیچنے کی شرط (precondition)لگانا کیسا ؟:
سیلز مین(salesman) نے (کہ جو کمپنی(company) کا مُلازم(employee) نہیں ہے،) کمپنی سے مال خریدا توکمپنی نے اس شرط (precondition) پر مال بیچا کہ آپ کا یہ روٹ ہے یعنی مخصوص(specific) دکانداروں کو مال بیچنے کی شرط (precondition) لگائی تب بھی خریدوفروخت(buying and selling) جائز ہےاور زید کا اس چیز کو کمپنی کے بتائے ہوئے دکانداروں کے علاوہ کسی دوسرے کو بیچنا بھی جائز ہے۔
اس مسئلے کی تفصیل(detail) یہ ہے کہ تجارت میں ایسی شرط (precondition) لگانے سے سودا "فاسد" (یعنی خراب) ہوتاہے کہ جو عقد (معاہدے۔ agreement ) کے تقاضے (requirement) کے خلاف (against) ہو() تقاضے کےخلاف وہ شرط ہوتی ہے کہ جس میں بیچنے والے،یا خریدنے والے،یا جس چیز کو بیچاگیا ہو ،ان (میں سے کسی ایک )کا فائدہ ہو جبکہ اس صورت(case) میں ان تینوں میں سے کسی ایک کا بھی فائدہ نہیں ہے لہذا مخصوص(specific) دکانداروں کو مال بیچنے کی شرط (precondition) لگانے سے سودا خراب نہ ہوگا۔ہاں! یہ شرط، فضول ہے اس کا کوئی لحاظ (خیال) نہ رکھا جائے گا۔

( شوال المکرم 1441،ماہنامہ فیضانِ مدینہ، دارالافتاء اہلسنّت ، مُلخصاً)
{4}R.O پلانٹ لگانا:
اگرR.O پلانٹ لگانے کا طریقۂ کار یہ ہو کہ پانی کے ٹینکر (tanker)خرید کر پانی کو فلٹر(filter) کر کے گیلن (gallons)اور بوتلوں میں بھر کر بیچا جائے تو یہ جائز ہے کیونکہ ٹینکر خریدنے والا، پانی کا مالک(owner) بن جاتا ہے اور جب پانی کو گیلن یا بوتل میں ڈالا جاتا ہے تو"مَبِیْع" (بیچی جانے والی چیز) صاف صاف سمجھ میں آرہی ہوتی ہے، لہٰذ اس طرح پانی کی خرید وفروخت (buying and selling)کرنا بالکل جائز ہے۔
(تفصیل کے لیے دیکھیں جمادی الاولیٰ 1441،ماہنامہ فیضانِ مدینہ، دارالافتاء اہلسنّت ، مُلخصاً)
{5} اسمگل شدہ چیز(smuggled item) کی خرید و فروخت (buying and selling)
اسمگلنگ (smuggling)کرنا، ناجائز ہے کیونکہ یہ غیرقانونی(illegal) کام ہے اور پکڑے جانے کی صورت میں بڑی ذلّت (بے عزّتی) ہوتی ہے۔ایسے کام کرنے سے شریعت (دینِ اسلام) نے منع فرمایا ہے کہ جن کاموں کو کرنے سے مسلمان کی بے عزّتی ہوتی ہو۔
الاخریٰ1442،ماہنامہ فیضانِ مدینہ، دارالافتاء اہلسنّت ، مُلخصاً) {6}مال بیچنے کے لیے کمیشن (commission)دینا:
اپنا مال بیچنے کے لئے دکانوں پر کام کرنے والےسیلز مین(salesman) کو کمیشن (commission)دینا تا کہ وہ ہمارا مال بیچیں ، اصل میں کمیشن(commission) نہیں بلکہ رشوت ہے اوررشوت لینا،دینا ناجائز وحرام اور جہنّم میں لے جانے والا کام ہے۔ ()اس کی تفصیل(detail) یہ ہے کہ جب آپ نے سامان دکاندار کو بیچ دیا تو وہ اب آپ کا نہ رہا بلکہ دکاندار کا ہو گیا لہٰذا اب آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ میں اپنا مال بیچنے پر کمیشن(commission) دے رہا ہوں ،بلکہ آپ اپنا کام نکلوانے کے لئے مال دے رہے ہیں کہ سیلز مین (salesman)کو کچھ مال دوں تاکہ یہ میری چیزیں بیچے(میرا مال بکے تو مجھ سے مزید مال لیا جائے گا) ، تو اپنا کام نکلوانے کے لیے پیسے دینا ہی تو رشوت ہے۔
( جون2021،ماہنامہ فیضانِ مدینہ، دارالافتاء اہلسنّت ، مُلخصاً)
{7} کاروبار کے لئےقرض (loan)لینے کی بجائے، تجارت(trade) کا سامان اُدھار خریدنا:
اپنے جاننے والے سے کاروبار کے لیے کچھ رقم (amount) لینے کی جگہ اپنی پسند کا سامان( مثلاً: چولہے، برتن وغیرہ )اس طرح اُدھار خریدنا،جائز ہےکہ پیسے لگانے والے (investor) نےمارکیٹ سے پچاس لاکھ روپے (50 lakhs) کا مال خریدا، اپنی خرید (cost) بتاکرباون لاکھ روپے ( lakhs52) میں اُدھار بیچا ہو۔
اصل میں یہ خرید و فروخت (buying and selling) ہی ہے۔ ہاں !یہ باتیں بھی ضروری ہیں کہ :
(۱)جب ادھار میں مال خریدا جائے گا، تو پہلے اس مال پر بیچنے والے(seller) یا اس کے وکیل (client worker) کا قبضہ ہونا (مثلاً اُن کے سامنے مال ایسے ہونا کہ چاہیں تو لے لیں) ضروری ہے۔
(۲) اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ سودا کرتے ہوئے ادھار کی مُدَّت (duration) طے کرلی جائے اور پیسے دینے میں تاخیر (late) ہونے پرجرمانے(fine) وغیرہ کی کوئی ناجائز شرط نہ لگائی جائے۔
نوٹ:اگر مُدَّت (duration) طے نہ کی، یا() جرمانے وغیرہ کی کوئی ناجائز شرط لگائی، تو ایسا سودا (contract) "فاسد"(خراب) اور ناجائز ہوجائے گا۔
(نومبر 2022،ماہنامہ فیضانِ مدینہ، دارالافتاء اہلسنّت، مُلخصاً)
{8} بلڈر (builder) کا مزید رقم(amount) مانگنا:
بلڈرز(builders) شروع میں ایک رقم (amount) کو طے کر کے ایڈوانس)پیسے(advance payment) لے لیتے ہیں، پھر کچھ وقت بعد مہنگائی کے نام پر مزید(more) پیسے بڑھا دیتے ہیں، ان کا اس طرح مزیدپیسے بڑھانا، جائز نہیں ہے کیونکہ یہ تجارت "بیع استصناع"( ) (فرمائش(order) والی تجارت) ہے اور یہ تجارت عقد(contract) کرنے سے لازم ہو جاتے ہے، اب اس میں تبدیلی(changes) نہیں کر سکتے۔ہاں! اگر مہنگائی کی وجہ سے دونوں(بلڈر اور فلیٹ وغیرہ بُک کروانے والے) ریٹ(rate) بڑھانے پر راضی (agree)ہو جائیں یعنی پچھلا سودا (previous contract) ختم کر کے نیا سودا کرلیں تو یہ صحیح ہے۔
( مئی 2024،ماہنامہ فیضانِ مدینہ،احکامِ تجارت، مُلخصاً)
{9} مجبوری میں اپنا گُردہ(kidney) بیچنا:
ضرورت کیسی ہی سخت ہو، مثلاً اپنے قریبی رشتہ دار کا علاج کرانا ہو، اس کے لیے اپنا گُردہ(kidney) بیچنا جائز نہیں ہے۔ اصل میں خرید و فروخت (buying and selling) ، "مال" کی ہوتی ہے (اور "مال" ہر اُس چیز کو کہتے ہیں کہ جس کی طرف طبیعت (یعنی دل) اس طرح مائل (راغب) ہو کہ اُس چیز کو لیا، یا دیا جاسکے ،اُس چیز کی حفاظت (safety) کے لیےدوسروں کو اُس چیز سے دور رکھا جائے ، ضرورت پڑنے پر استعمال کرنے کے لیے جمع رکھا جائے)اور انسانی جسم کا کوئی بھی حصّہ "مال" نہیں ہے۔ اللہ کریم نے انسان کو عزّت دی یہاں تک کے اُس کے جسم کا کوئی حصّہ ایسا نہیں رکھا کہ اُسے بیچا جاسکے
(مئی 2024،ماہنامہ فیضانِ مدینہ، احکامِ تجارت، مُلخصاً)
{10}(۱)فرمائش(order) پر مال تیار کر وانے کے بعد لینے سے انکار(denial)کرنا:
گاہک(customer) کا فرمائش(order) پر فرنیچر(یا کوئی بھی چیز) تیار کروانا، "بیع استصناع" (فرمائش (order) والی تجارت) ہے اور اس میں بنائی گئی چیز کی پوری تفصیل(detail۔مثلاً اس کی خوبی، اس کی نوعیت، شکل و صورت وغیرہ )بتائی جاتی ہے، جیسے فرنیچر(furniture) میں اس کی لکڑی، اس کا سائز (size)، اس کی شکل(design)، اس پر ہونے والا رنگ وغیرہ یعنی اتنی وضاحت(explanation) سے بتانا ضروری ہوتا ہے کہ جھگڑا (dispute)نہ ہو۔ اب اگر بنوانے والا وہ چیز نہیں لے گا تو اس کی پسند سے بنی ہوئی چیز دوسروں کو بیچنا بہت مشکل ہے لہذا آج کے دور میں یہی حکم ہے کہ فرمائش(order) پر بنی ہوئی چیز گاہک(customer) کو لینا لازم ہے۔
(۲) ہاں! اگر طے کرتے ہوئے جو جو باتیں بتائی گئی تھیں ، بننے والے سامان میں وہ چیزیں نہیں تھیں تو اب گاہک کو یہ حق(right) حاصل ہے کہ وہ یہ چیز نہ لے اور اس حق کو "خیارِ وصف" کہتے ہیں۔
(فروری 2025،ماہنامہ فیضانِ مدینہ، احکامِ تجارت ،مُلخصاً)
{11} سیلز مین(salesman) کا اضافی(additional) رقم رکھنا:
دکان دار نے مُلازم سے کہا کہ یہ چیز ایک سو پچاس(150) میں بیچنی ہے۔ مُلازم نے وہ چیز دو سو(200 ) کی بیچ دی تو اب مُلازم (salesman) کا اضافی(additional) پچاس(50) روپے رکھنا جائز نہیں ہے کیونکہ مُلازم، سیٹھ (owner)کا وکیل(client worker) ہوتا ہے اور اصل میں وہ چیز تو سیٹھ ہی کی ہوتی ہے اور سیٹھ، مُؤَکِّل (وکیل بنانے والا) ہے تو جو بھی نفع (profit) ہوا ،وہ سیٹھ(مُؤَکِّل) ہی کا ہے۔
(فروری 2025،ماہنامہ فیضانِ مدینہ، احکامِ تجارت ،مُلخصاً)
{12} آن لائن خریداری، کارڈ ادائیگی(payment) کے ساتھ:
آن لائن خریداری میں پہلے کارڈ ادائیگی(payment) کرنا اور سامان دوسرے یا تیسرے دن حاصل کرنا، جائز ہے کیونکہ جب خریدا گیا سامان اور رقم وغیرہ صحیح طرح(واضح طور پر) معلوم ہیں اور خرید وفروخت(buying and selling)کی ساری شرطیں(preconditions) پوری ہیں، " مَبِیْع "(بیچی گئی چیز) بھی موجود ہےتو صرف اس بات کی وجہ سے "بیع فاسد" (یعنی سودا خراب) نہ ہوگا کہ " مَبِیْع "(بیچی گئی چیز) اب تک خریدار کے ہاتھ میں نہیں آئی کیونکہ "بیع"(یعنی تجارت) "ایجاب "(offer)اور"قبول کرنا"(accept) سے پوری ہو جاتی ہے۔ہاں! جب تک یہ چیز خریدار کے قبضے(مثلاً ہاتھ میں ) نہ آجائے، اُس وقت تک خریدار اسے کسی تیسرے (3rd person)کو نہیں بیچ سکتا۔
(جولائی 2024،ماہنامہ فیضانِ مدینہ، دارالافتاء اہلسنّت، مُلخصاً)

’’اجارہ(Contract of someone by paying wages)‘‘


فرمانِ آخری نبی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:
مزدور کی مزدور ی(wages) پسینہ سوکھنے سے پہلے د ے دو۔
(سنن ابن ماجۃ، کتاب الرھون، الحدیث: ۲۴۴۳،ج۳، ص۱۶۲) واقعہ(incident): سورۃُ الفاتحہ کا دم
حدیث شریف کی سب سے اہم کتاب’’بخاری شریف‘‘ میں ہے،حضرت ابو سعید خدری رَضِیَ اللہُ عَنْہ کہتے ہیں صحابہ کرام (رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمْ) میں سےکچھ حضرات سفر میں تھے۔ راستے میں ایک قبیلہ(tribe) آیا توان حضرات نے اُس قبیلے سے مہمانی کامطالبہ (demand)کیا (شروع میں اسلامی حکم یہ تھاکہ جب سفر میں کسی قوم کے پاس سے جانا ہو تو وہ مہمانی کریں۔اگر وہ مہمانی نہ کریں تو ان سے مہمانی کرنے کا کہہ دیا جائے) ، لیکن اُس قبیلےنے مہمانی کرنے سے انکار (denial) کردیا۔
دوسری طرف اُسی قبیلے کے سردار کو سانپ(snake)یا بچھو(scorpion)نے کاٹ لیا ۔اُن لوگوں نے علاج کی بہت سی کوششیں کیں مگر علاج نہ ہوسکاپھر اُنھیں میں سے کسی نے کہا کہ:یہاں کچھ لوگ (یعنی صحابہ کرام رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمْ) آئے ہیں،ان کے پاس چلو شاید ان میں سے کسی کے پا س اس کا کچھ علاج ہو۔ وہ لوگ صحابہ (کرام رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمْ)کے پاس حاضر ہوئے اورکہنے لگے کہ :ہمارے سردارکو سانپ یا بچھو (scorpion) نے کاٹ لیا ہے، ہم نے علاج کی بہت سی کوششیں کیں مگر علاج نہ ہوسکا ،کیا آپ لوگوں کے پا س اس کا کچھ علاج ہے؟ ۔ایک صاحب(رَضِیَ اللہُ عَنْہ) بولے: ہاں ،میں جھاڑتاہوں (یعنی دم کے ساتھ اس کا علاج کرتا ہوں) مگر ہم نے تم سے مہمانی کا کہا تو تم لوگوں نے ہماری مہمانی نہیں کی لہذا اب میں اُس وقت علاج کرونگاکہ تم اس کی اُجرت(wages) میں بکریوں کاریوڑ(goats work) دو گے ( کچھ کہتے ہیں کہ تیس (30) بکریاں طے ہوئی تھیں)۔اُنھوں نے اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ یعنی "سورہ فاتحہ" پڑھ کر دم کرنا شروع کیا، وہ شخص بالکل اچھا ہوگیا اور وہاں سے ایسا ہو کر گیا کہ اُس پر زہر کاکچھ اثر (effect)نہ تھا۔
جب انہیں بکریاں مل گئیں تو کچھ نے فرمایا کہ: اس کو آپس میں تقسیم(distribute) کرلیا جائے مگر جنھوں نے دم کیاتھا ، انہوں نے فرمایاکہ :ایسا نہ کرو بلکہ جب ہم نبیِ کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کی پاس حاضر ہونگے تو انہیں یہ بات بتائیں گےپھر پیارے آقا (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ)اس بارے میں جو کچھ فرمائیں گے، وہ کیا جائے گا ۔ اُنھوں نے خیال کیا کہ قرآن پڑھ کردم کیا ہے کہیں ایسا نہ ہوکہ اس کی اُجرت (wages)لیناحرام ہو۔
جب یہ لوگ رَسُوْلَ اﷲ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کے پاس حاضر ہوئے اور یہ بات عرض کی تو پیارے آقا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نے فرمایا : تمہیں ا س کا "جھاڑ"ہونا کیسے معلوم ہوا؟ (یعنی تمہیں یہ بات کیسے پتا چلی کہ سورۃُ الفاتحہ کے دم سے علاج ہوتا ہے؟)پھر فرمایا کہ تم نے ٹھیک کیا۔آپس میں اسے تقسیم (distribute)کرلو اور ( تمہارے دل میں اس اجرت (wages) کے جائز ہونے میں کوئی بات باقی نہ رہے لھذا اس میں )میرابھی ایک حصّہ رکھو"۔(صحیح البخاري، کتاب الإجارۃ، الحدیث: ۲۲۷۶،ج۲، ص۶۹، مع بہار شریعت مُلخصاً)اس حدیث سے معلوم ہو اکہ دم کی اُجرت (wages)لینا جائز ہے جبکہ کہ دم قرآن ِ کریم سے ہو یا ایسی دُعاؤں سے ہوجن میں ناجائزالفاظ نہ ہوں۔
(بہار شریعت ح۱۴،ص۱۰۶،مُلخصاً) اجارہ :
{1} (۱) کسی شے سے نفع (profit) حاصل کر نے (مثلاً استعمال کرنے)کے بدلے میں ، اُس چیز کے مالک کو مال وغیرہ کا مالک(owner) کردینا” اجارہ “ ہے ()مزدوری (wage) پر کام کرنا ہو، یا کرائے پر چیز دینا، یا نوکری کرنا،یہ سب "اجارے" ہی کے اقسام (types)ہیں۔
(۲) مالک/ سیٹھ کو" آجِر"، "مُوجِر"یا"مُوَاجِر" (employer)کہتے ہیں۔
(۳)کرائےدار یا مُلازم(servant) کو" مُسْتَاجِر"( hirer) کہتے ہیں ۔
(۴)اُجرت پر کام کرنے والے کو "اَجِیر"(مُلازمservant/)کہتے ہیں۔
{2}(۱)" اجارے"کے ارکان (لازم چیزیں)"ایجاب "(offer)اور"قبول (accept) کرنا"ہیں۔چاہے "اجارہ" کرتے ہوئے لفظ ِ"اِجارہ" بولا جائے یا کوئی دوسرالفظ بولا جائے تب بھی "اجارہ" ہو جائے گا۔
(۲) " عاریت"(یعنی عارضی استعمال۔temporary use) کا "لفظ" بولنے سے بھی "اجارہ" ہو جاتا ہے، مثلاً یہ کہا کہ :میں نے یہ گھرایک مہینے کے لیے دس ہزار (10,000)روپے کےبدلے میں عاریتاً( عارضی استعمال (temporary use) کے لیے) دیا اور دوسرے نےاس بات کوقبول (accept)کرلیا تو" اجارہ "ہوگیا۔
(۳) اگر یہ کہا کہ میں نے تمہیں ایک مہینے تک اس گھر سے فائدہ اُٹھانا،دس ہزار (10,000)روپے کےبدلے میں تحفۃً دیا اور دوسرے نےاس بات کوقبول (accept)کرلیا تو یہ بھی " اجارہ "ہوگیا۔
(۱)عاقل ہونا یعنی پاگل اور ناسمجھ بچّے (in sensible child)نے "اجارہ" کیا تو" اجارہ" نہیں ہوگا()بالغ ہونا، شرط (precondition)نہیں ہے یعنی نابالغ عاقل ،"ولی"( ) (guardianمثلاً والد صاحب) کی اجازت سے "اجارہ" کر سکتا ہے۔
(۲) مِلک(ownership)ا وروِلایت (اختیار والا)ہو یعنی اجارہ کرنے والا، جس چیز کا اجارہ کر رہا ہو، وہ اُس چیز کا مالک (owner) ہو، یا اسے مالک کی طرف سے اختیار (option) حاصل ہو کہ وہ اجارہ کر سکے()فضولی(بغیر اجازت اپنی طرف سے اجارہ کرنے والے) نے اپنی طرف سے "اجارہ" کر لیا تو مالک کی اجازت سے نافذ(ok) ہوگا۔ (۳) مُسْتَاجِر (اُجرت(wages) پر کوئی چیز لینے والے ۔hirer)کو وہ چیز دے دینا کہ جس پر اجارہ ہوا ہو۔
(۴)اُجرت (wages)کا معلوم ہونا۔
(۵)مَنفَعت(اجارے پر لی ہوئی چیز ) کا (استعمال) معلوم ہونا ضروری ہے کہ دونوں (یعنی کرائے پر چیز لینے والے اور مالک)کو اس طرح واضح(clear) ہو کہ آپس میں کوئی جھگڑا (dispute)نہ ہو اگر یہ کہہ دیا کہ ان دو(2) گھروں میں سے ایک کو کرائے پر دیا تو یہ "اجارہ" صحیح نہیں۔
(۶)جہاں اجارہ کا تَعَلُّق(relation) وقت(یا دنوں) سے ہو،وہاں مُدَّت (duration) بیان کرنا ضروری ہے، مثلاً گھرکرائےپرلیا تو یہ بتانا ہوگا کہ کتنے دنوں کے لیے لیا۔
(۷)جانور کرائےپر لیا اس میں بھی وقت یا جگہ کو بیان کرنا ہوگا، مثلاً ایک گھنٹہ (1 hour) سواری (riding) کرے گا ،یا () فلاں جگہ تک جائے گااور کام بھی بتانا ہوگا کہ اس سے کون سا کام لیا جائے گا، مثلاً بوجھ لادے(یعنی سامان اُٹھائے) گا، یا() سواری (riding)کرے گا۔
(۸)وہ کام ایسا ہوکہ اُسے حقیقتاً یا شرعاً پورا کرنے کی طاقت(اجازت) ہو لہذا گناہ کے کام پر اجارہ کرنا صحیح نہیں۔
(۹)وہ کام جس کے لیے اجارہ کیا جارہا ہو، وہ کام پہلے ہی سےاُس شخص پر فرض یاواجب نہ ہو۔
(۱۰) مَنفَعت مقصود ہو(یعنی جس کام کے لیے اجارہ کیا ہو، اس اجارے سے کسی بھی طرح کا فائدہ ملے)۔
(۱۱) اُسی جِنس کی منفعت اُجرت نہ ہو(مثلاً گھر کرائے پر لیا تو اُس کے بدلے میں دوسرا گھر کرائے پر دے دیا،ایسا نہ ہو)۔
(۱۲)اجارہ میں ایسی شرط (precondition) نہ ہو کہ جو عقد(معاہدے۔ contract)کے تقاضے (requirement)کےخلاف(against) ہو
{4} اجارہ کا حکم یہ ہے کہ مالک مکان کرائے کا اورکرائے دارمَنفعت (اُس چیز کو استعمال کر کے فائدہ اُٹھانے ) کےمالک ہو جاتے ہیں مگر یہ ملکیت(ownership) ایک دم نہیں ہوتی بلکہ وقتاً فوقتا (آہستہ آہستہ، وقت کے ساتھ)ہوتی ہے(یعنی ایک مہینے کا اجارہ ہے تو ہر روز ایک دن کی اُجرت(wages) اور ایک دن استعمال کرنے کی ملکیت ملے گی) () ہاں! اگر اُجرت (wages)پہلےلینے کی شرط ہو تو عقد (یعنی سودا) کرتے ہی چیز کا مالک (employer) اُجرت (wages)کامالک ہو جائے گا۔
(بہارِ شریعت ج۳،ح۱۴،ص ۱۰۶،۱۰۷، تمھید، مسئلہ، ۲،۴،۵،مُلخصاً)
اجارے کے دینی مسائل:
{1} اجارہ دو طرح سے کیا جاتا ہے: (a) مُنْجِزَہ (مثلاً یہ چیز اتنے کرائے پر دی) (b) مُضَافہ( مثلاً یہ چیز ایک مہینے کے کرائے پر دی)۔ان دونوں صورتوں (cases) میں پہلے سے اُجرت دینےکی شرط کر لی تو
(۱) اجارہ اگر مُنْجِزَہ ہو( مثلاً اس طرح اجارہ ہوا ہو کہ یہ مکان ہم نے اتنے کرائے پر دے دیا ) تو پیشگی اُجرت (advance wages) طے کرنے پرمُسْتَاجِر (اُجرت (wages) پر لینے والے)سے اُس رقم کامطالبہ (demand) پہلے سے ہو سکتا ہے۔
(۲) اگر اجارہ مُضَافہ ہو(مثلاً فلاں مہینےکے لیے کرائے پر دیا) تو اب اس میں پیشگی اُجرت (advance wages) نہیں لے سکتے، چاہے پہلے سے یہ طے کر لیا ہو کہ اُجرت پہلے دینی ہوگی ۔
{2} اجارہ کبھی تَعَاطِی سے بھی ہوجاتا ہے مثلاًایک مہینے کے لیے دکان کرائے پر لی اور کرایہ دےدیا اگر اس طرح کا اجارہ لمبے وقت کے لیے کیا، تو ایسا اجارہ نہیں ہو سکتا۔
{3} اجارہ واضح الفاظ سے بھی ہوجاتا ہے (جبکہ دوسرا اُس بات کو مان لے، قبول کر لے)مثلاً پانچ روپے میں ایک مہینے کے لیے مکان کرائے پرلیا، یا ایک سال کے لیے کھیت اجارہ پر لیااس بات کا بھی اختیار (option)ہے کہ جس مُدَّت (duration) کے لیے اجارہ کیا ہو وہ کم ہو یا زیادہ،مثلاً ایک (1)گھنٹہ، یا ایک (1)دن ،یا دس (10) سال ، یا بیس (20) سال ، یا پچاس (50) سال۔
{4} (۱) کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کام پورے طور پر بیان کرنے سے ہی معلوم ہوتا ہے ،مثلاً اِس کپڑے کی رنگائی کرانی (dyeکرانا)ہے، یا اس کی سلائی کرانی (stichکرانا)ہے، یا اس زیور(jewelry) کو بنوانا ہے مگر اس طرح اجارہ کرنے میں یہ بات ضروری ہے کہ ایسی جہالت(یعنی بات واضح کرنے میں کمی) باقی نہ رہے کہ بعد میں اجارہ کرنے والے اور اجارہ پر لینے والے میں جھگڑا(dispute) ہو جائے۔
(۲)جانور کو سواری (ride) کے لیے لیا تواس میں صرف یہ بتا نا کافی (enough)نہیں کہ سواری کے لیے لے کر جارہے ہیں بلکہ جگہ یا وقت بھی بتائی جائے۔
(۳) کبھی اشارہ کرنے سے بھی" کام" کا پتاچلتا ہے، مثلاً کہہ دیا یہ غلّہ(اناج ۔grain ) فلاں جگہ لے جاناہے۔
{5} اجارہ کرتے ہی اُجرت کامطالبہ(demand) نہیں کر سکتے، اُجرت کا مالک ہونے کی چند صورتیں ہیں:(1) اجارے کی بات کرتے ہی اُجرت (wages)دیدی تواُجرت لینے والا،اس اجرت کا مالک ہوگیا یعنی اب اُجرت دینے والا واپس نہیں لے سکتا، (2)یا طے کرلیا تھا کہ اُجرت پہلے ہی دی جائے گی تواب اُجرت کا مطالبہ(demand) کام کرنے سے پہلے ہی کر سکتے ہیں ،(3) یامنفعت کو حاصل کرلیا یعنی جس چیز پر اجارہ تھا، وہ چیز حاصل ہوگئی مثلاً دکان ایک مہینے کرائے پر لی تھی اور ایک مہینے استعمال کر لی،یا کپڑا درزی کو سینے کے لیے دیا تھا اور اُس نے سی دیا، (4)وہ چیز مُسْتَاجِر (اُجرت پر کوئی چیز لینے والا،hirer) کو اس طرح دے دی کہ اگر وہ اُس سے فائدہ اُٹھانا چاہے تو اُٹھا سکے( چاہے وہ فائدہ نہ بھی اُٹھائے)مثلاً مکان پر قبضہ دے دیا یا اَجِیر (ملُازم،نوکر۔ servant) نے اپنے آپ کو پیش کردیا کہ "میں حاضر ہوں " یعنی کام کے لیے (طے شدہ (decided) جگہ پر)تیار ہوں تو اب چاہے کام نہ بھی لیا جائے تب بھی اُجرت(wages) کاحق دار( deserving)ہے
{6} اجارہ (کسی چیز کو wages پر استعمال کرنے )کا ایک وقت طے ہوا ، اس میں سے تھوڑا سا وقت گزر گیا اور کچھ وقت باقی ہے۔ اس باقی وقت میں بھی مالک کو چیز دینا اور مُسْتَاجِر (hirer)کولینا ضروری ہے جبکہ ان کا مقصود (ارادے میں)کوئی خاص(specific) وقت نہ ہو جیسے حاجی کے لیے حج کا وقت(یعنی حج کے بعد وہ اس جگہ کو استعمال کرنے سے منع کر سکتا ہے اور وہ طے شدہ(decided) وقت کا کرایہ دے چکا ہوتا ہے)۔
{7} (۱) درزی، دھوبی، سُنا ر(jeweler)وغیرہ،کا ریگر وں(carftsmen) نے جب کام کرلیا اور مالک (owner) کو چیز دے دی تو اب اُجرت(wages) لینے کے حق دار( deserving)ہوگئے ()یہی حکم ہر اُس کام کرنے والے کا ہے جس کے کام کا اُس شے میں کوئی اثر (effect)ہو، جیسے کپڑے رنگنے والے(fabric dyer)نے کپڑارنگ کر (after dyeing) مالک کو دیدیا تواُجرت کاحق دارہوگیا()اگر ان لوگوں نے کام تو کیا مگر ابھی تک چیز مالک کو نہ دی تواب تک اُجرت کے حق دارنہیں ہوئے۔
(۲) اگر کام کا کوئی اثر (effect) اُس چیز میں نہیں ہوتا جیسے بوجھ اٹھانے والا مزدورکہ چیز کویہاں سے اُٹھا کر وہاں لے گیا تویہ اُجرت(wages) کا اُسی وقت حق دار( deserving) ہو گا جب کہ اُ س نے کام کرلیا ، یہ بھی لازم نہیں کہ مالک کو وہ چیز (یا سامان)دے دے لہٰذا وہاں پہنچا دینے کے بعد اگر(اس کی کوتاہی/غلطی کے بغیروہ ) چیز ضائع (waste)ہوگئی تب بھی اُجرت (wages) لازم ہوگئی ۔
{8} (۱) باور چی(cook) نے کھانا خراب کردیا ،یا ()جلادیا، یا ()کَچّا ہی اُتار دیا اُسے کھانے کا تاوان دینا ہوگا (یعنی اس کی اصل قیمت (actual price) دینی ہوگی) ۔
(۲) اگرچولھا(oven) یا تندور جلانے کے لیےآگ لے کر چلا، اُس آگ سےچنگاری (spark)اُڑی اور گھر میں آگ لگ گئی تو اس کا تاوان نہیں ہوگا کیونکہ(گھر پر) یہ آگ اس نے خود نہیں لگائی () اِسی طرح کرائے دار سے اگر مکان جل جائے تب بھی تاوان نہیں کیونکہ اُس نے گھر جلانے کے لیے آگ نہیں جلائی تھی بلکہ اپنے کام کے لیے جلائی تھی۔
{9} کسی سے کہا کہ : تم اتنی اُجرت(wages)پر میرا یہ کام کردو یہ" اجارہ مطلق "کی صورت ہے(یعنی اب وہ یہ کام کسی دوسرے سےبھی کروا سکتا ہے) اور ()اگر یہ کہا کہ : تم اپنے ہاتھ سے یہ کام کرو،تو یہ "اجارہ مُقَیَّدَہ" ہے یعنی اب دوسرے سے اس کام کو کرانا جائز نہیں اور پھر بھی دوسرے سے کرواہی لیا تو اب اُجرت دینالازم نہیں ہوگی۔ {10} (۱) جس کے ذمہ دَین ( مثلاً کاروباری قرض)ہے اُس کے مکان کو اپنے دَین کے بدلے میں کرائے پر لینا جائز ہے ۔
(۲)ایک شخص پر دوسرے کا دَین (مثلاً کاروباری قرض) تھا۔جس پر قرض تھا، اُس کا اپنا ایک مکان بھی تھا تو قرض دینے والے نے ایک ُمدَّت (duration) کے لیے مقروض مالک مکان کا گھر کرائے پر لیا پھر کرایہ دینے کی جگہ وہ ہر مہینے کرائے کی رقم کے بدلے، اتناقرض کم کرتا رہا یہاں تک کے طے شدہ مُدّت (decided duration)مکمل ہو گئی مگر پھر بھی مالک کا قرض پورا وصول (حاصل) نہیں ہواتو قرض دینے والے کرائے دار کو یہ حق(right)حاصل نہیں ہے کہ وہ مقروض مالک مکان کا گھر خالی نہ کرے بلکہ اُس پر لازم ہے کہ وہ گھر خالی کرے۔
{11}(۱)مکان کرائےپر دیا اور قبضہ بھی دیدیا (مثلاً چابیاں بھی دے دیں)مگر ایک کمرے میں مالک نے اپنا سامان رکھا ،یا ()ایک کمرہ مالک نے مُسْتَاجِر (اُجرت پر کوئی چیز لینے والے)سے خالی کرالیا تو پورےکرائے میں سے اس کمرےکے کرائے کی مقدار کم کردی جائے گی (یعنی اتنا کرایہ کم دیا جائے گا کہ جو ایک کمرے کا بنتا ہے ) ۔ (بہارِ شریعت ج۳،ح۱۴،ص ۱۰۷تا ۱۲۲، مسئلہ۲۴،۴۳،۴۱،۵۱ ،۶،۷،۹،۸،۱۰،۱۱،۱۴،۱۵ ،مُلخصاً) (۲)مکان جس وقت اجارہ پر دیا ، اُس وقت وہ مکمل خالی نہیں تھا، اُس گھر کا کچھ حصّہ مالک مکان کے استعمال میں تھا تب بھی یہ اجارہ صحیح ہے لیکن مالک مکان کو کہا جائے گا کہ گھر مکمل خالی کر کے کرائے دار کو دے۔
(بہارِ شریعت ج۳،ح۱۴،ص ۱۲۵تا ۱۸۴، مسئلہ۱۳،مُلخصاً)
اجارے پر کوئی چیز لی تو اُس میں کیا کیا کام کر سکتے ہیں؟ اور کون کون سے کام کرنا ، جائزنہیں:
{1} معلوم نہیں کہ کرائے داردکان پر کیا کاروبار کرے گا؟ یا کون رہے گا؟ پھر بھی دکان اور مکان(گھر) کرائے پر دینا، جائز ہے یہ بات مشہور ہے کہ مکان رہنے کے لیے ہوتاہے اور دکان میں تجارت (trade) کے لیے بیٹھتے ہیں۔
{2} (۱)کپڑا پہننے کے لیے کرائےپرلیاتو دوسرے کو نہیں پہنا سکتا۔ اسی طرح ہر وہ چیز کہ استعمال کرنے والے کے بدلنےسے چیز میں تبدیلی ہوتی ہو، وہ دوسروں کو استعمال کے لیے نہیں دے سکتے(مثلاً پتلے شخص نے کپڑے پہننے کے لیے کرائے پر لیے اور موٹے کو پہنا دیے تو کپڑے خراب بھی ہو سکتے ہیں)۔
(۲) ہر وہ چیز کہ استعمال کرنے والے کے بدلنےسے اُس چیز میں تبدیلی نہ ہوتی ہو تواُسے کرائے پر دیتے ہوئے اس طرح کہنا بیکار کی (بے فائدہ)بات ہے کہ :"یہ چیز تم ہی استعمال کرو گےیا فلاں شخص ہی استعمال کرے گا" ، یعنی ایسی چیزیں کوئی بھی استعمال کر سکتا ہے، مثلاًمکان میں یہ شرط (precondition) لگانا کہ اس میں تم خود رہنا دوسرے کو نہ رہنے دینا ،یا ()تم اکیلے رہنا یہ شرطیں (preconditions) باطل ہیں(ان باتوں پر عمل کرنا بالکل بھی ضروری نہیں)۔
{3} گھر اور دکان میں وہ تمام کام کرسکتے ہیں کہ جو عادۃًکیے جاتے ہیں مثلاً کپڑے دھونا، نچوڑنا( squeeze کرنا)، وضوکرنا، غسل کرنا وغیرہ اگر لکڑی چیر نے(کاٹنے) میں عمارت(building) کمزور ہوتی ہے تو ایسا کام کرنا اُس وقت تک جائز نہیں جب تک مالک مکان سے اجازت نہ لے لے گھرکے دروازے پر گھوڑا وغیرہ باندھ سکتے ہیں اور گھرکے اندر یہ کام نہیں کرسکتےکہ رہنے کے کمروں کو اصطبل(animal stable) بنادیا جائے()بکری گھر کے اندر باندھنے کا عُرف (عادت/ رواج (ہے، لہذا اسے گھر کے اندر بھی رکھ سکتے ہیں کرائےکے مکان میں ہاتھ کی چکّی (جسے ہاتھ سے چلاتے ہیں اور اناج(grain ) کے دانے ، اس کے گِرد(کونے میں) پستے (grind ہوتے)رہتے ہیں) سے آٹا پیسا جاسکتا ہے کہ اس سے عمارت(building) میں نقصان نہیں آتا اور اگر عمارت (building) کو نقصان ہوتا ہو تو مالک مکان کی اجازت کے بغیر یہ کام نہیں کر سکتے
{4} کرائے کے گھر میں لوہار(blacksmith) ،دھوبی(washerman) اور چکّی والے (miller)کو نہیں رکھ سکتا یعنی یہ لوگ اُسی گھر میں اپنا کاروبار وغیرہ نہیں کر سکتے جیسےدھوبی اُسی گھر میں کپڑا دھونے کا کام ، مالک مکان کی اجازت کے بغیر نہیں کرسکتا کرائے دار خودبھی یہ کام مالک مکان کی اجازت کے بغیر نہیں کرسکتا اگر کرائے پر لیتے ہوئے یہ سب بتا دیا تھا کہ اس جگہ یہ یہ کام ہونگے تو یہ سب کام کرنا جائز ہےاگر دھوبی مکان میں کپڑا نہیں دھوتا بلکہ تالاب(pond) سے کپڑا دھو کر لاتا ہے اور مکان میں کلپ لگاتاہے(یعنی کانرن فلور(corn flour) وغیرہ سے سوتی(cotton) کپڑے کی خوبصورتی ، کڑک بڑھاتا ہے)،استری (ironing)کرتا ہے تو حرج نہیں (یعنی کر سکتا ہے ) کیونکہ اس سے عمارت(building) کو نقصان نہیں ہوتا۔
{5}مُسْتَاجِر (hirer)نے مالک کو بتا یا تھا کہ وہ کیا کام کرے گا مگر اُس نے اسی طرح کا کوئی دوسرا کام کیا، یا یااُس سے کم درجے کا(یعنی ہلکا) کام کیا تو اس کی اجازت ہے مثلاً لوہاری کے کام(یعنی لوہے کے اوزار (iron tools)وغیرہ بنانے کاکام)کے لیے دکان لی تھی پھر اس میں کپڑے دھونے کاکام شروع کر دیا تو اگر دونوں طرح کے کاموں سے عمارت (building)کا ایک ہی طرح کا استعمال ہوتاہے یا کپڑا دھونے میں کم نقصان ہے تو ایسا کرسکتے ہیں ایسا کام کیا جس کی اجازت نہ تھی تب بھی کرایہ دینا ہوگا اگر مکان گرپڑاتوکرایہ نہیں دینا ہوگابلکہ مکان کاتاوان(یعنی اس مکان کی اصل قیمت۔actual price) دینی ہو گی۔
{6} زمین کو اُن تما م کاموں کے لیے اجارہ پر دے سکتے ہیں جو کام زمین لے کر کیے جاتے ہیں۔ مثلاً جانور وں کو دوپہر یا رات میں وہاں ٹھہرانے ، یا ()مٹی کا برتن بنانے، یا ()اینٹ(brick) اور ٹھیکرے بنانے (یعنی مٹی کے جمے ہوئے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کہ جو طہارت وغیرہ کے کام آتے ہیں) کے لیے زمین لینا، یہ سب اجارے جائز ہیں۔
{7}اونٹ، گھوڑا، گدھا، خچر(mules) ، بیل(ok)، بھینسے(male buffalo) کوکرائے پرلے سکتے ہیں چاہے سوار ی(ride) کے لیے لے یا بوجھ (یعنی سامان)لانے لے جانے کے لیے "اجارہ" کیا۔
{8} قرآن مجید یاکتاب کوپڑھنے کے لیے کرائے پر لینا جائز نہیں ہےاسی طرح شاعروں کے کلام اور قصّوں کی کتابیں پڑھنے کے لیے اُجرت(wages) پرلینا بھی ناجائز ہے۔
{9} (۱)اگر ایک بوری گیہوں (wheat) لے جانےکے لیے جانور کو کرائے پرلیا پھر ایک بوری سے کم گیہوں جانور پر رکھے، یاایک بوری جَوْ(barley) لے گیا تو یہ بھی جائز ہے کیونکہ ان چیزوں کا وزن ایک بوری گیہوں سے کم ہے اور انہیں لے کر جانا اٰس سے زیادہ آسان ہے۔
(۲) ایک بوری گیہوں کی بات کر کے ایک بوری نمک جانور پر رکھ دی تو ایسا کرنا،جائزنہیں ہے کیونکہ نمک کا وزن، گیہوں سے زیادہ ہوتا ہے ()اس طرح کے مسائل میں اصول یہ ہے کہ جس اجارے کی وجہ سے ، کوئی شخص جتنا فائدہ اُٹھانے کا حق دار( deserving) ہو تا ہےتو وہ اس طرح کا،یا اُس سے کم درجے کا دوسرا کام کر سکتا ہے۔
{10} جانور سامان لے جانے کے لیے کرائے پرلیا اور جتنا سامان لے کر جانے کی بات ہوئی تھی ،اُس سے زیادہ سامان جانور پر لے گیا تو جتنا زیادہ سامان لے گیا، اُس کا تاوان (یعنی اضافی کرایہ)دینا ہوگا۔ جیسےدو سو کلو (200 kg) گیہوں لے جانے کی بات ہوئی تھی لیکن تین سو کلو (300 kg)لے گیا تو اب ایک تہائی(1/3) قیمت (کرائے کا) تاوان دے(مثلاً دو سو کلو کا کرایہ دو ہزار( 2000 )طے کیا تھا، تو تین سوکلو کا تین ہزار(3000) کرایہ بنا۔ اس صورت (case) میں ٹوٹل تین ہزار(3000) کرایہ دینا ہوگا )۔
{11} جانور کے مالک(owner) کویہ حق(right) نہیں ہے کہ جانور کو کرائے پردینے کے بعد مُسْتَاجِر (hirer)کے ساتھ کچھ اپنا سامان بھی بھیج دے اگر اُس نے اپنا سامان رکھ دیا اور جانور منزلِ مقصود(جہاں پہنچنا تھا، وہاں) تک پہنچ گیا تب بھی مُسْتَاجِر (اُجرت پر لینے والے)کو کرایہ پورا ہی دینا ہوگا ۔
{12}(۱) ایک شخص نے کسی جگہ غلّہ(اناج ۔grain )پہنچانے کے لیے ملُازم (نوکر) رکھااور راستہ بھی بتا دیا کہ اس راستہ سے لےجانا ہے، لیکن ملُازم دوسرے راستے سے لے گیا ۔اب اگردونوں راستے ایک جتنی دوری پر ہیں اور دونوں پُرامن (خطرے سے خالی)ہیں تو کوئی حرج نہیں(یعنی دوسرے راستے سے لے جاسکتا ہے)۔
(۲)اگر دوسرے راستے سے جانے میں (ڈاکو وغیرہ کا) خطرہ ہے، یا اس کی دوری زیادہ ہے تولے جانے والا ضامن ہے(یعنی اس راستے سے سامان لے جانے پر کوئی نقصان ہوا تو مُلازم ، سامان کی رقم مالک کو دے گا)۔
{13} درزی سے کہہ دیا کہ(کُرتا) اتنالمبا اور اتنا چوڑا ہوگا اور اتنی آستین ہوگی مگر جب وہ (کُرتا)سی کرآیا تو بتائی گئی پیمائش(size) سے کم نکلا()اب اگرایک آد ھ ا ُنگل (مثلاً ایک انچ۔inch)کم ہے تو معاف ہے اور زیادہ کم ہے تو درزی کو اُس (کپڑے) کا تاوان دینا پڑے گا( یعنی اس کی اصل قیمت (actual price) دینی ہوگی) ۔
{14}(۱) رنگریز(کپڑے رنگنے والے۔fabric dyer)کو کپڑا لال رنگ کرنےکے لیے دیا مگراُس نے پیلا رنگ کر دیا تومالک کو اختیار (option) ہے کہ اُس سےسفیدکپڑے کی قیمت (price)لے لے،یا وہی کپڑا لے لے اور رنگ کی وجہ سے جوکچھ زیادتی ہوئی ہے(یعنی جو رنگ کی قیمت ہے) وہ دیدے لیکن اس صورت (case) میں رنگنے (colourکرنے)کی اُجرت(wages) نہیں ملے گی ۔
(۲) جو رنگ کہا تھا، وہی رنگ کیا مگر خراب کردیا ۔اگر زیادہ خرابی نہیں ہے تو ضمان (تاوان، کپڑے کی قیمت دینا)واجب نہیں ()اگر رنگ بہت زیادہ خراب کردیا ہے توسفید کپڑے کی قیمت کاتاوان لے لے۔
{15} بڑھئی(لکڑی کاکام کرنے والا)کودروازہ نقش (design) کرنےکے لیے دیا جیسا نقش (design) بتایاتھا ویسا نہیں بنایا() اگر تھوڑا سافرق ہے تو اس پر کچھ حکم نہیں لگتا(اجارہ مکمل اور صحیح ہوگیا) () اگر بتائے ہوئے نقش (design) اور بنے ہوئے میں زیادہ فرق ہے تو مالک کو اختیار (option)ہے کہ اپنے دروازے کی قیمت (cost) بڑھئی(carpenter)سے لےلے، یا وہ دروازہ لے لے اوراُجرت مثل دیدے (یعنی وہ اُجرت (wages)دے دے کہ جو اس طرح کے کام کرنے والوں کو دی جاتی ہے) ۔
{16} سواری (ride)کے لیے کرائے پر جانور لیا اُسے کھڑا کرکے نماز پڑھنے لگاوہ جانوربھاگ گیا،یا ()کوئی (چور) لے گیا، کرائے پر لینے والے نے دیکھ بھی لیا مگر پھر بھی اپنی نماز نہیں توڑی تو ضمان دینا ہوگا ( یعنی اس جانور کی قیمت دینی پڑے گی)
(بہارِ شریعت ج۳،ح۱۴،ص ۱۲۲تا ۱۸۴، مسئلہ۱،۳،۴،۶،۱۵،۱۳،۲۱،۲۹،۳۰،۳۴،۳۶،۴۰،۴۳،۴۶،۴۷،۴۸،۴۹ ،مُلخصاً)
{17} مالک(owner) مکان نے کرائےدار سے یہ کہا کہ کرایہ جو تم نے دیناہے ،اُس سے مکان کی مَرَمَّت (repairing)کروادو۔ کرائے دار نے مَرَمَّت (repairing)کروادی تو اس کا کرایا ادا(pay) ہوگیا۔
(بہار شریعت ، ح ۱۲،ص۱۲، مسئلہ ۳۶،مُلخصاً)
{18} (۱) (بیع/تجارت کی طرح)اجارے کا وکیل(بھی) اُن لوگوں کے ساتھ عقد (یعنی سودا) نہیں کر سکتا جن کے حق میں اس کی گواہی (testimony) مقبول نہیں (جیسے: اصول یعنی اپنے باپ دادا وغیرہ، یا فرع یعنی بیٹا پوتا وغیرہ یا زوج ، زوجہ/ میاں بیوی آپس میں (بہار شریعت ح۱۰،ص۴۹۴،مُلخصاً)) چاہےواجبی قیمت (market rate) پر اجارہ کیا ہو۔ (۲) ہاں !اگر مُؤَکِّل (وکیل بنانے والے،client) نے اس کی اجازت دے دی ہو یعنی کہہ دیا ہو کہ: "جس کے ساتھ تم چاہو اجارہ کرلو" تو ان لوگوں سے واجبی قیمت (market rate)پر اجارہ کر سکتا ہے۔
(بہار شریعت ح۱۲،ص۹۹۰، مسئلہ۴۱،مُلخصاً)
{19} ایسااجارہ کرنا جائز نہیں کہ جس میں وہ چیز ہی ختم ہو جائے کہ جس چیز پر اجارہ کیا جائے، مثلاً گائے بھینس کی مادہ (female buffalo) کو اجارہ پردیا تاکہ اس سے دودھ لیا جائے(یہ ناجائز ہے) () نہر (canal)یا تالاب (pond)کو مچھلی پکڑنے کے لیے اجارےپر دینا، ناجائز ہے() چراگاہ (pasture) کو وقت کے لیےدینا، ناجائز ہے(یعنی اس جگہ کچھ وقت تک جانور جا کر گھانس وغیرہ کھائیں گے، یہ ناجائز اجارہ ہے)۔
{20} دکان جل گئی ہے اس شرط (precondition)پر اُس(دکان) کو کرائے پرلیا کہ کرائے دار، اس دکان کو بنواکردے گا اور جو کچھ خرچ ہوگا وہ کرائے میں سے کاٹ لے گا، یہ بھی "اجارہ فاسدہ" ہے() اگر کرائے دار اُس میں رہا اور کام کروایا تو مالک مکان کو اُجرت مثل ملے گی(یعنی عام طور پر اس طرح کے مکان کا جوکرایہ بنتا ہے، وہ ملے گا) جبکہ کرائے دار نے جو کچھ خرچ کیا ہے یعنی گھر بنانے میں جو خرچا ہوا، اُسے بھی اس کی مثل ملے گا۔
(بہار شریعت ح۱۴،ص۱۵۳،۱۵۴، مسئلہ۵۵،۵۷،مُلخصاً)
اجارہ باطل :
{1} اگر" اجارہ" اصل (اپنی بنیاد) کے لحاظ سے ہی شریعت کے خلاف(against) ہوتووہ اجارہ ،" باطل" ہے (یعنی یہ اجارہ ہی نہ ہوا)، مثلاً مُردار( یعنی حرام جانور چاہے خود مرا یا کاٹا گیا،یا حلال جانور جو شرعی ذبح کے بغیر مرا) یا خون کو اُجرت(wages) بنایا گیا، یا () خوشبو کو سونگھنے کے لیے اُجرت پر لیا ،یا() بُت بنانے کے لیے کسی کوملُازم رکھا تو ان سب صورتوں میں "اجارہ باطل"(یعنی ہوا ہی نہیں) ہے۔(بہار شریعت ح۱۴،ص۱۴۱، مسئلہ۲،مُلخصاً)
{2} "اجارہ باطل "میں اگر چیز کو استعمال کیا (مثلاً بُت بنانے کے لیے پتھر اور رنگ)اور وہ کام کردیا جس کے لیے اجارہ ہوا تب بھی اُجرت واجب نہ ہوگی
(بہار شریعت ح۱۴،ص۱۴۰، مسئلہ۱،مُلخصاً)
{3}"اجارہ باطل" کو بالکل ختم کردینافرض ہے۔(فتاوی رضویہ، ج۱۹،ص۵۵۵،مُلخصاً)
{4} جس کی کوئی چیز گم ہوگئی ہے اُس نے اعلان کیاکہ جو اُس کا پتا بتائے گا اُس کو اتنے(پیسے) دوں گا تو یہ بھی اجارہ باطل ہے۔ہاں! انعام کے طور پر دینا چاہے تو دے سکتا ہے۔(بہار شریعت ح۱۰،ص۴۸۳، مسئلہ۴۹،مُلخصاً)
{5} ایک شخص سے اجارہ کرنے کے بعد دوسرے سے یوں اجارہ کرنا، "اجارہ باطل" ہےکہ: اگر وہ پہلا شخص اجارہ ختم کر دے تو تم سے "اجارہ" کیا۔(بہار شریعت ح۱۴،ص۱۵۴، مسئلہ۶۰،مُلخصاً)
{6} (۱)"اجارہ باطل " میں اُجرت کے بدلے کوئی چیز رہن (mortgage) نہیں ہو سکتی کہ شرعاً یہاں اُجرت واجب (لازم)ہی نہیں مثلاً گانے والے کی اُجرت نہیں دی ہے تواس پر رہن (mortgage) نہیں ہو سکتا۔ (۲)جن صورتوں میں رہن صحیح نہ ہو اُن میں مرہون (رہن میں رکھی ہوئی چیز)امانت ہوتی ہے یعنی اگر وہ چیز ہلاک ہو جائے تو اس کا ضمان /تاوان( ویسی ہی چیز دینی ہوگی جبکہ بازار میں ملتی ہو یا اس کی اصل قیمت،actual price) دینا لازم نہیں۔
(۳) رہن رکھنے والے نے رہن میں رکھی ہوئی یہ چیز واپس مانگی، تو اسے واپس کرنا لازم ہے۔ اس صورت (case)میں اگر راہن (جس کے پاس چیز رہن میں ہے)، رہن کو روکے گا تو غاصب (چیز کو زبردستی روکنے والا اور گناہ گار)بنے گا ۔
(بہار شریعت ح۱۷،ص۷۱۲،۷۱۳، مسئلہ۱۷،مُلخصاً)
{7} طاعت(نیکی کے کام) پر اجارہ کرنا "اجارہ باطل " ہے لیکن دین کے کاموں میں سُستی کی وجہ سے تین کاموں میں "اجارہ "کرنے (مُلازم بنانے)کی عُلَمائے کِرام نے اجازت دی ہے(۱) ذان کہنے یا امامت کے ليے (۲) قرآن یافقہ(شرعی مسئلوں) کی تعلیم(سکھانے) کے ليے (۳) حج کے ليے یعنی اس ليے اَجِیر (ملُازم،نوکر۔ servant) کیاکہ کسی کی طرف سے حج کرے
(بہار شریعت ح۱۴،ص۱۴۶، مسئلہ۲۳،مُلخصاً)
آج کل جوفاتحہ ہوتی ہے(یعنی قرآن شریف وغیرہ پڑھ کر ایصالِ ثواب کرتے ہیں) یہ بالکل جائز بلکہ پسندیدہ ہے، البتہ پیسے وغیرہ لے کر یہ کام کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ اس کی دو(2)صورتیں ہیں : (۱)اگر پہلے سے جو پڑھ چکا ہے اس کے پیسے لیے تو یہ "بیع" (تجارت)ہوئی اور نیکی کو بیچنا،قطعاً (یقیناً)باطل اورحرام ہے(۲)اگر (طے کیا کہ)اب جو پڑھے گا اس کا ثواب پہنچائے گا(یا یہ معلوم ہی ہے کہ اس کے پیسے لیتے دیتے ہیں) تو یہ "اجارہ" (مُلازم بننا)ہوا اور طاعت (نیکی کے کام)پر اجارہ کرنا، "اجارہ باطل" ہے
(بہار شریعت ح۶،ص۱۲۰۱، مسئلہ۱،مُلخصاً)
اجارہِ فاسدہ :
{1} "عقد فاسد"وہ ہے جواپنی اصل(بنیاد) کے لحاظ سے شریعت کے مطابق ہے مگر اُس میں کوئی "وصف "ایسا ہے(یعنی کوئی خامی/کمی، ایسی ہے کہ) جس کی وجہ سے وہ" عقد"(مُعاہدہ) ناجائز ہو جاتاہے()"اجارہِ فاسدہ" وہ " اجارہ" ہے کہ جس میں کوئی ایسی شرط (precondition) لگائی جائے کہ جو اجارے کے شرعی اصولوں کے خلاف(against) ہو(ان غلط شرطوں کی تفصیل(detail) آگے آرہی ہے)۔
{2} "اجارہِ فاسدہ" کا حکم یہ ہے کہ اس پر اُجرت ِمثل (یعنی عام طور پر اس طرح کے کام کی جو اُجرت(wages)ہوتی ہے، وہ)لازم ہوگی اور اس کی کچھ صورتیں(cases) ہیں:
(۱) اگر اُجرت طے(fixed)ہی نہیں ہوئی تھی ، یا (۲)جوطےہوئی تھی وہ معلوم نہیں ، ان دونوں صورتوں (cases) میں اُجرت مثل (یعنی عام طور پر اس طرح کے کام کی جو اُجرت(wages)ہوتی ہے، وہ) دینی ہوگی
(۳)اگر اُجرت طے ہوئی اور وہ معلوم بھی ہے(کہ اُجرت کتنی ہے) تو یہ دیکھا جائے گا کہ("اجارہِ فاسدہ" میں) جو"طے شدہ اُجرت "(decided wages) تھی وہ کم ہے یا "اُجرت مثل " کم (یا برابر)ہے(a)اگر "اُجرت مثل "،"طے شدہ اُجرت " سے زیادہ نہ ہو تو ("اجارہِ فاسدہ" میں)وہ("طے شدہ اُجرت " سے کم یا برابر "اُجرت مثل ") دیں گے(b)ا ور اگر "اُجرت مثل "،"طے شدہ اُجرت " سے زیادہ ہو تو"طے شدہ اُجرت " ہی دی جائے گی۔
{3} ("اجارہ صحیحہ"(جو "اجارہِ فاسدہ" نہ ہو) میں جب کسی چیز کے استعمال پر اجارہ ہوتا ہے اور وہ چیز مُسْتَاجِر (اُجرت پر کوئی چیز لینے والے، hirer) کے پاس آئے تو وہ اس چیز کو استعمال کرسکتا ہے لیکن) "اجارہ ِفاسدہ "میں(اجارہ پر لی جانے والی چیز) صرف قبضہ کرنے(مثلاً ہاتھ میں لینے) سے بھی اسے استعمال کرنے کا حق (right)نہیں ہوتا اگر اُس (اجارہِ فاسدہ کرنے والے) نے وہ چیز لے لی اور استعمال بھی کر لی مثلاً مُسْتَاجِر (مالک سے اجارے پر لینے والے)نے وہ چیز کسی تیسرے (3rd person)کو آگے اجارے پر دے دی تو اب مُسْتَاجِر اوّل(جس نے پہلےاُجرت پر لی تھی )، چیز کے مالک کو اُجرتِ مثل دے گا(یعنی اتنا کرایہ دے گا کہ جو اس چیز کا بنتا ہے) یہ نہیں کہا جائے گا کہ یہ چیز توغصب (مثلاً چھینی ہوئی ) تھی تو استعمال کر لینے سے کوئی اُجرت نہیں ہوگی (بلکہ اس صورت (case)میں" اُجرتِ مثل "دی جائے گی)۔
{4} (۱)جو شرطیں (preconditions) عقد(معاہدے۔ contract) کے تقاضے (requirement) کےخلاف(against) ہوں، اُن کے ساتھ "اجارہ "کرنے سے "اجارہِ فاسدہ" ہو جاتا ہے۔ یاد رہے کہ جو شرطیں (preconditions)بیع کو "فاسد"(یعنی خراب) کرتی ہیں، وہ "اجارے" کو بھی" فاسد"(یعنی خراب) کرتی ہیں۔
(۲) جانور کرائے پر لیا اور یہ شرط (precondition) ہے کہ اس کو دانہ گھاس، کرائے دار(hirer)دے گا تویہ اجارہ، "اجارہِ فاسدہ" ہے کیونکہ جانور کا چارہ(گھانس وغیرہ دینا) مالک کی ذمہ داری (responsibility) ہے ۔
(۳) گھرکرائے پر دیا اور یہ شرط (precondition) رکھی کہ اس کی مَرَمَّت (repairing) کرائے دار (hirer) کرائے گا، یا گھر کا ٹیکس کرائے دار (hirer) دے گاتو یہ بھی "اجارہ ِ فاسدہ" ہے ۔
{5} جہالت("اجارے" کی تفصیل مکمل معلوم نہ ہونے) سے بھی "اجارہ"،" اجارہ ِفاسدہ "ہوجاتا ہے۔ اس کی کچھ صورتیں(cases) ہیں :
(۱)جو چیز اُجرت(wages) پر دی جائے وہ مجہول (معلوم نہ)ہو،یا
(۲)چیزکو استعمال کرنے کی مُدَّت (duration) معلوم نہ ہومثلاًمکان کتنے دنوں کے لیے کرائے پر دیا، یا
(۳) معلوم نہ ہو کہ کرایہ کیا ہوگا؟، یا
(۴)معلوم نہ ہو کہ کیا کام لیا جائے گا مثلاًجانور کرائے پر لیا مگر یہ معلوم نہیں کیا سامان لے کر جانے کے لیے لیا ہے، یا پھرسواری (ride)کے لیے لیا ہے۔
{6}(۱) جوچیز اجارہ پردی ہے وہ "شائع " ہوتواس سے بھی اجارہ،" اجارہِ فاسدہ" ہوجاتاہے ۔
نوٹ:"شائع "یا "مشاع " اس چیز کو کہتے ہیں جس کے ایک حصّے غیر مُتَعَیَّن (جوطے نہ ہو۔unfixed part) کا مالک (owner)ہونا یعنی اُس چیز میں کوئی دوسرا بھی اس طرح شریک (partner)ہوکہ دونوں کے حصّے باقاعدہ الگ الگ نہ ہوں (بہارشریعت ،ج۲،ح ۱۰، ص۵۳۸، ماخوذاً) ۔ جیسے ایک پورا گھر دو(2) آدمیوں میں برابر برابر ہے مگر پورشن الگ نہیں ہوں ۔ یہ لفظ(شائع/مشائع) کئی معنی میں آتا ہے،مثلاً (کبھی)نصف /آدھا۔1/2، 50%یا (کبھی)چوتھائی ۔1/4،25%(بہار شریعت ،ح۱۴،ص۶۳۸،مسئلہ۸۳ ) یا (کبھی)تہائی (1/3،33%)۔(ح۱۵، ص۲۷۳،مسئلہ۲۰،ماخوذاً )
(۲) گھر کا آدھا حصّہ کرائے پر دیا (مگر باقاعدہ پورشن وغیرہ الگ نہیں ہے تو "اجارہ فاسدہ" ہے )، یا
(۳)ایک ایسا گھر جو دو آدمیوں میں مُشترک (مثلاً آدھا آدھا)ہے(مگر باقاعدہ پورشن وغیرہ الگ نہیں ہیں )، اس میں سے صرف اپنا حصّہ غیر شریک(non partner) کو کرائے پر دینا بھی "اجارہ فاسدہ" ہے۔
{7} جو چیز اُجرت میں دینے کا طے ہوا، وہ مجہول(نامعلوم) ہو(تو یہ بھی "اجارہ ِ فاسدہ" ہے)، مثلاً اس کام کی اُجرت(کوئی سابھی) ایک کپڑا ہے، یا ()اجارے میں کچھ چیزیں مجہول(نامعلوم) ہوں، جیسے اتنا کرایہ (مثلاً دس ہزار روپے)اور گھر کی مَرَمَّت (repairing) تمہارے اوپر ہے تو اس صورت(case) میں مَرَمَّت (repairing)بھی کرائےکا حصّہ(part) ہوگی اور یہ معلوم نہیں ہے کہ مَرَمَّت (repairing)میں کتنا خرچ ہوگا لہٰذا پورا کرایہ مجموعی طور پر(over all) نامعلوم ہوگیاتو یہ بھی "اجارہ ِ فاسدہ" ہے۔
(بہار شریعت ح۱۴،ص۱۴۰ تا ۱۴۲، مسئلہ۱،۳،۴،۵،۷،۶،۸،۱۰،مُلخصاً)
{8} اجارے میں "کام "اور "وقت" دونوں چیزیں (ایک ساتھ) طےکیں(مثلاً تمہیں صبح 10 سے شام 6بجے تک کی ڈیوٹی دینی ہے اور روزانہ مکمل تین جوڑے سینے(stichکرنے)ہونگے) تو یہ اجارہ،" اجارہ ِفاسدہ" ہے کیونکہ "کام "اور "وقت" دونوں باتوں پر ایک ساتھ اجارہ نہیں کر سکتے () ہاں! صرف "کام "، یا ()صرف "وقت" کا اجارہ کر سکتے ہیں(مثلاً صبح 10 سے شام 6بجے تک کی ڈیوٹی کا "اجارہ"، یا ()تین جوڑے سینے (stich کرنے) کا "اجارہ" کرسکتے ہیں) البتہ ("کام "کے اجارے میں) وقت صرف اس لیے بتایا تاکہ کام جلدی ہو (مثلاً ہر جوڑے کی سلائی ہزار (1000)روپے ہے،روزانہ(daily) صبح 10 سے شام 6 تک دکان پر آؤ تاکہ اسی مہینے میں تیس (30) کپڑے مکمل سِل جائیں) تو اس طرح "اجارہ " کرنا، صحیح ہے۔
(بہار شریعت ح۱۴،ص۱۵۱، مسئلہ۴۳،مُلخصاً)
{9} زمین کو اجارہ پر دیا اور یہ نہیں بتایا کہ اس میں کس چیز کی زراعت (cultivation) کریگا ،تو، یہ بھی " اجارہِ فاسد ہ" ہے کیونکہ زمین میں مختلف چیزوں کی زراعت ہوتی (اور اس سے زمین پر مختلف طرح کا اثر ہوتا ہے) لہذا پہلے سے طےکرنا ضروری ہے۔ ہاں! اگر اس طرح کے الفاظ کہے کہ جس سے ہر چیز کاشت کرنے کی اجازت ہوتی ہو تو جائز (اور "اجارہ صحیح")ہے۔مثلاً "تمہاری مرضی ہے کہ جو چاہو کرو"۔
" اجارہِ فاسد ہ" پر زراعت کر لی یعنی مُدَّت (duration) پوری ہوگئی تویہ" اجارہ صحیح" ہوگیا یعنی جو اُجرت (wages)طےہوئی تھی، وہ دینی ہوگی۔(بہار شریعت ح۱۴،ص۱۵۲،۱۵۳، مسئلہ۵۰،مُلخصاً)
{10} آج کل کچھ جگہوں (مثلاً مسجد کی دکانوں)پر "دوامی اجارہ" ہوتا ہے،جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ نسل در نسل چلتا رہتا ہے، موت سے بھی ختم نہیں ہوتا۔ یہ اجارہ بھی،"اجارہ ِفاسد ہ" ہے کیونکہ یہ (اجارہ ختم نہ ہونے کی شرط) ایسی شرط ہے کہ جو عقد(معاہدے۔ contract) کے تقاضے (requirement) کے خلاف (against) ہے۔ (بہار شریعت ح۱۴،ص۱۷۵، مسئلہ۳۵، مُلخصاً)
{11} اُجرت (wages) واضح طور پر طے کیے بغیر "اجارہ" کرنا بھی "اجارہ ِفاسد ہ" ہے، مثلاً اس طرح اجارہ کرناکہ تم یہ کام کرو اس کی اُجرت جو کچھ دوسرے لوگ بتادیں گے میں دیدوں گا ،یا ()فلاں کے یہاں تمہیں جو اُجرت ملی ہے میں وہی دیدوں گا (اور اجارہ کرنے والے کو وہ اجرت معلوم نہ ہو تو)یہ سب اجارے فاسد ہیں کیونکہ اُجرت معلوم نہیں ہے() مکمل(واضح) طور پر طے کیے بغیر(دونوں نے) کام کرلیا، کروالیا پھر مزدوری (wages)معلوم کرکے بتائی جس پر اَجِیر (ملُازم)راضی (agree)نہیں ہوا تو اُجرت مثل(یعنی اس کام کی عام طور پر جو اُجرت بنتی ہے، وہ) دی جائے گئی۔(بہار شریعت ح۱۴،ص۱۷۶، مسئلہ۲، مُلخصاً)
اجارہ کے اوقات(Rental hours):
{1} اجارے کی مُدَّت (duration) اگر پہلی ہجری (اسلامی)تاریخ سے شروع ہوتی ہو تومہینا ختم ہونے میں چاند کا لحاظ رکھا جائےگا یعنی دوسراچاند ہو گیا تو پچھلا مہینا(previous month)پورا ہوگیا(چاہے وہ مہینا، اُنتیس دن(29) کا ہو یا تیس دن(30) کا) ()اگر مہینے کے درمیان (during the month) اجارہ شروع ہواتو تیس دن کا مہینالیا جائے گا(بہتر یہ ہے کہ مہینے کے درمیان میں اجارہ ہو تو ہر دن(per day) کا اجارہ کریں پھر آئندہ مہینے (next month)سے مکمل مہینے کا اجارہ کر لیا جائے، مثلاً ایک ماہ کا اجارہ اگر تیس ہزار(30,000) بنتا ہے تو مہینے کے درمیان میں اجارہ کرنے کی صورت(case) میں ، صرف پہلے مہینے کا اجارہ ہر دن کا ایک ہزار(1000) روپے کر دیں پھر آئندہ مہینے سے مکمل مہینے کا اجارہ، تیس ہزار(30,000) کرلیں)۔
{2} اس طرح اجارہ کیا کہ ہرماہ کا کرایہ بیس ہزار(20,000)روپے اور یہ طے نہیں کیا کہ کتنے مہینوں تک وہ چیز کرائے پر رہے گی(یا یہ طے نہ ہوا کہ مُلازم کتنے مہینے کے لیے ہے) تو صرف پہلے مہینے کا اجارہ صحیح ہے یعنی اس مہینے کے بعدپہلی تاریخ میں ہرایک(چاہے اجارہ کرنے والا ہو، یا جس سے اجارہ کیا گیا ہو) "اجارہ" ختم کرسکتا ہے () اگر پہلی تاریخ میں"اجارہ" ختم نہیں کیا تو اب اس مہینے میں اجارہ ختم نہیں کراسکتا (اسی طرح یہ سلسلہ ہر مہینے جاری رہے گا کہ جب جب پہلی تاریخ آئے گی تو دونوں میں سےکوئی بھی "اجارہ" ختم کر سکتا ہے)۔
اگر پہلی تاریخ میں"اجارہ" ختم نہیں کیا تو اب اس مہینے میں اجارہ ختم نہیں کراسکتا (اسی طرح یہ سلسلہ ہر مہینے جاری رہے گا کہ جب جب پہلی تاریخ آئے گی تو دونوں میں سےکوئی بھی "اجارہ" ختم کر سکتا ہے)۔
اگرمہینوں کی تعدا د(numbers) بتادی تھی مثلاً چھ(6) مہینےکے ليے اجارہ ہے تو اب چھ(6) مہینے کا اجارہ صحیح ہے۔
{3}(۱) ایک سال کے ليے گھر کرائے پرلیا اور یہ بات طے کی کہ ہر مہینے کا کرایہ ایک لاکھ روپے ہے تو یہ جائز ہے۔
(۲)ا گر مہینے کا کرایہ نہیں بتایا صرف یہ بات کی کہ ایک سال کا کرایہ دس لاکھ روپے ہے تو یہ بھی جائز ہے ۔
(۳)دونوں صورتوں(cases) میں درمیانِ سال(during the year) شرعی اجازت کے بغیر کوئی بھی اجارے کو ختم نہیں کرسکتا(نہ اجار دینے والا اور نہ اجارہ لینے والا)۔
{4} ایک دن کے ليے مزدور رکھا تو کس وقت سے کس وقت تک کام کریگا اس کے بارے میں وہاں (اُس جگہ)کا عُرف (رواج) دیکھاجائے گا (کہ لوگوں کی کیا عادت(practice) ہے؟) اگر عُرف (عادت)یہ ہے کہ سورج نکلنےسے سورج ڈوبنے تک کام کرتے ہیں تو اسی طرح کام کرنا ہوگا اور ()اگر عُرف یہ ہے کہ سورج نکلنےسے عصر تک کام کرے تو اسی طرح کام لیا جائےگا اور اگر دونوں طرح ہی کا رواج (عُرف)ہے تو اب سورج ڈوبنے تک ہی کام کرنا ہوگا کیونکہ اجارےمیں "دن "کہا ہے اور" دن " سورج ڈوبنے پر ختم ہوتا ہے۔
ہندوستان(موجودہ پاکستان، بنگلہ دیش، ہند، نیپال، سری لنکا) میں مزدوروں سے کام لینے میں مختلف طرح کا عُرف ہے ()معماروں(تعمیراتی کام کرنے والوں) کا کام صبح کو گھنٹا (1 hour)،پون گھنٹا (45 minuts)دن نکلنے کے بعد شروع ہوتا ہے، دن بارہ (12)بجے سے دو(2)بجے تک (دوگھنٹے) کھانےوغیرہ کے ليے چھٹی دی جاتی ہے اور جو اُن میں نمازی ہوتے ہیں ، وہ اسی وقت میں نماز بھی پڑھ لیتے ہیں اور شام کو سورج ڈوبنے پر یااس سے کچھ دیر پہلےکام ختم کیا جاتا ہے بہر حال مزدوروں کے کام کے اوقات وہی ہوں گے(timingوہی ہوں گی) جووہاں کا عرف ہے۔
{5} دو (2)دن، یا چار(4)دن، یا دس (10)دن کے ليے کسی کو کام پر رکھا تو اس کا معنی یہی ہے کہ جس دن اجارہ کیا اُس(دن) کے بعد کے(دو، یا چار، یا دس) دن()اگر دنوں کو مُتَعَیَّن (طے۔fixed) نہیں کیاہے، مثلاً کہہ دیا کہ کسی بھی دو(2) دن یہ کام کر لینا تو یہ اجارہ صحیح نہیں کہ اس اجارہ میں وقت کا مُقَرَّر (طے۔fixed) کرنا ضروری ہے۔
(بہارِ شریعت ج۳،ح۱۴،ص ۱۴۲،۱۴۳، مسئلہ۱۱ تا ۱۵ ،مُلخصاً)

جائز وناجائز اجارے:
{2} حجامت یعنی پچھنے لگوانا ( cupping کروانا، ایک خاص طریقے سے جسم سے گندہ خون نکلوانے کا علاج کرنا)جائز ہے اور پچھنے( cupping) کی اُجرت دینا لینا بھی جائز ہے۔
پچھنے لگانے میں خون نکالنا پڑتا ہے اور بندہ کبھی خون سے آلودہ بھی ہوجاتا ہے (یعنی اس کے جسم پر خون بھی لگ جاتا ہے)مگر چونکہ ہمارے آخری نبی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نے خود پچھنے لگوائے اور پچھنے لگانے والے کو اُجرت بھی دی لہذا پچھنے لگوانے کی اُجرت (مُشاہرہ/تنخواہ۔wages)دینا بھی حلال ہے
{3} (۱) گناہ کے کام پر اجارہ کرنا، ناجائز ہےمثلاً نوحہ کرنے والی(میّت کے اوصاف(یعنی پائی جانے والی باتیں) بڑھا چڑھا کر ، روتے ہوئےبتا نے والی عورت)کو اُجرت (نوکری)پر رکھا کہ وہ نوحہ کرے گی، یہ ناجائز ہے۔
گانے بجانے کے ليے اَجِیر کیا تاکہ وہ اتنی دیر تک گائے گا اور اُس کویہ اُجرت دی جائے گی، یہ بھی ناجائز۔
لہو و لعب(کھیل کود) پراجارہ کرنا بھی ناجائز ہے()گانا یا باجا سکھانے کے ليے نوکر رکھنا بھی ناجائز ہے۔
(۲) ان سب صورتوں (cases)میں اُجرت لینا بھی حرام ہے اور لے لی ہوتو واپس کرے اور() یاد نہیں رہا کہ کس سے اُجرت (wages)لی تھی تو اُتنی رقم صدقہ کردے کیونکہ خبیث (اس طرح کے حرام)مال کا یہی حکم ہے۔
{4} سنیما (cinema)اور تھیٹر (theatre)میں ملازمین گانے اور تماشے(show) کرنے کے ليے نوکر (servant)رکھے جاتے ہیں یہ اجارے بھی ناجائز ہیں بلکہ تماشا (show)دیکھنے والے اپنے دیکھنے کی اُجرت دیتے ہیں یہ بھی ناجائز یعنی تماشا دیکھنا یا تماشاکرنا تو گناہ کاکام ہی ہے ، پیسے دے کرتماشے کرانا (یا دیکھنا)یہ دوسرا گناہ ہے کہ حرام کام میں پیسہ خرچ کرنا ہے۔
{5} (۱) مسلمان نے کسی غیر مسلم کورہنے کے ليے اپناگھر،کرائے پر دیا تویہ اجارہ جائز ہےاُس گھر میں غیر مسلم نے شراب پی یاصلیب(cross) کی عبادت کی تویہ اُس غیر مسلم کا اپنا کام ہے، گھر دینے والے مسلمان پر اس کا گناہ نہیں۔
(۲) ہاں! اگر اُس گھرمیں غیر مسلم نے گھنٹہ(کسی دھات (metal)کی بنی ہوئی بیل ،temple bell /puja bell)، یاناقوس(church bell) کو بجایا ، یا سنکھ(ایک قسم کا بڑا ناقوس جو ہندوؤں کےعبادت خانوں میں بجایا جاتاہے، بینڈ باجا(band music) کی طرح) پھونکا یا علانیہ(سر ِعام ) شراب بیچنا ( saleکرنا) شروع کیا تو ان کاموں سے ضرور روکا جائے گا۔
{6} بازاری (خراب) عورتوں کو بازاروں میں گھروں کے اوپر کے پورشن اس لیے کرائے پر دینا ناجائز ہے کہ وہ اُس میں ناچ گانا اور دیگر بُرے کام کریں۔
{7} قرآن پاک کو تلاوت کرنےیا پڑھنے کے ليے اُجر ت پرلینا نا جائز ہے کیونکہ کتاب پڑھنے سے اُجرت واجب نہیں ہوتی اسی طرح تفسیر (یعنی قرآن ِ پاک کی آیات کے معنی، مطلب، تشریح یعنی وضاحت والی کتاب)، حدیث شریف اورفقہ(دینی مسائل) کی کتابوں کو اُجرت پرلینا بھی ناجائز ہے۔
{8}قلم اُجرت پرلیا کہ اُس سے لکھے گا اور مُدَّت (duration) طے کرلی (مثلاً دو دن کے لیے لیا)تو یہ اجارہ جائز ہے۔
{9} جنازہ اُٹھانے یا میت کو نہلانے کی اُجرت(مُشاہرہ/تنخواہ۔wages) لینا،دینا وہاں جائز ہے کہ جب اُن (جنازہ اُٹھانے یا میت کو نہلانے والوں ) کے علاوہ (other) دوسرے لوگ بھی اس کام کے کرنے والے پائے جاتے ہوں اگر اس کے علاوہ کوئی نہ ہو تو اُجرت پر یہ کام نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اس صورت (case)میں یہ کام کرنا، انہی پر لازم ہے۔
{10} (1)اجارہ پر کام کرایااور یہ طے کیاکہ اُسی (کام)میں سے اتنی اُجرت (wages) ہوگی ، یہ بھی "اجارہ ِفاسدہ" ہے مثلاً کپڑا بُننے (یعنی دھاگوں کو ایک خاص طریقے سے تانے اور بانے (لمبائی اور چوڑائی) میں ایک دوسرے کے ساتھ ملا کر کپڑا بنانے)کےليے سوت (cotton) دیا اور یہ کہہ دیا کہ آدھا کپڑا اُجرت(wages) میں لے لینا ،یا غلّہ (اناج ۔grain ) اُٹھا کر لاؤ اُس میں سے دو(2)کلو مزدوری (wages) میں لے لینا ،یا()چکّی(وہ مشین کہ جس سے آٹا پیستے(grindکرتے) ہیں) چلانے کے ليے بیل (ox) کرائے پرليے اوریہ طے کیا کہ جو آٹا پیسا جائے گااُسی میں سے اتنا(مثلاً دس(10)کلو) اُجرت(wages) میں دیا جائے گا، یابھاڑ(اناج (grain ) کے دانے بھوننے والوں(roast کرنے) کےچولہے)میں چنے(chickpea) وغیرہ بھنوانے (roastکروانے) کو دیے اور یہ طے کیا کہ اُن میں سے اتنے (مثلاً دس(10)کلو) بھنے ہوئے چنے اُجرت میں ديے جائیں گے، یا ()بکری ذبح کرائی اور یہ طے کیا کہ اُس میں کا کچھ گوشت (یا کھال)اُجرت (مُشاہرہ/تنخواہ۔wages)ہوگی تو یہ سب صورتیں نا جائز ہیں۔
(۲) مزدوری میں وہی چیز دینے کی جائز صورت یہ ہے کہ جو کچھ اُجرت میں دینا ہے اُس کو پہلے سے الگ کر کے اُجرت بنا دے مثلاً سوت (cotton)کو دو جگہ الگ الگ کر کے، ایک حصّے کا کپڑا بنانے کا کام دے اور دوسرے حصّے کے بارے میں کہہ دے کہ یہ اُجرت ہوگی دوسرا جائز طریقہ یہ ہے کہ (مثلاً )کہہ دے کہ(یہ دس کلو چنے بھون کر دو تو) دو کلو بھونے ہوئے چنے مزدوری (wages) ہوگی مگر یہ نہ کہے کہ: "اس میں سے دیں گے " پھر اگر اُسی میں سے دیدے جب بھی حرج نہیں۔
{11}(۱) گائے، بھینس(female buffalo) خرید کر اس طرح اجارے پر دینا ناجائز ہے کہ اسے کھلاؤ، پلاؤ تو جو کچھ دودھ ہوگا وہ ہم دونوں (یعنی اجارے پر دینے اور لینے والوں) میں آدھا آدھا ہوگا،یہ "اجارہِ فاسدہ" ہے اس صورت(case)میں دودھ(گائے کے) مالک کا ہے اور کام کرنے والے کو اس کے کام کی اُجرتِ مثل (یعنی اس طرح کے کام کی عام طور پر جو اُجرت ہوتی ہے،وہ)ملے گی اور اس (کام کرنے والے نے) جو کچھ اپنے پاس سے کھلایا ہے اُس کی قیمت(price) ملے گی اور() گائے نے جوکچھ (گھاس وغیرہ کو خود) چرا (کھایا) ، اُس کے پیسے نہیں ملیں گے اور کام کرنے والے نے جتنا دودھ استعمال کیا، اُتنا ہی دودھ مالک کو دے کہ دودھ مثلی(یعنی ایسی ) چیز ہے(کہ جس طرح کی چیز بازار میں ملتی ہے اور اس میں زیادہ فرق نہیں ہوتا)۔
(۲) پالنے/دانے کھلانے کے لیےکسی کو مرغی دی اور یہ طے کیاکہ جتنے انڈے ہونگے دونوں (یعنی اجارے پر دینے اور لینے والوں) میں آدھے آدھے ہو نگے تویہ بھی "اجارہِ فاسدہ" ہے ۔انڈے اُس کے ہیں جس کی مرغی ہے۔
(۳)کچھ لوگ بکری دے دیتے ہیں کہ جو بچے ہوں گے دونوں میں آدھے آدھے ہونگے یہ بھی "اجارہ فاسدہ " ہے ()بچے اُسی کے ہیں جس کی بکری ہے دوسرے کو اُس کے کام کی اُجرت مثل(یعنی عام طور پر اس کام کی جو اُجرت ہوتی ہے، وہ) ملے گی۔
{12}(۱) شکار کرنے کے ليے، یا () جنگل سے لکڑیا ں کاٹنے کے ليےملُازم رکھا، اگر وقت طےکر لیا تھا تو یہ اجارہ، "اجارہ جائز"ہے ()اگر وقت طے نہیں کیا تھا، تو ایسا اجارہ نا جائز ( اورباطل)ہے (یعنی یہ اجارہ ہی نہیں ہوا)۔ اس صورت(case) میں شکار اور لکڑیا ں اسی ملُازم کی ہیں ۔
(۲) وقت طے نہیں کیا تھامگر لکڑیاں طے کرلی تھیں یعنی بتادیا ہے کہ اس اس درخت کی لکڑیاں کاٹو، تو اب یہ "اجارہ ِفاسدہ" ہے۔ لکڑیا ں مُسْتَاجِر ( hirer،ملُازم رکھنے والے کی)ہوں گی اور لکڑیاں کاٹنے والے کو اُجرت مثل (یعنی عام طور پر اس کام کی جو اُجرت ہوتی ہے، وہ) دیناواجب (لازم)ہوگی۔
(۳)جن لکڑیوں کے کاٹنے کے ليےملُازم رکھا، وہ خود اسی مُسْتَاجِر (اُجرت پر رکھنے والے ،hirer)کی مِلک (ownership) ہیں تو اب اجارہ جائز ہے۔
(بہارِ شریعت ج۳،ح۱۴،ص ۱۴۴، مسئلہ ۱۶،۱۷،۱۹،۲۰،۲۱،۲۲،۲۴،۲۵،۲۸،۲۹،۳۰،۳۲،۳۳،۳۴،۳۷،۴۰،۴۱،۴۲،۵۱،۵۲،مُلخصاً)
{13} (۱) کسی کام کے لیے مُلازم(نوکر) رکھا جائے ، یایہ معلوم ہو کہ یہاں اُجرت یاتنخواہ لینی دینی ہوگی توپہلے سےرقم (amount) طے کرنا واجِب ہے،ورنہ دینے والا اور لینے والا دونوں(ہی) گنہگار ہوں گے ہاں! جہاں پہلے ہی سے اُجرت کی رقم (amount) معلوم ہومَثَلاًبس کاکرایہ،یابازارمیں فی (ہر)بوری کی مزدوری (wages) کی رقم (amount) (مثلاً کسی بازار میں سو کلو گندم دوسری منزل(second floor) پر لے جانے کے سو روپے ہوتے ہیں )، وغیرہ۔ تواب باربارطے کرنے کی ضرورت نہیں۔(فیضانِ رمضان، ص ۱۵۰، مُلخصاً)
(۲) دھوبی کو دھونے کے لیے کپڑے دیےلیکن دُھلائی کے پیسے نہیں بتائے کہ اس کی اُجرت کیا ہوگی؟ تو اُجرت مثل(یعنی عام طور پر اس کام کی جو اُجرت ہوتی ہے، وہ) واجب(لازم) ہوگی کیونکہ دھوبی کا کام پیسے لے کر کپڑا دھونا ہی ہے تو یہ بھی "اجارہ " ہی تھا (بہار شریعت ح۱۴،ص۱۱۵، مسئلہ ۲۹،مُلخصاً) ۔ جب "اجارے" میں "اُجرت" (wages) طے نہ ہو تو وہ "اجارہِ فاسدہ" ہوا اور جب کام کر لیا تو "اُجرتِ مثل" لازم ہوگئی۔
{14} (۱)تعلیم (علم پڑھانے)پر اُجرت لینا جائز ہے لیکن یہ اُجرت(مُشاہرہ/تنخواہ۔wages)طے کرنا، لازم ہے۔
(۲) بچوں کے پڑھانے کے ليے اُستاد صاحب کو رکھا(مثلاً دوپہر2بجے سے شام 4 بجے تک) اور یہ نہیں بتایاکیا کہ کتنے بچے پڑھیں گے ، تب بھی یہ اجارہ جائز ہے۔
{15} لغت(عربی کے الفاظ معنی کا علم)، نحو(عربی گرامر(grammar) کاعلم)،صرف(عربی صیغوں، tenses وغیرہ کا علم)، ادب(عربی جملوں کا علم) وغیرہا (دیگر)علوم جن کا تعلق(عربی) زبان سے ہے ان کی تعلیم(سکھانے) پر اُجرت (مُشاہرہ/تنخواہ۔wages)لینا بالا جماع (یعنی عُلَمائے کِرام کے اتفاق سے۔with the consensus of scholars)جائز ہے اسی طرح قواعد بغدادی ( )(قرآنِ پاک صحیح طرح پڑھنے کی قاعدے،rules)پڑھانے ،یا ہجا کرانے (عربی لفظ کے حروف کو الگ الگ کر کے پڑھانے، مثلاً" الٓـمّٓۚ﴿۱﴾ "کو الف، لام، میم پڑھانے) کی اُجرت بھی جائز ہے۔(بہارِ شریعت ج۳،ح۱۴،ص ۱۴۸م مسئلہ۲۹،مُلخصاً)
{16} (۱) علم طب(medical science) اور ریاضی وحساب(mathematics) اور کتابت (handwriting) یا خوشنویسی (calligraphy)سکھانے کا اجارہ کرنا، جائز ہے۔
(۲) "منطق"(دو معلوم باتوں سے تیسری بات کا نتیجہ(result) نکالنے میں ذہن کو غلطی سے بچانے کا علم،linguistics)سکھانے کا اجارہ کرنا بھی جائز ہے کیونکہ " منطق "میں دِین کےخلاف(against) کوئی چیز نہیں بلکہ عُلَمائے کِرام نے تو اس(منطق) کو "علمِ کلام"(Islamic scholastic theology) کا حصّہ بتایا ہےکیونکہ( "علمِ کلام" ایسا علم ہے کہ جس میں عقلی دلیلوں(rational arguments) سے اسلامی عقیدے(beliefs) ثابت(prove) کیے جاتے ہیں،مثلاً اللہ کریم ہی ہمارا ربّ ہے، وہی اس دنیا کو پیدا کرنے والا ہے، وغیرہ اور)" منطق" میں بھی عقل سے نتیجہ (result) نکالا جاتا ہے لہذا "منطق"، "علم کلام"(کہ جو بہترین دینی علم ہے) کا حصّہ ہے(اور اسے پڑھانے کا اجارہ جائز ہے)۔
{17} (۱) فلسفہ(philosophy) دِین اسلام کے بالکل خلاف(against) ہے(کیونکہ اس میں ہر بات عقل ہی سے دیکھی جاتی ہے، قرآن وحدیث، وحی (اللہ کریم کی طرف سےخاص پیغام۔special message) اور معجزات(یعنی کسی نبی عَلَیْہِ السَّلَام کی طرف سے عقل کو حیران(surprise) کردینے والی بات کے ہونے مثلاً دریا میں راستہ نکال دینے، مرنے والے کو زندہ کر دینے والی باتوں) کا کوئی لحاظ نہیں رکھا جاتا یہاں تک کے ضروریات دین (یعنی دین کی ان ضروری باتوں )کا بھی انکار(denial) کر دیا جاتا ہے کہ جس کا انکار (denial) کرنے والا مسلمان نہیں رہتا۔ فلسفے کو پڑھانے کا اجارہ کرنا جائز نہیں
(۲) کوئی ماہرعالم(expert scholar)،فلسفے(philosophy)کواس ليےپڑھتاہےکہ فلسفیوں (philosophers) کی باتیں معلوم ہوں اور اُن کی دلیلوں (arguments)کا ردّ (reject)کیا جائے(یعنی ان کی باتوں کو غلط ثابت(prove) کیا جائے) تو (ماہر عالم کا پڑھنا)جائز ہے ۔
(۳)اسی طرح(ماہر عالم کا) غیر مسلموں کے عقیدے(beliefs) جاننا تاکہ اُن کاغلط ہونا دوسروں کو سمجھا سکے، جائز ہے بلکہ کچھ صورتوں(cases) میں (عالم کے لیے ایسا کرنا)ضروری ہے ،مثلاً جب یہ لوگ اسلام پر حملہ کریں( یعنی جب اسلام کے دشمن ،اسلام کے خلاف بولیں) تو (ماہر عالم) اسلام پر ہونے والے اعتراضات (objections) کا جواب دے۔
(۴) بہت سے اعتراضات(objections) کا جواب عقلی دلیلوں (rational arguments)سے دیا جاتا ہے( جس کے لیے "منطق" پڑھنا بہت فائدہ مند(beneficial) ہے) ()کئی مرتبہ ان کو الزامی جو اب بھی دینا پڑتا ہے(یعنی جواب دینے کی جگہ ، سامنے والے کے سوال کے جواب میں سوال کر نا،یا ا ن کے سوال پر اعتراض (objection) کر دینا) توجب تک ماہر عالم (expert scholar)فلسفے(philosophy) کو نہیں پڑھے گا تو ان لوگوں کو جواب کیسے دے گا؟() "الزامی جواب "کے بعد زبان بند ہوجاتی ہے، جیسے کچھ فلسفی (philosopher)کہتے ہیں کہ کسی چیز کی کوئی حقیقت(reality of the thing)/اثر(effect) نہیں ہے، تو ان کے بارے میں عُلَمائے کِرام نے فرمایا: "انھيں آگ میں ڈال دیا جائے تاکہ یہ بات مان لیں کہ آگ جلا دیتی ہے، یا یہ کہ (یہ لوگ) جل( burnہو ) کر ختم ہو جائیں گے۔ (بہارِ شریعت ج۳،ح۱۴،ص ۱۴۸، مسئلہ،۳۰،مُلخصاً) اس طرح کرنے کی اجازت نہیں مگر اس طرح کی بات کہنے سے فوراً غلطی سمجھ میں آجاتی ہے۔
(۵)یاد رہے کہ غیردین کی ایسی تعلیم(education) حاصل کرناکہ جو ضروریاتِ دین سے روکے بالکل حرام ہے ،چاہے یہ پڑھائی انگریزی میں ہو یا اردو میں فلسفے (philosophy) میں بھی ایسی باتوں کا انکار (denial) پا یا جاتا ہے ، مثلاً جنّ اورشیطان کا انکار(denial) کرنا لہذا اس طرح " فلسفے" کاپڑھنا اورپڑھانا ( غیر عالم کے لیے،اجارے کے بغیر بھی)حرام ہے ۔ ایک دوسری مصیبت یہ بھی ہے کہ ان کو پڑھانے والے دہریے (atheists) ہوتے ہیں(جو کہتے ہیں کہ "خدا ہے ہی نہیں "، مَعَاذَ اللہ! یعنی اللہ کریم ہمیں اس سے بچائے )اور دہریوں کی صحبت میں ( یعنی ساتھ) رہنے(پڑھنے) کے بڑے بُرے اثرات (effects) ہوتے ہیں۔ (فتاوی رضویہ، ج۲۳،ص۷۰۹، مَاخوذاً) (۶) ہر دنیاوی پڑھائی کا یہ حکم نہیں لیکن دنیاوی پڑھائی حاصل کرنے کی کچھ شرطیں (preconditions) ہیں، جیسا کہ امامِ اہلسنّت، اعلیٰ حضرت، پیر طریقت، حضرت علَّامہ مولانا ، اماماحمد رضا خان قادِری رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کچھ اس طرح فرماتے ہیں:جوشخص ضروریات دین مذکورہ (یعنی فرض اور لازم علم( )) حاصل کر چکا ہے، تو اب اقلیدس (geometry)،حساب(mathematics)،مساحت(trigonometry)،جغرافیہ (geography) وغیرہا وہ(جائز) فنون(یعنی علم) پڑھ سکتا ہے کہ جن میں کوئی بات شریعت کے خلاف نہ ہو تو اب یہ ایک جائز کام ہوگا اور اس پڑھنے میں یہ بھی شرط (precondition)ہے کہ اس پڑھنے کے دوران بھی کوئی واجب (مثلاً واجب ہونے کے باوجود جماعت)نہ چھوٹے، کوئی گناہ (مثلاً گانے سننے)کا کام نہ ہو ( فتاوی رضویہ ج ۲۳،صفحہ۸۴۶، مُلخصاً)۔ ایک اور جگہ فرماتے ہیں: ان ضروریات اور قرآن عظیم پڑھنے کے بعد پھر اگر اردو یاگجراتی کی دنیوی کتاب جس میں کوئی بات نہ دین کے خلاف ہو، نہ بے شرمی کی، نہ اخلاق وعادات پر برااثر(bad effect) ڈالنے کی(یعنی اس طرح کی کوئی بات نہ ہو)، اور پڑھانے والی عورت سنّی مسلمان پارسا(یعنی نیک)حیادار ہوتو(چھوٹے نابالغ بَچّوں کو ان سے پڑھوانے میں) کوئی حرج نہیں، وَاللہُ تَعَالٰی اَعْلَمُ۔( فتاوی رضویہ ج ۲۳،صفحہ۶۹۳، مُلخصاً)
{18} (۱)تلاوت قرآن (یعنی قرآنِ پاک پڑھنے)پراجارہ کرنا،نا جائزہے لہٰذا سوئم(فوت ہونے والےکو ثواب پہچانے یعنی ایصال ثواب کرنےکے لیے، انتقال کے تیسرے دن قرآن ِ پاک پڑھنے کی محفل )وغیرہ میں اُجرت پر قرآن پڑھوانا، ناجائز ہے () قرآنِ پاک پڑھوانے پر اُجرت لینے اوردینے والے(دونوں ہی )گنہگار ہیں()کچھ لوگ انتقال کے بعد چالیس(40) دن تک قبر کے پاس، یا جس گھر میں انتقال ہوتا ہے اُس میں قرآن پڑھوا کرایصال ثواب کراتے ہیں ،(اس طرح قرآنِ پاک پڑھوانا اچھی بات ہے لیکن)اگر یہ قرآنِ پاک اُجرت پر پڑھوایا تو اب یہ بھی ناجائز ہو گیا۔ اس صورت (case)میں ایصال ثواب(یعنی ثواب پہنچانا) کیسے ہو سکتا ہے؟ کہ جو شخص پیسوں کے لیے قرآنِ پاک پڑھ رہا ہے تو اُسے ثواب کس بات کا ملے گا؟ اور وہ کونسا ثواب پہنچائے گا (بلکہ وہ تو گناہ گار ہے)جیسا کہ حدیث شریف میں ہے کہ اعمال (کام) نیّتوں (intentions) کے ساتھ ہیں(نیّت کے مطابق ثواب یا گناہ ملے گا)، جب اللہ کریم کے ليے یہ عمل ہوا ہی نہیں تو ثواب کی اُمید (hope) بیکار (اور فضول)ہے۔
(۲) اسی طرح ختم پڑھنے (قرآنی آیت یا تسبیح وغیرہ پڑھوانے)کے ليے اجارہ کرنا بھی جائز نہیں ہے۔ مثلاً کوئی آیۃِ کریمہ(لَاۤ اِلٰہَ اِلَّاۤ اَنۡتَ سُبْحٰنَکَ ٭ۖ اِنِّیۡ کُنۡتُ مِنَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿ۚۖ۸۷﴾، پ۱۷،سورۃ الانبیاء،آیت ۸۷) کا ختم کراتا ، یاکوئی ختم خواجگان پڑھواتا (یعنی تسبیح وغیرہ پڑھ کربزرگوں کو ایصالِ ثواب کرواتا)ہے ، یاکوئی کلمہ طیبہ(لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ) کا ختم کراتا ہے ،یہ سب کام اُجرت مُشاہرہ/تنخواہ۔wages)پر کرواناناجائز ہیں۔(بہارِ شریعت ح۱۴،ص ۱۴۶، مسئلہ ۲۴،مُلخصاً)
(۳)اگر کوئی چاہتا ہے کہ ایصالِ ثواب کے لیے کوئی حافظ صاحب قرآنِ پاک پڑھ دیں لیکن پیسے دینے پڑ رہے ہوں تو اس کا جائز طریقہ یہ ہے کہ قاری صاحب کو گھنٹے (hour)،دو گھنٹے (2 hours)کے لئےاجیر رکھ لے اور اتنی دیر کی تنخواہ (salary)طے کر لے۔مَثَلاً وہ کہے: "میں نے آپ کوآج فلاں وَقت سے فلاں وَقت (مثلاً 2 بجے سے 4 بجے تک) کیلئے اِ س اُجرت(2000 روپے) میں کام پر رکھا جو (جائز)کام چاہوں گا لےلوں گا(کہ جو آپ کے لیے مُناسب بھی ہو)" حافظ صاحب کہیں : "میں نے قبول(accept) کیا"۔اب وہ اُتنی دیر کے لیے "اَجیر" ہوگئے اور اجارہ کرنے والاجو کام چاہے لے سکتاہے ۔اب اجارہ کرنے والا، قاری صاحب سے عرض کرے کہ : فلاں مَیّت کے لئے اِتنا قرآنِ کریم یا ،اِتنا کلِمۂ طیبہ یا، اتنا دُرُود پاک پڑھ دیجیئے۔ اس طرح قرآن پاک یا تسبیح پڑھانا جائز ہے۔(فتاویٰ رضویہ ج۲۳ص،۵۳۷، مَاخوذاً)
{19}تلاوت قرآن کے ساتھ ساتھ تراویح پڑھانے کااجارہ کرنا بھی نا جائزہے:
(۱) اگراُجرت(مُشاہرہ/تنخواہ ۔wages)کا لینادینا طے نہ ہو مگر معلوم ہو کہ حافظ صاحب تراویح پڑھانے آتے ہیں اور (کمیٹی /بُلانے والوں کی طرف سے) کچھ نہ کچھ ملتا ہے، تو یہ بھی اُجرت ہی ہے(اور تراویح پڑھانے کی اُجرت لینا جائز نہیں ہے)۔
(۲)اُجرت رقم(amount) ہی کا نام نہیں بلکہ (دوسری چیزیں بھی اُجرت بن جاتی ہیں، جیسے) کپڑے یا غلّہ(اناج ۔grain ) وغیرہ کی صورت میں بھی ملنے والی چیز،اُجرت ہی ہے(جبکہ تراویح کے لیے بلانے والوں سے یہ طے ہوا کہ یہ چیز یں ملیں گی یا طے تو نہیں کیا مگر معلوم ہے کہ یہاں پیسوں کی جگہ اناج دے دیتے ہیں)۔ (۳)ہاں! اگر حافِظ صاحب صاف صاف کہہ دیں کہ: "میں کچھ نہیں لوں گا "،یا پڑھوانے والا کہہ دے کہ: "میں کچھ نہیں دوں گا"پھر بعد میں حافظ صاحب کی خدمت کردیں تو حرج نہیں (فیضان رمضان،ص۱۶۳،مُلخصاً) ۔ یاد رہے کہ جس نے کہا کہ "میں کچھ نہیں دونگا" تو واقعی اُس کے دل میں یہ بات ہو کہ "میں کچھ نہیں دونگا" کیونکہ یہ بات کرنا بھی وعدہ ہی ہے اور وعدہ کرنے والے کے لیے ضروری ہے کہ جب وہ کسی کام کو کرنے ،یا (کوئی کام)نہ کرنے کی بات کرے تو اُس وقت دل میں یہ ارادہ (نیّت) ہونا ضروری ہے کہ جو کہہ رہا ہوں، وہی کرونگا(فتاوی رضویہ ،ج۲۴،ص۳۵۵، ماخوذاً)۔ہاں! بعد میں کچھ دینے کا ارادہ ہوگیا، یا کسی اور سےکہہ دیا کہ تم چندہ جمع کر کے دے دو تو حرج(گناہ) نہیں۔بہر حال آسانی اسی میں ہے کہ قاری صاحب یہ کہہ دیں کہ میرا کوئی اجارہ نہیں ہے، میں اجارے پر تراویح نہیں پڑھاؤنگا۔
(۴) تراویح کیلئے حافظ صاحب کو بُلانا ہے اور ان کو پیسے بھی دینے ہیں توً کمیٹی / تراویح پڑھانے والے قاری صاحب سے اُجرت طے کرکے حافظ صاحب کو رمضان شریف میں روزانہ ایک گھنٹے کا اجارہ کر لیں ، مثلاً جماعت کا وقت 7:45 ہو تو 8:00 بجے سے 9:00 بجے تک کا اجارہ اس طرح کر لیں"ہم نے آپ کو 1 رمضان سے27 رمضان تک رات 8:00 بجے سے 9:00 بجے تک ،50,000 روپےمیں کام پر رکھا (کہ)جو (جائز)کام چاہیں ، آپ سے لے لیں (اور وہ آپ کے لیے مُناسب بھی ہو)" تو حافظ صاحب کہیں : "میں نے قبول (accept) کیا"،اب کمیٹی (یا تراویح کروانے والے)جو کام چاہیں لے سکتے ہیں۔ اس کے بعد اُن سے عرض کیا جائے کہ : آپ اس وقت میں تراویح پڑھا دیں تو اس طرح کرنا، جائز ہے۔ (فیضانِ رمضان، ص۱۴۸ تا ۱۵۱، مَاخوذاً)
(۵) بہت تیز تیز قراء ت کرنے والے اور ان کو امام بنانے یا اُن کا اجارہ کرنے والے غور فرمائیں کہ امامِ اہلسنّت، اعلیٰ حضرت، پیر طریقت، حضرت علَّامہ مولانا ، اماماحمد رضا خان قادِری رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہکچھ اس طرح فرماتے ہیں:اگر امام صاحب ایسی غلطی کرتے ہیں کہ جس سے معنیٰ نہ بگڑتے ہوں تو امام صاحب کی نماز صحیح ہے اور ان کے پیچھے نماز پڑھنے والوں کی نماز بھی صحیح ہے لیکن اگر غلطی ایسی ہے کہ اُس غلطی سے معنی(قرآن کا مطلب) تو نہیں بدلتا اور نماز بھی نہیں ٹوٹتی مگر قرآنِ پاک تجوید کے ساتھ (صحیح طریقے سے) نہیں پڑھا جاتا بلکہ تجوید کے امور ضروریہ واجبات شرعیہ (ضروری قاعدے۔ rules) پورےنہیں ہوتے یعنی ایسی غلطی ہوتی ہےکہ جس کا کرنا گناہ ہو،جیسے" مدمُتَّصِل"(کہ جہاں کھینچ کر پڑھنا ہوتا ہے) کو ایک الف(مثلاً اُنگلی کی دو حرکت) تک بھی نہ کھنچنا۔ ایسی غلطیاں کرنے والے شخص کو جب امام بنایا جائے گا، تو پیچھے نماز پڑھنے والوں کی نماز سخت مکروہ ہوگی۔ (فتاوی رضویہ، ج۶،ص۱۹۰، مُلخصاً) یاد رہے کہ ایسی غلطیاں کرنے والے حافظ کا تراویح کے لیے نہ تو اجارہ کر سکتے ہیں اور نہ ہی بغیر اجارے کے تراویح پڑھانے کے لیے امام بنا سکتے ہیں۔
اَجِیر:
{1} اَجِیر (ملُازم،نوکر۔ servant) دو قسم کے ہیں: (۱) اَجِیرِ مشترک اور(۲) اَجِیرِ خاص۔ (۱)"اَجِیرِ مشترک" وہ ہے جس کے لیے کسی وقت خاص میں ایک ہی شخص کا کام کرنا ضروری نہ ہو، ایک ہی وقت میں مختلف لوگوں کا کام کر سکتا ہے ، جیسے دھوبی،درزی،وغیرہ ۔
(۲) "اَجِیرِ خاص "ایک ہی شخص کا پابند(bind) ہوتا ہے(مثلاً کسی کمپنی ،یا () دکان کا مُلازم کہ جو صبح 10 تا شام 6 بجے کی ڈیوٹی کرتا ہے)۔
{2}کام میں جب وقت طے نہ ہو چاہے کام کرنے والا، ایک ہی شخص کا کام کرے تویہ بھی "اَجِیرِ مشترک " ہی ہے، مثلاًدرزی کو اپنے گھر میں کپڑے سینے (stiching)کے لیے رکھا اور اُسے پابندی(bind) نہیں کیا کہ فلاں وقت سے فلاں وقت تک(مثلاً صبح 10 تا شام 6 بجے تک) یہ کام کرنا ہو گا اور روز انہ(daily) یا ماہوار (monthly) یہ اُجرت دی جائے گی بلکہ یہ طے ہوا کہ جتناکام کریگا (مثلاً جتنے کپڑے سیے (stich کرے ) گا)اُسی حساب سے (مثلاً ہر سوٹ کے ہزرا(1000)روپے)اُجرت(تنخواہ) دی جائے گی ،تو یہ " اَجِیرِ مشترک" ہے۔ اگر وقت کی پابندی (binding) توہے(مثلاً صبح6 تا دوپہر 2 بجے تک) لیکن اسی وقت میں دوسرے کا کام کرنے کی بھی اجازت ہے مثلاً چرواہے کو بکریاں چرانے کو (یعنی انہیں گھانس وغیرہ کھلانے کے لیے) پانچ ہزار (5000) روپے ماہوار (monthly)پر رکھا مگر یہ نہیں کہا کہ دوسرے کی بکریاں نہ چرانا ،تویہ بھی " اَجِیرِ مشترک "ہے اور اگر یہ طے ہو جائے کہ دوسرے کی بکریاں نہیں چرائے گا تو "اَجِیرِ خاص "ہے۔
نوٹ:" اَجِیرِ مشترک " اور "اَجِیرِ خاص " کے کئی شرعی مسئلے (کئی جگہ شرعی حکم ) الگ ہیں، اُن کی کچھ تفصیل (detail)آگے آرہی ہے۔
{3}" اَجِیرِ مشترک "میں اجارہ (مشاہرہ)،کام کرنے پر ہوتا ہے لہٰذا اس طرح کا کام لینے والا(مثلاً درزی)
مختلف (different) کام کرنے والوں سے وہ کام کروا سکتا ہے(جیسے درزی اپنے پاس کام کرنے والوں سے بھی کپڑے سلوا سکتا ہے) جبکہ " اَجِیرِ خاص " سے جو وقت اور جو مُدَّت (duration) طے ہوئی ہے (مثلاً ایک مہینے کے لیےصبح 10 تا شام 6 بجے تک) اُس میں وہ کام اُسی کو کرنا ہوگا، کسی دوسرے سے وہ یہ کام نہیں کروا سکتا۔
{4} "اَجِیرِ مشترک "اُجرت (salary)کا اُسی وقت (حق دار( deserving) ہوگا کہ جب وہ کام کرچکا ہو مثلاًدرزی نے کپڑے کے سینے(stiching) میں سارا دن لگا دیا مگر کپڑا سی نہ پایا تو اُجرت (wages) نہیں ملے گی، یا () اس صورت(case) میں چاہے اُسے ا پنے مکان پر سینے(stiching) کے لیے بلایا، وہ دن بھر اُسی مکان میں رہا مگر اُس نے کپڑا نہیں سیا(stichنہ کیا) تو اب بھی وہ اُجرت کا (حق دار( deserving)نہیں ہے۔
{5}(۱) کچھ کام ایسے ہوتے ہیں کہ چیزوں وغیرہ کے بدلنے سے ، کام بھی بدل جاتا ہے یعنی کچھ کاموں میں محنت کم ہے اور کچھ میں زیادہ ہوتی ہے۔ایسے کاموں میں "اَجِیرِ مشترک "کو" خیارِ رؤیَت" حاصل ہوتا ہے یعنی دیکھنے کے بعد کام کرنے سے انکار (denial) کرسکتا ہے، مثلاًدھوبی سے طے ہوا تھا کہ ایک سوٹ پچاس(50) روپے میں دھونا ہے لیکن جب سوٹ سامنے آئے تو وہ گَزی کے تھے( یعنی موٹے اور گھٹیا قسم کے کپڑے (rough cloth) تھےکہ جنہیں دھونا مُشکل ہوتا ہے) تو اُسے دیکھ کر دھوبی ، دھونے سے انکار (denial) کرسکتا ہے ۔
(۲) رنگنے والے(fabric dyer)سے رنگ کرنے کا طے ہوا تو کپڑا دیکھ کر انکار (denial) کرسکتا ہے کہ کچھ کپڑے رنگنے( dye کرنے) میں زیادہ محنت ہوتی ہے اور زیادہ رنگ استعمال ہوتا ہے۔ (۳) درزی بھی کپڑا دیکھ کر سینے(stiching) سے انکار(denial) کرسکتا ہے کیونکہ کچھ کپڑوں کے سینے (stiching) میں زیادہ محنت ہوتی ہے مگر دیکھنے کے بعد راضی(agree) ہوگیا تو اب انکار نہیں کر سکتا۔

(۴)اگر کام ایسا ہے کہ چیزوں وغیرہ کے بدلنے سے ، کام نہیں بدلتا تو اُسے دیکھنے کے بعد بھی " اجیر"(جس سے کام کرنے کا طے ہوا ہے، وہ) انکار (denial)نہیں کر سکتا ،مثلاً سو کلو گیہوں (wheat)تولنے ( وزن، weight کرنے) کے لیے مُلازم رکھا، یا ()حجامت بنانے( مثلاً بڑوں کےبال کٹوانے) کا طے ہوا تو اب آدمی کو دیکھنے کے بعد وہ بال کٹوانے سے انکار (denial) نہیں کرسکتا۔(بہار شریعت ح۱۴،ص۱۵۵،۱۵۶، مسئلہ۱،۲،۳،۴، مُلخصاً)
اَجِیر کا ضمان /تاوان(کوئی چیز خراب ہونے پراس کی اصل قیمت (actual price) یا ویسی ہی چیز) دینا :
{1} بازار کا چوکیدار(security guard) اور مسافر خانہ وسَرا (مسافروں کے ٹھہرنے کی جگہ، ریسٹورنٹ) کے محافظ(guard) بھی "اَجِیرِ خاص " ہیں ، یہ اس وقت میں کسی اور کا کا م نہیں کر سکتے اگر بازار یا مسافر خانے میں چوری ہوگئی تو ان لوگوں سے تاوان( چوری ہونے والی چیز کی جیسی چیز دینی ہوگی جبکہ بازار میں ملتی ہو یا اس کی اصل قیمت۔actual price)نہیں لی جاسکتی۔
{2} "اَجِیرِ خاص " اپنے اجارے کے وقت (duty timing)میں کسی دوسرے کا کام نہیں کر سکتا، اگر اُس نے کسی دوسرے کا کام کیا تو جتنا وقت کام کیا ہے اُتنی دیر کے پیسے، اُجرت سے کم ہو جائیں گے(مثلاً ایک دن کی ڈیوٹی 8گھنٹے اور مشاہرہ(salary) آٹھ سو(800)روپے (یعنی ہر گھنٹے کا مشاہرہ سو(100)روپے )ہے، اب اگر ایک گھنٹہ اجارے کے وقت (duty timming)میں کسی دوسرے کا کام کیا تو سو(100) روپے مشاہرے سے کٹوانے ہونگے)۔
{3}" اَجِیرِ خاص" اجارے کے وقت میں اپنا ذاتی کام تو نہیں کرسکتا لیکن فرض نمازاور سنت مؤکدہ پڑھ سکتا ہے اس وقت میں نفل نماز پڑھنا جائز نہیں جمعہ کے دن نماز جمعہ پڑھنے کے لیے جائے گا چاہے "جامع مسجد"(جہاں جمعہ ہوتا ہے، وہ) دور ہو اور جانے آنے میں وقت زیادہ لگتاہو(تب بھی جائے گا)لیکن (تاخیر ہونے کی وجہ سے) اُتنے وقت کی اُجرت(salary) کم کردی جائے گی اگر "جامع مسجد" قریب ہے تو(جمعہ کے فرض اور سنّت مؤکدہ پڑھنے کی وجہ سے) کچھ کمی نہیں کی جائے گی ۔
{4} چرواہا(جو بکریوں کو گھانس وغیرہ کھلانے کے لیے لے کر جاتا ہے)اگر "اَجِیرِ خاص "ہو(یعنی اُس وقت میں کسی دوسرے کی بکریاں نہیں چرا سکتا) تو جتنی بکریاں چرانے کے لیے اُ سے دی گئی تھیں، اُن میں سے کچھ کم ہوگئیں تب بھی اُسے پوری اُجرت(salary) ملے گی اگربکریوں میں اضافہ ہوگیا (مثلاً جب بکریاں چرانے کی بات ہوئی تو اُن کی تعداد(numbers) سو(100) تھی اور کچھ دنوں میں ایک سو بیس(120) ہوگئیں) لیکن وہ (بکریاں)اتنی ہیں کہ جن کے چرانے کی طاقت اُس (چرواہے میں)ہے تو چرانی ہوں گی، اس سے انکار (denial) نہیں کرسکتا اور اُجرت وہی ملے گی جو پہلے سے طے ہوئی تھی۔
اسی طرح استاد صاحب کو بچے پڑھانے کے لیے دیے(اور وقت کا اجارہ کیا مثلاً2 بجے سے 4 بجے تک) پھرکچھ بچوں کا اضافہ ہوگیا کہ انہیں بھی پڑھا نا ہے تو اب انکار (denial)نہیں کرسکتا ()اگر بچے کم ہوگئے تب بھی پوری تنخواہ ملے گی ۔
{5}درزی کے پاس کپڑا سینے(stiching) کو دیا اُ سکے نوکر (servant)نے کوئی ایسی خرابی کردی جس سے تاوان(اس کی اصل قیمت (actual price) دینا) لازم ہوگیا تو اُسی درزی سے "تاوان" لیا جائے گا ()اس صورت (case)میں وہ(درزی) اپنے نوکر سے "تاوان" نہیں لے سکتا کہ نوکر "اَجِیرِ خاص "ہے۔
(بہار شریعت ح۱۴،ص۱۶۱ تا ۱۶۲، مسئلہ۳۴،۳۵،۳۷،۳۸،۴۱،مُلخصاً)
{6}" اَجِیرِ خاص "(یعنی جس اجیر سے وقت کا اجارہ ہوا )کے پاس جو چیز (کام کرنے کے لیے دی گئی )ہے و ہ "امانت "ہے اگر ضائع (waste)ہوجائےتو اس کی دو(2) صورتیں ہیں : (۱) اگر کام کرتے ہوئے اس سے کوئی چیز خراب ہو جائے تو "تاوان"( ویسی ہی چیز دینی ہوگی جبکہ بازار میں ملتی ہو یا اس کی اصل قیمت) واجب نہیں،مثلاً اَجِیرِ خاص نے کپڑا دھویا اور اُس کے پٹکنے(باربار پتھر یا تختے وغیرہ پر مارنے سے)یا نچوڑ نے سے پھٹ گیا تو اُس پر"تاوان"نہیں۔
(۲)اگر" اَجِیرِ خاص "نے جان بوجھ کر(deliberately) اُس چیز کو خراب کیا تو اب "تاوان" واجب ہوگا۔
(بہار شریعت ح۱۴،ص۱۶۰ ، مسئلہ۳۰،مُلخصاً)
{7}"اجیرِ مشترک"( جو ایک وقت میں کئی لوگوں کے کام کر سکتا ہے،مثلاً درزی) سے اگر سامان(مثلاً کپڑے) ضائع(waste) ہو جائے تو اس کی تین صورتیں (cases) ہیں:
(۱)اگر "اَجِیر" (جسے کام کے لیے سامان دیا گیا)نیک پرہیز گار ہو تو اُس پر کچھ بھی تاوان نہیں ہوگا۔
(۲)اگر "اجیر" فاسق(سب کے سامنے گناہ کرنے والا ) ہو تو سامان(مثلاً کپڑے) کی مکمل قیمت(cost) مالک (یعنی کپڑا دینے والے) کو اپنی جیب سے دے گا۔
(۳) اگر" اَجِیر" (ملُازم،نوکر۔ servant) مستور الحال(یعنی نہ تو" فاسق مُعْلِن" ہو اور نہ ہی "عادل" مثلاً داڑھی والا عام نمازی) ہو تو آدھی قیمت کا تاوان دے گا۔(فتاوی رضویہ ج۱۹،ص۵۷۳،مَاخوذاً)
نوٹ:" فاسق مُعْلِن" اُس شخص کو کہتے ہیں کہ جو لوگوں کے سامنے بھی گناہ کرتا ہے(مثلاً داڑھی منڈانے(shave کرنے)والا)۔ "عادل" ایسا آدمی ہو جو گناہ کبیرہ سے بچتا ہو اور گناہِ صغیرہ پر اصرار(یعنی بےخوفی کے ساتھ) نہ کرتا ہو اور ایسا کام بھی نہ کرتا ہو جو مروت کے خلاف ہو مثلاً طاقت ہونے(اور شرعاً منع نہ ہونے) کے بعد بھی مہمان نوازی(hospitality) نہ کرنا،ان سب باتوں سے بچنے والا آدمی ہو ۔(بہارِ شریعت ح ۱۶، ص ۳۹۵ ، ملخصاً)
دو شرطوں (preconditions) میں سے ایک پر اجارہ :
{1} اگر درزی سے یہ کہا کہ :آج سی(stichکر) دو گے تو دو ہزار (2000)روپے اور کل سیا (stichکیا) تو اُجرت(wages) کچھ نہیں ہوگی ()اگر آج سیا (stichکیا) تو دو ہزار (2000)روپے دینا لازم ہے اور ()دوسرے دن سیا (stichکیا) تو اُجرت مثل(یعنی عام طور پر اس کام کی جو اُجرت ہوتی ہے، وہ) ملے گی جو ایک دن میں سینے کی اُجرت (اوپر بتائی ہوئی صورت کے مطابق دو ہزار (2000) روپے) سے زیادہ نہ ہوگی۔
{2} درزی سے کہا اگر تم نے خود سیا(stichکیا) تو ایک ہزار روپےاور شاگرد سے سلوایا (stichکروایا) تو پانچ سو روپے، یہ بھی جائز ہے۔ جس نے سیا (stichکیا) اُس کے لیے جو مزدوری (wages) طے ہوئی ہے ،وہ ہی ملے گی۔
{3} اس طرح اجارہ کرنا بھی جائز ہے کہ اس جگہ اگر تم نے عطر بیچنے والےکو رکھا تو دس ہزار روپے کرایہ اور ()لوہار کو رکھا تو بیس ہزارروپے ۔(بہار شریعت ح۱۴،ص۱۶۳، مسئلہ۳،۴،۶،مُلخصاً)
اجارہ فسخ (یعنی اجارہ ختم)کرنے کا بیان:
{1} اجارہ میں "خیار شرط" (یعنی اجارہ کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں سوچنے کا زیادہ سے زیادہ تین دن کا وقت ) ہوسکتا ہےلہٰذا مُسْتَاجِر (hirer)نے اجارے میں تین دن کا "خیار"(اختیار۔option) اپنے لیے رکھا تو اس وقت کے اندر اندر اجارہ ختم کرسکتا ہے()مکان کرائے پر لیا تھا اور("خیار شرط" رکھا تھا) پھر مُدَّت (duration) کے اندر اُس میں رہائش(accommodation) کر لی تو اب "خیار شرط" ختم ہو گیا۔
{2} (۱)اجارے میں "خیاررویت" (کام یا جگہ دیکھ کر اجارہ ختم کرنے کا اختیار۔option)بھی ہوسکتا ہے۔ گھر کرائے پر لیا مگر ابھی تک کرائے دار نے اُسے نہیں دیکھا تھا تو دیکھنے کےبعد اجارہ فسخ (ختم)کرنے کا اختیار (option) ہے () اگر پہلے کبھی اُس گھر کو دیکھ چکا تھا(اور اب بھی وہ اُسی حالت میں ہو)تو "خیارِ رؤیَت" نہیں ہے() ایک گھر کو پہلے دیکھا اور بعد میں کرائے پر لے لیا لیکن اب جب جا کر دیکھا تو اُس (گھر) کا کوئی حصّہ گرگیا تھا کہ اب اس گھر میں رہنا، نقصان دہ ہےتواب بھی "خیاررویت" حاصل ہے یعنی گھر دیکھنے کے بعد اجارہ ختم کرسکتا ہے۔
(۲)اصول یہی ہے کہ جن کاموں (چیزوں/جگہ) کے بدلنے سے کام یا استعمال میں فرق آتا ہے تو اُن چیزوں کو دیکھنے کے بعد" اَجِیر" کو اختیار (option) ہوتا ہے کہ وہ "اجارہ" ختم کر سکتا ہے، جیسے کپڑے کا دھونا یا سینا (stichکرنا) وغیرہ۔
{3} اجارے میں مُسْتَاجِر (hirer) کو" خیار عیب"(خامی/کمی دیکھ کر اجارے سے منع کرنے کا اختیار ۔ option) بھی ہوتا ہے() خریداری میں اگر "عیب " قبضے(مثلاً خریدی گئی چیز ہاتھ میں لینے) سے پہلےدیکھ لیا تو اب خریدار کو وہ چیز واپس کرنے کا اختیار (option) اس طرح ہوتا ہے کہ بیچنے والا منع نہیں کر سکتا مگر چیز قبضہ کر لینے کے بعد اگر عیب معلوم ہوا تو اب بائع ( بیچنے والے۔seller ) کی رِضامندی(agree ہونے) کے ساتھ واپس ہوگا لیکن() اجارےمیں(جو چیز کرائے پر لی ہے، اُسے) قبضہ کرنے سے پہلے یا قبضہ کرنے کے بعد ( دونوں صورتوں(cases) میں) مُسْتَاجِر ( مثلاً کرائے دار،وہ چیز ) واپس کرنے کا اختیار (option) رکھتا ہے ۔ مالک(owner) کا راضی (agree) ہونا کچھ ضروری نہیں ۔
{4} مکان کرائے پر لیا اور اُس میں کوئی عیب ہے جو رہنے کے لیےنقصان دہ ہے، مثلاً اُس کی کوئی کڑی ( وہ لکڑی کہ جو چھت بنانے میں لگائی جاتی ہے) ٹوٹی ہوئی ہے یا عمارت(building) کمزور ہے تو واپس کرسکتا ہے۔ اگر قبضہ کرنے (مثلاً رہائش۔accommodation) کے بعد کسی قسم کا "عیب"پیدا ہوگیا تو اب بھی اجارہ فسخ(یعنی ختم) کرسکتا ہے۔
{5} مُسْتَاجِر (hirer)نے "عیب " ہونے کے باوجود بھی اُس چیز سے "نفع "اُٹھایا(یعنی استعمال کرلیا) تو اب پوری اُجرت دینی ہوگی (مثلاً مکمل کرایہ دے گا)یہ نہیں ہوسکتا کہ اُس چیز میں جتنا "عیب"/ نقصان ہے، اُتنی اُجرت ، یا اُتنا کرایہ کم کردے اگر مالک نے اُس چیز کا "عیب" ختم کر دیا تھا،مثلاً گھر میں ٹوٹ پھوٹ تھی ، وہ ٹھیک کرادی تواب مُسْتَاجِر ( hirer) کو فسخ (یعنی اجارہ ختم)کرنے کا کوئی اختیار (option) نہ رہا۔
{6} بیل (ox)کرائےپرلیا تھاکہ اس سے روزانہ اتنا کھیت جوتا جائے گا (یعنی زمین کے اتنے حصّے(سو کنال( )) تک ، ایسی گاڑی لے کر چلے گا کہ جس سے زمین میں جگہ بنتی ہے پھر وہاں بیچ ڈالے جاتے ہیں)،یا چکّی (وہ مشین کہ جس سے آٹا پیستے(grind کرتے) ہیں)میں اتنا (مثلاً ہزار کلو)آٹا پیسا جائے گا لیکن جب کام شروع ہوا تو دیکھا کہ اُس بیل (ox)سے اتنا کام نہیں ہوسکتا (یا مشین اتنا آٹا نہیں پیس سکتی ) تو مُسْتَاجِر (چیز کرائے پر لینے والے)کو اختیار (option) ہے کہ اُس(چیز) کو رکھے یا واپس کردے اگر رکھے گا تو پوری اُجرت دینی ہوگی(پورا کرایا دے گا) ()اگر واپس کریگا تب بھی اُس (ایک)دن کا کرایہ پورا ہی دینا ہوگا۔
{7}زمین کےمختلف(different) حصّوں کاایک ساتھ(مثلاً کاشت کاری(cultivation) کرنےکے لیے) "اجارہ" کیا (کرائے پر لیا) لیکن بعد میں دیکھا تو کچھ حصّے سمجھ آئے اور کچھ سمجھ نہیں آئے تو سب (حصّوں )کا اجارہ ختم کیا جاسکتا ہے کیونکہ یہاں زمین کے سب حصّوں کو ایک ساتھ ملا کر"اجارہ" کیا گیا تھا۔
{8} جو "اجارہ"اس طرح کے کام پر ہواہے کہ اُس میں اجارہ کرنے والے کو کوئی ایسی چیز بھی "اجیر"(مُلازم) کو دینی ہوگی یا اجارے میں لی گئی چیز استعمال کرنی ہوگی کہ جو بعد میں ختم ہو جائے گی اور اُس چیز کے استعمال سے(اس وقت) مُسْتَاجِر (hirer) کو کوئی فائدہ حاصل نہ ہوگا (بعد میں بیچنے کا فائدہ ہونا الگ بات ہے)، جیسے کسی کو کاغذ پر لکھنے کا اجارہ کیا تو اب اجارہ کرنے والے کو کاغذ بھی دینا ہے اور سیاہی(ink) بھی، اسی طرح زراعت(cultivation)کے لیے زمین کو اجارہ پر لیا تو اب کھیت بونے(لگانے) میں غلّہ(اناج ۔grain ) زمین میں ڈالنا ہوگا ، ایسا "اجارہ" مُسْتَاجِر ( hirer) بغیر کسی عذر کے فسخ (ختم)کر سکتا ہے ۔
{9}(۱) جس غرض (وجہ /سبب)سے اجارہ ہوا،اگر وہ غرض ہی باقی نہ رہی یا شرعاً ایسا عذر(مسئلہ) پید ا ہوگیا کہ عقدِاجارہ (contract of wages)پر عمل نہ ہوسکے توان صورتوں (cases)میں اجارہ بغیر فسخ کیے خود ہی ختم ہو جائے گا، جیسےجسم کے کسی حصّے (مثلاً اُنگلی)میں زخم تھا اور اس بات کا ڈر تھا کہ اگر اس کا علاج نہ کرایا گیا تو خرابی زیادہ ہو جائے گی(مثلاً پورا ہاتھ کاٹنا پڑے گا)، یا () دانت میں درد تھا پھر ڈاکٹر سے جسم کا حصّہ کٹوانے یا دانت نکلوانے کے لیے اجارہ کیا مگر اس کام سے پہلے ہی زخم اچھا ہوگیا ، یا دانت کا درد ختم ہو گیا تو اجارہ خودہی فسخ ہوگیا کیونکہ اب یہ(انگلی کٹوانے یا دانت نکلوانے کا) کام شرعاً نہیں کر سکتے کہ شریعت میں بلاوجہ جسم کا کوئی حصّہ کٹوانے یا بلاوجہ دانت نکلوانے کی اجازت ہی نہیں۔
(۲)دعوت ولیمہ کے لیے باور چی کو کھانا پکانے کے لیے رکھا اور دولہن(یا دولہا) کا انتقال ہوگیا تو اجارہ خود ہی ختم ہوگیا کہ ان صورتوں (cases)میں وہ غرض (وجہ)ہی باقی نہ رہی جس کے لیے "اجارہ" کیا تھا۔
{10} (۱)کرائے پر گھر لیا، اس کے کنوئے(well) میں مٹی ایسی بھری ہوئی ہے کہ وہ (کنواں) پانی نہیں دیتا، یا () اُس کنویں کی مَرَمَّت (repairing) کرانا ضروری ہے تویہ سب مالک (owner)کی ذمہ داری (responsibility)ہے مگر مالک کوان کاموں پرمجبور(force) نہیں کیاجاسکتا اور ()اگر کرائے دارنے ان کاموں کو خود اپنی طرف سے کرلیا تو اب مالک سے اس کام کے پیسے نہیں لے سکتا اور نہ ہی یہ پیسے کرائے سے کم کر سکتا ہے () ہاں!اگر مکان والا ان کاموں کو نہ کرے تو کرائے داریہ مکان چھوڑ سکتا ہے۔ (۲) چھوٹاحوض (جس میں پانی جمع کیاجاتا ہے)یا نالیوں(drains)کو صاف کرانا ،کرائے دار کی ذمہ داری (responsibility) ہے۔
{11} کرائے دارنے گھرخالی کردیا لیکن گھر میں دھول مٹی وغیرہ پڑی ہوئی ہے تو اس کو اُٹھوا کر گھر صاف کروانا کرائے دار کی ذمہ داری (responsibility) ہے اور چھوٹے حوض میں دھول مٹی وغیرہ پڑی ہو تو اس کو خالی کرانا کرائے دار کے ذمہ داری نہیں۔
{12} دکاندار مفلس ہوگیا(یعنی اس کا مال ختم ہوگیا) کہ اب تجارت (trade)نہیں کرسکتا تو دکان کا اجارہ فسخ کرنے کے لیے یہ عذر ہے(یعنی وہ دکان خالی کر دے گا) کہ دکان کو کرائے پر رکھ کر اب کیا کرے گا؟
{13} (۱)جس بازار میں دکان ہے وہ بازار بند ہوگیا کہ اب وہاں تجارت(trade) ہی نہیں ہوسکتی یہ بھی دکان چھوڑنے کے لیے عذر ہے (دکان خالی کر دے گا)۔
(۲) اگر بازار چالو رہا (یعنی اُس بازار میں کاروبار ہو رہا)ہے مگر یہ دکاندار دوسری دکان میں جانا چاہتا ہے جو اس سے زیادہ بڑی ہے، یا ()اُس (دکان)کاکرایہ کم ہے اور وہاں اُس (دوسری)دکان میں بھی وہی کام کرےگا کہ جو یہاں (پہلی دکان پر) کررہا ہے تو دکان نہیں چھوڑ سکتا۔
(۳) اگر یہ (پہلی )دکان اس لیے چھوڑنا چاہتا ہے کہ دوسری دکان پر دوسرا کام کرے گا جواس (پہلی) دکان پر نہیں ہو سکتا (مثلاً وہ لوہار کا کام کرنا چاہتا ہے اور یہ پہلی دکان کپڑے کی دکان ہے)تو یہ پہلی دکان چھوڑنے کے لیےعذر ہے اگر پہلی دکان پر دوسرا کام بھی ہو سکتا ہے تواب پہلی دکان نہیں چھوڑ سکتا۔
{14}سواری (ride) کا جانور کرائے پر لیا تھا پھر دوسرا جانور خرید لیا تو یہ بھی اجارہ ختم کرنے کے لیے" عذر" ہے اور اجارہ فسخ (ختم)کیا جاسکتا ہے جو سواری (ride) کا جانور کرائے پر لیا تھا ،اگر اُس سے بہتر جانورلینا چاہتا ہے تو یہ اجارہ ختم کرنے کا عذر نہیں ہے۔
{15} کاشتکار(cultivator) نے زراعت(cultivation) کے لیے کھیت(farm) لیے تھے اور بیمار ہوگیا تو اس کی دو(2) صورتیں ہیں: (۱) اگر وہ خود اپنے ہاتھ سے کاشت کرتا تھا اور ایسا بیمار ہوا کہ اب خود زراعت (cultivation) نہیں کر سکتا تو یہ اجارہ ختم کرنے کے لیے عذر ہے اور(۲) اگر اپنے ہاتھ سے زراعت (cultivation)نہیں کرتا تھا بلکہ دوسروں سے کرواتا تھا تو اب یہ فسخِ اجارہ کے لیے عذر نہیں۔
(بہار شریعت ح۱۴،ص ۱۶۸ تا۱۷۶، مسئلہ۱،۳،۴،۶،۷،۸،۹،۱۰،۱۱،۱۲،۱۸،۱۹،۲۳،۲۴،۳۸،۳۹،مُلخصاً)
اجارہ کے مختلف(different) مسائل:
{1} "اِجارہ "کرنےیا، "اجارہ" ختم کرنے کی نسبت مستقبل(future) کی طرف ہوسکتی ہے ، مثلاًکہہ سکتا ہے کہ: آئندہ مہینے(next month) کے شروع سے اجارہ پر دیا، یا یہ مہینا ختم ہونے پر" اجارہ "ختم کردیا۔
{2} کوئی چیز کرائے پر لی تھی اور اس کا کرایہ پہلے دے دیا تھا پھر اجارہ فسخ (یعنی ختم) ہو گیا تو مُسْتَاجِر (اجارے پر لینے والا) اُس چیز کو روک سکتا ہے جب تک اپنی پوری رقم(amount) واپس نہ لے لے، چاہے"اجارہ صحیحہ" ہو یا "اجارہ فاسد ہ" ہو (دونوں کا یہی حکم ہے)۔
{3} موچی (shoemaker)کو جوتے بنانے کے لیے دیے اور اپنے پاس سے چمڑا(leather)دیا اور اُس کی پیمائش دیدی ( sizeبتادیا)اور یہ بتادیا کہ کیسا ہوگا(designکیسا ہوگا) پھر کہہ دیا کہ تَلا (جوتے کے نیچے کا حصّہ۔ sole) اور اَستر ( جوتے کے تلے کے اوپر اور پیر کے نیچے والا حصّہ۔shoe lining)اپنے پاس سے لگادینا اور پیسے بھی طے کر لیاتو اس طرح طے کرنا بھی جائز ہے۔
{4} جانوروں پر سفر کرنے والے قافلے نے، کھانے پینے کا سامان لے جانے کے لیے ایک اونٹ کرائے پر لیا اور سفر میں وہ سامان استعمال کرتے رہے تو جتنا سامان استعمال ہوا، تو (کسی جگہ سے خرید کر) اُتنا ہی مزید سامان یا اُسی قسم کا سامان، اُس اونٹ پر لاد(رکھ) سکتے ہیں۔
{5} کام کرنے والے نے کہہ دیا کہ: اتنے(کم) پیسوں میں کام نہیں کروں گا، میں تو اتنے(یعنی زیادہ پیسے)لوں گا اور کام کروانے والا خاموش رہا تووہی اُجرت(wages) دینی ہوگی جو کام کرنے والے نے بعد میں بولی تھی۔
{6} اُجرت(wages) پر خط لکھوانا جائز ہے جبکہ کاغذ کی مقدار (quantity) اور کتنا لکھا جائے گا ،یہ سب بتادیا ہو۔
{7}(۱) جو چیز اُجرت (مثلاً کرائے )پر دی گئی جب اُس کے اجارے کی مُدَّت (duration) پوری ہو جائے تو مُسْتَاجِر (اُجرت پر چیزلینےوالے)کے پاس سے چیز واپس لانا، مالک (owner) ذمہ داری (responsibility) ہے۔ (۲) اگر عاریت ( عارضی استعمال۔temporary use) پر کوئی چیز لی تھی تو واپس کرنا،عاریت پرلینے والے کی ذمہ داری ہے۔
{8} جانور کرائے پرلیا تو اُس کا دانہ، گھاس ،پانی پلانا(سب) مالک کی ذمہ داری ہے اگرمُسْتَاجِر(کرائے پر لینے والے) نےجانور کو کھلایا پلایا تو یہ احسان ہے مگر اس کے کرائے میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔
{9} کسی کام پر اجارہ ہوا تو اُس کام کے ساتھ جو جو چیزیں ضروری ہیں، اُس میں لوگوں کا عُرف (رواج) دیکھا جائے گا کہ یہ چیز لانا کس کی ذمہ داری ہے؟مثلاً درزی کو کپڑا سینے (stich کرنے)کو دیا تودھاگہ،سوئی وغیرہ لانا،درزی کی ذمہ داری ہے۔
{10} (۱)کپڑے دھو بی کو دیے توکلپ(یعنی کانرن فلور(corn flour) وغیرہ سے سوتی(cotton) کپڑے کی خوبصورتی ، کڑک بڑھانے کا پاؤڈر) اور نیل (پرانےکپڑے میں سفید ی لانے کے لیے استعمال ہونے والا مائع۔liquid) دینادھو بی کی ذمہ داری ہے کہ لوگوں میں عُرف(عادت) اسی طرح ہے۔

(۲) جِلد ساز (کتابوں کی جِلد(binding)کرنے والے)کو جِلد بنانے کے لیے کتابیں دیں تو گَتا( سخت کاغذ )، چمڑا، ڈورا(موٹا دھاگہ) وغیرہ ، سب چیزیں جلد ساز (binder)کی ذمہ داری ہے۔
{11} کچھ مزدور گڑھا کھود نے ، یا مٹی اُٹھانے کے لیے رکھے اور اس پورے کام کی ایک اُجرت طے کر لی پھر اُن مزدور وں میں سے کسی نے کم کام کیا، یا کسی نے زیادہ کام کیا تب بھی وہ اُجرت سب پربرابر برابر تقسیم (distribute) ہوگی۔
{12} مزدورسے کہا فلاں جگہ سے جاکر ایک بوری غلّے(اناج ۔grain )کی لے آؤ ،اتنی مزدوری (wages) ہوگی ۔ مزدوروہاں گیا مگر غلّہ وہاں تھا ہی نہیں کہ جس کولے کرآتا تو طے شدہ(decided) مزدوری (wages) کو جانے اور آنے اور بوجھ(weight)لانے پر تقسیم(divide) کیاجائے تو یہ تین کام ہونگے: (۱) خالی ہاتھ جانا(۲)بوجھ اُٹھانا(۳) سامان لے کر واپس آنا۔اس صورت(case) میں اُسے صرف "جانے "کی مزدوری (wages) ملے گی کیونکہ مزدور کو وہاں بھیجا تھا کہ سامان لے کر آئے تو اُس نے خالی ہاتھ ہی جانا تھا، وہ خالی ہاتھ چلا گیا (تو ایک کام ہوگیا)مگر سامان نہ لا سکا، اب اس کا خالی ہاتھ واپس آنا، خود اُس کا اپنا کام ہے مُسْتَاجِر ( اجارے کرنے والے، hirer) کا دیا ہواکام نہیں ہے (لہذا بقیہ دو کاموں کی مزدوری نہیں ملے گی)۔(بہار شریعت ح۱۴،ص ۱۷۶ تا۱۸۴،مسئلہ۱،۱۱،۱۴،۱۹،۲۱،۲۲،۲۴،۲۷،۲۹،۳۱،۳۳،۳۴،۳۵،مُلخصاً)
{13} جائز پروڈکٹس(products) کی تشہیر (advertisement)کے لئے ایڈز(ads)،جائز انداز سے(مثلاً بے پردگی سے پاک) تیار کرنا اور پھر اسے جائز ذرائع(sources) سے عام کرنے کا "اجارہ" کرنا، جائز ہے۔مثلاًیہ مُعاہَدہ کیا کہ جائز پروڈکٹس کہ جو غیر شرعی انداز سے بنی ہوئی نہ ہوں، ان کی تشہیر (advertisement) اس طرح ہوگی کہ روزانہ مثلاً دو سو (200) ای میل(emails)، دو سو(200) میسیجز(messages) اور ایک سو(100) واٹس ایپ (whatsapp) ہونگے،اور ایڈز (ads)کے مواد کی مقدار (quantity) بھی طے کر لی(کہ وہ کتنے لائن(lines) یا الفاظ(words) کا ہوگا)، اور اس کی اتنی اُجرت(wages)ہوگی۔
اس طرح کے کام میں یہ ضروری ہےکہ طے شدہ (decided)اُجرت ، اُجرتِ مِثْل (یعنی جو عام طور پر ایسے کام کی اُجرت ہوتی ہے، اس) سے زیادہ نہ ہو۔( تفصیل کے لیے دیکھیں جمادی الثانی 1441،ماہنامہ فیضانِ مدینہ، دار الافتاء اہلسنّت،مُلخصاً)
{14} کچھ کمپنیز(compaies)آن لائن(on-line) مختلف پیکجز(packages) بیچتی اور مختلف سوشل (میڈیا) پلیٹ فارمز(مثلاً یوٹیوب۔You-Tube، فیس بُک ۔Facebook، انسٹا گرام۔Instagram) پر پوسٹ (post)وغیرہ لائک(like) کرنے کا کام دیتی ہیں اور اس کے بدلنے میں کمائی(earning) ہوتی ہے بلکہ دوسروں کو جوائن(join)کروانے پر بونس بھی ملتا ہے(یعنی مزید کچھ اور رقم ملتی ہے)، ایسا کرنے میں مختلف شرعی خرابیاں ہیں:
(۱) یہ رقم رشوت ہے کیونکہ اس رقم کے بدلے(exchange)میں کوئی چیز نہیں ملتی، بلکہ صرف آن لائن کمپنی میں کام کرنے کا حق(right) ملتا ہے۔
(۲) وڈیوز(videos) وغیرہ کو لائک(like) کرنا کوئی ایسا کام نہیں کہ جس پر اجارہ(wages) دیا جائے بلکہ یہ ناجائز اجارہ ہے۔
(۳) جب یہ کام ناجائز ہے، تو اس میں دوسرے کو جوائن (join)کروانا اور اس پر بونس لینا بھی ناجائز ہے کیونکہ کسی کو ناجائز کام کی طرف بلانا بھی گناہ ہے۔(مارچ 2024،ماہنامہ فیضانِ مدینہ، دارالافتاء اہلسنّت، مُلخصاً)
{15}اجارہ کرتے ہوئے یہ طے کرنا کہ اگر بغیر بتائے چھوڑ کر گئے تو مہینے میں جتنے دن کام کر چکے ہو، اُس کی تنخواہ (salary) نہیں ملے گی، اس طرح کی شرط(precondition) لگانا"فاسد"، ناجائز اور گناہ ہے۔ اس طرح کی شرط پر اجارہ(عقد،contract ) کرنے پر دکاندار (employer)اور مُلازم(employee) دونوں ہی گناہ گار ہونگے۔(اپریل 2024،ماہنامہ فیضانِ مدینہ، دارالافتاء اہلسنّت، مُلخصاً)
{16}کسی بھی ادارے(organisation) یا فیکٹری والوں کا ایک چھٹی پر دو(2) دن کی کٹوتی کرنا، یا کچھ منٹ دیر (late) آنے پر پورے دن کی تنخواہ(salary) کاٹ لینا، ظلم وناجائز و گناہ ہے کہ یہ مالی جرمانہ(fine)ہے اور آج کے دور میں مالی جرمانہ لینا حرام ہے۔یاد رہے کہ اگر اجارے(contract of wages) میں اس طرح کی شرط (precondition) رکھی تھی تو یہ اجارہ ہی "فاسد"، گناہ اور اسے ختم کرنا لازم ہے۔
(اگست 2024،ماہنامہ فیضانِ مدینہ، دارالافتاء اہلسنّت، مُلخصاً)

(مدنی چینل دیکھتے رہیئے)