’’ دین کے مسائل ‘‘(part 04 C)

نمبر عنوان (topic) Pg
151 علم، علماء کے حقوق(rights) اور باطنی آداب 4a
152 اکراہ اور جائز و ناجائز کے مزید (more) مسائل 4a
153 عورتوں کے مزید (more) مسائل 4a
154 خرید و فروخت (buying and selling) 4a
155 مُختلف سودے (different deals) 4b
156 کاروبار کی مختلف صورتیں(different cases) اور مسائل 4b
157 آج کی تجارت 3
158 اجارہ (Contract of someone by paying wages) 4b
159 آج کا اجارہ 3
160 شرکت (partnership) 31
161 مُضَاربَت (sleeping partnership) 49
162 وکالت(attorneyship) اور حوالہ 57
163 کفالت (guaranty) 78
164 رہن (mortgage) 85
165 حقوق (rights) و استحقاق (laws of rights) 94
166 سود (interest) 98
167 بیع صَرف (سونے چاندی کی تجارت) 4d
168 بیع سلم (A type of trade) 4d
169 صُلح (آپس کے کسی معاملے میں ایک بات پر اتفاق کر لینا) 4d
170 کاشت کاری (agriculture) وغیرہ 4d
171 پاکیزہ کاغذات (sacred papers) 4d
172 نکاح 4d
173 جن سے کبھی نکاح نہیں ہو سکتا 4d
174 کفو(ہم پلا، برابر مرتبے۔equal level) سے نکاح کے مسائل 4d
175 مہر (نکاح کرنے پر عورت کو کچھ مال دینا) 4d
176 شادی مُبارک ہو 4e
177 میاں بیوی کے حقوق (rights) 4e
178 ’’عورت کا نفقہ(کھانا، پینا، رہائش۔accommodation،وغیرہ)‘‘ 4e
179 اولاد کے حقوق (rights) 4e
180 اولاد کو کب سکھائیں 4e
181 طلاق 4e
182 کیا طلاق کے بعد نکاح رہ سکتا ہے؟ 4e
183 اپنی بیوی کے لیے خاص (specific) قسم کھانا 4e
184 عورت طلاق لینا چاہے تو کیا کرے؟ 4e
185 عورت کے جسم کے خاص حصّوں کو ماں کے اُن حصّوں کی طرح کہنا 4e
186 عورت سے ظہار کے الفاظ بولنے کا کفّارہ 4e
187 عدّت 4f
188 وقف 4f
189 شرط (precondition) کے مسائل 4f
190 حج کی اصطلاحات(terms) اور باطنی آداب 4f
191 حج اور احرام 4f
192 عمرے کا طریقہ 4f
193 حج کا طریقہ 4f
194 مدینے پاک کی حاضری 4f
195 میرے مرنے کے بعد میرے مال کا کیا ہوگا؟ 4g
196 انتقال کرنے والے کے مال کے مسائل 4g
197 اسلام کی طرف بلانا 4g
198 اسلام میں آنا 4g
199 نئے مسلمان(new muslim) کی پہلی نماز 4g
200 نئے مسلمان(new muslim) اور عبادتیں 4g

’’آج کا اجارہ‘‘

حدیث شریف:
ایک شخص نے پیارے آقا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سے عرض کی :یا رَسُوْلَ اﷲ !صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ہم خادم (نوکر۔ servent) کو کتنی مرتبہ مُعاف کریں؟ آپ چپ رہے، اُنہوں نے پھر وہی سُوال کیا ، آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم پھر بھی خاموش رہے ، جب تیسری بار سُوال کیاتو فرمایا:روزانہ(daily)ستّربار(seventy times)۔(مشکاۃ المصابیح،کتاب النکاح، الحدیث: ۳۳۶۷،ج۱،ص۶۱۷)
جب کسی کام کے زیادہ مرتبہ ہونے کو بتانا ہو توعربی میں ستّر (70)کا لفظ بولایا جاتا ہےیعنی ہر دن اُسے بہت مرتبہ مُعاف کرو۔ یہ معافی اس صورت(case) میں ہو کہ غلطی خطأً(چوک جانے/بھول جانے سے) ہوتی ہو۔خباثتِ نفس (بُری عادتوں کی وجہ)سے نہ ہو اور نقصان بھی مالک(owner) کا ذاتی ہو، شریعت کا (یعنی دینی ) ،یاقومی، یا مُلکی قُصور(غلطی) نہ ہو کہ یہ قُصور مُعاف نہیں کیے جاتے ۔
(مراٰۃ المناجیح،باب نفقات کا بیان،ج۵،ص۱۷۰، مُلخصاً)
ہ(incident): ’’ کام کرنے والے کو اچھا انعام ملا‘‘
جنّتی صحابی ،حضرت رَبیعہ رَضِیَ اللہُ عَنْہپیارےآقا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کےخادِم (servant)تھے۔حضرت رَبیعہ رَضِیَ اللہُ عَنْہفرماتے ہیں کہ میں رات کو پیارے آقا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کے پاس رہا کرتا تھا اور آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کےوضو وغیرہ کےلیےپانی لایا کرتا تھا،ایک دن آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے کرم کیا اورمجھ سے فرمایا:(اے ربیعہ!)مانگ کیا مانگتا ہے؟میں نےعرض کی:یا رَسُوْلَاللہ(صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم)!میں جنّت میں آپ کا ساتھ (یعنی جنّت میں آپ کے قریب جگہ)مانگتا ہوں۔آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نےفرمایا:اس کےعلاوہ (other) اور کچھ؟ میں نےعرض کی: بس یہی ( کافی (enough)ہے)۔ تو آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا:تو پھر سجدوں کی کثرت(یعنی نفل نماززیادہ پڑھ)کر اپنے اس معاملے میں میری مدد کرو۔ ( مسلم، کتاب الصلاۃ، ص۲۵۲، الحدیث: ۲۲۶۔۴۸۹)
تجھ سےتجھی کو مانگ لوں توسب کچھ مل جائے
سو (100)سوالوں سے یہی ایک(1) سوال اچھا ہے
حدیث شریف کی بہت اہم(very important) کتاب ’’مسلم شریف ‘‘ کی اس حدیثِ مُبارک سے پیارے آقا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی یہ شان معلوم ہوئی کہ اللہکریم نے نبی ٔ کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کودنیاکے تمام خزانے (all treasures)دیئے ہیں۔ آپ جس کو جو چاہیں عطا فرمائیں، خود پیارے آقا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نےفرمایا:مجھے زمین کےخزانوں(treasures of the earth) کی چابیاں (keys) دی گئی ہیں (صحیح البخاری، کتاب الرقاق،الحدیث:۶۴۲۶، ص۵۴۰)۔اسی طرح اللہ کریم نےآپ کو جنّت کا بھی مالک (owner) بنایا ہے، جبھی توآپ نےحضرت ربیعہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے فرمایا: جو چاہو مانگ لو۔ واقعے(incident) سےدوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ
صحابۂ کرام رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمْ بھی پیارے آقا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کے اختیارات (authorities) جانتے تھے کہ آپ دنیا کی نعمتیں اورجنّت دینے کی بھی طاقت رکھتے ہیں ۔
{1} خطیب صاحب کا اجارہ، اس طرح کااجارہ کیا جاسکتا :
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِیِّیْن ،اَمَّا بَعْدُ!
فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط
خطیب صاحب سے یہ شرطیں(preconditions) طے کریں (پرنٹ نکلواکر دستخط کروالیں):
{1}کمیٹی نے آپ۔۔۔۔۔۔۔بن۔۔۔۔۔۔کےساتھ۔۔۔۔۔۔سے۔۔۔۔۔۔ (12)مہینے (مثلاً 1جنوری 2025 سے 31دسمبر2025) تک ماہانہ۔۔۔۔۔۔۔ روپے مشاہرے(salary) پر جمعہ اور عید کی نماز کابطور خطیب صاحب کے اجارہ کیا(یعنی مسجد میں خطیب صاحب رکھا)۔آپکےاجارے کامقام۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(مثلاً جامع مسجد غوثیہ، فیڈرل۔بی۔ایر یا، بلاک ۱۱، کراچی) ہے۔
اہم وضاحت:خطیب صاحب کے لیے(۱)قراءت ٹیسٹ، (۲)مسائلِ نماز ٹیسٹ اور (۳) جمعہ و عیدین ٹیسٹ پاس کرنا ضروری ہے۔( )
نوٹ: یہ ٹیسٹ کسی اچھے سُنی قاری صاحب اور سُنی مُفتی صاحب سے کروائے جائیں گے۔
خطیب صاحب کے کام: نمازِ جمعہ و عیدین کی نمازیں پڑھانا ، آپ کی ذمہ داریوں (responsibilites) میں شامل ہے(مزید اخلاقی طور پر بڑی راتوں کے بیانات و معمولات میں شرکت کی التجاء ہے)۔
{2}اگر خطیب صاحب سے اجارہ مہینا شروع ہونے کے بعد ہو رہا ہو تو پہلے مہینے کے بقیہ جمعہ کا اجارہ کیا جائے: اس ماہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کی ۔۔۔ سے ۔۔۔ تاریخ(مہینے کے آخر تک، مثلاً جنوری 2025 کی 15سے 31 تاریخ) میں آنے والے۔۔۔۔ جمعہ (مثلاً 3) کا اجارہ۔۔۔۔۔۔۔۔روپے مشاہرے(salary) پر بطور خطیب صاحب(یعنی مسجد میں خطیب صاحب رکھا)۔آپکےاجارے کامقام۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔(مثلاً جامع مسجد غوثیہ، فیڈرل۔بی۔ ایریا، بلاک ۱۱،کراچی)ہے۔ نوٹ: ایک مہینے میں 4 سے 5 جمعہ مع عید آسکتے ہیں۔چھٹی کی صورت میں دونوں(جمعہ اور عید) ملا کر تعداد دیکھیں گے(مثلاً 5 جمعہ اور 1عید، کُل 6 نمازیں) پھر ماہانہ مشاہرے(monthly salary) سے تقسیم (divide) کر کے ایک نماز کی کٹوتی نکالی جائے گی (مثلاً کُل 6 نمازیں اور 12,000مشاہرہ ہے تو ایک نماز کی چھٹی پر 2000روپے کی کٹوتی ہوگی ) یاد رہے کہ:پہلا اجارہ عام طور پرآزمائشی(trial) ہوتا ہے(جس میں کچھ وقت تک اطمینان کیا جاتا ہے پھر پورے سال کا اجارہ ہوتا ہے) ، اس (آزمائشی اجارے) کی مُدَّت (duration) بڑھ بھی سکتی ہے۔آزمائشی مُدَّت (duration) کے کسی بھی مہینے میں اگلے مہینے(next month) مزید اجارہ جاری رکھنے یا ختم کرنے کا کمیٹی کو اختیار (option)ہوتا ہے۔ وضاحت: پہلی مرتبہ ہونے والے اجارے کے بعد، اگر کمیٹی نے اجارہ کرنے سے منع نہ کیا تو خود بہ خود (understood)مزید ایک مہینے کا آزمائشی اجارہ( contract of wages trial) ہو جائے گا اور جب کمیٹی نے پورے سال کا اجارہ کیا تو صرف اُس سال کا مستقل اجارہ( contract of wages permanent)ہو جائے گا۔
{3} پورے سال میں مسجد کے عُرف(عادت) کے مطابق ۔۔۔۔۔ (ایک یا دو جمعہ کی چھٹی کی اجازت ہوگی)، اس کے علاوہ کوئی چھٹی نہیں ہوگی (یہاں کمیٹی/انتظامیہ والے لکھ دیں۔ مثلاً " ایک جمعہ" یا " دو جمعہ" )۔
{4}رمضان المبارک میں مسجد کے عُرف (یعنی عادت) کے مطابق کمیٹی کی طرف سے سالانہ خیر خواہی پیش کی جائےگی(یعنی یہ خدمت ہوگی)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔( مثلاًکمیٹی رمضان میں پوری ایک تنخواہ(salary) اضافی (additional) دیتی ہو تو وہ اس بات کو یہاں لکھ دیں، یا جتنا وہ دیتے ہیں وہ لکھ دیں)۔ اس کے علاوہ (other) کوئی بونس نہ ہوگا۔
{5}کبھی ایسا ہوتا ہے کہ خطیب صاحب چھٹیوں پر جاتے ہیں تو پیچھے کسی کو اپنا "نائب" بنا دیتے ہیں(یعنی alternative کہ جو خطیب صاحب کی غیر موجودگی میں نماز پڑھا دیتے ہیں)۔ یاد رہےکہ"نائب خطیب صاحب "وہ بن سکتے ہیں کہ جو شرعاً امامت اور جمعہ پڑھانے کی اہلیت (ability) بھی رکھتے ہوں(یعنی اُن میں بھی وہ تمام شرطیں (preconditions) پائی جاتی ہوں کہ جو ایک خطیب صاحب کے لیے ضروری ہیں)۔ جُمُعہ کی اِمامَت کا اَہَم مَسئَلہ: ایک بَہُت ضروری اَمر جس کی طرف عوام کی بالکل توجُّہ نہیں وہ یہ ہے کہ جُمُعہ کو اور نَمازوں کی طرح سمجھ رکھا ہے کہ جس نے چاہا نیا جُمُعہ قائم کرلیا اور جس نے چاہا پڑھا دیا یہ ناجائز ہے ۔اس لئے کہ (۱)جُمُعہ قائم کرنا (پڑھانا) بادشاہِ اسلام یا اُس کے نائب(deputy) کا کام ہے او ر (۲) جہاں اسلامی سلطنت نہ ہو وہاں جو سب سے بڑا فقیہ( عالم) سُنّی صحیحُ الْعقیدہ ہو، وہ اَحکامِ شَرعِیّہ جاری کرنے(شرعی حکم لگانے) میں سلطانِ اسلام (اسلامی بادشاہ) کا قائم مقام (deputy)ہے لہٰذا وُہی جُمُعہ قائم کرے(پڑھائے)، بغیر اُس کی اجازت کے ( جُمُعہ) نہیں ہو سکتا (۳)اور یہ بھی نہ ہو تو عام لوگ جس کو امام بنائیں ۔ عالم کے ہوتے ہوئے عوام بطورِ خود کسی کو امام نہیں بنا سکتے نہ یہ ہو سکتا ہے کہ دو چار شخص کسی کو امام مقرر کر لیں (بنالیں) ایسا جُمُعہ کہیں ثابت نہیں ۔
(بہارِ شریعت ج۱ص۷۶۴، مسئلہ۷، مُلخصاً)
نائب خطیب صاحب" کی اہلیت معلوم کرنے کے لیے اُن کا ٹیسٹ اور کمیٹی سے اجازت ہونا ضروری ہے (کیونکہ علاقے/محلّے کو دیکھتے ہوئے ہی کسی کو امامت کے لیے لایا جاتا ہے)۔ لہذا محترم خطیب صاحب سے گزارش ہے کہ پہلے ہی سے " نائب خطیب صاحب" کے ٹیسٹ اور کمیٹی سے اجازت کی ترکیب فرمالیں کیونکہ بغیر اجازت "نائب" لانے کی صورت(case) میں، اُن نمازوں سے غیر حاضری شمار (count) کی جائےگی (یعنی اُن نمازوں کا مشاہرہ نہیں دیا جائے گا) بلکہ ایسے "نائب خطیب صاحب" کو نماز پڑھانے کی اجازت بھی نہیں ہو گی۔
{6}کسی بھی جمعہ یا عید میں پہلے سے بتائےبغیر چھٹی ہوجانےپر،یا کارکردگی( مثلاً جمعہ کے وقت کی پابندی) تسلی بخش (یعنی صحیح)نہ ہونےکی صورت (case)میں کمیٹی تحریری صورت میں تفہیم نامہ(توجّہ دلانے والی تحریر) حاضر کر کے توجّہ (attention)دلائے گی ۔دوسری بار اس طرح (چھٹی ہونےیا عُرف (عادت) سے ہٹ کر نمازوں میں تاخیر ہونے) پردوسرے تفہیم نامے کے ساتھ گزارش کی جائےگی۔اس کے بعد بھی توجّہ (attention) حاصل کرنے میں کامیابی نہ ہوئی اور اسی طرح چھٹیوں یا تاخیروں کا سلسلہ رہا تو مسجد کا نظام درست رکھنے ، نمازیوں کے اطمینان (satisfaction)کا خیال رکھنے اوراپنی شرعی ذمہ داری (responsibility) پوری کرنے کے لیے کمیٹی (مُفتی صاحب سے) شرعی رہنمائی لینے کے بعد کوئی قدم اُٹھائے گی۔ یاد رہے کہ خطیب صاحب کا باشرع ہونا بھی ضروری ہے۔ اگر غیر شرعی کام پائے گئے،مثلاً داڑھی ایک مٹھی سے کم کرنا، داڑھی پر کالا رنگ لگانا، غیر شرعی انگوٹھی پہنناغیرہ تب بھی مُفتی صاحب سے رہنمائی لے کر شرعی حکم پر عمل کیا جائے گا۔
{7}کمیٹی کو بتائے بغیر مسلسل دو جمعہ یا جمعہ وعید کی چھٹی ہوجانے پر کمیٹی (مُفتی صاحب سے) شرعی رہنمائی لے کر مسجد کا نظام درست کرنے کی کوشش کرے گی۔
نوٹ: مسجد میں کسی قسم کاغیر شرعی کام ہونے، فتنے فساد کی صورت بننے، نمازیوں کے لیے تشویش( یعنی پریشانی) کا سامان کرنے، اجارے کے طے شدہ(decided) اصولوں کاخلاف(against) کرنے پر(مُفتی صاحب سے) شرعی رہنمائی لے کر اجارے کی مُدَّت (duration) کے بیچ میں اجارہ ختم کرنے یا اجارے کی مُدَّت ختم ہونے پر نیا اجارہ نہ کرنے کا کمیٹی کو اختیار (option)ہوگا
نام خطیب صاحب مع دستخط:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دستخط صدر کمیٹی:
{2}امام صاحب کا اجارہ( )، اس طرح کااجارہ کیا جاسکتا :
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِیِّیْن ،َ اَمَّا بَعْدُ!
فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط
امام صاحب سے یہ شرطیں(preconditions) طے کریں (پرنٹ نکلواکر دستخط کروالیں):
{1}کمیٹی نے آپ۔۔۔۔۔۔۔بن۔۔۔۔۔۔کےساتھ۔۔۔۔۔۔سے۔۔۔۔۔۔ (12)مہینے (مثلاً 1جنوری 2025 سے 31دسمبر2025) تک ماہانہ۔۔۔۔۔۔۔ روپے مشاہرے(salary) پر یومیہ۔۔۔۔۔نمازوں( مثلاً 5 نمازوں، فجر،ظہر،عصر،مغرب، عشاء) کابطور امام صاحب کےا جارہ کیا(یعنی مسجد میں امام صاحب رکھا)۔آپکےاجارے کامقام۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(مثلاً جامع مسجد غوثیہ، فیڈرل۔بی۔ایریا، بلاک ۱۱، کراچی) ہے۔
اہم وضاحت:امام صاحب کے لیے(۱) اذان ٹیسٹ، (۲) قراءت ٹیسٹ اور (۳) مسائلِ نماز ٹیسٹ پاس کرنا ضروری ہے ۔( )
نوٹ: یہ ٹیسٹ کسی اچھے سُنی قاری صاحب اور سُنی مُفتی صاحب سے کروائے جائیں گے۔
امام صاحب کے کام: نماز پڑھانےکے ساتھ ساتھ نمازِ جمعہ و عیدین پڑھانا اور مؤذن نہ ہونے کی صورت میں اذان دینا آپ کی ذمہ داریوں (responsibilites) میں شامل ہے۔

{2}اگر امام صاحب سے اجارہ مہینا شروع ہونے کے بعد ہو رہا ہو تو پہلے مہینے کے لیے:
اس ماہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کی ۔۔۔ سے ۔۔۔ تاریخ(مہینے کے آخر تک، مثلاً جنوری 2025 کی 15سے 31 تاریخ) یومیہ (ہر دن) کی(مثلاً 5) ۔۔۔۔ نمازوں کا۔۔۔۔۔۔۔۔روپے مشاہرے(salary) پر بطور امام صاحب کےا جارہ کیا(یعنی مسجد میں امام صاحب رکھا)۔آپکےاجارے کامقام۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔(مثلاً جامع مسجد غوثیہ، فیڈرل۔ بی۔ایریا، بلاک ۱۱،کراچی)ہے۔ نوٹ:پہلا اجارہ عام طور پرآزمائشی(trial) ہوتا ہے(جس میں کچھ وقت تک اطمینان کیا جاتا ہے پھر پورے سال کا اجارہ ہوتا ہے) ، اس (آزمائشی اجارے) کی مُدَّت (duration) بڑھ بھی سکتی ہے۔آزمائشی مُدَّت (duration) کے کسی بھی مہینے میں اگلے مہینے(next month) مزید اجارہ جاری رکھنے یا ختم کرنے کا کمیٹی کو اختیار (option)ہوتا ہے۔ وضاحت: پہلی مرتبہ ہونے والے اجارے کے بعد، اگر کمیٹی نے اجارہ کرنے سے منع نہ کیا تو خود بہ خود (understood)مزید ایک مہینے کا آزمائشی اجارہ( contract of wages trial) ہو جائے گا اور جب کمیٹی نے پورے سال کا اجارہ کیا تو صرف اُس سال کا مستقل اجارہ( contract of wages permanent)ہو جائے گا۔
{3}ہر مہینے دو(2) چھٹیاں کرنے کی اجازت ہے چاہے تو ایک ساتھ (دو (2)دن کی چھٹیاں) کرلیں یا الگ الگ (نمازوں کی چھٹیاں) کرلیں( مثلاً پانچ (5)نمازوں کا اجارہ ہوتو دس (10) نمازوں کی چھٹیاں، تین (3) نمازوں کا اجارہ ہو تو چھ(6) نمازوں کی چھٹیاں کی جاسکتی ہیں)،اس کے بعدمزید(more) نمازیں نہ پڑھانے پر مشاہرے(salary) سے کٹوتی (deduction)ہو گی۔ البتہ چھٹی کرنے سے پہلے، کمیٹی کو چھٹی کرنے کا بتانا ہوگا تاکہ مسجد کا نظام بھی خراب نہ ہو۔
{4}ان چھٹیوں کے علاوہ (other) سال میں بارہ (12) چھٹیاں مزید کی جاسکتی ہیں ، چاہے خوشی اورغمی کے وقت الگ الگ (مثلاً تین(3)تین دن کر کے) لے لیں اور چاہے تو ایک ساتھ لے لیں لیکن ہر طرح کی چھٹیاں کمیٹی کو پہلے سے بتا کر کی جائیں گی۔
{5}رمضان المبارک میں مسجد کے عُرف (یعنی عادت) کے مطابق کمیٹی کی طرف سے سالانہ خیر خواہی پیش کی جائےگی(یعنی یہ خدمت ہوگی)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔( مثلاًکمیٹی رمضان میں پوری ایک تنخواہ (salary) اضافی (additional) دیتی ہو تو وہ اس بات کو یہاں لکھ دیں، یا جتنا وہ دیتے ہیں وہ لکھ دیں)۔ اس کے علاوہ (other) کوئی بونس نہ ہوگا۔
{6}کبھی ایسا ہوتا ہے کہ امام صاحب چھٹیوں پر جاتے ہیں تو پیچھے کسی کو اپنا "نائب" بنا دیتے ہیں(یعنی alternative کہ جو امام صاحب کی غیر موجودگی میں نماز پڑھا دیتے ہیں)۔ یاد رہےکہ"نائب امام صاحب " وہ بن سکتے ہیں کہ جو شرعاً امامت کی اہلیت (ability) بھی رکھتے ہوں(یعنی اُن میں بھی وہ تمام شرطیں (preconditions) پائی جاتی ہوں کہ جو ایک امام صاحب کے لیے ضروری ہیں)۔ ()"نائب امام صاحب" کی اہلیت معلوم کرنے کے لیے اُن کا ٹیسٹ اور کمیٹی سے اجازت ہونا ضروری ہے (کیونکہ علاقے/محلّے کو دیکھتے ہوئے ہی کسی کو امامت کے لیے لایا جاتا ہے)۔ لہذا محترم امام صاحب سے گزارش ہے کہ پہلے ہی سے " نائب امام صاحب" کے ٹیسٹ اور کمیٹی سے اجازت کی ترکیب فرمالیں کیونکہ بغیر اجازت "نائب" لانے کی صورت(case) میں، اُن نمازوں سے غیر حاضری شمار (count) کی جائےگی (یعنی اُن نمازوں کا مشاہرہ نہیں دیا جائے گا) بلکہ ایسے "نائب امام صاحب" کو نماز پڑھانے کی اجازت بھی نہیں ہو گی۔
{7}ایک مہینے میں پہلے سے بتائےبغیرتین(3) چھٹیاں ہوجانےپر،یا کارکردگی( مثلاًنمازکے وقت کی پابندی) تسلی بخش (یعنی صحیح)نہ ہونےکی صورت (case)میں کمیٹی تحریری صورت میں تفہیم نامہ(توجّہ دلانے والی تحریر) حاضر کر کے توجّہ (attention)دلائے گی ۔دوسری بار اس طرح (چھٹیاں یا نمازوں کے وقت کی پابندی نہ ہونے) پردوسرے تفہیم نامے کے ساتھ گزارش کی جائےگی۔اس کے بعد بھی توجّہ (attention) حاصل کرنے میں کامیابی نہ ہوئی اور اسی طرح چھٹیوں یا نماز میں غیر حاضریوں کا سلسلہ رہا تو مسجد کا نظام درست رکھنے ، نمازیوں کے اطمینان (satisfaction)کا خیال رکھنے اوراپنی شرعی ذمہ داری(responsibility) پوری کرنے کے لیے کمیٹی (مُفتی صاحب سے) شرعی رہنمائی لینے کے بعد کوئی قدم اُٹھائے گی۔ یاد رہے کہ امام صاحب کا باشرع ہونا بھی ضروری ہے۔ اگر غیر شرعی کام پائے گئے،مثلاً داڑھی ایک مٹھی سے کم کرنا، داڑھی پر کالا رنگ لگانا، غیر شرعی انگوٹھی پہننا وغیرہ تب بھی مُفتی صاحب سے رہنمائی لے کر شرعی حکم پر عمل کیا جائے گا۔
{8}کمیٹی کو بتائے بغیر مسلسل(12)دن چھٹیاں ہوجانے پر کمیٹی (مُفتی صاحب سے) شرعی رہنمائی لے کر مسجد کا نظام درست کرنے کی کوشش کرے گی۔
نوٹ: مسجد میں کسی قسم کاغیر شرعی کام ہونے، فتنے فساد کی صورت بننے، نمازیوں کے لیے تشویش( یعنی پریشانی) کا سامان کرنے، اجارے کے طے شدہ(decided) اصولوں کاخلاف(against) کرنے پر(مُفتی صاحب سے) شرعی رہنمائی لے کر اجارے کی مُدَّت (duration) کے بیچ میں اجارہ ختم کرنے یا اجارے کی مُدَّت ختم ہونے پر نیا اجارہ نہ کرنے کا کمیٹی کو اختیار (option)ہوگا۔
نام امام صاحب مع دستخط:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دستخط صدر کمیٹی:
{3}مؤذن صاحب کا اجارہ( )، اس طرح کااجارہ کیا جاسکتا :
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِیِّیْن ، اَمَّا بَعْدُ!
فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط
مؤذن صاحب سے یہ شرطیں (preconditions)طے کریں (پرنٹ نکلواکر دستخط کروالیں):
{1}کمیٹی نے آپ۔۔۔۔۔۔۔بن۔۔۔۔۔۔کےساتھ۔۔۔۔۔۔سے۔۔۔۔۔۔(12) مہینے (مثلاً 1جنوری 2025 سے 31دسمبر2025) تک ماہانہ۔۔۔۔۔۔۔ روپے مشاہرے(salary) پر یومیہ۔۔۔۔۔اذانوں( مثلاً 5 اذانوں:فجر،ظہر،عصر،مغرب اور عشاء) کابطور مؤذن صاحب کےا جارہ کیا(یعنی مسجد میں مؤذن صاحب رکھا)۔آپکے اجارےکامقام۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(مثلاً جامع مسجد غوثیہ، فیڈرل۔بی۔ایریا، بلاک ۱۱، کراچی) ہے۔
اہم وضاحت: مؤذن صاحب ، اذان دینے کے ساتھ ساتھ امام صاحب کے نہ ہونے پر نماز بھی پڑھاتے ہیں ، لہذا (۱) اذان ٹیسٹ، (۲) قراءت ٹیسٹ اور (۳) مسائلِ نماز ٹیسٹ پاس کرنا ضروری ہے( )۔ نوٹ: یہ ٹیسٹ کسی اچھے سُنی قاری صاحب اور سُنی مُفتی صاحب سے کروائے جائیں گے۔
مؤذن صاحب کے کام: طے شدہ (decided) وقت پر اذان دینا، اقامت کہنا ، امام صاحب موجود نہ ہوں تو نماز پڑھانا، آپ کی ذمہ داریوں (responsibilites) میں شامل ہے۔

{2}اگر مؤذن صاحب سے اجارہ مہینا شروع ہونے کے بعد ہو رہا ہو تو پہلے مہینے کے لیے:
اس ماہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کی ۔۔۔ سے ۔۔۔ تاریخ(مہینے کے آخر تک، مثلاً جنوری 2025 کی 15سے 31 تاریخ) یومیہ( ہردن )کی(مثلاً 5) ۔۔۔۔اذانوں کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔روپے مشاہرے(salary) پر بطور مؤذن صاحب کےا جارہ کیا(یعنی مسجد میں مؤذن صاحب رکھا)۔آپکےاجارےکامقام۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ (مثلاً جامع مسجد غوثیہ، فیڈرل۔بی۔ایریا، بلاک ۱۱،کراچی)ہے۔
نوٹ:پہلا اجارہ عام طور پرآزمائشی(trial) ہوتا ہے(جس میں کچھ وقت میں اطمینان کیا جاتا ہے پھر پورے سال کا اجارہ ہوتا ہے) ، اس (آزمائشی اجارے) کی مُدَّت (duration) بڑھ بھی سکتی ہے۔آزمائشی مُدَّت (duration) کے کسی بھی مہینے میں اگلے مہینے(next month) مزید اجارہ جاری رکھنے یا ختم کرنے کا کمیٹی کو اختیار (option)ہوتا ہے۔ وضاحت: پہلی مرتبہ ہونے والے اجارے کے بعد، اگر کمیٹی نے اجارہ کرنے سے منع نہ کیا تو خود بہ خود (understood)مزید ایک مہینے کا آزمائشی اجارہ( contract of wages trial) ہو جائے گا اور جب کمیٹی نے پورے سال کا اجارہ کیا تو صرف اُس سال کا مستقل اجارہ( contract of wages permanent)ہو جائے گا۔
{3}ہر مہینے دو(2) چھٹیاں کرنے کی اجازت ہے چاہے تو ایک ساتھ (دو (2)دن کی چھٹیاں) کرلیں یا الگ الگ (اذانوں کی چھٹیاں) کرلیں( مثلاً پانچ (5)اذانوں کا اجارہ ہوتو پورے مہینے میں دس (10)اذانوں کی چھٹیاں اور اگر تین(3) اذانوں کا اجارہ ہو تو پورے مہینے میں چھ(6) اذانوں کی چھٹیاں کی جاسکتی ہیں)،اس کے بعدمزید(more) اذانیں نہ دینے پر مشاہرے (salary) سے کٹوتی (deduction)ہو گی۔ البتہ چھٹی کرنے سے پہلے، کمیٹی کو چھٹی کرنے کا بتانا ہوگا تاکہ مسجد کا نظام بھی خراب نہ ہو۔
{4}ان چھٹیوں کے علاوہ (other) سال میں بارہ (12) چھٹیاں مزید کی جاسکتی ہیں ، چاہے خوشی اورغمی کے وقت الگ الگ (مثلاً تین(3)تین دن کر کے) لے لیں اور چاہے تو ایک ساتھ لے لیں لیکن ہر طرح کی چھٹیاں کمیٹی کو پہلے سے بتا کر کی جائیں گی۔
{5}رمضان المبارک میں مسجد کے عُرف (یعنی عادت) کے مطابق کمیٹی کی طرف سے سالانہ خیر خواہی پیش کی جائےگی(یعنی یہ خدمت ہوگی)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ( مثلاًکمیٹی رمضان میں پوری ایک تنخواہ (salary) اضافی (additional) دیتی ہو تو وہ اس بات کو یہاں لکھ دیں، یا جتنا وہ دیتے ہیں وہ لکھ دیں)۔ اس کے علاوہ (other) کوئی بونس نہ ہوگا۔
{6}کبھی ایسا ہوتا ہے کہ مؤذن صاحب چھٹیوں پر جاتے ہیں تو پیچھے کسی کو اپنا "نائب" بنا دیتے ہیں(یعنی alternative کہ جو مؤذن صاحب کی غیر موجودگی میں اذان دیتے ہیں)۔ یاد رہےکہ"نائب مؤذن صاحب"
وہ بن سکتے ہیں کہ جو شرعاً امامت کی اہلیت (ability) بھی رکھتے ہوں ( کیونکہ مؤذن صاحب کی ذمہ داریوں (responsibilites) میں یہ بھی ہے کہ امام صاحب موجود نہ ہوں تو وہ نماز پڑھائیں گے، اسی طرح "نائب مؤذن صاحب" کو بھی نماز پڑھانی ہوگی لہذا اُن میں بھی وہ تمام شرطیں (preconditions) پائی جانا ضروری ہیں کہ جو ایک امام صاحب کے لیے ضروری ہیں)۔
نائب مؤذن صاحب" میں امامت کی اہلیت معلوم کرنے کے لیے اُن کا ٹیسٹ اور کمیٹی سے اجازت ہونا ضروری ہے (کیونکہ علاقے/محلّے کو دیکھتے ہوئے ہی کسی کو امامت یا اذان کے لیے لایا جاتا ہے)۔ لہذا محترم مؤذن صاحب سے گزارش ہے کہ پہلے ہی سے " نائب مؤذن صاحب" کے ٹیسٹ اور کمیٹی سے اجازت کی ترکیب فرمالیں کیونکہ بغیر اجازت "نائب" لانے کی صورت(case) میں، اُن اذانوں سے غیر حاضری شمار (count) کی جائےگی (یعنی اُس اذان و نماز کے وقت کا جو مشاہرہ بنتا ہے، وہ نہیں دیاجائے گا) بلکہ ایسے "نائب مؤذن صاحب" کو اذان دینے یانماز پڑھانے کی بھی اجازت نہیں ہو گی-
{7}ایک مہینے میں پہلے سے بتائےبغیرتین(3) چھٹیاں ہوجانےپر،یا کارکردگی( مثلاًاذان کے وقت کی پابندی) تسلی بخش (یعنی صحیح)نہ ہونےکی صورت (case)میں کمیٹی تحریری صورت میں تفہیم نامہ(توجّہ دلانے والی تحریر) حاضر کر کے توجّہ (attention)دلائے گی ۔دوسری بار اس طرح (چھٹیاں یا اذان میں تاخیر ہوتے رہنے) پردوسرے تفہیم نامے کے ساتھ گزارش کی جائےگی۔اس کے بعد بھی توجّہ (attention) حاصل کرنے میں کامیابی نہ ہوئی اور اسی طرح چھٹیوں یا اذان میں غیر حاضریوں کا سلسلہ رہا تو مسجد کا نظام درست رکھنے، نمازیوں کے اطمینان (satisfaction)کا خیال رکھنے اور اپنی شرعی ذمہ داری (responsibility) پوری کرنے کے لیے کمیٹی (مُفتی صاحب سے) شرعی رہنمائی لینے کے بعد کوئی قدم اُٹھائے گی۔ یاد رہے کہ مؤذن صاحب کا باشرع ہونا بھی ضروری ہے۔ اگر غیر شرعی کام پائے گئے،مثلاً داڑھی ایک مٹھی سے کم کرنا، داڑھی پر کالا رنگ لگانا، غیر شرعی انگوٹھی پہننا وغیرہ تب بھی مُفتی صاحب سے رہنمائی لے کر شرعی حکم پر عمل کیا جائے گا۔
{8}کمیٹی کو بتائے بغیر مسلسل(12)دن چھٹیاں ہوجانے پر کمیٹی (مُفتی صاحب سے) شرعی رہنمائی لے کر مسجد کا نظام درست کرنے کی کوشش کرے گی۔
نوٹ: مسجد میں کسی قسم کاغیر شرعی کام ہونے، فتنے فساد کی صورت بننے، نمازیوں کے لیے تشویش( یعنی پریشانی) کا سامان کرنے، اجارے کے طے شدہ(decided) اصولوں کاخلاف(against) کرنے پر(مُفتی صاحب سے) شرعی رہنمائی لے کر اجارے کی مُدَّت (duration) کے بیچ میں اجارہ ختم کرنے یا اجارے کی مُدَّت ختم ہونے پر نیا اجارہ نہ کرنے کا کمیٹی کو اختیار (option)ہوگا۔
نام مؤذن صاحب مع دستخط:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دستخط صدر کمیٹی:
{4}قاری صاحب کااجارہ :
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِیِّیْن ، اَمَّا بَعْدُ!
فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط
قاری صاحب سے یہ شرطیں (preconditions)طے کریں (پرنٹ نکلواکر دستخط کروالیں):
{1} کمیٹی/انتظامیہ نے آپ۔۔۔۔۔۔۔بن۔۔۔۔۔۔کےساتھ۔۔۔۔۔۔سے۔۔۔۔۔۔ مہینے (مثلاً 1جنوری 2025 سے 31دسمبر2025) تک ماہانہ۔۔۔۔۔۔۔ روپے مشاہرے(salary) پر یومیہ۔۔۔۔۔بجے سے ۔۔۔۔۔ بجے تک ( مثلاً دوپہر2 بجے سے شام 4بجے تک) کابطور قاری صاحب کےا جارہ کیا(یعنی آپ کو قرآنِ پاک پڑھانے کے لیےرکھا)۔آپکےاجارے کامقام۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(مثلاً مدرسہ جامع مسجد غوثیہ، فیڈرل۔ بی۔ ایریا، بلاک ۱۱،کراچی)ہے۔
اہم وضاحت:قاری صاحب کے لیے(۱)تجویدٹیسٹ (اور اگر وہاں حفظ کے بچے بھی پڑھانے ہیں تو) (۲)حفظ ٹیسٹ پاس کرنا ضروری ہے۔ نوٹ: یہ ٹیسٹ کسی اچھے پرانے(senior)سُنی قاری صاحب سے کروائے جائیں گے۔
{2}اگر قاری صاحب سے اجارہ مہینا شروع ہونے کے بعد ہو رہا ہو تو پہلے مہینے کے لیے: اس ماہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کی ۔۔۔ سے۔۔۔ تاریخ(مہینے کے آخر تک، مثلاً جنوری 2025 کی 15سے 31 تاریخ) یومیہ( ہر دن)۔۔۔۔۔بجے سے ۔۔۔۔۔ بجے تک ( مثلاً دوپہر2 بجے سے شام 4بجے تک) ۔۔۔۔۔۔۔۔روپے مشاہرے(salary) پر بطور قاری صاحب کےا جارہ کیا(یعنی آپ کو قرآنِ پاک پڑھانے کے لیےرکھا)۔آپکےاجارے کامقام۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(مثلاً مدرسہ جامع مسجد غوثیہ، فیڈرل۔ بی۔ایریا، بلاک ۱۱،کراچی)ہے۔ نوٹ:پہلا اجارہ عام طور پرآزمائشی (trial)ہوتا ہے(جس میں کچھ وقت میں اطمینان کیا جاتا ہے پھر پورے سال کا اجارہ ہوتا ہے) ، اس (آزمائشی اجارے) کی مُدَّت (duration) بڑھ بھی سکتی ہے۔آزمائشی مُدَّت (duration) کے کسی بھی مہینے میں اگلے مہینے(next month) مزید اجارہ جاری رکھنے یا ختم کرنے کا کمیٹی/انتظامیہ کو اختیار (option)ہوتا ہے۔ وضاحت: پہلی مرتبہ ہونے والے اجارے کے بعد، اگر کمیٹی/انتظامیہ نے اجارہ کرنے سے منع نہ کیا تو خود بہ خود (understood)مزید ایک مہینے کا آزمائشی اجارہ( contract of wages trial) ہو جائے گا اور جب کمیٹی/انتظامیہ نے پورے سال کا اجارہ کیا تو صرف اُس سال کا مستقل اجارہ( contract of wages permanent)ہو جائے گا۔
{3} یومیہ(یعنی ہر دن) دس (10)منٹ لیٹ آئے تو معاف ہیں مزید لیٹ ہونے پر (مثلاً گیارہ منٹ لیٹ آنے پر، پورے گیارہ منٹ کی)کٹو تی ہو گی ۔ مثلاً مہینا تیس ( 30) دن کا ہے، مشاہرہ بہتر سو(7,200) ہے، تو ایک دن کا دو سو چالیس(240)روپے مشاہرہ ہوا۔اب اگر دو( 2) گھنٹے کا اجارہ ہے تو(120منٹ میں سے) ہر منٹ کے دو(2)روپے مشاہرہ بنے گا۔ کمیٹی/انتظامیہ حساب کتاب کا کام ایسے اسلامی بھائی کو دے کہ جو حساب(mathematics) میں ماہر(expert) ہونیز قاری صاحب کے لیے "حاضری رجسٹر" کا بھی انتظام کیا جائے۔
قاری صاحب روزانہ اپنےآنے،جانےکاوقت"حاضری رجسٹر"پرلکھیں نیز اگراس وقت میں کسی ذاتی کام سے چلے گئےیاوہیں بیٹھے بیٹھے پڑھائی کے دوران (عُرف وعادت سے ہٹ کر) کوئی ذاتی کام کیا(مثلاً اپنا کاروباری حساب کتاب کرنے لگے)تو "حاضری رجسٹر" پر لکھ دیں(مثلاً آج پندرہ(15) منٹ اپنا ذاتی کام کیا، اس وقت کی بھی کٹوتی ہوگی)۔یاد رہے کہ ایسا کام کبھی ہو گیا تو اس کی کٹوتی ہے اور بار بار اس طرح کا کام ہونے(مثلاً عادت بنالینے) پر کٹوتی کے ساتھ ساتھ مُفتی صاحب سے بھی شرعی رہنمائی لی جائے گی۔
{4}ہر مہینے ایک (1) چھٹی کرنے کی اجازت ہے ،اس کے بعدمزید(more) چھٹی/چھٹیاں کرنے پر مشاہرے (salary) سے کٹوتی (deduction)ہو گی۔ البتہ چھٹی کرنے سے پہلے، کمیٹی/انتظامیہ کو چھٹی کرنے کا بتانا ہوگا تاکہ مدرسے کا نظام بھی خراب نہ ہو۔ نوٹ:ماہانہ ایک چھٹی کے علاوہ (other) ، ہر۔۔۔۔۔(مثلاً اتوار) کو مدرسے کی چھٹی ہوگی۔
{5}ان چھٹیوں کے علاوہ (other) سال میں ایک مرتبہ، ایک ہفتے(یعنی ہفتہ وار چھٹی کے علاوہ (other) چھ(6) دن چھٹیاں ) کی جاسکتی ہیں ، لیکن ہر طرح کی چھٹیاں کمیٹی/انتظامیہ کو پہلے سے بتا کر کی جائیں گی۔
{6}رمضان المبارک میں مدرسے کے عُرف (یعنی عادت) کے مطابق کمیٹی/انتظامیہ کی طرف سے سالانہ خیر خواہی پیش کی جائےگی(یعنی یہ خدمت ہوگی)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔( مثلاًکمیٹی/انتظامیہ رمضان میں پوری ایک تنخواہ(salary) اضافی (additional) دیتی ہو تو وہ اس بات کو یہاں لکھ دیں، یا جتنا وہ دیتے ہیں وہ لکھ دیں)۔ اس کے علاوہ (other) کوئی بونس نہ ہوگا۔
{7}کبھی ایسا ہوتا ہے کہ قاری صاحب چھٹیوں پر جاتے ہیں تو پیچھے کسی کو اپنا "نائب" بنا دیتے ہیں(یعنی alternative کہ جو قاری صاحب کی غیر موجودگی میں بچوں کو پڑھا تے ہیں)۔ یاد رہےکہ"نائب قاری صاحب " وہ بن سکتے ہیں کہ جو شرعاً قرآنِ پاک پڑھانے کی اہلیت (ability) رکھتے ہوں۔ "نائب قاری صاحب" کی اہلیت معلوم کرنے کے لیے اُن کی تجوید (اور حفظ کے درجے ہوں تو) حفظ کا ٹیسٹ(کسی اچھے پرانے(senior)سُنی قاری صاحب سے) کرانا اور کمیٹی/انتظامیہ سے اجازت ہونا ضروری ہے (کیونکہ علاقے/محلّے کو دیکھتے ہوئے ہی کسی کو بچے پڑھانے کے لیے لایا جاتا ہے)۔ لہذا محترم قاری صاحب سے گزارش ہے کہ پہلے ہی سے " نائب قاری صاحب" کے ٹیسٹ اور کمیٹی/انتظامیہ سے اجازت کی ترکیب فرمالیں کیونکہ بغیر اجازت "نائب" لانے کی صورت(case) میں، اُن دنوں کی غیر حاضری شمار (count) کی جائےگی بلکہ ایسے "نائب قاری صاحب" کو قرآنِ پاک پڑھانے کی بھی اجازت نہیں ہو گی-
{8}ایک مہینے میں پہلے سے بتائےبغیر دو(2) چھٹیاں ہوجانے، یا مستقل لیٹ آنےکی صورت (case)میں کمیٹی/انتظامیہ تحریری صورت میں تفہیم نامہ(توجّہ دلانے والی تحریر) حاضر کر کے توجّہ (attention)دلائے گی ۔دوسری بار اس طرح (چھٹیاں ہونے) پردوسرے تفہیم نامے کے ساتھ گزارش کی جائےگی۔اس کے بعد بھی توجّہ (attention) حاصل کرنے میں کامیابی نہ ہوئی اور اسی طرح چھٹیوں کا سلسلہ رہا تو مدرسے کا نظام درست رکھنے ، سرپرستوں(بچوں کے والدین وغیرہ) کے اطمینان (satisfaction)کا خیال رکھنے اور اپنی شرعی ذمہ داری(responsibility) پوری کرنے کے لیے کمیٹی/انتظامیہ (مُفتی صاحب سے) شرعی رہنمائی لینے کے بعد کوئی قدم اُٹھائے گی۔ یاد رہے کہ قاری صاحب کا باشرع ہونا بھی ضروری ہے۔ اگر غیر شرعی کام پائے گئے،مثلاً داڑھی ایک مٹھی سے کم کرنا، داڑھی پر کالا رنگ لگانا، غیر شرعی انگوٹھی پہننا وغیرہ تب بھی مُفتی صاحب سے رہنمائی لے کر شرعی حکم پر عمل کیا جائے گا۔ ہاں!مصیبتِ عامہ مثلاًپہیہ جام ہڑتال،شدیدبارش وغیرہ کی وجہ سے چھٹی پر کٹوتی (deduction) نہ ہوگی۔
{9}کمیٹی/انتظامیہ کو بتائے بغیرایک ہفتہ چھٹی ہوجانے پر کمیٹی/انتظامیہ (مُفتی صاحب سے) شرعی رہنمائی لے کر مدرسے کا نظام درست کرنے کی کوشش کرے گی۔
اہم گزارش: کمیٹی/انتظامیہ کی جانب سے بچوں کو مارنے کی بالکل بھی اجازت نہیں۔
نوٹ: بچوں کو مارنے،مدرسےمیں کسی قسم کاغیر شرعی کام ہونے، فتنے فساد کی صورت بننے، سرپرستوں کے لیے تشویش( پریشانی) کا سامان کرنے، اجارے کے طے شدہ(decided) اصولوں کاخلاف(against) کرنے پر(مُفتی صاحب سے) شرعی رہنمائی لے کر اجارے کی مُدَّت (duration) کے بیچ میں اجارہ ختم کرنے یا اجارے کی مُدَّت ختم ہونے پر نیا اجارہ نہ کرنے کا کمیٹی/انتظامیہ کو اختیار (option)ہوگا۔
نام قاری صاحب مع دستخط: ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دستخط صدر کمیٹی/انتظامیہ: ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
{5}خادم صاحب کااجارہ( ) :
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِیِّیْن ، اَمَّا بَعْدُ!
فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط
خادم صاحب سے یہ شرطیں(preconditions) طے کریں (پرنٹ نکلواکر دستخط کروالیں): {1} کمیٹی/انتظامیہ نے آپ۔۔۔۔۔۔۔بن۔۔۔۔۔۔کےساتھ۔۔۔۔۔۔سے۔۔۔۔۔۔ مہینے (مثلاً 1جنوری 2025سے 31دسمبر2025) تک(یومیہ صفائی کے۔۔۔۔، ہفتہ وار صفائی کے۔۔۔۔ اضافی، مہینے کی صفائی کے۔۔۔۔ اضافی، مکمل) ۔۔۔۔۔۔۔ روپے ماہانہ مشاہرے(salary) پر صفائی کے کام کرنے کا بطور خادم کے اجارہ کیا۔آپکےاجارے کامقام۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(مثلاً جامع مسجد غوثیہ، فیڈرل۔ بی۔ ایریا، بلاک ۱۱، کراچی) ہے۔ نوٹ: کمیٹی یومیہ صفائی، ہفتہ وار صفائی اورماہانہ صفائی کی تفصیل مکمل واضح طور پر بتا دے۔ وضاحت: اگر یومیہ صفائی کے 12000، ہفتہ وار صفائی کے4000 اورماہانہ صفائی کے 3000 طے ہوئے ( یعنی اس طرح مکمل 19000 ہوئے) تو مہینا چاہے28 دن کا ہو یا 31 دن کا ، یہ ایّام (دن) 12000 ہی پر تقسیم (divide) ہونگے۔اسی طرح مہینے میں 4 ہفتے ہوں یا 5، 4000 ہی پر تقسیم ہونگے۔ خادم صاحب کے کام: کمیٹی کی طرف سے بیان کردہ یومیہ، ہفتہ وار اور ماہانہ صفائی کرنا، مسجد کی چیزوں اور لائٹ پنکھوں کاخیال رکھنانیزوقت پرمسجدکےگیٹ کھولنااوربندکرناوغیرہ آپ کی ذمہ داریوں (responsibilites) میں شامل ہیں(ضرورۃً دیگر کام بھی لیے جاسکتے ہیں)۔
{2}اگر خادم صاحب سے اجارہ مہینا شروع ہونے کے بعد ہو رہا ہو تو پہلے مہینے کے لیے: اس ماہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کی ۔۔۔ سے ۔۔۔ تاریخ(مہینے کے آخر تک، مثلاً جنوری 2025 کی 15سے 31 تاریخ) یومیہ( ہر دن)۔۔۔۔۔۔۔۔روپے مشاہرے(salary)، ہر ہفتے ۔۔۔۔۔۔۔۔روپےاور اس مہینے کی اضافی کاموں کے ۔۔۔۔۔۔۔۔روپے،کُل ۔۔۔۔۔۔۔مشاہرے پر بطور خادم صاحب کےا جارہ کیا۔آپکےاجارے کامقام۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(مثلاً جامع مسجد غوثیہ، فیڈرل۔ بی۔ایریا، بلاک ۱۱، کراچی) ہے۔ نوٹ:پہلا اجارہ عام طور پرآزمائشی (trial)ہوتا ہے(جس میں کچھ وقت میں اطمینان کیا جاتا ہے پھر پورے سال کا اجارہ ہوتا ہے) ، اس (آزمائشی اجارے) کی مُدَّت (duration) بڑھ بھی سکتی ہے۔آزمائشی مُدَّت (duration) کے کسی بھی مہینے میں اگلے مہینے(next month) مزید اجارہ جاری رکھنے یا ختم کرنے کا کمیٹی/انتظامیہ کو اختیار (option)ہوتا ہے۔ وضاحت: پہلی مرتبہ ہونے والے اجارے کے بعد، اگر کمیٹی/انتظامیہ نے اجارہ کرنے سے منع نہ کیا تو خود بہ خود (understood)مزید ایک مہینے کا آزمائشی اجارہ( contract of wages trial) ہو جائے گا اور جب کمیٹی/انتظامیہ نے پورے سال کا اجارہ کیا تو صرف اُس سال کا مستقل اجارہ( contract of wages permanent)ہو جائے گا۔
{3}ہر مہینے ایک (1) چھٹی کرنے کی اجازت ہے ،اس کے بعدمزید(more) چھٹی/چھٹیاں کرنے پر مشاہرے (salary) سے کٹوتی (deduction)ہو گی۔ البتہ چھٹی کرنے سے پہلے، کمیٹی/انتظامیہ کو چھٹی کرنے کا بتانا ہوگا تاکہ مسجد کی صفائی کا نظام بھی خراب نہ ہو۔
{4}ان چھٹیوں کے علاوہ (other) سال میں ایک مرتبہ، ایک ہفتے کی چھٹیاں کی جاسکتی ہیں ، لیکن ہر طرح کی چھٹیاں کمیٹی/انتظامیہ کو پہلے سے بتا کر کی جائیں گی۔
{5}رمضان المبارک میں مسجد کے عُرف (یعنی عادت) کے مطابق کمیٹی/انتظامیہ کی طرف سے سالانہ خیر خواہی پیش کی جائےگی(یعنی یہ خدمت ہوگی)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔( مثلاًکمیٹی/انتظامیہ رمضان میں پوری ایک تنخواہ(salary) اضافی (additional) دیتی ہو تو وہ اس بات کو یہاں لکھ دیں، یا جتنا وہ دیتے ہیں وہ لکھ دیں)۔ اس کے علاوہ (other) کوئی بونس نہ ہوگا۔
{6}کبھی ایسا ہوتا ہے کہ خادم صاحب چھٹیوں پر جاتے ہیں تو پیچھے کسی کو اپنا "نائب" بنا دیتے ہیں(یعنی alternative کہ جو خادم صاحب کی غیر موجودگی میں صفائی کا کام کرے)۔ یاد رہےکہ"نائب خادم " وہ بن سکتا ہے کہ جو کمیٹی کے بتائے ہوئے سب کام صحیح طرح کر سکتا ہو۔
{7}ایک مہینے میں پہلے سے بتائےبغیر دو(2) چھٹیاں ہوجانے، یاایسی چار(4) نمازو ں میں غیر حاضری کہ جس میں خدمت کا کوئی کام کرنا ہوتا ہے ،یا چار(4) دن صفائی کے کاموں میں کمی (کوتاہی) ہونے کی صورت (case)میں کمیٹی/انتظامیہ تحریری صورت میں تفہیم نامہ(توجّہ دلانے والی تحریر)کے ساتھ توجّہ (attention)دلائے گی ۔دوسری بار اس طرح (چھٹیاں ہونے) پردوسراتفہیم نامہ دیا جائےگا۔اس کے بعد بھی توجّہ (attention) حاصل کرنے میں کامیابی نہ ہوئی اور اسی طرح چھٹیوں وغیرہ کا سلسلہ رہا تو مسجد کا نظام درست رکھنے ، مسجد کی صفائی کا خیال رکھنے اور اپنی شرعی ذمہ داری (responsibility) پوری کرنے کے لیے کمیٹی /انتظامیہ (مُفتی صاحب سے) شرعی رہنمائی لینے کے بعد کوئی قدم اُٹھائے گی۔
{8}ہاں !مصیبتِ عامہ مثلاً پہیہ جام ہڑ تال ،شدید بارش وغیرہ کی وجہ سے چھٹی پر کٹوتی(deduction) نہ ہوگی
{9}کمیٹی/انتظامیہ کو بتائے بغیرایک ہفتہ چھٹی ہوجانے پر کمیٹی/انتظامیہ (مُفتی صاحب سے) شرعی رہنمائی لے کر مسجد کا نظام درست کرنے کی کوشش کرے گی۔ نوٹ: مسجدمیں کسی قسم کاغیر شرعی کام ہونے، فتنے فساد کی صورت بننے، نمازیوں کے لیے تشویش ( پریشانی) کا سامان کرنے، اجارے کے طے شدہ(decided) اصولوں کاخلاف(against) کرنے پر(مُفتی صاحب سے) شرعی رہنمائی لے کر اجارے کی مُدَّت (duration) کے بیچ میں اجارہ ختم کرنے یا اجارے کی مُدَّت ختم ہونے پر نیا اجارہ نہ کرنے کا کمیٹی/انتظامیہ کو اختیار (option)ہوگا۔
نوٹ: مسجدمیں کسی قسم کاغیر شرعی کام ہونے، فتنے فساد کی صورت بننے، نمازیوں کے لیے تشویش ( پریشانی) کا سامان کرنے، اجارے کے طے شدہ(decided) اصولوں کاخلاف(against) کرنے پر(مُفتی صاحب سے) شرعی رہنمائی لے کر اجارے کی مُدَّت (duration) کے بیچ میں اجارہ ختم کرنے یا اجارے کی مُدَّت ختم ہونے پر نیا اجارہ نہ کرنے کا کمیٹی/انتظامیہ کو اختیار (option)ہوگا۔
نام قاری صاحب مع دستخط: ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دستخط صدر کمیٹی/انتظامیہ: ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

{6}تراویح کے امام صاحب اوراجارہ :
{1}تراویح کی امامت(یعنی امام بننے) کے لیے بھی وہی شرطیں(preconditions) ہیں کہ جو "امام صاحب" کی ہیں۔ امامِ اہلسنّت، اعلیٰ حضرت، پیر طریقت، حضرت علَّامہ مولانا ، اماماحمد رضا خان قادِری رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نماز کے مسائل نہ جاننے والے کو امامت پر لانے کے بارے میں فرماتے ہیں:ایسے شخص کو نماز میں امام کرنا حالانکہ نماز توعمادِ اسلام (یعنی اسلام کا ستون)اورافضلِ اعمال (بہترین نیکی)ہے، (مسائل نہ جانے والے شخص کو اتنی اہم دینی جگہ پر کھڑا کرنا اور امام بنانا)یقیناً بے احتیاطی(careless کام) اورحُکمِ شرعی( یعنی دین کے حکم پر عمل کرنے)میں "مداہنت" (یعنی غفلت، سُستی اور لاپرواہی کرنا) ہے (فتاوی رضویہ جلد۶،ص۴۴۶) "مداہنت" حرام اور جہنّم میں لے جانے والا کام ہے ۔(الحدیقۃ الندیۃ،الخلق التاسع و الاربعون،ج۲،ص۱۵۵) لہذا تراویح پڑھانے والے، محترم حافظ صاحب کا (۱)قراءت ٹیسٹ ، (۲)تراویح (میں جس طرح قرآن پڑھا جاتا ہے، اُسکا) ٹیسٹ اور (۲)مسائلِ نماز ٹیسٹ کا ہونا ضروری ہے۔
{2}تراویح کے لیے امام صاحب فائنل کرتے ہوئے مزید(more) کچھ باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے: ایسے حافظ سے تراویح پڑھانے کی شرعاً اجازت نہیں کہ جو داڑھی ایک مٹھی سے کم کرنے والا،یا ()صرف رمضان میں داڑھی بڑھا کر بعد میں چھوٹی کرنے والا،یا قرآن کریم پڑھتے ہوئے ایسی غلطیاں کرنے والا ہو کہ جن (غلطیوں)کا کرنا حرام ہے، یا قرآن کریم اتنا تیز تیز پڑھنے والا ہوکہ قرآنی حرف پڑھنے سننے ہی میں نہ آئیں۔ یاد رہے یہ انہی طریقوں میں سے ہے کہ جو دین سے نہیں بلکہ مردود ، بدعتِ سیئہ(برا طریقہ) اور جہنّم لے کر جانے والےکاموں میں سے ایک کام ہے ۔فرمانِ آخری نبی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:‏ جو شخص ہمارے اس دین میں کوئی ایسی نئی بات نکالے جو دین میں سے نہ ہو وہ مردود ہے۔( صحیح مسلم،کتاب الاقضیۃ،الحدیث:۱۷۱۸، ص۹۴۵)
{3} تراویح کے لیے" قرائت ٹیسٹ" میں، تراویح میں کی جانے والی قرائت کا ٹیسٹ بھی لیا جائے۔ یاد رہے: امام اہلسنّت، اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ سے ایسے شخص کو امام بنانے کے بارے میں پوچھا گیا کہ جو شخص قرآنِ پاک کوقواعدِ تجوید(صحیح طریقے) سے پڑھنا نہیں جانتا تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے کچھ اس طرح جواب دیا: اگر نماز میں ایسی غلطیاں کرتا ہے کہ اُس سے قرآنی معنی ہی بگڑ جاتے ہیں مثلاً وہ شخص پڑھنے میں حرف بدل دیتا ہے، جیسے "ع" کی جگہ "ء"، "ص" کی جگہ "س"، "ط" کی جگہ "ت"، "ز" کی جگہ "ذ"،"ح " کی جگہ "ہ" اور قرآنی لفظ "مہمل" (یعنی بے معنی) رہ جاتا ہے، یاجس حرف کو نہیں کھینچنا، اُسے کھینچ کر مدّہ(کھینچنے والا) بنائے اور معنی بگڑ جائیں تو عُلَمائے کِرام کے نزدیک نماز باطل (یعنی بالکل بھی نہیں ) ہوتی ہے۔ جیسے سورۃُ الفاتحہ (آیت نمبر:4) میں " اِیَّاکَ نَسْتَعِیۡن "(ترجمہ: ہم تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں) کو " نَسْتَاعِیۡن "(یہ بے معنی لفظ ہے اس کا ترجمہ ہی نہیں بن رہا) پڑھا (تو نماز نہیں ہوگی)، یا سورۃ آل عمران (آیت نمبر:158) میں "لَااِلَی اللہِ تُحْشَرُوۡنَ "(ترجمہ: تمہیں اللہ ہی کی طرف اٹھنا ہے) کو " لٰااِلَی اللہِ تُحْشَرُوۡنَ " پڑھا (یعنی لام کو کھینچ کر پڑھا تو معنی غلط ہونے کی وجہ سے نماز نہیں ہوگی، اب اس کا معنی ہو جائے گا: تمہیں(قیامت کے دن) اللہ کی طرف نہیں اٹھنا ہے۔ مَعَاذَ اللہ! اللہ کریم ہمیں اس طرح کی غلطیوں سے بچائے) ۔ اگر اس طرح کی غلطیاں نہ ہوں مگر حالت (condition) ایسی ہے کہ قرآنِ پاک پڑھنے میں جن باتوں کا خیال رکھنا واجب (یعنی لازم) ہے، انہیں چھوڑ دیتا ہے جیسے مدّ مُتَّصِل ( ) کو "ایک الف"(جیسے دو حرکت پڑھنے میں جتنی دیر لگتی ہے، مثلاً" بَ"،"بَ"، اتنی دیر میں "بَا" تک) بھی نہیں کھینچتا ہوتو ایسے شخص کو جب بھی امام بنایا جائے گا، اس کے پیچھے نماز سخت مکروہ ہوگی۔(فتاوی رضویہ، ج۶، ص۴۸۹، مُلخصاً)

{4}کمیٹی یا جماعت کے ساتھ تراویح کا انتظام کرنے والوں کی ذمہ داری ہے کہ عاشق رسول، دیندار، صحیح طرح قرآنِ کریم سُنانے والے حافظ کو لائیں۔ حدیث ِ پاک میں ہے:جب غیر اہل(ineligible) کوکام سپرد کردیا جائے تو قیامت کا انتظار کرو (صحیح بخاری کتاب العلم، ۱ /۱۴) ۔ عُلَمائے کِرام فرماتے ہیں: یہ(یعنی نااہلی کا) حکم عام ہے، خواہ وہ(نااہلی) علم(میں) ہو، خواہ دینی یا دنیوی عہدہ (میں نااہلی ہو)مثلاً حکومت(کرنےمیں)، تدریس(علمِ دین پڑھانے میں)، تقریر (بیان کرنے ) وغیرہ(میں نااہل ہونا، یعنی کوئی بھی دینی و حکومتی کام نااہل(ineligible) کو دیا جائے، تو بس اب قیامت کا انتظار کیجیئے)۔(نزھۃ القاری،ج۱،ص۴۰۴) گزارش: قاری صاحبان کو بھی چاہیے کہ شروع ہی سے طلباء کو اس انداز سے قرآنِ پاک حفظ کروائیں کہ بچہ(حافظ ) صرف صحیح طریقے ہی سے قرآنِ پاک سُنا سکے۔ مزید عرض: حافظ صاحب نے اگر قرآنِ پاک صحیح طرح یاد نہیں کیا ہے ، مثلاً وہ آہستہ آہستہ (صحیح انداز سے) قرآنِ پاک سُناتے ہیں تو بھول جاتے ہیں تو انہیں چاہیے کہ دوبارہ سے صحیح انداز سے قرآنِ پاک حفظ کریں۔
{5}اعلیٰ حضرت،امامِ اہل سنت رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کچھ اس طرح فرماتے ہیں:تلاوتِ قرآن اور اللہ کریم کے ذکر پر اُجرت(wages) لینا دینا دونوں حرام ہے، لینے دینے والے دونوں گناہ گار ہوتے ہیں اور جب یہ کام ہی حرام ہے تو ثواب کس چیز پر ملے گا؟(فتاویٰ رضویہ ج۲۳ص۵۳۷، مُلخصاً) اُجرت رقم(amount) ہی کا نام نہیں بلکہ (خریداری میں جس چیز کو خریداجاسکتاہو، یاجس چیزسےخریداجائےوہ سب چیزیں اُجرت (wages) بن سکتی ہیں، جیسے) کپڑے یا غلّہ(اناج ۔grain ) وغیرہ کی صورت میں بھی ملنےوالی چیز،اُجرت ہی ہے۔ تراویح کے لیے بلانے والوں سے یہ طے ہوا کہ یہ چیزیں ملیں گی یا طے تو نہیں کیا مگر معلوم ہے کہ یہاں پیسوں کی جگہ اناج دے دیتے ہیں، تو یہ بھی اُجرت ہی ہے اور "تراویح" پڑھانے کی "اجرت" لینا دینا جائز نہیں ہے۔ ()ہاں! اگر حافِظ صاحب صاف صاف کہہ دیں کہ: "میں کچھ نہیں لوں گا "،یا پڑھوانے والا کہہ دے کہ:" میں کچھ نہیں دوں گا"پھر بعد میں حافظ صاحب کی خدمت کردیں تو حرج نہیں (فیضان رمضان،ص۱۶۳،مُلخصاً) ۔ یاد رہے کہ جس نے کہا کہ "میں کچھ نہیں دونگا" تو واقعی اُس کے دل میں یہ بات ہو کہ "میں کچھ نہیں دونگا" کیونکہ اس طرح کہنابھی "وعدہ" ہی ہے اور وعدہ کرنے والے کے لیے ضروری ہے کہ جب وہ کسی کام کو کرنے ،یا (کوئی کام)نہ کرنے کی بات کرے تو اُس وقت دل میں یہ ارادہ (نیّت) ہونا ضروری ہے کہ جو کہہ رہا ہوں، وہی کرونگا(فتاوی رضویہ ،ج۲۴،ص۳۵۵، ماخوذاً)۔ہاں! بعد میں کچھ دینے کا ارادہ ہوگیا، یا کسی اور سے کہہ دیا کہ تم چندہ جمع کر کے دے دو تو حرج(گناہ) نہیں۔ بہر حال آسانی اسی میں ہے کہ قاری صاحب یہ کہہ دیں کہ :"میرا کوئی اجارہ نہیں ہے، میں اجارے پر تراویح نہیں پڑھاؤنگا"۔
{6} اگر لوگ چاہتے ہیں کہ "تراویح" بھی ہو اور(حافظ صاحب سے اجارہ) جائز شرعی طریقے سے بھی ہو جائے تو اِس کی صورت(case) یہ ہے کہ پڑھنے والوں کو ایک(1) یا دو (2)گھنٹے کے لئے نوکر ی پر رکھ لیں اور اجارہ کرنے والا کہے: "میں نے آپ کو آج فلاں وَقت سے فلاں وَقت کیلئے اِ س اُجرت پر نوکری پر رکھا (کہ)جو کام چاہوں گا ،لوں گا"۔ وہ (حافظ صاحب) کہیں : "میں نے قبول(accept) کیا"۔اب وہ اُتنی دیر کے لیے اَجِیر ہوگئے، اب جو (جائز) کام چاہے، وہ کام اُن سے لیا جاسکتا ہے۔ اس کے بعد اُس سے کہہ دیا جائے کہ : تراویح پڑھا دیں، یافلاں مَیّت کے لئے اِتنا قرآنِ عظیم یا کلِمۂ طیبہ یا دُرُود پاک پڑھ لیں تو اب یہ قرآنِ پاک پڑھانا ،جائز ہو جائے گا۔(فتاویٰ رضویہ ج۲۳ص۵۳۷، مَاخُوْذاً) یاد رہے کہ حافظ صاحب سے وقت کا اجارہ (contract of wages) کرتے ہوئےیہ کہہ دینا جائز نہیں کہ ہم جو مناسب ہوگا دے دیں گے، یا ()آپ کو راضی کر دیں گے ،بلکہ صاف صاف لفظوں میں اُجرت (wages) بتانی ہوگی، مَثَلاًہم آپ کواس وقت کے اجارے کے50 ہزار روپے پیش کریں گے اور یہ بھی ضروری ہے کہ حافظ صاحب بھی قبول (accept)فرمالیں،اب پچاس ہزار روپےدینا لازم ہوگئے۔ (فیضانِ رمضان ص۱۴۹،۱۵۰،مَاخوذاً)
{7}جو تراویح کا اجارہ کرنا چاہتے ہیں تو اسکا جائز طریقہ یہ ہے:
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِیِّیْن ، اَمَّا بَعْدُ!
فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط
حافظ صاحب سے یہ شرطیں(preconditions) طے کریں (پرنٹ نکلواکر دستخط کروالیں): کمیٹی/ تراویح انتظامیہ نے آپ۔۔۔۔۔۔۔بن۔۔۔۔۔۔کےساتھ۔۔۔۔۔۔سے۔۔۔۔۔۔(مثلاً 1رمضان شریف 1445ھ سے 27رمضان المبارک1445 ھ) تک ۔۔۔۔ روپے مشاہرہ(salary) پر یومیہ ۔۔۔۔۔ بجے سے ۔۔۔۔۔ بجے تک ( مثلاً رات:00 8 بجے سے9:00بجے تک جبکہ عشاء کی جماعت 7:45 ہو) کاا جارہ کیا کہ جس میں آپ سے کوئی بھی جائز کام (کہ جو آپ کے لیے مُناسب بھی ہو) لیا جاسکتا ہے۔آپکےاجارے کامقام ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔(مثلاً جامع مسجد غوثیہ، فیڈرل۔بی۔ایریا، بلاک ۱۱،کراچی)ہے۔ حافظ صاحب کے کام: اس وقت میں جس قسم کا جائز کام ِ (جو آپ کے لیے مناسب بھی ہو)آپ کو دیا جائے گا اُسے پورا کرنا، آپ کی ذمہ داریوں (responsibilites) میں شامل ہے۔ نام حافظ صاحب مع دستخط: ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دستخط صدر کمیٹی/انتظامیہ: ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اہم وضاحت(Important explanation): مسجد کے چندے سے یہ اجارہ صرف اُس صورت(case) میں کر سکتے ہیں جب کہ چندہ دینے والوں کو معلوم ہو کہ "مسجد کے چندے سے تراویح پڑھانے والوں کی بھی خدمت ہوتی ہے"۔ اگر یہ صورت نہ ہو تو "تراویح "کے لیے الگ سے چندہ کیا جائے۔
{8}نعت خوانی کااجارہ :
{1}امامِ اہلسنّت، اعلیٰ حضرت، پیر طریقت، حضرت علَّامہ مولانا ، اماماحمد رضا خان قادِری رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہکچھ اس طرح فرماتے ہیں : سیِّدِ عالم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کا ذکر ِپاک بہترین نیکی ہے اور طاعت (نیکی)یاعبادت پر فیس لینا حرام ہے (فتاوٰی رضویہ ج۲۳ص۷۲۴ ، ۷۲۵ ،مُلخصاً) ۔یاد رہے کہ کچھ نیک کاموں پر اجارہ(مشاہرہ/ تنخواہ ) لینا جائز ہے، عُلَمائے کِرام فرماتے ہیں کہ : دین کا نظام صحیح طریقے سے چلانے کے لیے آج کے وقت میں امام صاحبان، مؤَذِّن صاحبان، مُعَلّمِ دینیات(دین پڑھانے والے اساتذہِ کرام) اور واعظ کا(یعنی شریعت کے مطابق سُنی علماءِ کرام اور خطیب صاحبان کا بیان کرنے کی) اُجرت لینا(یعنی ہونے والی خدمت کو قبول(accept) فرمالینا) جائز ہے( فتاوٰی رضویہ، ج ۱۹ ،ص ۴۸۶، ماخوذاً ) مگر نعت خوانی پر اُجرت نہیں لے سکتے۔

{2} میلادِ پاک ضَروربہترین نیکی ہےاور اس پر اِجارہ(wages) لینا، دینا ضَرور حرام ہے ۔ یاد رہے کہ اس اجارے (contract of wages) کی دو(۲) صورتیں ہیں : (۱) اِجارہ صاف صاف لفظوں میں کیا جائے(مثلاً آپ نے اتنے روپے میں نعت پڑھنے کا اجارہ کیا، تب بھی حرام)۔ (۲)صاف صاف لفظوں میں تو اجارہ نہ ہو لیکن عُرف(عادت، رائج شدہ انداز)یہ ہی ہوکہ اُس کام کی اُجرت(wages)ہوتی ہےتویہ بھی اجارہ (contract of wages) ہے۔ مَثَلاً نعت شریف پڑھنے ،پڑھوانے والوں نے زبان سےتوکچھ نہ کہا کہ "آپ کو نعت خوانی کا اتنا اتنا ہدیہ (رقم۔amount) دیں گے" مگر بلانے والے کو معلوم ہے کہ نعت خواں کورقم (amount) دینی ہوگی اور نعت شریف پڑھنے والے بھی جانتے ہیں کہ کچھ خدمت ضرور ہوگی (رقم (amount)وغیرہ ملے گی) تو یہ بھی اجارہ ہے۔ () اس طرح بغیر طے (fixed) کیے نعت خواں صاحب سے "اجارہ" ہو جانا،دو (2)طرح سے حرام ہوتا ہے: (۱)ایک تو نیکی پر اِجارہ کرنا حرام ہے۔ (۲)جو کام اجارے پر ہوتا ہے، وہاں اُجرت(wages) وغیرہ کا طے(fixed) کرنا بھی لازم ہوتا ہے اور یہاں کچھ طے (fixed) نہیں ہے لہذا یہ اجارہ(contract of wages) ناجائز ہونے کا دوسرا سبب ہے۔ ( فتاوٰی رضویہ ج۱۹ص ۴۸۶ ، ۴۸۷،مَاخوذاً)
{3}اعلیٰ حضرت،امامِ اہل سنت رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کچھ اس طرح فرماتے ہیں:تلاوتِ قرآن اور اللہ کریم کے ذکر پر اُجرت(wages) لینا دینا دونوں حرام ہے، لینے دینے والے دونوں گناہ گار ہوتے ہیں اور جب یہ کام ہی حرام ہے تو ثواب کس چیز پر ملے گا؟(فتاویٰ رضویہ ج۲۳ص۵۳۷، مُلخصاً) ()بہتر ہے کہ نعت خوان صاحب، نعت خوانی کے لیے وقت مانگنے والے ہر ایک کو یہ کہہ دیں کہ :"میرا کوئی اجارہ نہیں ہے، میں اجارے پر نعت خوانی نہیں کروں گا"۔
{4} اگر لوگ چاہتے ہیں کہ "نعت خوانی" بھی ہو اور(نعت خواں صاحب سے اجارہ) جائز شرعی طریقے سے بھی ہو جائے تو اِس کی صورت (case) یہ ہے کہ نعت خواں صاحب سے دو گھنٹے کیلئے ( مَثَلاًرات9تا11) وقت کا اجارہ (contract of wages) کرنے کی گزارش کریں اور اس کا ہدیہ (رقم۔amount) بھی لازمی بتائیں۔ اب محترم نعت خواں صاحب اسے قبول (accept)فرمالیں اور اس وقت میں طے شدہ(decided) مقام پر تشریف لے آئیں۔(فیضانِ رمضان ص۱۴۹،مَاخُوذاً) {9}جو نعت خواں کا اجارہ کرنا چاہتے ہیں تو اسکا جائز طریقہ:
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِیِّیْن ، اَمَّا بَعْدُ!
فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

نعت خواں صاحب سے یہ شرطیں(preconditions) کم از کم زبانی طے کریں:
نعت خواں انجمن نے آپ۔۔۔۔۔۔۔بن۔۔۔۔۔۔کےساتھ ماہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کی ۔۔۔ تاریخ (مثلاً27 رجب المرجب 1445ھ) ۔ ۔۔۔۔ روپے مشاہرہ(salary) پر۔۔۔۔۔بجے سے ۔۔۔۔۔ بجے تک ( مثلاً رات 9 بجے سے11بجے تک) کاا جارہ کیا کہ جس میں آپ سے کوئی بھی جائز کام ِ (جو آپ کے لیے مناسب بھی ہو) لیا جاسکتا ہے۔آپکےاجارے کامقام۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(مثلاً D/12 غوثیہ ہال، فیڈرل۔بی۔ایریا، بلاک ۱۱،کراچی) ہے۔ نعت خواں صاحب کے کام: اس وقت میں جس قسم کا جائز کام ِ آپ کو دیا جائے گا ِ (جو آپ کے لیے مناسب بھی ہو) اُسے پورا کرنا، آپ کی ذمہ داریوں (responsibilites) میں شامل ہے۔ نام نعت خواں صاحب مع دستخط: ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دستخط صدر نعت خواں انجمن :۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اہم وضاحت(Important explanation): یہ اجارہ مسجد یا مدرسے کے چندے سے نہیں ہوسکتا۔ محفل رکھنے والے "صاحب" اپنی جیب سے پیسے دیں یا جن دوچار افراد نے مل کر محفل کروائی ہے، وہ مل جُل کر اپنی جیب سے یہ "اجارہ " دیں گے۔

شرکت(partnership)

فرمانِ آخری نبی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:
اللہ کریم فرماتا ہےکہ دو شریکوں (partners) ميں (اپنی شان کے مطابق) تیسرا(3rd ) رہتا ہوں، جب تک اُن ميں کوئی اپنے رفیق (partner) کے ساتھ خیانت(cheating) نہ کرے اور جب کوئی خیانت (cheating) کرتا ہے تو ان سے (اپنی شان کے مطابق) الگ ہوجاتا ہوں۔ (سنن أبي داود،کتاب البیوع،الحدیث:۳۳۸۳،ج۳،ص۳۵۰. )
واقعہ(incident): حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نے برکت (blessing)کی دعا فرمائی تھیحضرت عبداﷲ بن ہشام رَضِیَ اللہُ عَنْہ کو اُنکی والدہ زینب بنت حُمیْد، رَسُوْلَ اﷲ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کی خدمت ميں لے کر حاضر ہوئیں اور عرض کی:" یا رَسُوْلَ اﷲ ! (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ) اسکو بیعت فرما لیجئے"۔ فرمایا: ''یہ چھوٹا بچہ ہے"پھر اِن کے سر پر حضور (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ) نے ہاتھ پھیرا اور ان کے ليے دعا کی۔
حضرت عبداﷲ بن ہشام رَضِیَ اللہُ عَنْہ ( کہ جن کے سر پر حضور (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ) نے ہاتھ پھیرا تھا)کے پوتے زُهْرَةَ بْنِ مَعْبَد(رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ)کہتے ہیں، کہ میرے دادا عبداﷲ بن ہشام مجھے بازار لےجاتے اور وہاں غلّہ(اناج ۔grain ) خریدتے تو حضرت ابن عمر( رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمْا )اور حضرت ابن زبیر( رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُ)اُن سے ملتے اور کہتے ہميں بھی (اس کاروبار میں) شریک کرلو (partner بنا لو) کیونکہ رَسُوْلَ اﷲ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نے آپ کے(دادا جان کے)ليے برکت (blessing) کی دعا فرمائی ہے، وہ (حضرت زُهْرَةَ بْنِ مَعْبَد)انھیں بھی شریک کرلیتے اور کبھی ایسا بھی ہوتا کہ ایک پورا اونٹ نفع (profit) ميں مل جاتا اور اُسے گھر بھیج دیا کرتے۔
( صحیح البخاري،کتاب الشرکۃ،الحدیث:۲۵۰۱،ج۲،ص۱۴۵. ) فرمانِ آخری نبی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:
اللہ کریم فرماتا ہےکہ دو شریکوں (partners) ميں (اپنی شان کے مطابق) تیسرا(3rd ) رہتا ہوں، جب تک اُن ميں کوئی اپنے رفیق (partner) کے ساتھ خیانت(cheating) نہ کرے اور جب کوئی خیانت (cheating) کرتا ہے تو ان سے (اپنی شان کے مطابق) الگ ہوجاتا ہوں۔ (سنن أبي داود،کتاب البیوع،الحدیث:۳۳۸۳،ج۳،ص۳۵۰. )
واقعہ(incident): حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نے برکت (blessing)کی دعا فرمائی تھی
حضرت عبداﷲ بن ہشام رَضِیَ اللہُ عَنْہ کو اُنکی والدہ زینب بنت حُمیْد، رَسُوْلَ اﷲ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کی خدمت ميں لے کر حاضر ہوئیں اور عرض کی:" یا رَسُوْلَ اﷲ ! (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ) اسکو بیعت فرما لیجئے"۔ فرمایا: ''یہ چھوٹا بچہ ہے"پھر اِن کے سر پر حضور (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ) نے ہاتھ پھیرا اور ان کے ليے دعا کی۔
حضرت عبداﷲ بن ہشام رَضِیَ اللہُ عَنْہ ( کہ جن کے سر پر حضور (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ) نے ہاتھ پھیرا تھا)کے پوتے زُهْرَةَ بْنِ مَعْبَد(رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ)کہتے ہیں، کہ میرے دادا عبداﷲ بن ہشام مجھے بازار لےجاتے اور وہاں غلّہ(اناج ۔grain ) خریدتے تو حضرت ابن عمر( رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمْا )اور حضرت ابن زبیر( رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُ)اُن سے ملتے اور کہتے ہميں بھی (اس کاروبار میں) شریک کرلو (partner بنا لو) کیونکہ رَسُوْلَ اﷲ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نے آپ کے(دادا جان کے)ليے برکت (blessing) کی دعا فرمائی ہے، وہ (حضرت زُهْرَةَ بْنِ مَعْبَد)انھیں بھی شریک کرلیتے اور کبھی ایسا بھی ہوتا کہ ایک پورا اونٹ نفع (profit) ميں مل جاتا اور اُسے گھر بھیج دیا کرتے۔ ( صحیح البخاري،کتاب الشرکۃ،الحدیث:۲۵۰۱،ج۲،ص۱۴۵. )
شرکت (partnership )کے دینی مسائل:
شرکت کی دو قسمیں ہیں : {1} شرکت مِلک{2} شرکت عقد۔ {1} "شرکت مِلک" یہ ہے کہ کچھ لوگ ایک چیزکے اس طرح مالک ہوں کہ انہوں نے مِل جُل کر کوئی عقدِ شرکت (agreement of partnership)نہ کیا ہو۔ "شرکت مِلک" دو قسم ہے کہ(1a) شرکت ملک جبری(1b) شرکت ملک اختیاری (1a) "شرکت مِلک جبری" یہ ہےکہ دو آدمیوں کا مال خود بخود،بغیرکسی ارادہ کےآپس میں اس طرح مل جائے کہ ہر ایک کی چیز دوسرے سے الگ نہ ہوسکے، یا انہیں بڑی مشکل سے الگ کیا جاسکے مثلاًوراثت (یعنی کسی کے انتقال کے بعد ملنے والےمال)ميں دونوں کو (گندم۔wheat) کی ایک بوری ملی، یا ()ایک کے گیہوں، دوسرے کے جَو(barley) سے مل گئے تو اگرچہ یہاں دونوں کو الگ کرنا، ممکن توہے مگر بہت مشکل ہے لہذا یہ "شرکت مِلک جبری" ہے ۔ (1b) "شرکت مِلک اختیاری "یہ کہ دو آدمی مِل جُل کر اپنے اختیار(option)سے کسی چیز کو لینے میں شریک ہوئے لیکن باقاعدہ عقدِ شرکت (agreement of partnership)نہ ہوا ، مثلاً ان دونوں کو کسی تیسرے (3rd person) نے ایک ہی چیز تحفے میں دے دی، یا ()دونوں کو صدقے ميں ملی اور دونوں نے (ایسےتحفے یا صدقے کو) قبول (accept) کر لیا، یا دونوں میں سےایک نے جان بوجھ کر(deliberately) اپنی چیز دوسرے کی چیز ميں ملا دی کہ اب وہ چیزیں الگ نہیں ہوسکتیں (یابہت مشکل سے الگ ہونگی، تو یہ سب "شرکت ملک اختیاری "ہے)۔
{2} " شرکت عقد "یہ ہےکہ مِل جُل کر شرکت (partnership) کاعقد(contract) کیا ہو مثلاًایک نے کہا:" ميں تیرا شریک(partner) ہوں"، دوسرے نے کہا: "مجھے قبول ہے"۔ " شرکت عقد "کی کچھ قسمیں ہیں: (2a) شرکت عقد بالمال، (2b) شرکت عقد بالعمل،(2c) شرکت عقد بالوجوہ۔ (بہار شریعت ح۱۰،ص۴۸۹،مسئلہ۱مُلخصاً)
(2a) "شرکتِ عقد بالمال" یہ ہے کہ دو شخص مالی عقد(contract of investment) کریں(مثلاً پیسوں سے مل کر کوئی چیز خریدیں)۔(بہار شریعت ح۱۰،ص۴۸۷،ماخوذاً)
(2b) "شرکت ِ عقد بالعمل" یہ ہے کہ دوکاریگر(چیزیں بنانے والے) لوگوں کے پاس سے کام لائیں اور مل جُل کر وہ کام کریں پھر جو کچھ مزدوری (wage)ملے، آپس میں تقسیم (divide)کر لیں۔ شرکت بالعمل کو، شرکت بالابدان / شرکت تقبل/ شرکت صنائع بھی کہتے ہیں ۔(بہار شریعت ح۱۰،ص۵۰۵،مسئلہ۶۱ مُلخصاً) (2c) "شرکت ِ عقدبالوجوہ" میں بغیر مال کے اس طرح شرکت (partnership) ہوتی ہے کہ ہر شریک (partner) اپنی وجاہت(goodwill) کی وجہ سے دکانداروں سے اُدھار مال لاتا ہے پھر وہ مل کر مال بیچتے اور نفع(profit) آپس میں تقسیم(divide) کر لیتے ہیں ۔(بہار شریعت ح۱۰،ص۵۰۹،مسئلہ۷۷ مُلخصاً) پھران تینوں (شرکت عقد بالمال، شرکت عقد بالعمل، شرکت عقد بالوجوہ) میں سے ہر ایک کی دوقسمیں ہے: (الف) شرکت مُفاوضہ۔ (ب) شرکت عنان۔ (الف)" شرکت مُفاوضہ" یہ ہے کہ دوشخص آپس میں یہ کہیں کہ ہم نے "شرکت مُفاوضہ "کی اور ہمیں اختیار (option)ہے کہ ایک ساتھ خرید و فروخت (buying and selling) کریں یا الگ الگ، نقد(cash) بیچیں، خریدیں یا اُدھار اور ہر ایک اپنی سوچ سے عمل کرےگا اور جو کچھ نفع (profit) نقصان ہوگا اُس میں دونوں برابر کے شریک(partner) ہیں۔ "شرکتِ مُفاوضہ" میں یہ بھی ضروری ہے کہ دونوں مال میں ، نفع (profit) میں ،تصَرُّف(کاروبار ی کام کرنے اور مال خریدنےبیچنے )میں اور دَین( مثلاً کاروباری قرض، سب) میں برابر برابر ہوں، لہٰذا نابالغ وبالغ ، مسلمان و کافر ، عاقل و پاگل میں" شرکت مُفاوضہ" نہیں ہوسکتی۔(بہار شریعت ح۱۰،ص۴۹۱،مسئلہ ،۶،۷،۸مُلخصاً) (ب) "شرکتِ عنان"یہ ہےکہ دوافراد(persons)ہرقسم کی تجارت(trade)میں شرکت (partnership) کریں مگر ہرایک دوسرے کا ضامن (guarantor)نہ ہو صرف دونوں شریک آپس میں ایک دوسرے کے وکیل (client worker)ہونگے(یعنی نفع نقصان میں شریک ہونگے مگر پہلے شریک کی خریدی ہوئی چیز کی رقم دینا دوسرے شریک کی ذمہ داری نہیں ) ،یا ()کسی خاص تجارت (مثلاً کپڑے کا کاروبار) میں شامل ہوں (کہ نہ وہ برابری کی بنیاد پر ہو نہ دونوں ایک دوسرے کے ضامن ہوں "شرکتِ عنان" میں یہ شرط (precondition)ہے کہ ہرایک ایسا ہو جو دوسرے کو وکیل بنا سکے (بہار شریعت ح۱۰،ص۴۹۸،۴۹۹، مسئلہ۳۵، مُلخصاً) "شرکتِ عنان" میں کام اور آمدنی یا نقصان میں برابری کی شرط نہیں ہوتی۔ (بہار شریعت ح۱۰، ص۵۰۷، مسئلہ۶۹ مُلخصاً) یوں" شرکت عقد "( مِل جُل کر شرکت کاعقد کرنے ) کی کُل (total)چھ (6) قسمیں بنیں: (2aالف) شرکت عقد بالمال مُفاوضہ(2aب) شرکت عقد بالمال عنان(2b الف) شرکت عقد بالعمل مُفاوضہ(2b ب) شرکت عقد بالعمل عنان(2c الف) شرکت عقد بالوجوہ مُفاوضہ(2cب) شرکت عقد بالوجوہ عنان( )۔
شرکت (partnership )کے دینی مسائل:
شرکت کی دو قسمیں ہیں : {1} شرکت مِلک{2} شرکت عقد۔ {1} "شرکت مِلک" یہ ہے کہ کچھ لوگ ایک چیزکے اس طرح مالک ہوں کہ انہوں نے مِل جُل کر کوئی عقدِ شرکت (agreement of partnership)نہ کیا ہو۔
شرکت مِلک" دو قسم ہے کہ(1a) شرکت ملک جبری(1b) شرکت ملک اختیاری (1a) "شرکت مِلک جبری" یہ ہےکہ دو آدمیوں کا مال خود بخود،بغیرکسی ارادہ کےآپس میں اس طرح مل جائے کہ ہر ایک کی چیز دوسرے سے الگ نہ ہوسکے، یا انہیں بڑی مشکل سے الگ کیا جاسکے مثلاًوراثت (یعنی کسی کے انتقال کے بعد ملنے والےمال)ميں دونوں کو (گندم۔wheat) کی ایک بوری ملی، یا ایک کے گیہوں، دوسرے کے جَو(barley) سے مل گئے تو اگرچہ یہاں دونوں کو الگ کرنا، ممکن توہے مگر بہت مشکل ہے لہذا یہ "شرکت مِلک جبری" ہے ۔ (1b) "شرکت مِلک اختیاری "یہ کہ دو آدمی مِل جُل کر اپنے اختیار(option)سے کسی چیز کو لینے میں شریک ہوئے لیکن باقاعدہ عقدِ شرکت (agreement of partnership)نہ ہوا ، مثلاً ان دونوں کو کسی تیسرے (3rd person) نے ایک ہی چیز تحفے میں دے دی، یادونوں کو صدقے ميں ملی اور دونوں نے (ایسےتحفے یا صدقے کو) قبول (accept) کر لیا، یا دونوں میں سےایک نے جان بوجھ کر(deliberately) اپنی چیز دوسرے کی چیز ميں ملا دی کہ اب وہ چیزیں الگ نہیں ہوسکتیں (یابہت مشکل سے الگ ہونگی، تو یہ سب "شرکت ملک اختیاری "ہے)۔
{2} " شرکت عقد "یہ ہےکہ مِل جُل کر شرکت (partnership) کاعقد(contract) کیا ہو مثلاًایک نے کہا:" ميں تیرا شریک(partner) ہوں"، دوسرے نے کہا: "مجھے قبول ہے"۔ " شرکت عقد "کی کچھ قسمیں ہیں: (2a) شرکت عقد بالمال، (2b) شرکت عقد بالعمل،(2c) شرکت عقد بالوجوہ۔ (بہار شریعت ح۱۰،ص۴۸۹،مسئلہ۱مُلخصاً)
(2a) "شرکتِ عقد بالمال" یہ ہے کہ دو شخص مالی عقد(contract of investment) کریں(مثلاً پیسوں سے مل کر کوئی چیز خریدیں)۔(بہار شریعت ح۱۰،ص۴۸۷،ماخوذاً)
(2b) "شرکت ِ عقد بالعمل" یہ ہے کہ دوکاریگر(چیزیں بنانے والے) لوگوں کے پاس سے کام لائیں اور مل جُل کر وہ کام کریں پھر جو کچھ مزدوری (wage)ملے، آپس میں تقسیم (divide)کر لیں۔ شرکت بالعمل کو، شرکت بالابدان / شرکت تقبل/ شرکت صنائع بھی کہتے ہیں ۔(بہار شریعت ح۱۰،ص۵۰۵،مسئلہ۶۱ مُلخصاً)
(2c) "شرکت ِ عقدبالوجوہ" میں بغیر مال کے اس طرح شرکت (partnership) ہوتی ہے کہ ہر شریک (partner) اپنی وجاہت(goodwill) کی وجہ سے دکانداروں سے اُدھار مال لاتا ہے پھر وہ مل کر مال بیچتے اور نفع(profit) آپس میں تقسیم(divide) کر لیتے ہیں ۔(بہار شریعت ح۱۰،ص۵۰۹،مسئلہ۷۷ مُلخصاً) پھران تینوں (شرکت عقد بالمال، شرکت عقد بالعمل، شرکت عقد بالوجوہ) میں سے ہر ایک کی دوقسمیں ہے: (الف) شرکت مُفاوضہ۔ (ب) شرکت عنان۔
(الف)" شرکت مُفاوضہ" یہ ہے کہ دوشخص آپس میں یہ کہیں کہ ہم نے "شرکت مُفاوضہ "کی اور ہمیں اختیار (option)ہے کہ ایک ساتھ خرید و فروخت (buying and selling) کریں یا الگ الگ، نقد(cash) بیچیں، خریدیں یا اُدھار اور ہر ایک اپنی سوچ سے عمل کرےگا اور جو کچھ نفع (profit) نقصان ہوگا اُس میں دونوں برابر کے شریک(partner) ہیں۔ "شرکتِ مُفاوضہ" میں یہ بھی ضروری ہے کہ دونوں مال میں ، نفع (profit) میں ،تصَرُّف(کاروبار ی کام کرنے اور مال خریدنےبیچنے )میں اور دَین( مثلاً کاروباری قرض، سب) میں برابر برابر ہوں، لہٰذا نابالغ وبالغ ، مسلمان و کافر ، عاقل و پاگل میں" شرکت مُفاوضہ" نہیں ہوسکتی۔(بہار شریعت ح۱۰،ص۴۹۱،مسئلہ ،۶،۷،۸مُلخصاً)
(ب) "شرکتِ عنان"یہ ہےکہ دوافراد(persons)ہرقسم کی تجارت(trade)میں شرکت (partnership) کریں مگر ہرایک دوسرے کا ضامن (guarantor)نہ ہو صرف دونوں شریک آپس میں ایک دوسرے کے وکیل (client worker)ہونگے(یعنی نفع نقصان میں شریک ہونگے مگر پہلے شریک کی خریدی ہوئی چیز کی رقم دینا دوسرے شریک کی ذمہ داری نہیں ) ،یا ()کسی خاص تجارت (مثلاً کپڑے کا کاروبار) میں شامل ہوں (کہ نہ وہ برابری کی بنیاد پر ہو نہ دونوں ایک دوسرے کے ضامن ہوں)"شرکتِ عنان" میں یہ شرط (precondition)ہے کہ ہرایک ایسا ہو جو دوسرے کو وکیل بنا سکے (بہار شریعت ح۱۰،ص۴۹۸،۴۹۹، مسئلہ۳۵، مُلخصاً) "شرکتِ عنان" میں کام اور آمدنی یا نقصان میں برابری کی شرط نہیں ہوتی۔ (بہار شریعت ح۱۰، ص۵۰۷، مسئلہ۶۹ مُلخصاً) یوں" شرکت عقد "( مِل جُل کر شرکت کاعقد کرنے ) کی کُل (total)چھ (6) قسمیں بنیں: (2aالف) شرکت عقد بالمال مُفاوضہ(2aب) شرکت عقد بالمال عنان(2b الف) شرکت عقد بالعمل مُفاوضہ(2b ب) شرکت عقد بالعمل عنان(2c الف) شرکت عقد بالوجوہ مُفاوضہ(2cب) شرکت عقد بالوجوہ عنان ۔
شرکت مِلک(بغیر عقد کے کچھ لوگوں کا کسی چیز کا مالک ہونے) کے مسائل:
{1} شرکتِ ملک ميں ہر ایک اپنے حصہ ميں تَصَرُّف(اپنی مرضی سے کام) کرسکتا ہے اور دوسرے کے حصّے ميں غیر کی طرح ہے(یعنی دوسرے شریک(partner) کی مرضی کے بغیر کوئی کام نہیں کر سکتا)، لہٰذا اپنا حصّہ بیچ سکتا ہے اور اس ميں شریک سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں (مثلاً ایک گھر کے دو(2) پورشن(الگ حصّے) ہیں، ایک پورشن(حصّہ) اس کا ہے تو)اُسے اختيار(option) ہے کہ اپنےشریک(partner) ہی کے ہاتھ میں بیچے،یا کسی تیسرے شخص کو بیچ دے( )۔
{2}اگر اصل میں شرکت (partnership) نہ تھی مگر دونوں نے اپنی چیزیں ملادیں، یا دونوں کی چیزیں مل گئیں اورایک شریک کسی تیسرے (غیر شریک) کے ہاتھ بیچناچاہتا ہے تو اپنے دوسرے شریک سے اجازت لینی پڑے گی ۔
{3} اصل ميں تو(یعنی باقاعدہ)شرکت (partnership)ہے مگر ایک کےبیچنے سے دوسرے کو نقصان ہوتا ہے تو اس صورت(case) میں دوسرے شریک(partner) کی اجازت کےبغیر کسی تیسرے کو بیچ نہیں سکتا، مثلاًمکان (کہ جس میں باقاعدہ الگ پورشن نہ ہوں)یا درخت یا زراعت(cultivation) میں شرکت ہے تو دوسرے شریک (partner)کی اجازت کےبغیر نہیں بیچ سکتا کہ نیاخریدار(buyer) تقسیم کر نے کو کہے گااور تقسیم(divide) کرنے ميں پرانے شریک(partner) کا نقصان ہے۔ ہاں اگر زراعت (cultivation)تیار ہے، یا درخت کاٹا جاسکتا ہےاور پھلدار (پھل والا) نہیں ہے تو اب دوسرے شریک سےاجازت لینےکی ضرورت نہیں کہ اب کٹوانے ميں کسی کا نقصان نہیں۔ (بہار شریعت ح۱۰،ص۴۹۰،مسئلہ،۲مُلخصاً)
{4} دونوں شریکوں (partners)میں سے کوئی بھی مرجائے،" شرکت مِلک " باطل (ختم)نہیں ہوتی لیکن موت کے بعد،اُس (میّت)کے وارثین(یعنی وہ لوگ جو مرنے والے کے بعد، اُس کے مال کے مالک(owner)بن جاتے ہیں) شریک(partner) بن جائیں گے۔(بہار شریعت ح۱۰،ص۵۱۲،مسئلہ۱۲،مُلخصاً)
شرکت ملک جبری(بغیر عقد (with out agreement) کچھ لوگوں کا کسی چیز میں اپنی مرضی کے بغیر مالک ہونے) کے مسائل :
{1} دو آدمیوں کی چیزیں آپس میں مل گئیں مثلاًدو(2) بوریوں میں غلّہ (آناج۔grain)تھا (ہر ایک کی ایک بوری تھی)۔بوریاں پھٹ گئیں اور غلّہ مل گیا تو اس(مشترکہ غلّے۔combine grain) میں دونوں مالک ، شریک(partner) ہوگئے۔ اگر اس میں سے کچھ ضائع(waste) ہوگا تو دونوں کا ضائع ہوگا اورجو باقی ہے اُسے اپنے اپنے حصّے کے مطابق ملے گا، مثلاً ایک کا دس (10)کلو غلّہ تھا اوردوسرے کا بیس(20) کلو غلّہ تھا تو جو کچھ باقی ہے اُس کے تین (3)حصے کریں گے ،پہلا شخص ایک حصّہ(33%) لے گا اور دوسرا شخص دو حصّے (66%) لے گا ۔(بہار شریعت ح۱۴،ص۴۲،مسئلہ۴۹،مُلخصاً)
شرکت ملک اختیاری کے مسائل: (عقدِ شرکت کے بغیر (with out agreement of partnership) کسی چیز میں شریک ہونا)
{1}"شرکت ملک اختیاری" (مثلاً دو آدمیوں کو تحفے میں کوئی چیز ملی تھی ، اب اسے بیچنے) میں نفع (profit) کی کمی زیادتی کے ساتھ شراکت (partnership ) ہوسکتی ہے، مثلاًایک کو ایک تہائی (1/3،33%) نفع ملے اور دوسرے کو دو تہائیاں (2/3،66%)لیکن نقصان جو کچھ ہوگا وہ ر اس المال (capital investment/) کے مطابق ہوگا(مثلاً دونوں کو ایک چیزآدھی آدھی (50% +50%) تحفے میں ملی تھی لیکن انہوں نے طے کیا کہ ہم اسے بیچیں گے ، ایک کا نفع ایک تہائی(33%) ہوگا اور دوسرے کا دو تہائی(66% ) ہوگا، تو ایسا ہو سکتا ہے مگر نقصان کا حساب اس طرح نہیں رکھ سکتے بلکہ اس صورت (case) میں نقصان اسی حساب سے ہوگا کہ جو جتنا اس چیز کا مالک تھا (یعنی جب چیز آدھی آدھی تھی تو نقصان بھی آدھا آدھا( 50% اور50% ) ہی ہوگا)، اسکے خلاف (against) شرط کرنا ( مثلاً چیز میں50% +50% کے مالک ہونے کے باوجود، نقصان 33% اور 66% طے کرنا) باطل ہے۔(بہار شریعت ح۱۰،ص۵۰۹،مسئلہ ۷۸،مُلخصاً)
{1} "شرکت عقد" ميں ایجاب(offer) اورقبول (accept) کرناضروری ہے ،چاہے لفظوں ميں ہوں یا قرینہ(صورتِ حال۔condition) سے ایسا سمجھا جاتا ہو مثلاً ایک نے ہزار روپے دیے اور کہا کہ :" تم بھی اتنے پیسے نکالو جو چیز خریداور بیچ کرنفع (profit) ہوگا، وہ دونوں کا ہوگا"۔ دوسرے نے روپے لے ليے تو اگرچہ یہاں قبول (accept) کا لفظ تونہیں بولا گیامگر اس صورت(case) میں روپیہ لے لینا بھی قبول کہنے کی طرح ہے۔
{2}"شرکت عقد" ميں یہ شرط (precondition)ہے کہ جس چیز پر شرکت (partnership) ہوئی ہو، اُس میں وکالت (attorneyship) بھی ہو سکتی ہو لہٰذا مُباح اشیا ءمثلاًگری پڑی(کھجور کی) گٹھلیاں،جنگل کی لکڑیاں وغیرہ ميں شرکت نہیں ہوسکتی(کیونکہ ایسی چیز جو اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے، وہ اُس کا مالک بن جاتا ہے تو دوسرا اُس میں شریک کیسے ہوگا؟) ۔
{3} دونوں شریکوں (partners)میں سےکوئی بھی مرجائے، اُسکی موت کا علم دوسرے شریک کو ہو یا نہ ہو ہر صورت (case)میں " شرکت عقد "باطل(ختم) ہوجاتی ہے۔(بہار شریعت ح۱۰،ص۵۱۲،مسئلہ۱۲،مُلخصاً) شرکت عقد بالمال (مِل جُل کر مال میں شرکت کاعقد (agreement)کرنے)کے مسائل :
{1} شرکت کا تقاضہ (requirement)یہ ہے کہ جیسے نفع (profit)میں سب شریک(partner) ہوتے ہیں، اُسی طرح نقصان میں سب لوگ ، اپنے مال(investment) کی مقدار (percentage)کے مطابق شریک ہونگے۔(فتاوی رضویہ ج۱۷،ص ۳۷۲،مُلخصاً)
شرکت عقد بالعمل(مِل جُل کرکام کرنے میں شرکت کاعقد (agreement)کرنے) کے مسائل:
{1} اس شرکت (partnership)میں یہ ضروری نہیں کہ دونوں ایک ہی کام کرنے والے ہوں بلکہ دو مختلف(different) کام کرنے والے بھی مِل جُل کر یہ شرکت کرسکتے ہیں، مثلاًایک درزی ہے دوسرا رنگریز (کپڑا dye کرنے والا)، دونوں کپڑے لاتے ہیں تو درزی سیتا(stichکرتا) ہے اور دوسرا رنگتا (dye کرتا) ہے اور جو اُجرت (wages)ملتی ہے ،وہ دونوں میں تقسیم(divide) ہوتی ہے۔ " شرکتِ عمل" میں یہ بھی ضرور ی نہیں کہ دونوں ایک ہی دکان میں کام کریں بلکہ دونوں کی الگ الگ دکانیں ہوں تب بھی یہ شرکت ہوسکتی ہے مگر یہ بات ضروری ہے کہ وہ کام ایسے ہوں کہ اجارہ کرنے کی وجہ سے دونوں کام اُن پر لازم ہو جائیں ۔ اگر وہ اجارہ حرام کام پر ہو جیسے: کچھ لوگوں سے مِل جُل کر گانا گانے پر اجارہ کیا تو اس طرح کی شرکت جائز نہیں (بلکہ بغیر شرکت ایک کا اجارہ کرنا، یا بغیر اجارے کے ایک کا، یا سب کا گانا گانا بھی ناجائز ہے)۔
{2} دین کے کاموں میں سُستی کی وجہ سے عُلَمائے کِرام نے ان کاموں میں "اجارہ "کرنےکی اجازت دی ہے : تعلیم قرآن(قرآنِ پاک سکھانے) ، علم دین پڑھانے اور اذان و امامت پر لہذا ان کاموں میں شرکت (partnership) بھی ہوسکتی ہے(یعنی دو صاحبان جو اذان دینے اور نماز پڑھانے کی شرعاً اہلیت (ability) رکھتے ہوں اورکمیٹی(اجارہ کرنے والے ) بھی راضی ہوں تو مَل جُل کر اس کام کو کرنے کا اجارہ کر سکتے ہیں)۔
{3} " شرکتِ عمل" میں ہر ایک دوسرے کا وکیل(client worker) ہوتا ہے، لہٰذا جہاں توکیل ( یعنی وکیل (client worker)بنانا) درست نہ ہو، وہاں یہ شرکت (partnership) کرنابھی صحیح نہیں ہوگا،مثلاً کچھ بھکاریوں(beggars) نے آپس میں شرکت کر لی تو یہ صحیح نہیں کہ اس صورت(case) میں وکیل (client worker) نہیں بنایا جاسکتا(کیونکہ بھکاری کو جو بھیک/صدقہ/خیرات ملے گا وہ اُس کا مالک ہوگا، دوسرے کی طرف سے وکیل (client worker)نہیں ہوگا)۔ نوٹ: آج کل صحت مند(healthy) لوگوں نے بھی بھیک مانگنے(begging) کو پیشہ(profession) بنا لیا ہے۔ ایسے لوگوں کا بغیر شرکت(partnership)بھیک مانگنا بھی ناجائز ہے۔
{4} " شرکتِ عمل"میں یہ بھی ضروری نہیں کہ شریک صاحبان(partners) جوکچھ کمائیں(earn کریں) گے اُس میں برابر کے شریک(partner) ہوں بلکہ کمی ، زیادتی کی شرط (precondition) بھی ہوسکتی ہے ۔ شرکاء (partners) نےجو کچھ طے کر لیا، اُسی کے مطابق اُجرت (wages) تقسیم ہوگیاسی طرح کام کرنے میں بھی برابر ی کی شرط نہیں بلکہ اس طرح طے کرنا بھی جائز ہے کہ ایک زیادہ کام کریگااور دوسرا کم کام کرے گااور یہاں تک کہ یہ طے کرنا بھی جائز ہے کہ کم کام کرنے والے کو زیا دہ اُجرت ملے گی ۔
{5} " شرکتِ عمل" میں یہ طے کیاکہ آمدنی (income)میں سے پہلے شریک (partner) کے دو تہائی(66%) اور دوسرے کے ایک تہائی(33%) ہونگے اور اگر کچھ نقصان ہوا تو دونوں برابر، برابردینگے تو ()آمدنی اُسی طرح تقسیم(divide) ہوگی کہ جو آپس میں طے ہوا مگر() نقصان میں برابری کی شرط (precondition)باطل ہے یعنی نقصان میں بھی ایسا ہی ہوگا کہ جس کا حصّہ نفع (profit) میں ایک تہائی(33%) تھا، نقصان میں بھی اس کا حصّہ ایک تہائی ہی ہوگا اور جس کا حصّہ نفع (profit) میں دو تہائی(66%) تھا، نقصان میں بھی اس کا حصّہ دو تہائی ہی ہوگا۔
{6} ان میں سے کوئی ایک شریک (partner) بھی کام لے کر آیا تو وہ کام دونوں پر لازم ہوجائےگا، لہٰذا جس نے کام دیا ہے وہ ہر ایک سے کام کا مطالبہ(demand) کرسکتا ہے(یعنی کام دینے والا کسی کو بھی کہہ سکتا ہے کہ: "میرا کام کر کےدو") ۔ دوسرا شریک یہ نہیں کہہ سکتاہے کہ :"کام وہ لایا ہے اُس سے کہو، میرا اس کام سے کوئی تعلق نہیں"()اسی طرح ہر شریک ، کام دینے والے سے اُجرت (wages) مانگ سکتا ہے۔ کام دینے والا کسی بھی شریک کو اُجرت دےگا تو بَری ہوجائیگا یعنی دوسرا اب اُس سے اُجرت نہیں مانگ سکتا ۔
{7} دونوں میں سے ایک نے کام کیا ہے اور دوسرے نے کچھ نہ کیا مثلاًبیمار تھا یا سفر میں چلاگیا تھا جس کی وجہ سے کام نہ کرسکا یا بلاوجہ جان بوجھ کر (deliberately)اُس نے کام نہ کیا تب بھی آمدنی(income) دونوں پر طے شدہ فیصد(decided percentage) پرتقسیم ہوگی۔
{8} باپ بیٹے مل کر کام کرتے ہوں اور بیٹا باپ کے ساتھ رہتا ہو تو جوکچھ آمدنی ہوگی وہ باپ ہی کی ہے۔ بیٹا شریک(partner) نہیں کہلائےگا بلکہ اُسے مددگار(helper) کہا جائے گا یہاں تک کہ(ساتھ رہنے والا) بیٹا اگر درخت لگائے تو وہ بھی باپ ہی کا ہے۔ میاں بی بی مل کر کوئی کام کرنے لگے پہلے انکے پاس کچھ نہ تھا مگر دونوں نے کام کرکے بہت کچھ جمع کرلیاتو یہ سارا مال شوہر ہی کا ہے اور عورت مددگار(helper) سمجھی جائیگی() ہاں! اگر عورت کا کام الگ ہو مثلاً مرد کتابت (calligraphy) کا کام کرتا ہے اور عورت سلائی (stiching)کرتی ہے تو سلائی کی جو کچھ آمدنی (income) ہے اُسکی مالک عورت ہی ہے۔
{9} اگر یوں شرکت (partnership) ہوئی کہ ایک کے اوزار(tools) ہونگے اور دوسرے کا مکان یا دکان ہوگی ا ور دونوں مل کر کام کرینگے تو بھی شرکت جائز ہے اگراس طرح شرکت ہوئی کہ ایک کے اوزار ہونگے اور دوسرا کام کریگا تو یہ شرکت ناجائز ہے۔(بہار شریعت ح۱۰،ص۵۰۵ تا ۵۰۹،مسئلہ۶۱ تا ۶۸،۷۱،۷۶ مُلخصاً)
شرکت عقدوجوہ(اپنی وجاہت (goodwill) پرمِل جُل کر شرکت کاعقد کرنے) کے مسائل:
{1} مٹی کسی تیسرے شخص کی ہے اور دو آدمی اِس سے اینٹ بنانے میں شریک ہوئے تو صحیح(مسئلہ/صورت یہی) ہے کہ اِن دونوں نے تیسرے شخص سے مٹی خریدکر اینٹ بنائی ہے پھر اُسکو پکا کر اینٹیں بیچیں گے ، مٹی کے مالک کو(مٹی کی) قیمت(amount) دیدیں گے اور جو نفع (profit)ہوگا وہ دونوں کو ملے گا تو یہ صورت بھی "شرکت وجوہ " کی ہے۔ (بہار شریعت ح۱۰،ص ۵۱۰،مسئلہ۲،مُلخصاً)
شرکتِ عقد مُفاوضہ (بالمال/ بالعمل/ بالوجوہ)کے مسائل (وہ عقد (agreement) جوبرابر ی کی بنیاد پر ہو):
{1} دو آدمیوں کے پاس ایک ہی قسم کا مال ہے جس سے وہ شرکت کرنا چاہتے ہیں اور اس کے علاوہ کچھ بھی مال نہیں تو دیگر شرطوں (preconditions)کے ساتھ " شرکت مُفاوضہ" ہو سکتی ہے۔ ()اگر( کسی ایک شریک کے پاس بھی ) اس مال کے علاوہ (other) کچھ اور مال بھی ہو تو "شرکت ِمُفاوضہ " نہ ہو گی بلکہ یہ "شرکتِ عنان" ہوگی۔
{2} شرکت مُفاوضہ میں دوصورتیں ہیں: (۱) عقد (contract) کرتے ہوئےلفظ "مُفاوضہ "بولاجائے ،مثلاً دونوں میں سے ایک نے یہ کہا تھاکہ :"ہم نے شرکت مُفاوضہ کی "اب چاہے دوسرا شریک(قبول کرنے کے) بعد کہے کہ :" میں لفظِ مُفاوضہ کے معنی نہیں جانتا تھا تو اِس صورت (case)میں بھی "شرکت مُفاوضہ" ہی رہےگی اور اسی کے مسائل پر عمل ہوگا۔ (۲) اس کی دوسری صورت یہ ہے کہ " شرکت مُفاوضہ" کا "لفظ" تونہ بولا مگر وہ تمام باتیں بولیں کہ جو "شرکت مُفاوضہ" میں ضروری ہیں(تو یہ بھی"شرکت مُفاوضہ" ہی ہے)، مثلاً دو آدمی کہ جو شرکتِ مُفاوضہ کر سکتے ہیں، وہ یہ کہیں کہ ہم جتنے نقد (cash) کے مالک ہیں اُس سے اس طرح شرکت (partnership)کرتے ہیں کہ ہرایک دوسرے کے پیسے سے خرید و فروخت (buying and selling) کرنے کا پورا پورا اختیار (option) رکھےگا اور ہم ایک دوسرے پر آنے والے تمام مطالبات (مثلاً خریداری کے پیسے دینے)میں ضامن (guarantor)ہونگے(یعنی کسی ایک شریک نے تیسرے شخص کا مال لیا تو دوسرا شریک بھی اُسے پیسے دینے کا پابند (bound)ہوگا)۔ (بہار شریعت ح۱۰،ص۴۹۲،مسئلہ۹ ،۱۰،مُلخصاً)
{3} "شرکت مُفاوضہ" میں ہر ایک دوسرے کا وکیل(client worker)ا ور کفیل(guarantor) ہو تا ہےیعنی ہر ایک کا مطالبہ(demand) دوسرا وصول کرسکتا ہے(یعنی دونوں نفع ، نقصان اور اس کی وصولی/ رقم وغیرہ حاصل کرنے میں شریک ہیں) ہر ایک پر جو مطالبہ (demand)ہوگا دوسرا اُسکی طرف سے ضامن (guarantor)ہے( مثلاً دو شریک(partner) ہیں،اُن میں سے ایک نے کسی تیسرے آدمی(3rd person)کو پیسے دینے ہیں تو اب دوسرا شریک( 2nd partner)بھی اس پیسے دینے کا ذمہ دار (responsible) ہے)۔(بہار شریعت ح۱۰،ص۴۹۱،مسئلہ ،۷،مُلخصاً)
{4} ہندوستان(موجودہ پاکستان، بنگلہ دیش، ہند، نیپال، سری لنکا) میں عموماً ایسا ہوتا ہے کہ باپ کے مرجانے کے بعد اُسکے تمام بیٹے ترکے(کسی کی موت پر ملنے والے مال )پر قابض ہوتے ہیں(لے لیتے ہیں) اور مل جُل کر کام کرتے رہتے ہیں، چاہے تجارت(trade) ہو یا زراعت(cultivation) ،کھانا پینا بھی ایک ساتھ چلتا رہتا ہے کبھی یہ ہوتا ہے کہ بڑا لڑکا سب کام کو دیکھتا ہے ، جیسا چاہتا ہے ویسا کرتا ہے اور اُسکے دوسرے بھائی اُسکی ماتحتی (subservice)میں کام کرتے ہیں اور ان میں کسی قسم کی کوئی بات طے نہیں ہوتی ہے یعنی یہاں نہ لفظ "مُفاوضہ" بولا جاتا ہے اور نہ ہی کوئی ایسی بات طے ہوتی ہے کہ جو"مُفاوضہ" کی ضروریات اور شرطوں (preconditions)کو پورا کرے اورعموماًمال بھی مختلف قسم کے ہوتے ہیں تو اس صورت میں جو کچھ تجارت(trade) ، زراعت (cultivation)اور کاروبار کے ذریعہ سے اضافہ (addition) ہوا،اُس میں یہ سب برابر کے شریک(partner) ہیں، چاہے کوئی زیادہ کام کرے اور کوئی کم۔ (بہار شریعت ح۱۰،ص۴۹۱،۴۹۲،مسئلہ۸ ،اا،مُلخصاً)
{5} "شرکت ِمُفاوضہ " میں سے ہر شریک کو یہ جائز ہے کہ شرکت کے مال میں سے کسی کی دعوت کرے یا کسی کے پاس تحفہ بھیجے مگر اتنی قیمت (amount) کا تحفہ ہوکہ جسکا تاجروں(traders) میں رواج (عادت/ عرف) ہوتا ہے اورتا جر ایسے تحفے کوفضول خرچی نہ سمجھتے ہوں میوہ، گوشت روٹی وغیرہ اسی قسم کی چیزیں تحفے میں بھیج سکتا ہے سونے، چاندے کے سکّے وغیرہ تحفے میں نہیں دے سکتے۔ (بہار شریعت ح۱۰،ص۴۹۷،مسئلہ۲۷،مُلخصاً)
{6} جن دو افراد(persons)میں "شرکت مُفاوضہ" ہے ان میں اگر ایک شخص کوئی چیز خریدے تو دوسرا اُس میں شریک(partner) ہوگا ہاں! اپنے گھر والوں کے لیے کھانا ،کپڑا خریدا ،یا گھر کی ضرورت کی کوئی چیزخریدی ،یا کرائے کا گھر رہنے کے لیے لیا ،یا ضرورت کے ليے سواری(ride) کا جانور خریدا تو اب ان چیزوں کا اکیلا مالک (alone owner)وہی شریک ہے کہ جس نے ان چیزوں کو خریدا دوسرے شریک کو اس میں سے لینے کا حق (right) نہ ہوگا لیکن یہ چیزیں جس تیسرے شخص سے خریدی گئی ہیں، وہ آدمی دوسرے شریک (2nd partner)سے بھی رقم مانگ سکتا ہے کیونکہ دوسرا شریک ، پہلے شریک کا کفیل(guarantor) ہے۔
{7} ان میں سے ایک کو اگر میراث ملی(یعنی کسی کے انتقال کے بعد ملنے والامال ملا)، یا تحفہ ، یا صدقہ ملا یعنی صرف ایک ہی شریک (partner)کو ملا تو یہ اُسی ایک کا ہوگا ، دوسرے کا اس میں کوئی حق(right) نہیں ہوگا (بہار شریعت ح۱۰،ص۴۹۳،۴۹۴،مسئلہ۸،۱۴،۱۵،۱۶،۱۷،۱۸مُلخصاً) مثلاًسامان، یا گھر، یا کھیت ملا یا مرنے والا کادَین( قرض) جو حصّے میں آیا تھا، وہ ملا تو اب بھی "شرکت مُفاوضہ" باقی ہے۔ ہاں! اگر وہ ملنے والی چیز ایسی ہے کہ جس میں شرکت (partnership) ہوسکتی ہے تو"شرکت مُفاوضہ" ختم ہو جائے گی مثلاً مرنے والا کادَین( قرض) جو حصّے میں آیا تھا، وہ ملا اور اُس میں سونا چاندی کی کوئی چیز ملی تو جب یہ چیز ملے گی ،" شرکت مُفاوضہ " ختم ہو کر "شرکتِ عنان "ہوجائے گی۔ (بہار شریعت ح۱۰،ص۴۹۶،مسئلہ۲۴،مُلخصاً)
{8} تین افراد(persons) میں "شرکت مُفاوضہ" ہے ان میں دو(2)،شرکت کو توڑنا چاہتے ہوں تو جب تک تیسرا(3rd ) بھی موجود نہ ہو شرکت (partnership) کونہیں توڑ سکتے۔ (بہار شریعت ح۱۰،ص ۵۱۴،مسئلہ۱۷،مُلخصاً)
شرکت عقدعنا ن (بالمال/ بالعمل/ بالوجوہ)کے مسائل (وہ عقد (agreement) جوبرابری کی بنیاد پر نہ ہو):
{1} "شرکتِ عنان "مردو عورت کے درمیان ،مسلم و کافر کے درمیان ،بالغ اور نا بالغ کے درمیان ہو سکتی ہے ہاں! نابالغ کا عاقل ہونا اور اسکے ولی (یعنی سرپرست مثلاً والد) کی طر ف سے(کاروبار کرنے کی) اجازت ہونا ضروری ہے۔
{2}"شرکت عنان "میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اسکی مُدَّت (duration) طےکر دی جائے مثلاًایک سال کے لیے ہم دونوں شرکت (partnership)کرتے ہیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دونوں کے مال کم ،زیادہہوں یعنی برابر نہ ہوں اور نفع (profit) برابر ، برابر ہو،یا مال برابر ہوں اور نفع (profit) کم، زیادہ ہو اور کُل مال کے ساتھ بھی یہ شرکت ہوسکتی ہے، اسی طرح کچھ مال کے ساتھ بھی ہو سکتی ہےاور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دونوں کے مال دوقسم کے ہوں مثلاًایک شریک کی طرف سے روپیہ(چاندی کے سکّے۔silver coins) اور دوسرے شریک کی طرف سےاشرفی (سونے کے سکّے۔gold coins) ہوں ۔
{3}(۱)اگر دونوں نے اس طرح شرکت (partnership) کی کہ مال دونوں کا ہوگا مگر کام ٖصرف ایک ہی کرے گا اور نفع (profit) دونوں لیں گے لیکن نفع (profit) کی تقسیم مال کے حساب سے ہوگی، یا ()برابر ہوگی ، یا ()کام کرنے والے کو زیادہ ملے گاتو جائز ہے۔
(۲) اگر یہ طے کیاکہ کام دونوں کریں گے مگر ایک زیادہ کام کرےگا دوسرا کم کرے گا لیکن جو زیادہ کام کرےگا، اس کا نفع (profit) میں حصّہ بھی زیادہ ہوگا ،یا برابر ہوگا تو یہ سب بھی جائز ہے۔
(۳) اگر یہ طے کیا کہ کام نہ کرنے والے کو نفع زیادہ ملے گا تو اب یہ شرکت (partnership)ناجائز ہے۔
(۴)اگر یہ طے کیاکہ کُل (total)نفع (profit) ایک ہی شخص لے گا تو یہ شرکت ہی نہیں ہے ۔
{4} طےیہ ہواتھا کہ دونوں ہی کام کریں گے مگر صرف ایک نے کام کیا اوردوسرے نےمجبوری کی وجہ سے یا بغیر مجبوری کوئی کام نہ کیا تب بھی ایک کا کام کرنا ایسا ہی ہے جیسے دونوں نےکام کیا(یعنی نفع اُسی طرح تقسیم ہوگا، جیسے طے کیا گیا تھا)۔
{5} اس طرح کئی مرتبہ ہوتا ہے کہ کوئی شریک(partner) اپنی شرکت (partnership) والی دکان سے چیز یں خریدلیتا ہے(مثلاً دو افراد(persons) نے مل کر دودھ کی دکان کھولی، تو جسے جب گھر پر دودھ کی ضرورت ہوتی ہے، وہ اسی دکان سے لے لیتا ہے اور بعد میں پیسے وغیرہ کا حساب کر لیتا ہے) تو بظاہر یہ اپنی چیز خود خریدنا ہے لیکن اس طرح کی خریداری (buying)جائز ہے۔
{6} "شرکت عنان "میں بھی ہر شریک کو اختیار (option) ہے کہ تجارت(trade) کے ليے یا مال کی حفاظت(safety) کے ليے کسی کو نوکر (servent) رکھے جبکہ دوسرے شریک(partner) نے منع نہ کیا ہو یہ بھی اختیار (option)ہے کہ کسی سے مفت کام کرائے کہ وہ کام کر دے اور نفع (profit) اُس کو کچھ نہ دیا جائے اور مال کو امانت بھی رکھ سکتا ہے اور مضاربت(sleeping partnership) کے طورپر بھی کسی تیسرے کودے سکتا ہےکہ وہ تیسرا کام کرے گا اورنفع(profit) میں اُس کو نصف (1/2،50%)،یا تہائی(1/3،33%) وغیرہ دیاجائے۔اب جو کچھ بھی نفع (profit) ہوگا اس میں سے مضارب کا حصّہ (جو طے ہوا تھا)نکال کر باقی (نفع) دونوں شریکوں(partners) میں تقسیم(divide) ہوگا ۔
{7} شریک کو یہ اختیار (option) ہے کہ سستا بیچےیا مہنگا یہ بھی اختیار (option) ہے کہ جس طرح مناسب سمجھے نقد(cash) یا اُدھار خریدوفروخت (buying and selling) کرے، لیکن اگر شرکت کا روپیہ نقد موجود نہ ہوتواُدھار خریدنے کی اجازت نہیں، اس صورت(case) میں جو کچھ خریدے گا ، وہ اُس ایک شریک ہی پراُدھارہوگا ہاں اگر دوسرا شریک بھی اس ادھار خریدنےپر راضی(agree) ہے تواس میں بھی شرکت (partnership)ہو جائےگی
{8} ایک شریک(partner) کو یہ اختیار (option) ہے کہ مال تجارت(trade) سفر میں لےجائے جب کہ دوسرے شریک نے اسکی اجازت دی ہو، یا یہ کہہ دیا ہو کہ :"تم اپنی سوچ سے کام کرو" اور سفر پر ہونے والے خرچے مثلاًاپنا یا سامان کا کرایہ اور اپنے کھانے پینے کے خرچے، سب اُسی شرکت (partnership)کے مال پر ڈالے جائیں اگرنفع (profit)ہوا تو اخراجات (expenses)نفع (profit) سے نکالیں گے اور باقی نفع (profit) دونوں میں تقسیم ہوگا اگر نفع (profit) نہ ہو ا تو یہ اخراجات (expenses) رَاس ُالْمَال (capital) میں سے دئیے جائیں گے۔
{9} شریک(partner) کے پاس جو کچھ مال ہے اُس میں وہ "امین "ہے، لہٰذا اگر وہ یہ کہتا ہے کہ تجارت (trade)میں نقصان ہوا ،یا سب مال ،یا اتنا (مثلاً 50% مال)ضائع (waste)ہوگیا ،یا اتنا نفع (profit) ملا،یا شریک کو میں نے مال دیدیا تو قسم کے ساتھ اس کی بات مان لی جائے گی ۔
اگر شریک نے نفع(profit) کی کوئی رقم پہلے بتائی(مثلاً 50,000روپے) پھر کہتا ہے کہ مجھ سے غلطی ہوگئی اُتنا(50,000) نہیں بلکہ اِتنا(25,000) نفع ہے تو پچاس ہزار روپے ہی سے حساب ہوگا کیونکہ پہلے پچاس ہزار(50,000) کہنا،" اِقرار" ہے اور بعد میں پچیس ہزار کہنا(25,000)" رجوع"(بات واپس لینا) ہے اور "اقرار" کے بعد اسے " رجوع " کرنے کا کوئی حق(right) حاصل نہیں ۔ (بہار شریعت ح۱۰،ص۴۹۹ تا ۵۰۵،مسئلہ۳۶،۳۷،۳۹،۴۲،۴۵،۴۶،۴۷،۴۸،۵۱،مُلخصاً)
شرکت فاسدہ کا بیان:
{1} مباح چیز کے حاصل کرنے کے ليے شرکت (partnership) کرنا ،ناجائز ہے مثلاًجنگل کی لکڑیاں یا گھاس کاٹنے کی شرکت کی کہ جو کچھ کاٹیں گے وہ ہم دونوں میں مشترک ہوگی، یاجانور کاشکار کرنے ،یا پانی بھرنے میں شرکت کی ،یا جنگل اور پہاڑ کے پھل توڑنے میں شرکت کی تو یہ سب شرکتیں" فاسد" اور ناجائز ہیں اِن سب صورتوں میں جو کچھ جس نے حاصل کیا ، وہ اُسی کا مالک ہے اور اگر دونوں نے ایک ساتھ اس طرح حاصل کیں کہ معلوم نہ ہو کہ کس کا حاصل کردہ کتنا ہے (مثلاً دونوں جنگل کے درخت سے مل کر پھل اُتارتے رہے) کہ جو کچھ حاصل کیا وہ ملا دیا اور اب پہچان بھی نہیں ہو رہی تو دونوں برابر کے حصہ دار ہیں چاہے تقسیم(divide) کرلیں یا بیچ کر پیسے برابر ،برابر بانٹ لیں ۔
{2} اگر "شرکت فاسِدہ "میں دونوں شریکوں(partners) نے مال کی شرکت (partnership) کی ہے تو ہر ایک کو نفع (profit) اس کے مال کے مطابق ملے گا مگر کام کی کوئی اُجرت نہیں ملے گی، مثلاًدونوں نے ایک ایک ہزار روپےکے ساتھ شرکت کی اور طے ہوا کہ ایک شریک نفع کے پہلے ہزار روپے لے گا تو یہ " شرکت ِ فاسدہ" ہوئی لیکن مال برابر ہے، لہٰذا نفع (profit) برابر تقسیم کرلیں ، چاہے ایک ہی نے کام کیا اور دوسرے نے کچھ بھی نہ کیا ہو۔
{3} ایک نے دوسرے کو اپنا جانور دیا کہ اس پر تم اپنا سامان لادکر پھیری کرو(یعنی سامانload کرکے جگہ جگہ لے کر جاکر بیچو) تو جو نفع (profit) ہوگا اُس کو برابر، برابر تقسیم کرلیں گے ، یہ بھی " شرکتِ فاسد ہ" ہے۔ نفع (profit) پورا کا پورا مالک کا ہوگااور جس شخص نے پھیری کی ، اُسے" اُجرت ِ مثل" ملے گی (یعنی عام طور پر ایسے کام کی جو اجرت(wages) ہوتی ہے، وہ ملے گی) (اگر جانور اس کا نہیں تھا کہ جس کا سامان تھا تو) جس شخص کا جانور تھا، اُسے بھی " اُجرت مثل" ملے گی۔ اپنا جال دوسرے کو مچھلی پکڑنے کے ليے دیا اور یہ طے کیاکہ جو مچھلی ملے گی اُسے برابر، برابر بانٹ لیں گے تو یہ بھی " شرکتِ فاسدہ" ہے۔ مچھلی اُسی کو ملے گی جس نے پکڑی اور جال والے کو "اُجرت ِمثل "ملے گی۔
{5} ایک شریک(partner) نے شرکت (partnership)سے انکار (deny) کردیا ، کہتا ہے کہ:" میں نے تیرے ساتھ شرکت ہی نہیں کی تھی تو شرکت جاتی رہی(ختم ہوگئی) اور جوکچھ شرکت کا مال اُسکے پاس ہے اُس میں شریک کے حصّہ کا تاوان دینا ہوگا( ویسی ہی چیز دینی ہوگی جبکہ بازار میں ملتی ہو یا اس کی اصل قیمت۔ actual price) ۔ اگر شریک نے کہاکہ:" میں تیرے ساتھ کام نہیں کروں گا" تو اس سے بھی شرکت فسخ (ختم) ہوجاتی ہے۔ انکار کرنے والا،مالِ شرکت(جس مال کے ساتھ شرکت ہوئی تھی ، اُس) کی قیمت (price)اپنے حصّےکے مطابق اپنے شریک سے لے لےگا ۔اگر دوسرے شریک نے مال بیچ کر کچھ نفع حاصل کیا تھا تو انکار کرنے والے کو اُس نفع سے کچھ بھی نہیں ملے گا۔(بہار شریعت ح۱۰،ص ۵۰۹ تا ۵۱۴،مسئلہ۱،۲،۶،۸،۹،۱۲،۱۶،۱۷،۱۸،مُلخصاً)
شرکت (partrnership) کے مختلف (different)مسائل:
{1} شریک(partner) کو یہ اختیار (option) نہیں کہ دوسرے شریک کی اجازت کے بغیراسکی طرف سے زکاۃادا (pay)کرے اگر ایک نے دوسرے سے پوچھے بغیر اس کی زکاۃ دے دی تو تاوان دے گا (یعنی اُتنی ہی رقم دوسرے شریک کو دے گا) ۔
{2} ایک شخص نے کوئی چیز خریدی تو دوسرے نے اُس سے کہا:مجھے اس میں شریک کرلو، خریدار(buyer) نے کہا شریک کرلیا(partnership کر لی)۔اگر یہ باتیں اُس وقت ہوئیں کہ خریدار نے"مَبِیْع" (خریدی گئی چیز)پر قبضہ کرلیا تھا (مثلاً ہاتھ میں لے لی تھی) تو یہ شرکت (partnership)صحیح ہے اور قبضہ نہ کیا ہوتو شرکت صحیح نہیں کیونکہ اپنی چیزمیں دوسرے کوشریک کرنا اُس چیز کا ایک حصّہ (مثلاً%50) دوسرے کو بیچنا ہے اور وہی چیز بیچی جا سکتی ہے کہ جس پر قبضہ ہو (مثلاً ہاتھ میں ہو) جس صورت(case) میں شرکت صحیح ہوگی(یعنی وہ چیز ہاتھ میں تھی ) تو آدھی قیمت دینا لازم ہوگا اور دونوں برابر کے شریک ہونگے()ہاں! اگر یہ بات کر لی تھی کہ ایک کے ایک تہائی(1/3،33%) اور دوسرے کے دو تہائی(2/3،66%) ، یا ایک کے ایک چوتھائی (1/4،25%)اور دوسرے کے تین چوتھائی(3/4،75%) ہونگے تو جتنا جس کا طے ہوا، اُس کا اُتنا ہی حصّہ ہوگا۔
{3} ایک شخص نے دوسرے سے کہا جو کچھ آج یا اس مہینے میں میں خریدوں گا اُس میں ہم دونوں شریک ہیں یاکسی خاص قسم کی تجارت (trade)کے متعلق کہا مثلاًجتنی گائیں یا بکریاں خریدوں گا اُن میں ہم دونوں شریک ہیں اور دوسرے نے منظور(ok) کر لیاتو شرکت (partnership) صحیح ہے۔
{4} ایک گھر دو افراد(persons)میں مُشتَرک (دونوں کا)ہے۔ ایک شریک(partner) غائب ہوگیا تو دوسرا اس گھر کے اُتنے حصّے میں رہائش(accommodation) کرسکتا ہے کہ جتنا حصّہ اُس کا ہے(مثلاً یہ آدھے گھر (50%) کا مالک ہے تو آدھے گھرمیں رہ سکتاہے) اگر اس شخص کی رہائش (accommodation) کی وجہ سے وہ گھر خراب ہوا تو اس کا تاوان دینا پڑے گا(صحیح کروانا ہوگا)۔
{5} غلّہ(اناج ۔grain ) دو افراد کاہے ،جن میں سے ایک شریک غائب اور دوسراموجود ہے تو جو موجود ہے وہ اپنی ضرورت پوری کرنے کے لیےاپنے حصّے کے مطابق استعمال کرسکتا ہے۔ (بہار شریعت ح۱۰،ص۵۱۴ تا ۵۱۸،مسئلہ۱،۳،۵،۱۰،۱۲ مُلخصاً)
TEXT HERE
’’مُضَاربَت(Sleeping partnership) ‘‘
فرمانِ آخری نبی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:
اللہ کی قسم! خدیجہ سے بہتر مجھے کوئی بیوی نہیں ملی جب سب لوگوں نے میرے ساتھ کفر کیا(اور مجھے نہ مانا) اس وقت وہ مجھ پر ایمان لائیں اور جب سب لوگ مجھے جھوٹا کہہ رہے تھے اس وقت انہوں نے میری باتوں کو سچّا کہا اور جس وقت کوئی شخص مجھے کچھ دینے کے لئے تیار نہ تھا اس وقت خدیجہ(رَضِیَ اللہُ عَنْہ) نے مجھے اپنا مال دیا ( المواہب اللدنیۃ مع شرح العلامۃ الزرقانی ، ج۴، ص۳۷۲)
اس روایت میں نکاح کے بعد ہونے والی باتوں کو بیان کیا گیا ہے مگر نکاح سے پہلے پیارے آقا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، حضرت خدیجہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ کا مال "مضاربت " (sleeping partnership)کے طور پر لے کر مُلکِ شام تشریف لےگئے تھے(یعنی بیچنے کی محنت حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کی تھی اور مال اُمُّ المؤمنین رَضِیَ اللہُ عَنْہ کا تھا اور نفع(profit) میں دونوں شریک(partner) تھے)۔(فتاوی رضویہ جلد ۲۹،ص ۳۰۶)
واقعہ(incident): مالدار کیسے ہوئے؟
حضرت ابنِ ابی موسیٰ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کو کہیں مال کی ادائیگی (payment)کرنی تھی۔ وہ کہتے ہیں کہ :"میں بہت پریشان تھا، کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ مال کس طرح سے دونگا؟" اسی پریشانی میں فجر سے پہلے کَرْخ (ایک علاقے)جانے کے ارادے سے اپنے گھر سے نکلا۔ راستے میں دَرْبُ السَّلُوْلی کے علاقے میں حضرت دَعْلَج رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی مسجد پہنچا اور ان کے پیچھے فجر کی نماز پڑھی۔
نماز کے بعد حضرت دَعْلَج رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے میری طرف دیکھا، مجھے" خوش آمدید" کہا اور اپنے گھر لے گئے، وہاں دسترخوان بچھایا گیا اورکھانے کے لیے(عرب کا مشہور) حلوہ لایا گیا۔ حضرت دَعْلَج رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے مجھ سے پوچھا:کیا بات ہے میں تمہیں پریشان دیکھ رہا ہوں،میں نے اپنی پریشانی بتائی تو آپ نے فرمایا:بے فکر ہو کر کھاؤ، تمہاری ضرورت پوری کردی جائے گی۔کھانے کے بعد آپ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے مجھے دس ہزار دینار(یعنی سونے کی اشرفیاں۔gold coins) دیں، میں جب وہاں سے اٹھاتو میں بہت زیادہ خوش تھا۔ ان دیناروں سے میں نے مال کی ادائیگی (payment) کی،اس کے بعد جب اللہ کریم نے مجھے مال عطا فرمایا تومیں حضرت دَعْلَج رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے پاس وہ دینار لے کر حاضر ہوگیا۔آپ نے فرمایا:خدا کی قسم! میری نیّت (intention) اس کو واپس لینے کی نہیں تھی، اسے واپس لے جاؤ اوربچّوں کے لئے سامان خرید لو۔میں حضرت دَعْلَج رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ سے عرض کیا: حضرت! آپ کے پاس اتنا مال کیسے آیا کہ آپ نے مجھے دس ہزار دینار دے دئیے؟ آپ نے فرمایا: اَلْحَمْدُلِلّٰہِ !میں قرآن ِ کریم کا حافظ بنا،علمِ حدیث حاصل کیا اور ساتھ ساتھ کپڑوں کی تجارت (trade)بھی کرتا رہا، ایک دن ایک تاجر (trader)میرے پاس آیا اورپوچھا:کیا آپ کا نام دَعْلَج ہے؟میں نے کہا: ہاں!اس نے کہا:میں اپنا مال مُضَارَبَت کے طور پرآپ کو دینا چاہتا ہوں (مضاربت ایک ایسا عَقْد (agreement)ہے جو دو (2)افرادکے درمیان ہوتا ہے۔ جس میں ایک کی طرف سےرقم (amount)اور دوسرے کی طرف سے عمل ہوتا ہے جبکہ نفع(profit) میں دونوں شامل ہوتے ہیں۔ (تبیین الحقائق،ج۵،ص۵۱۴، ماخوذاً) اُس نے دس لاکھ درہم مجھے دے کرکہا:ہاتھ کُھلّا رکھ کر کام کریں،مال خرچ کرنے کی جو جگہیں آپ کو معلوم ہیں وہاں مال خرچ کرنا۔ وہ تاجر(trader) ہر سال میرے پاس آتا اورمجھے دس لاکھ درہم دے کرجاتا، اس طرح مال بڑھتا جارہا تھا۔ایک مرتبہ اس نے کہا: میرا سمندر میں بہت سفر رہتا ہے،اگر میں انتقال کرجاؤں تو یہ مال آپ صدقہ کریں گے،مساجد بنوائیں گے اور اسے بھلائی کے کاموں میں خرچ کریں گے۔ پھر فرمایا:میں اس لئے مال نیکی کے کاموں میں خرچ کرتا ہوں۔ اللہ کریم نے میرے ہاتھ میں مال کو بڑھا دیا اور جب تک میں زندہ رہوں تم میرے اس معاملے کو چھپائے رکھنا۔(سیر اعلام النبلاء،ج ۱۲،ص ۲۰۶،ملخصاً)
مضاربت(sleeping partnership):
{1}" مضاربت"(sleeping partnership) ایک ایسا عَقْد (contract)ہے جو فریقین(مثلاً دو افراد(2 persons) کے درمیان طے پاتا ہے۔ جس میں ایک طرف سےرقم (amount)اور دوسری طرف سے عمل ہوتا ہے جبکہ نفع(profit) میں دونوں شریک(partner) ہوتے ہیں۔ (تبیین الحقائق،ج ۵،ص۵۱۴، ماخوذاً)
{2} مُضاربت پر مال دینے والے کو" رَبُّ الْمَال" (investor)، کام کرنے والے کو "مُضَاِرب" (working partner) ، مالک نے جو دیا اُسے" رَاس ُالْمَال"(capital) کہتے ہیں۔ اگر تمام نفع (profit)" رَبُّ الْمَال "(مضاربت پر مال دینے والا،investor) ہی کے لیے دیناطے پایا تو اُس کو "اِبضاع "کہتے ہیں(مثلاً کسی غریب کے پاس کچھ مال ہے، اُس نے کسی نیک دل امیر آدمی کو کہا کہ اسے کسی کاروبار میں لگا دیں، اُس امیر آدمی نے بھلائی کرتے ہوئے، اُس غریب سے یہ طے کیا کہ "اس مال سے جو بھی نفع ہوگا، وہ سب تمہارا ہوگا تو یہ"اِبضاع " ہے) اگر تمام نفع (profit)کام کرنے والے کے لیے طے پایا تو "قرض "ہے۔ ()"مُضاربت "کی لوگوں کو ضرورت ہے کیونکہ انسان مختلف قسم کے ہیں ، کچھ مالدار، کچھ غریب، کچھ مال والے کہ کاروبار کرنا نہیں آتا اورکچھ غریب کہ کام کرنے میں ماہر (expert) ہوتے ہیں۔ کاروبار نہ جاننے والے امیر کو کام کرنے والا چاہیے اور کام جاننے والے غریب کو پیسے چاہیے، دین و شریعت نے امیر و غریب دونوں کے فائدے کا راستہ بتا یا اور" مضاربت" کی اجازت دی ۔
{3} مضاربت (sleeping partnership)کی کچھ شرطیں (preconditions)ہیں:
(۱) "رَاس ُالْمَال" (capital) ثمن ہو (یعنی سونا یاچاندی یا پیسے ہوں) ()عروض (سامان وغیرہ) سے "مضاربت" (sleeping partnership)صحیح نہیں()اگر پہلے نے کچھ سامان دے کر کہا:" اسے بیچو اور اس سے ملنے والے پیسوں کو لے کر" مضاربت"(sleeping partnership) کرلو " پھر دوسرے نے اُس سامان کو پیسوں میں بیچا اور" مضاربت" کے لیے کاروبار شروع کیا تو یہ " مضاربت" بھی صحیح ہے۔
(۲) رَاس ُالْمَال(capital)معلوم ہو، چاہے اس طرح معلوم کیا گیا ہو کہ اُس کی طرف اشارہ کردیا۔
(۳) رَاس ُالْمَال(capital) "عین "ہو یعنی مُتَعَیَّن (موجود) ہو، ایسا"دَین"(قرض) نہ ہو جوغیر مُتَعَیَّن (غیر موجود، چاہے) واجب فی الذمہ(کسی کو دینا لازم)ہو۔
"مضاربت"(sleeping partnership) اگر "دَین" (قرض)کے ساتھ ہوئی یعنی " رَبُّ الْمَال" ( مُضاربت پر مال دینے والے، investor) نے" رَاس ُالْمَال"( مالک کی طرف سے دیے جانے والا مال، capital) "دَین"(قرض)کو بنایا اور "مُضَاِرب" (کام کرنے والے)سے کہا: تمہارے اوپرجو میرے پیسے (قرض کے) ہیں ، اُن سے "مُضاربت " کرو، یہ صحیح نہیں ۔ "مقروض مُضَاِرب" (مضاربت میں کام کرنے والا قرضدار)جو کچھ خریدے گا اُس کا مالک وہ خود ہی ہوگااور جو قرض اُس پر ہے، وہ باقی رہے گا۔
اگر کسی تیسرے فرد(3rd person)پر دَین ہو مثلاً " رَبُّ الْمَال" ( مُضاربت پر مال دینے والے، investor) نے "مُضَاِرب" (مُضاربت میں کام کرنے والے) سےکہہ دیا کہ:" فلاں کی طرف میرا اتنا قرضہ ہے ،اُس سے وہ لے کر مُضارَبت شروع کردو تو یہ "مُضاربت"(sleeping partnership) جائز ہے یعنی اس طرح مُضاربت ہو جائے گی مگر ایسا کرنا مکروہ ہے ۔
(۴) رَاس ُالْمَال(capital) مکمل طور پر"مُضارِب" (مُضاربت میں کام کرنے والے)کودےدیا جائے کہ اُس کا قبضہ ہو جائے(مثلاً اس کے ہاتھ میں آجائے) اور "رَبُّ الْمَال" (مضاربت پر مال دینے والے، investor ) کا بالکل قبضہ نہ رہے۔
(۵) نفع (profit) دونوں کے درمیان طے شدہ حصّہ ہو، مثلاًنصف اورنصف (50%/50%)، یا دوتہائی اورایک تہائی(33%/66%) ،یا تین چو تھائی اور ایک چوتھائی(25%/75%)۔
نفع (profit) میں اِس طرح حصّہ طے نہ کیا جائے کہ جس میں شرکت (partrnership) ہی ختم ہوسکتی ہو، مثلاً یہ کہہ دیا کہ پہلے ہزار روپے کا نفع (profit) میں لوں گا تو ہوسکتا ہے کہ کُل نفع (total profit) ہی ہزار روپے ہو ،یا اس سے بھی کم ہوتو نفع میں شرکت کیسے باقی رہے گی؟۔
(۶) ہر ایک کا حصّہ معلوم ہو، لہٰذا اگر کوئی ایسی بات طے کی کہ جس کی وجہ سے نفع (profit) میں جہالت پیدا ہو گئی (یعنی نفع مکمل معلوم نہ رہا ) تو "مُضاربت" (sleeping partnership)فاسد(یعنی خراب) ہو جاتی ہے، مثلاً "رَبُّ الْمَال" (مضاربت پر مال دینے والے، investor ) نے"مُضارِب" (مُضاربت میں کام کرنے والے،working partner) سے طے کیا کہ تم کو آدھا (50%)یا تہائی (33%)نفع (profit) دیا جائے گا یعنی نفع میں آدھا حصّہ بھی ہو سکتا ہے اور تہائی حصّہ بھی ہو سکتا ہے تو اس طرح طے کرنے سے جہالت باقی رہی (یعنی نفع مکمل طور پر طے نہیں ہوا) اور "مُضاربت" فاسد ہے۔ اگر اس طرح طے کیا کہ جس میں جہالت نہ ہو تو مضارَبت(sleeping partnership) صحیح ہے مثلاًیہ کہا کہ: نقصان جو کچھ ہوگا وہ مُضارِب(working partner) کا ہوگا، یا دونوں کا برابر ہوگا(تو مضاربت صحیح ہے)۔
(۷) مُضارِب (working partner)کے لیے نفع (profit) دینا شرط ہو۔ اگر رَاس ُالْمَال(capital) میں سے مُضارب کو بطور اُجرت(wages) کےکچھ دینا شرط کیا گیا ،یا رَاس ُالْمَال اور نفع (profit) دونوں سے کچھ دینے کا طے ہوا تو مضاربت (sleeping partnership)فاسد(یعنی خراب) ہو جائے گی۔ (بہار شریعت ح۱۴،ص۱ تا ۳،مسئلہ۱،۲،مُلخصاً)
{4} "مُضاربت" کا حکم یہ ہے کہ جب "مُضارِب "(کام کرنے والے)کو مال دیا گیا اُس وقت وہ "امین "(امانت لینے والا)ہے اور جب اُس نے کام شروع کیا اب وہ "وکیل "(client worker)ہے اور جب کچھ "نفع" (profit) ہوا تو اب "شریک" (حصّہ دار)ہے اور اگر"مُضارِب " نے "رَبُّ الْمَال "(مضاربت پر مال دینے والے، investor ) کے حکم کے خلاف(against) کام کیا تو "غاصب" ہے (یعنی ایسا کہ جیسے کسی کی چیز چھین کر لے جانے والا) اور "مُضارَبت "فاسد ہوگئی تو مُضارِب (working partner) اَجیر (ملازم،نوکر)ہے اور اِجارہ (wages) بھی فاسد(اور خراب) ہے۔(بہار شریعت ح۱۴،ص۴،مسئلہ،۸،مُلخصاً)
{5}(۱) " مُضاربت "کبھی "مطلق "ہوتی ہے کہ جس میں زمان ومکان(یعنی وقت اورجگہ)اور کس قسم کی تجارت کرنی ہے؟ (کپڑے کی یا پھلوں کی یا کسی اور چیز کی)طے نہیں ہوتا، بس پیسے دے دیے جاتے ہیں۔
(۲) کبھی مضاربت میں طرح طرح کی قیدیں ہوتی ہیں(مثلاً اس بازار میں کرنی ہے، کپڑے کی کرنی ہے، نقد(cash) پر کرنی ہے)۔ مضارَبت مُطْلقہ (ایسی مضاربت جس میں کسی قسم کی قیدنہ ہو)میں" مُضارِب "کو ہر قسم کی تجارت کرنے کا اختیار(option) ہے ، چاہے نقد(cash) میں بیچے یا (تاجروں کی عادت کے مطابق)ادھار میں بیچے ہر قسم کی چیز خریدسکتا ہے بلکہ خرید و فروخت میں کسی تیسرے کو وکیل(client worker) بھی بنا سکتا ہے()دریا اور خشکی کا سفر بھی کرسکتاہے " ابضاع "بھی کرسکتا ہے یعنی دوسرے کو تجارت کے لیے اس شرط (precondition) پر مال دے دے کہ "نفع " میرا ہوگااپنی چیز کسی کے پا س "رہن"(mortgage) رکھ سکتا ہے() دوسرے کی چیز اپنے پاس "رہن" لے سکتا ہے کسی چیز کو کرائےپر دے سکتا ہے اور کسی چیز کو کرائے پر لے بھی سکتا ہے کیونکہ یہ ساری باتیں تاجرلوگوں کی عادت میں شامل ہیں۔ (بہار شریعت ح۱۴،ص۶،مسئلہ،۱۶،مُلخصاً)
"رَبُّ الْمَال "(مضاربت پر مال دینے والے، investor )نے شہر یا وقت یا خاص ( مثلاً کپڑے یا پھل یا کسی اور چیز کی ) تجارت کا کہہ دیا تو مُضارِب (working partner)کو ان باتوں پرعمل کرنا لازم ہے ۔ "رَبُّ الْمَال " نے بے فائدہ قیدیں(پابندیاں) لگائیں مثلاًیہ کہ نقد (cash)نہ بیچنا تو ایسی باتیں مُضارِب (کام کرنے والے)پر لازم نہیں ہیں اور ایسی قید(پابندی ) میں کوئی فائدہ ہو تو اس پر عمل کرنا ضروری ہوگا، مثلاً اِس شہرکے فلاں بازار میں تجارت کرنا، فلاں میں نہ کرنا،وغیرہ۔(بہار شریعت ح۱۴،ص۱۰،مسئلہ،۲۸،۳۱،مُلخصاً)
{6} مُضارِب (کام کرنے والے) نے مال بیچنےکے بعد ثمن(مثلاً پیسوں) کے لیے کوئی وقت طے کر لیا تو ایسا کرنا، جائز ہے۔ (بہار شریعت ح۱۴،ص۶،مسئلہ،۱۸،مُلخصاً)
{7} مُضارب(مُضاربت پر مال لینے وال) نے مُضاربت کے مال میں دَین( کاروباری قرض) کا "اِقرار" کیا (یعنی اس نے یہ بات مان لی کہ اس مال میں لوگوں سے ادھار لیا ہوا مال بھی شامل ہے ) تواگر مُضاربت کا مال ، مُضارب کے ہاتھ میں ہے تو رَبُّ الْمَال (مُضاربت پر مال دینے والے،investor) پر اس بات کو ماننا لازم ہو گا اگر مال مُضارب کے ہاتھ میں نہیں ہے تو" رَبُّ الْمَال "کو یہ "اِقرار" ماننا لازم نہیں ہو گا۔
{8}مزدور کی اُجرت(wages)، جانور کا کرایہ، دکان کا کرایہ ،ان سب چیزوں کا مُضارب نے "اِقرار" کیا وہ "اِقرار"،" رَبُّ الْمَال" پر لازم ہو گا جبکہ مُضاربت کا مال ابھی تک مُضارب کے پاس ہو۔ اگر" مُضارب"(working partner) نے " رَبُّ الْمَال " کومال واپس کرتے ہوئے کہہ دیا کہ: یہ اپنا رَاس ُالْمَال(capital) لے لو پھر کہنے لگا کہ اس میں اتنا اتنا کرایہ وغیرہ باقی ہے تو مال کی واپسی کے بعد اس قسم کے" اِقرار "بیکار(فضول) ہیں،(نہیں مانے جائیں گے)۔
{9} مُضارب (working partner)نے ایک ہزار(1000) روپے نفع (profit) کا" اِقرار" کیا پھر کہتا ہے مجھ سے غلطی ہو گئی پا نچ سو (500)روپے نفع (profit) ہے تو اسکی دوسری بات ( یعنی پانچ سو روپے نفع کی)نہیں مانی جائے گی اور جو کچھ پہلے کہہ چکا ہے (یعنی ہزار روپے نفع ہوا ہے،)اُس کا ضامن(guarantor) ہے(ہزار روپے نفع کے مطابق ہی حساب ہوگا)۔(بہار شریعت ح۱۳،ص۱۱۰۳،مسئلہ۱۳،مُلخصاً)
{10} کسی جاہل شخص سے مضاربت(sleeping partnership) کی ، معلوم نہیں کہ وہ جائز طر یقے پر تجارت (trade)کرتا ہے یا ناجائز طریقے پر تو اُس سے ملنے والا نفع (profit) لینا جائز ہے جب تک (یقینی طور پر)یہ معلوم نہ ہو جائے کہ اُس نے حرام طریقے سے کمایا ہے۔ (بہار شریعت ح۱۳، ص۸۱۳، مسئلہ۱۷، مُلخصاً)

’’وکالت (attorneyship) اور حوالہ‘‘

حدیث شریف:
حضرت جابر رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے کہتے ہیں کہ میں نے "خیبر" (ایک جگہ)جانے کا ارادہ کیا تو میں نےنبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کے پاسں حاضر ہوکر سلام کر کے عرض کیا کہ: میرا "خیبر "جانے کا ارادہ ہے تو پیارے آقا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نےفرمایا جب تم ہمارے وکیل (یعنی حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کی طرف سے کھجوریں جمع کرنے والے)کے پاس جاؤ (جن کی مقامِ خیبر پرذمہ داری(duty) تھی کہ وہ یہودیوں(jews) سے پیارے آقا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کے حصّے کی کھجوریں لے لیا کریں، پھر جب مدینے شریف سے کسی کو بھیجا جائے تو انہیں وہ کھجوریں دے دیا کریں )تو تم(یعنی حضرت جابررَضِیَ اللہُ عَنْہ)ان سے پندرہ (15) "وسق "(یعنی 900=60 *15 صاع/ تقریباً3,456 کلو کھجور)لے لینا۔ پھر اگر تم سے کوئی نشانی مانگیں(کہ آپ حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ طرف سے بھیجے ہوئے ہیں یا نہیں) تو ان کے گلے پر ہاتھ رکھ دینا ۔
(سنن ابی ابوداؤد،حدیث:۳۶۳۲،ج۳،ص۳۱۴ مع مراۃ، ج۴، ص۵۳۴، سوفٹ ا(و)یئر، مُلخصاً) عُلَمائے کِرام فرماتے ہیں:حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نے حضرت جابررَضِیَ اللہُ عَنْہکو "وکیلِ قبض" بنایا (یعنی سامان لانے والا)کہ ہماری اتنی کھجوریں لے آؤ۔یاد رہے کہ جو صاحب خیبر میں یہودیوں (jews) سے سرکار مدینہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کی کھجوریں لیا کرتے تھے، وہ بھی "وکیل" ہی تھے لیکن وہ "وکیلِ وصولی" (یعنی اُن کی چیز کو دوسرے سے لینے والے) تھے۔اس حدیث سے دو طرح(کی) وکالتیں معلوم ہوئیں،(۱):وکالت قبض (یعنی کسی کا سامان ہاتھ میں لینے کی وکالت۔attorneyship)،(۲)وکالت وصولی(یعنی کسی کا سامان، دوسرے سے لے لینے کی وکالت۔attorneyship)۔ (مراۃ، ج۴، ص۵۳۴، سوفٹ ایئر، مُلخصاً)
واقعہ(incident): حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نے وکیل(client worker) بنایا
پیارے آقا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نے حضرت عَمْرو ابن أُمَيَّۃ ضَمْرِي رَضِیَ اللہُ عَنْہ کو حضرت نجاشی(بادشاہ) رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے پاس بھیجا کہ(حضرت امیرِ مُعاویہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ کی بہن) اُمّ حَبیبہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا کو حضور اکرم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کے لئے پیغام دیں اور(حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سے ان کا) نکاح کردیں، پھر اُمّ المؤمنین، اُمِّ حَبیبہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا نے حضرت خالد بن سَعید ابن عَاص رَضِیَ اللہُ عَنْہ کو اپنا وکیل(client worker) بنایا(کہ وہ اُن کی طرف سے نکاح قبول کر لیں)، حضرت نجاشی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے نکاح کا خطبہ پڑھا، حضرت جعفربن ابی طالب رَضِیَ اللہُ عَنْہ اور وہ تمام مسلمان جو حبشہ میں موجود تھے نکاح کی محفل میں شریک ہوئے، پھر حضرت نجاشی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے حضرت خالد بن سعید رَضِیَ اللہُ عَنْہ کو دینار(سونے کے سکّے۔gold coins) دیے، جب لوگ واپس جانے کے لئے تیار ہوئے توحضرت نجاشی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے کہا: بیٹھ جاؤ کہ نکاح کی تقریب (محفل)میں کھانا کھلانا انبیاء کرام عَلَیْہِمُ السَّلَامکی سنّت ہے۔آپ نے کھانے کااہتمام (arrange)کیا،سب نے کھانا کھایا پھر واپس گئے۔ (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم درذکر ازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۸۱)
حضرت نجاشیرَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ حبشہ(علاقے) کے بادشاہ تھے آپ کا نام "أَصْحَمَة "ہے۔ پیارے آقا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ پرایمان لے آئے تھے مگر حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کی خدمت میں حاضر نہ ہوسکے۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ بڑے خوش نصیب"تابعی" تھے ("تابعی" وہ بزرگ ہوتے ہیں کہ جنہوں نے ایمان کی حالت میں کسی صحابی(رَضِیَ اللہُ عَنْہ) کی زیارت کی یا اُن کی صحبت پائی مثلاً اُن کے پاس بیٹھے)۔ حضرت نجاشیرَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے مسلمان مہاجروں (جنہوں نے ہجرت کی تھی)کو اپنے ملک میں امان دی (یعنی اُن کی حفاظت کے لیے اپنے ملک میں جگہ دی تھی)۔ حضرت نجاشیرَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے جنّتی صحابی ،حضرت جعفر طیار رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے قرآنِ پاک سُنا تو خودایمان لے آئے۔ حضرت عمر(و) بن عاص رَضِیَ اللہُ عَنْہ پر، حضرت نجاشیرَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے کوشش کی تو وہ بھی ایمان لے آئے پھر انہیں (یعنی حضرت عمر (و)بن عاص رَضِیَ اللہُ عَنْہ کو) حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کے پاس جانے کی سعادت بھی مل گئی تو جنّتی صحابی بن گئے یعنی حضرت نجاشیرَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ وہ تابعی بزرگ ہیں جن کی کوشش سے ایک صاحب مسلمان ہو کر، پیارے آقا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کی برکت سےجنّتی صحابی بن گئے۔
فتح مکّہ(یعنی مکّہ شریف میں اسلامی حکومت بننے ) سے پہلے ہی آپ کی وفات ہوئی ، پیارے آقا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نے مدینہ شریف میں صحابہ کرام رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمْ کی امامت کرتے ہوئے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی ۔عرصے (ایک وقت) تک آپ کی قبر سے نور نکلتا ہوا نظر آتا تھا، آپ کے بارے میں یہ آیت اتری(مراۃ،ج۸، ص۶۰۶، سوفٹ ائیر، مُلخصاً): وَ اِذَا سَمِعُوۡا مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَی الرَّسُوۡلِ تَرٰۤی اَعْیُنَہُمْ تَفِیۡضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوۡا مِنَ الْحَقِّۚ یَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاکْتُبْنَا مَعَ الشّٰہِدِیۡنَ ﴿۸۳﴾ (پ ۷، سورۃ المائدۃ، آیت۸۳)
ترجمہ (Translation) : اور جب سنتے ہیں وہ جو رسول کی طرف اترا تو ان کی آنکھیں دیکھو کہ آنسوؤں سے ابل رہی ہیں اس لیے کہ وہ حق کو پہچان گئے، کہتے ہیں اے رب ہمارے ہم ایمان لائے تو ہمیں حق کے گواہوں میں لکھ لے۔(ترجمہ کنز العرفان)
وکالت (attorneyship):
{1} " و کالت "( attorneyship) وہاں ہوتی ( یعنی" وکیل"(client worker) اُس کام میں بنایا جاتا ) ہے کہ جو کام "مُؤَکِّل" (client) خود کر سکتا ہو اور ()اگر کسی خاص وجہ سے " مُؤَکِّل " کو وہ کام فی الوقت کرنا منع ہو (جیسے حج یا عمرے پر جانے والے "احرام" کی نیّت کرتے ہیں(اور اس میں دو سفید چادریں بھی پہنتے ہیں) تو ان پر کچھ کام کرنا منع ہو جاتے ہیں، مثلاً شکار کرنا) لیکن اصل میں وہ کام جائز ہو اس کام کا"وکیل "(client worker)بنانادرست ہے ،مثلاً احرام والے کا کسی دوسرے (کہ جو احرام میں نہ ہو) کو شکار کرنے کا "وکیل" بنانا۔
{2} "وکالت"( وکیل بنانے۔attorneyship) کے لیے ضروری نہیں کہ" وکیل"(client worker) ، "وکالت "( attorneyship) کو قبول(accept) بھی کرےیعنی اگر "وکیل"(client worker) نے یہ نہیں کہاکہ :"میں نے قبول (accept) کیا" لیکن جس کام کو کرنے کا بولا گیا تھا، وہ کام کر دیا تو" مُؤَکِّل " (وکیل بنانے والے،client) پر وہ کام لازم ہو جائے گا(مثلاً " مُؤَکِّل " (client) نے" وکیل"(client worker) کو کہا کہ: میرے لیے کپڑا خرید کر لاؤ تو " وکیل"نے کوئی جواب نہیں دیا لیکن کپڑا خرید کر لے آیا تو اب یہ کپڑا" مُؤَکِّل " ہی کا ہے )۔ ہاں! اگر وکیل نے (وہ کام کرنے سے)منع کر دیا تو وکالت(attorneyship) نہیں ہوئی،مثلاً " مُؤَکِّل " (client) نے کہا تھا کہ میرے لیے یہ چیز خرید لوتو" وکیل"(client worker)نے منع کر دیا ، مثلاً کہا کہ:" میں یہ کام نہیں کرونگا" مگر پھر بھی اُس نے وہ چیز خرید لی تو اب یہ خریداری مُؤَکِّل (client) پر لازم نہ ہوئی کیونکہ یہ شخص "وکیل"(client worker) بنا ہی نہیں تھا بلکہ اب یہ " فضولی" (یعنی بغیر اجازت کسی دوسرے کی طرف سے کوئی کام(مثلاً خریداری)کرنے والا) ہے (اور اس طرح کے کام کا "شرعی حکم" یہ ہے کہ جس شخص کی طرف سے بغیر اجازت کے کام کیا گیا ہو، جب تک وہ اُس کام کو نافذ(ok) نہ کرے، وہ کام پورا نہیں ہوتا مثلاًاُس کی اجازت کے بغیر خریداری ہوئی ، تو اگر اُس نے نافذ(ok) کی تو وہ چیز اُس کی ہوگی ورنہ وہ چیز خریدنے والے ہی کی ہوگی)۔
{3} " وکیل"(client worker) کا عاقل ہونا شرط ہے یعنی پاگل ، یا اتنا چھوٹا بچہ جو سمجھ نہ رکھتا ہو کو "وکیل" نہیں بنا سکتےبالغ(grownup) ہونا اس کے لیے شرط نہیں یعنی نابالغ سمجھ دار(sensible) بچّے کو بھی وکیل بنا سکتے ہیں۔
{4} "وکیل"(client worker) نے بھنگ (cannabis)پی لی کہ عقل میں فتور (خرابی/فرق)پیدا ہو گیا تووہ "وکیل "نہ رہا یعنی اس حالت میں جو کام کرے گا ، وہ " مُؤَکِّل "(client) پرلازم نہ ہونگے۔
{5} مباح چیز کے حاصل کرنے کے ليے وکیل(client worker) بنا نا،جائز نہیں ہے مثلاًجنگل کی لکڑیاں یا گھاس کاٹنے، یا جانور کاشکار کرنے ،یا دریا، یا کنویں سے پانی بھرنے، یا ()کان (جس زمین یا پہاڑ میں قدرتی طور پر سونا موجود ہو۔gold mine)سے جواہر(موتی۔pearl) نکالنے پر وکالت ( attorneyship) نہیں ہوسکتی۔ جو شخص ان جگہوں سے جو چیز لے گا، وہی اُس کا مالک (owner)ہوگا،" مُؤَکِّل " (client) کا اُس چیز پر کوئی حق(right) نہ ہوگا۔
{6} کسی کو اس لیے وکیل(client worker) کیا کہ وہ فلاں شخص سے یا ،کسی بھی شخص سے " مُؤَکِّل " (client) کے لیےقرض لا کردے ۔ اس طرح وکیل بنانا بھی صحیح نہیں اور اگر اس لیے وکیل کیا ہے کہ میں نے فلاں سے قرض لیا (یعنی بات کر لی)ہے تم اُس (قرض میں ملنے والی رقم)پر قبضہ کر لو (لے لو)تو اس طرح وکیل بنانا صحیح ہے۔
{7} وکالت(attorneyship) میں تھوڑی سی جہالت (یعنی کام مکمل طور پر معلوم نہ ہونے،تھوڑا بہت غیر واضح ہونے )سے حرج نہیں مثلاً کہہ دیا کہ مَلمَل کا تھان(ایک قسم کے باریک سوتی(cottonکے) کپڑے کا تھان) خرید لو(تو یہ وکالت صحیح ہے)۔
{8}وکیل(client worker) کے قبضے میں جو چیز ہوتی ہے (مثلاً خریداری کا "وکیل " تھا، کپڑا خرید کر اپنے پاس رکھ لیا ) وہ امانت ہے یعنی ضائع(waste) ہو جانے سے تاوان (یعنی ویسی ہی چیز یا اس کی اصل قیمت (actual price) دینا)واجب نہیں۔
{9} (ایسی شرط (precondition) کہ جو وکالت (attorneyship) کے تقاضے (requirement) کےخلاف(against) ہو یعنی) "شرطِ فاسد "سے وکالت(attorneyship) فاسد (خراب)نہیں ہوتی(یعنی اُس شرط پر عمل نہیں ہوگا اور "وکالت" صحیح ہو جائے گی)۔ وکالت(attorneyship) میں " خیارِ شرط" نہیں ہوسکتا۔
{10} پاگل ،یا ناسمجھ بچّے (in sensible child) کا" وکیل "بنا نا بالکل بھی صحیح نہیں ۔
سمجھدار (sensible) بچّے نے وکیل بنایا تو اس کی تین(3) صورتیں ہیں:
(۱) ایسے کام کا وکیل(client worker) بنایا کہ وہ کام خود یہ (سمجھدار بچّہ) بھی نہیں کر سکتا تو اس کام کے لیے وکیل بھی نہیں بنا سکتا،مثلاً تحفہ دینا، صدقہ کرنا۔
(۲) اگر ایسے کام کا وکیل(client worker) کیا جس میں صرف فائدہ ہے تو وکیل بنانا درست ہے، مثلاً تحفہ یا صدقہ قبول(accept) کرنا۔
(۳) اگرایسے کام کا وکیل کیا جس میں فائدہ اور نقصان دونوں ہوں جیسے تجارت (trade)، اجارہ(Contract of someone by paying wages) وغیرہ تو اس کی مزید دو (2) صورتیں ہیں :
) ولی (سرپرست (guardian) مثلاً باپ )نے پہلے سے ہی ان کاموں (مثلاً تجارت)کی اجازت دی ہو تو وکیل بنانا، صحیح ہے۔
(b) ولی نے پہلے سے ایسےکاموں کی اجازت نہیں دی تھی کہ جن میں فائدہ اور نقصان دونوں ہوں تو پھر ان کی دو (2)صورتیں ہیں :
(الف) سمجھدار (sensible) بچّے نے خود وکیل بنایا تو اگر ولی (سرپرست (guardian) مثلاً باپ ) نے بعد میں اس کام کی اجازت دے دی تو یہ وکیل بنانا صحیح ہوگیا۔
(ب) اگر ولی نے بعد میں بھی اس کام کی اجازت دے دی تو یہ وکیل بنانا باطل(ختم) ہوگیا۔
{11} باپ نے اپنے نابالغ بچّے کے لیے کسی کو چیز خریدنے یا بیچنے کا وکیل(client worker) کیا ، تو اس طرح وکیل بنانا درست ہے ۔
باپ کے "وصی" (یعنی مرنے سے پہلے باپ نے جس شخص کو کہا کہ میرے بعد میرے بچّے کے سب معمولات / کام تم دیکھنا) کا بھی یہی
حکم ہے کہ وہ بچّے کے لیے چیز خریدنے یا بیچنے کاکسی دوسرے کو" وکیل" بنا سکتا ہے۔
{12}زید (ایک شخص)نے عُمر(دوسرے شخص)کو اپنی بیوی کو طلاق دینے کے لیے وکیل(client worker) بنایا لیکن عُمر نے منع کر دیا تو اب طلاق نہیں دے سکتا اور اگر خاموش رہا اُس کو طلاق دے دی تو طلاق ہو گئی۔ (بہار شریعت ح۱۲،ص۹۷۳ تا ۱۰۱۴،مسئلہ،۱ تا ۵، ۳۳ تا۹،۱۰،۱۲،۱۴،۲۸،۲۹ مُلخصاً)
{13} کسی کو وکیل (client worker)بنایا اور وکیل کو علم نہیں ہوا تو اس طرح " وکیل" بناناصحیح نہیں اگر اس وقت میں" وکیل" نے "وکالت والا " کوئی کام کر بھی دیا تب بھی وہ کام صحیح نہیں یعنی نافذ(ok) نہیں ہوگا۔
(بہار شریعت ح۱۲،ص۹۲۵ ،مسئلہ۲۷،مُلخصاً)
خرید و فروخت (buying and selling) میں وکیل(client worker) بنانا:
{14} مُؤَکِّل (وکیل بنانے والے،client) نے یہ کہا کہ جو چیز مناسب سمجھو میرے لیے خرید لو یہ خریداری (buying) کی وکالت (attorneyship) عام ہے یعنی وکیل جو کچھ بھی خریدے گا، مُؤَکِّل (وکیل بنانے والا)) انکار (denial) نہیں کر سکتا۔
اگر یہ کہا کہ:" میرے لیے جو کپڑا چاہو خرید لو" ،یہ کپڑا خریدنے کی عام وکالت (attorneyship) ہے۔اگر کسی خاص (specific)چیز کی خریداری کے لیے وکیل(client worker) کیا ، مثلاً کہا:"یہ گائے خرید لو"، یا "یہ بکری خرید لو"، یا "یہ گھوڑا خرید لو"۔ اس صورت (case)میں جو چیز کہی ہے، وہی خریدنی ہوگی ، اُس کے علاوہ کوئی دوسری چیز نہیں خرید سکتا۔
نہ تو یہ کہا:"جو چاہو خریدو" اور نہ یہ کہا:" یہی چیز خریدو" بالکل ان دونوں کے بیچ کی بات کی، مثلاً یہ کہا کہ:
میرے لیے ایک گائے خرید لو" تو اس کا حکم یہ ہے کہ تھوڑی سی جہالت (معلومات کی کمی/ بات واضح ہونے میں تھوڑی کمی) ہو تووکالت(attorneyship) درست (یعنی صحیح)ہے اور()اگر جہالت(معلومات کی کمی) بہت زیادہ ہوتو (ایسے کام کے لیے) وکیل نہیں بنا سکتے ۔
{15} جب خریدنے کا وکیل(client worker) کیا جائے تو ضروری ہے کہ اُس چیز کی جنس اور صفت(قسم (type)اورخوبی) یا،() جنس و "ثمن"(قسم اور پیسے وغیرہ) بتا دیے جائیں تاکہ جہالت(معلومات کی کمی) نہ رہے۔
اگر ایسا لفظ بولا جس کے نیچے کئی جنسیں شامل (یعنی اُس لفظ میں بہت سی چیزیں آجاتی)ہیں مثلاً کہہ دیا چوپایہ (چار ٹانگوں والا کوئی جانور)خرید لاؤ ، اس کام کاوکیل بناناصحیح نہیں ہے کیونکہ اس میں مختلف جانور مثلاً گائے، اونٹ، بکرا وغیرہ(سب) آتے ہیں۔
{16}وکیل(client worker) کو یہ جائز نہیں کہ اُس چیز کو خود خرید لے جسے بیچنے کے لیے، اسے وکیل بنایا ہے یعنی یہ نہیں ہو سکتا کہ خودہی ("مُؤَکِّل" (client) کی طرف سے)بیچے اور خود ہی(اپنے لیے) خریدے۔
{17} وکیل (client worker)کم یا زیادہ جتنی قیمت(price) پر چاہے خرید و فروخت (buying and selling)کر سکتا ہے مگر اس کی دو(2)شرطیں (preconditions)ہیں:(۱) مُؤَکِّل (وکیل بنانے والے،client ) نے قیمت نہ بتائی ہو اور(۲) تہمت نہ لگے(یعنی یہ نہ کہا جائے کہ اس نے پیسوں میں دھوکا کیا ہے یعنی cheating کی ہے) ۔
{18} یہ کہا کہ:" میرے لیے گھوڑا خرید لاؤ"، یا "فلاں قسم (type) کے کپڑے کا تھان(کئی گز/میٹر کا رول۔ roll) خرید لاؤ "تو اس طرح وکیل بنانا صحیح ہے، چاہے" ثمن"(پیسے) نہ بتائے ہوں کیونکہ اس طرح وکیل بنانے میں جہالت (معلومات کی کمی) بہت کم ہے۔ اس صورت (case) میں وکیل (client worker) ایسا گھوڑا ،یا ایسا کپڑا خریدے گا جو "مُؤَکِّل " (وکیل بنانے والے،client) کی حالت کے مطابق(according to condition) ہو۔
گھر خریدنے کو کہا تو" ثمن"(مثلاًپیسے) بتانا ضروری ہے یعنی اس قیمت (price) پر خریدنا ہے ،یا نوع (category وغیرہ)بتائے ورنہ توکیل ( یعنی وکیل بنانا) صحیح نہیں اسی طرح یہ کہا کہ کپڑا خرید لاؤ یہ توکیل ( یعنی وکیل بنانا) صحیح نہیں چاہے رقم بھی بتادی ہو کیونکہ کپڑا بہت سی قسم (types)کا ہوتا ہے۔ ہاں! یہ کہا کہ : "جو کپڑا چاہو، خرید لاؤ" تو صحیح ہے۔
{19} کھانا خریدنے کے لیے بھیجا، بتا دیا کہ کتنا لانا ہے، یا پیسےدے دیے توعُرف (عادت) کو دیکھتے ہوئے تیار کھانا لیا جائے گا ، مثلاًگوشت روٹی وغیرہ۔
{20} یہ کہا کہ موتی (pearl) کا ایک دانہ(piece) یا یاقوت (ruby) لال رنگ کا نگینہ(پتھر) خرید لاؤ اور پیسے بھی بتا دیے تو وکیل بنانا صحیح ہےاگر تفصیل(detail) نہ بتائی تو" وکیل" بنانا، صحیح نہیں۔
{21} گیہوں (wheat)وغیرہ غلّہ(اناج ۔grain ) خریدنے کو کہا مگر نہ تومقدار (quantity) بتائی( کہ اتنے کلو لینا) اور نہ ہی پیسے بتائے( کہ اتنے روپے کا لینا)، تو اس طرح وکیل بناناصحیح نہیں ہے اگر تفصیل(detail) بتا دی تو (اس کام کے لیے وکیل بنانا)صحیح ہے۔
{22} گاؤں کے کسی آدمی نے یہ کہا میرے لیے فلاں کپڑا خرید لو لیکن پیسے نہیں بتائے تووکیل (client worker)وہ کپڑا خریدے جو گاؤں والے استعمال کرتے ہیں اگر وکیل نے ایسا کپڑا خریدا کہ جو گاؤں والے استعمال نہیں کرتے تو یہ جائز نہیں ہوایعنی مُؤَکِّل (وکیل بنانے والا) اُس کے لینے سے منع کر سکتا ہے۔
{23} بروکر(broker) کو پیسے دیے کہ ان پیسوں کی میرے لیے چیز خرید لو اور چیز کا نام نہیں لیا تواگر وہ بروکر (broker) کسی خاص(specific) چیز کا بروکر ہے تو وہی چیز لے گا اگر وہ خاص(specific) چیز کا بروکر نہیں ہے تواس طرح وکیل بنانا" فاسد"(یعنی درست) نہیں ہے۔
{24}(۱) وکیل کے لیے، مُؤَکِّل (وکیل بنانے والے،client)نے کوئی قید(condition) رکھی تو اُس کا خیال رکھناضروری ہے ۔وکیل اُس شرط(precondition) کےخلاف(against) خریداری کرےگا تو خریداری (buying)کا تَعَلّق وکیل بنانے والے سے نہیں ہوگا(یعنی وہ چیز مُؤَکِّل کی نہیں ہوگی)۔ ہاں !اگر وکیل نے مُؤَکِّل (client) کی بتائی ہوئی چیز سے بہتر چیز لے لی تو وہ چیز مُؤَکِّل ہی کی ہو گی۔
(۲) مُؤَکِّل (client) نےاگر کسی خاص جنس(خاص قسم) کی چیز لینے کا کہا تھا، اور وکیل(client worker) نے دوسری جنس (دوسری قسم) کی چیز لے لی تو مُؤَکِّل (وکیل بنانے والے) پر یہ تجارت نافِذ (لازم) نہیں ہوگی ۔ چاہے لائی گئی چیز، بتائی گئی چیز سے زیادہ کام کی ہو۔
{25}" وکیل"(client worker) نے کوئی چیز خریدی اور اُس میں "عیب" ظاہر ہوا(یعنی اُس میں کوئی خامی /ٹوٹ پھوٹ نظر آئی) تو جب تک وہ چیز "وکیل" (client worker)کے پاس ہو اُس کے واپس کرنے کی ذمہ داری "وکیل" کی ہے اگر" وکیل" مر گیا تو اُس چیز کو واپس کرنا، "وصی" (یعنی مرنے سے پہلے ، اُس شخص نے جسے کہا تھا کہ میرے بعد میرےمعمولات / کام تم دیکھنا) یا "وارث " (یعنی وہ لوگ کہ جو مرنے والے کے بعد، اُس کے مال کے مالک(owner)بن جاتے ہیں) کا کام ہے اگر" وکیل" کے انتقال کے بعد "وصی" یا "وارث" نہ ہوں تو اب " مُؤَکِّل" (client) یہ کام کرے گا ۔
{26} جسے کوئی چیز بیچنے کاوکیل بنایا، اُس نے وہ چیز بیچی پھر خریدار(buyer) نے اُس چیز میں کوئی "عیب" دیکھا (مثلاً وہ چیز ٹوٹی ہوئی تھی)۔اس کی دو(2)صورتیں ہیں:
اگر خریدار نے پیسے وکیل(client worker) کو دے دیے تھے تو "وکیل" سے واپس لے ، چاہے "وکیل" نے آگے " مُؤَکِّل" (client) کو دے دیے ہوں۔
اگر خریدار نے پیسے " مُؤَکِّل" (client) کو دیے تھے تو " مُؤَکِّل" ہی سے واپس لے لے۔
{27} وکیل (client worker)نے چیز خریدلی مگر ابھی مُؤَکِّل نے اُس کے پیسے نہیں دیے تھے ،اوروکیل نے"مَبِیْع"کو روک لیا پھر "مَبِیْع"(خریدی گئی چیز)ہلاک (waste)ہو گئی تو یہ نقصان وکیل ہی کا ہوا ۔
ہاں! اگر وکیل نے روکی نہ تھی یعنی اُسی کے پاس تھی(مثلاً دونوں کی ملاقات نہیں ہوئی تھی) اور وہ چیز ہلاک (waste)ہو گئی تو یہ نقصان"مُؤَکِّل " (وکیل بنانے والے) کا ہوا ،اب مُؤَکِّل اپنے وکیل کو اُس چیز کی رقم (amount) دے گا ۔
{28} جسےچیزخریدنے کا وکیل بنایا،اُسے مُؤَکِّل (وکیل بنانے والے) نے پیسے نہیں دیے تووکیل (خریدار) بائع(بیچنے والے) سے یہ نہیں کہہ سکتا کہ مُؤَکِّل (client) سے پیسے ملیں گے تودوں گا بلکہ اُسے اپنے پاس سے پیسے دینےہو ں گے۔
{29}جسےچیز بیچنے کا وکیل بنایا،اُس نے چیز بیچ ڈالی مگر ابھی پیسے نہیں لیےتھے تو "مُؤَکِّل" سے کہہ سکتا ہے کہ خریدار(buyer) پیسےدے گا تو میں دوں گا یعنی وکیل کو اپنے پاس سے پیسے دینے پرمجبور(force) نہیں کیا جا سکتا۔
{30}(۱) جسےچیز بیچنے کا وکیل بنایا،اُس نے مُؤَکِّل (وکیل بنانے والے،client) سے کہا کہ :"میں نے تمہارا کپڑا فلاں کے ہاتھ بیچ دیا ہے اور میں اُس کی طرف سے تمہیں اپنے پاس سے پیسے دے دیتا ہوں" تو یہ احسان (kindness) اوربھلائی ہے، اب وکیل یہ رقم خریدار سے بھی نہیں لے سکتا۔
(۲) اگروکیل نے مُؤَکِّل سے یہ کہا کہ:" میں تمہیں اپنے پاس سے رقم دے دیتا ہوں ،خریدار جب پیسے دے گا تو وہ میں لے لوں گا" اس طرح دینا بھی جائز نہیں ہے اور" وکیل" نے جو کچھ" مُؤَکِّل" (client) کو دیا، وہ واپس لے لے۔
{31} (۱)"مُؤَکِّل " (client) نے" وکیل" (client worker) کو ہزار روپے چیز خریدنے کے لیے دیے، اُس نے چیز خریدی مگر ابھی بائع (seller)کو پیسے نہیں دیے تھے پھر وہ پیسے" وکیل" ہی کے پاس سے ضائع (waste)ہو گئے(مگر " وکیل" کی طرف سے کوتاہی بھی نہیں تھی، مثلاً پیسےحفاظت کی جگہ رکھے تھے اور چوری ہوگئے) تو یہ پیسے "مُؤَکِّل " (client) ہی کے ضائع ہوئے یعنی "مُؤَکِّل " اپنے" وکیل" کو دوبارہ پیسے دے گا ۔
(۲)"مُؤَکِّل "نے "وکیل" کو پیسے نہیں دیے تھے مگر "وکیل" نے وہ چیز خرید لی ، اب "مُؤَکِّل "نے "وکیل" کو پیسے دے دیے لیکن "وکیل" نے پھر بھی بائع(وہ چیز بیچنے والے) کو پیسے نہ دیے اور وہ پیسے ہلاک ہو گئے تو یہ پیسے "وکیل" ہی کے ضائع (waste)ہوئے (اب "وکیل" اپنی جیب سے اس کے پیسے دے گا)۔
{32} ایک شخص سے کہا کہ:" دو ہزار روپے کا پانچ(5) کلو گوشت لے آؤ"۔ وہ شخص (کہ جسے"وکیل" بنایا تھا ) دو ہزار روپے کا دس (10)کلو گوشت لے آیا اور گوشت بھی ایسا تھا کہ جو بازار میں دو ہزار روپے کا پانچ کلو ملتا ہے پھر بھی "مُؤَکِّل " (client) کے لیےصرف ایک ہزار روپے کا پانچ(5) کلو گوشت لینا ضروری ہے اور باقی گوشت وکیل (client worker)کا ہے(اس کے پیسے بھی "وکیل" ہی دے گا)۔
{33} غیر مُتَعَیَّن چیز ( مثلاً کہا کہ کوئی سا ایک بکرا )خریدنے کے لیے "وکیل " بنایا تو جو کچھ خریدے گا وہ اُس "وکیل" ہی کا ہوگا مگر دو (2)صورتوں میں (وہ چیز) مُؤَکِّل (وکیل بنانے والے،client) کے لیے ہوگی:
(a) "وکیل " نے خریدتے وقت " مُؤَکِّل"(client) کی طرف سے خریدنے کی نیّت کی ہو۔
(b)دوسری صورت یہ ہے کہ" مُؤَکِّل" کے مال سے خریدی مثلاً خریدتے وقت کہا کہ :یہ چیز فلاں کے پیسوں سے خریدتا ہوں۔
{34}وکیل(client worker)ا ور مُؤَکِّلمیں اختلاف ہوگیا۔ وکیل کہتا ہے کہ :"میں نے تمہارے لیے خریدی ہے"۔ مُؤَکِّل کہتا ہے کہ :"تم نے اپنے لیے خریدی ہے "۔اس صورت میں مُؤَکِّل (وکیل بنانے والے) کی بات مانی جائے گی ہے جبکہ مُؤَکِّل (client) نے پیسے نہ دیے ہوں اور اگر مُؤَکِّل نے پیسے دے دیے ہوں تو وکیل کی بات مانی جائے گی ۔
{35} مُؤَکِّل نے دو چیزیں خریدنے کے لیے وکیل کیا ، چاہے دونوں چیزیں مُتَعَیَّن (طے۔fixed) ہوں یا غیر مُتَعَیَّن (غیرطے شدہ۔un fixed ) اورثمن مُتَعَیَّن (طے۔fixed) نہیں کیا ہے کہ اتنے میں خریدنی ہیں ۔ اب وکیل (client worker)نے ایک چیز واجبی قیمت (market rate)میں خریدی ، یا ()تھوڑے سے زیادہ پیسوں پر خریدی کہ اتنی زیادتی کے ساتھ لوگ خرید لیتے ہوں تو وہ چیز"مُؤَکِّل "(وکیل بنانے والے) کے لیے ہو گی اور اگر بہت زیادہ قیمت کے ساتھ خریدی تو اب یہ مُؤَکِّل (client) کے لیے لینا ضرور ی نہیں۔
{36}(۱) خریدوفروخت کا وکیل اُن لوگوں کے ساتھ عقد (یعنی سودا)نہیں کر سکتا جن کے حق (favor)میں اس (وکیل)کی اپنی گواہی(testimony) مانی نہیں جاتی (جیسے: اپنے باپ، دادا، بیٹا، پوتا ،بیوی یا میاں،بہار شریعت ح۱۰،ص۴۹۴) چاہے واجبی قیمت(market rate) کے ساتھ سودا کیا ہو۔
(۲) ہاں! اگر مُؤَکِّل (وکیل بنانے والے) نے اس کی اجازت دے دی ہو یعنی کہہ دیا ہو کہ جس کے ساتھ تم چاہو سودا کرلو تو ان لوگوں سے واجبی قیمت(market rate) پر سودا کر سکتا ہے ۔
(۳) اگر مُؤَکِّل (client) نے عام اجازت نہیں دی تھی(کہ جس سے چاہو سودا کر لو) مگر واجبی قیمت (market rate)سے زیادہ پر ان لوگوں کے ہاتھ چیز بیچ دی تو اب جائز ہے۔

(۴)مُؤَکِّل نے صاف لفظوں میں ان لوگوں سے تجارت کی اجازت دے دی ہو تب بھی اپنی ذات (یعنی خود اپنے لیے)یا (اپنے)نابالغ لڑکے سے خرید و فروخت (buying and selling)کرنا جائز نہیں ہے۔
{37} بیچنے کا وکیل بنایا تو اس کی دو(2)صورتیں ہیں: (۱) مُؤَکِّل (وکیل بنانے والا) تجارت کے لیے چیز بیچنا چاہتا ہے، یا(۲)اپنی ضرورت پوری کرنے کے لیے (مثلاً گھر کی کوئی چیز )بیچنا چاہتا ہے۔ (۱) اگر مُؤَکِّل تجارت کے لیے کوئی چیز بیچنا چاہتا ہے تووکیل اُدھار بھی بیچ سکتا ہے۔(۲) اگر اپنی ضرورت کے لیے کوئی چیز بیچنا چاہتا ہے تو "وکیل" کا اُدھار بیچنا جائز نہیں ہے۔
{38} وکالت(attorneyship) کو زمانہ(یعنی وقت) یا مکان (یعنی جگہ)کے ساتھ خاص کرنا درست ہے یعنی مُؤَکِّل یہ کہہ سکتا ہے کہ: "اس چیز کو کل بیچنا"، یا "کل خریدنا"، یا "فلاں جگہ خریدنا"، یا "فلاں جگہ بیچنا"۔ وکیل کو جیسا کہا ہے، وکیل کو ویسا ہی کرنا ہوگا ۔
{39} ایسی چیز بیچنے کے لیے وکیل کیا کہ جس میں مزدوری (wage) دینی پڑے گی اور وکیل اور مُؤَکِّل دونوں ایک ہی شہر میں ہیں تو وکیل اُسی شہر میں بیچے گا، دوسرے شہر میں لے جانا جائز نہیں ۔
{40}مُؤَکِّل(وکیل بنانےوالے،client)نےکہہ دیاہےکہ جس کےہاتھ بیچوگےاُس سےکفیل (guarantor) لینا، یا ()کوئی چیز رہن (mortgage)رکھ لینا تو اب وکیل کا بغیر رہن (mortgage) ، یا بغیر کفالت (guarantee) وہ چیز بیچنا جائز نہیں ہے۔
(بہار شریعت ح۱۲،ص۹۸۱ تا ۹۹۴، مسئلہ۱ تا ۹،
{41} "بروکر" ( وہ شخص جو کمیشن لیکر لوگوں کا مال بیچتاہے)کے پاس لوگ اپنے مال رکھ دیتے ہیں اور بیچنے کو کہہ دیتے ہیں ۔("بروکر" اُن کا "وکیل" ہے،) "وکیل " نے چیز بیچی اور اپنے پاس سے پیسے مالک کو دے دیے کہ جب خریدار سے ملیں گے تو میں لے لوں گا اگرخریدار مُفلس(بالکل فقیر) ہو گیا کہ اُس سے (وہ رقم)ملنے کی اُمید نہیں ہے تو جو کچھ "بروکر" نے مال کے مالک کو دیا ہے، وہ واپس لے سکتا ہے۔
{42}(۱) "وکیل" (client worker) نے نقد(cash) پر خریداری کی تو اب اُس کو یہ اختیار (option) ہے کہ جب تک " مُؤَکِّل"(client) سے پیسے نہ لے لے، اُسے وہ چیز کو نہ دے،چاہے" وکیل" نے پیسے اپنے پاس سے دیے ہوں ، یا کسی اور سے لے کر دیےہو ں۔ (۲) اگر خریداری اُدھار ہے اور رقم دینے کی کوئی مُدَّت (duration) طے ہے تو اب "وکیل" اُس وقت کے پورا ہونے سے پہلے" مُؤَکِّل" (client) سے رقم کا مطالبہ(demand) نہیں کر سکتا۔
{43} چیزخریدنے کے" وکیل" کو " مُؤَکِّل" (client) نے پیسے دے دیے تھے اور " وکیل" نے وہ چیز خریدلی مگرچیز بیچنے والےکو پیسےنہیں دیے ۔اب وہ چیز "مُؤَکِّل" (client) کو دے دی پھر "وکیل" نے "مُؤَکِّل" کے دیے ہوئے پیسے خود خرچ کر ڈالے ، بعد میں اپنی طرف سے پیسے "بائع "(چیز بیچنے والے)کو دے دیے تب بھی یہ خریداری (buying)، "مُؤَکِّل" (client) ہی کی طرف سے ہوئی یعنی یہ چیز "مُؤَکِّل" ہی کی ہو گی۔
{44} " مُؤَکِّل" (client) کہتا ہے کہ :" میں نے تمہیں پانچ سو(500)روپے میں خریدنے کا کہا تھا" اور "وکیل" (client worker)کہتا ہے کہ :" تم نے ہزار روپے میں خریدنے کو کہا تھا" یہاں مُؤَکِّل (client) کی بات مانی جائے گی۔
{45} (۱) وکیل (client worker)سے کہا :"جاؤ! بازار سے فلاں چیز ،فلاں شخص کی معرفت( مثلاًاُس کے ذریعے) خرید لاؤ"۔" وکیل" نےبغیر معرفت خریدلی تو بھی یہ خریداری درست ہے یعنی اگر وہ چیز ضائع (waste) ہو گئی تو "وکیل "ضامن(guarantor) نہیں ۔
(۲) اگر یہ کہا تھا کہ بغیر اُس کی معرفت کے مَت خریدنا اور"وکیل" نے بغیر معرفت خریدلی تو اس طرح خریدنا، جائز نہیں ہے یعنی اب وہ چیز ہلاک (waste)ہو جائے تو نقصان ، "وکیل"کا ہوگا، " مُؤَکِّل" کا نقصان سے کوئی تعلق نہیں ہوگا ۔ (بہار شریعت ح۱۲،ص۹۸۶ تا ۹۹۴ ،مسئلہ،۲۱،۲۶،۲۸،۳۹،۴۲،۴۹،مُلخصاً)
دو(2) آدمیوں کو ایک کام کا "وکیل" بنانا:
{46} (۱)ایک شخص نے دو (2)آدمیوں کو" وکیل"(client worker) بنایا تو ان دو(2)میں سے کوئی ایک اکیلے (alone)، وہ کام نہیں کر سکتا۔اگر کسی ایک نے وہ کام کیا تو" مُؤَکِّل"(client) پر وہ چیز لازم نہیں ہو گی (مثلاً دو (2) آدمیوں کو مل کر خریداری کا کہا اور صرف ایک نے کر دی تو اب یہ چیز لینا " مُؤَکِّل"پر لازم نہیں) ۔
(۲)اُن دو "وکیلوں " میں سے ایک پاگل ہوگیا، یا مر گیا تب بھی دوسرا(second) اکیلے اُس کام کو نہیں کرسکتا۔
نوٹ:یہ حکم اُس صورت(case) میں ہے کہ جب اُس کام میں دونوں کی رائے اور مشورے کی ضرورت ہو ، مثلاً "مُؤَکِّل "کوئی چیز خریدنا چا ہتاہے اوراُس کی رقم بھی بتا دی ہو۔ اس میں یہ بھی ضروری ہے کہ دونوں کو ایک ساتھ "وکیل" (client worker)بنایا ہویعنی یہ کہا کہ:" میں نے دونوں کو وکیل بنایا "،یا" زید اورعمرو کو وکیل کیا" اگر دونوں کو ایک ساتھ "وکیل "نہ بنایا بلکہ آگے پیچھے وکیل بنایاہو تو ہر ایک دوسرے کے مشورے کے بغیر وہ کام کر سکتا ہے۔
{47}(۱) دو (2)آدمیوں کو" وکیل"(client worker) بنایا کہ وہ اس مرد کا نکاح، کسی عورت سے کر دیں، یا عورت نے دو (2)آدمیوں کو " وکیل"(client worker) بنایا کہ وہ کسی مرد سے اس کا نکاح کر دیں تو اب کوئی ایک شخص نکاح نہیں کروا سکتا چاہے"مُؤَکِّل " (وکیل بنانے والے،client) نے "مہر " بھی بتا دیا ہو ("مہر " کا مطلب وہ رقم یا مال کہ جو "نکاح" کی وجہ سے مرد پر لازم ہوتا ہے) ۔ (۲) "خلع" (یعنی عورت کا مال یا پیسے دے کر، شوہر سے "طلاق" لینے) کے لیے دو آدمیوں کو" وکیل"(client worker) بنایا تو ان میں سے ایک شخص ،)اکیلے( "خلع "نہیں کروا سکتا ، چاہے عورت نے یہ بھی بتادیا ہو کہ اس چیز یا اتنے پیسوں کے بدلے(exchange)میں "خلع " کروادیں۔
{48} "امانت" یا "عاریت" یعنی عارضی استعمال(temporary use) میں لی ہوئی چیزیا "غصب" کی ہوئی (مثلاً چھینی ہوئی ) چیزکو واپس لینے کے لیے دو آدمیوں کو "وکیل"(client worker) کیا تو وہ چیز ایک شخص واپس نہیں لے سکتا، جب تک اس کا ساتھی بھی ساتھ نہ ہواگرایک نے وہ چیز واپس لی اور ضائع(waste) ہوگئی تو اُسے پوری چیز کا "تاوان" دینا ہو گا (یعنی ویسی ہی چیز دینی ہوگی جبکہ بازار میں ملتی ہو یا اس کی اصل قیمت(actual price) دینی ہوگی)۔
{49} ایک شخص نے کسی سے کہا کہ :"میری یہ چیز بیچ دو "پھراُسی آدمی نے کسی دوسرے شخص کو بھی یہی کہا کہ :"اس چیز کو بیچ دو"۔اس کی تین(3) صورتیں ہیں :
(۱) اگر اُن دونوں نے الگ الگ دو آدمیوں کو وہی چیز بیچ دی ، اب معلوم ہے کہ پہلے کس نے خریدی تو جس نے پہلے خریدی تھی ، وہ چیز اُسی کی ہے۔
(۲) اگر معلوم نہ ہو کہ پہلے کس نےخریدی تھی تو اب وہ چیزدونوں کی آدھی آدھی ہوگی لیکن ہر ایک کو اختیار (option)ہے کہ چاہے تو آدھے پیسے دے کر، اُس چیز کے آدھے حصّے (half part)کے مالک اور شریک (partner) ہو جائیں ۔
(۳) اگر دونوں(وکیلوں) نے ایک ہی شخص کو بیچی مگردوسرے وکیل نے زیادہ قیمت میں بیچی تو دوسرا سودا جائز (درست)ہے۔ (بہار شریعت ح۱۲،ص۹۹۵ ،مسئلہ۶۳،۶۶،۶۷،۷۳،مُلخصاً)
وکیل(client worker) پر کون سے کام کرنا لازم ہیں؟ اور کون سے کام کرنا لازم نہیں :
{50}(۱) ایک شخص کو "وکیل"(client worker) بنایا ہے کہ وہ اپنے مال سے یا " مُؤَکِّل" (client) کے مال سے قرض ادا کر دے تو "وکیل"کو قرض دینےپر مجبور(force) نہیں کیا جا سکتا ۔
(۲) اگر خود "وکیل" پر "مُؤَکِّل " (client) کا قرض تھا اور " مُؤَکِّل " پر کسی تیسرے(3rd person) کا قرض تھا۔اب " مُؤَکِّل " نے "وکیل" کو قرض ادا (pay) کرنےکو کہا تو اس صورت(case) میں "وکیل"کو قرض دینےپر مجبور(force) کیا جا سکتا ۔
{51}"وکیل "(client worker)کو کام کرنے پر مجبور(force) نہیں کیا جا سکتا، لیکن()کچھ کاموں پر" وکیل"(client worker) کو مجبور (force)کیا جائے گا یعنی وہ اس کام کو کرنےسے منع نہیں کر سکتا، مثلاًایک چیز مُتَعَیَّن شخص (مثلاً ہمارے محلّے کے خالد بھائی، کپڑے والے)کودینے کے لیے "وکیل "کیا تھا مگر وکیل کرنے والا،" مُؤَکِّل" کہیں چلا گیا تو" وکیل" پر لازم ہے کہ وہ چیز اُس آدمی کو دے دے۔ (بہار شریعت ح۱۲،ص۹۹۷،۹۹۸ ،مسئلہ۷۴،۷۵،مُلخصاً)
وکیل(client worker) دوسرے کو وکیل بنا سکتا ہے یا نہیں:
{52}"مُؤَکِّل " (client) کی اجازت کے بغیر، " وکیل" (client worker) کسی تیسرے شخص کو( وہی کام کرنے کے لیے) اپنا "وکیل" نہیں بنا سکتا ،مثلاً(پہلے شخص) زید ("مُؤَکِّل ")نے (دوسرے شخص)عمرو ("وکیل")کو ایک چیز خریدنے کا کہا تو عمرو ("وکیل") نے(تیسرے شخض) بکر سے کہہ دیاکہ تُم خرید کر لا دو(یعنی "وکیل" نے "مُؤَکِّل " کی اجازت کے بغیر، کسی تیسرے کو اپنا"وکیل" بنالیا تو) یہ نہیں ہو سکتا ۔ عمرو(تیسرا شخص) جو چیز بھی خریدے گا، وہ ( چیز) لینا ، زید (یعنی "مُؤَکِّل ") پرلازم نہیں ہے۔
{53}(۱)" مُؤَکِّل " (client) نے "وکیل" (client worker)کو اس بات کی اجازت دے دی کہ وہ خود (دیا ہوا کام )کر لے یا دوسرے سے کراوا لے تو اب " وکیل"(client worker) اسی کام کو کرنے کے لیے کسی تیسرے (3rd person)کو اپنا "وکیل" بنا سکتاہے۔
صورت(case) میں بھی "وکیل" کسی تیسرے کو اپنا "وکیل" بنا سکتا ہے۔ (بہار شریعت ح۱۲،ص۹۹۸ ،مسئلہ۷۶،۷۷،مُلخصاً)
(۳) اگر وکیل نے خود کسی دوسرے کو (اسی کام کا)وکیل بنایا، اور اُس (دوسرے وکیل) نے وہ کام کر لیا پھر" مُؤَکِّل " (client) نے اُسے جائز(ok) کر دیا تو اب یہ کام درست ہو گیا ۔(ص۹۸۰ ،مسئلہ۳۰،مُلخصاً)
وکالت (attorneyship) ختم کرنا:
{54}"وکالت" (attorneyship) لازم نہیں یعنی مُؤَکِّل (وکیل بنانے والے،client) اور وکیل ،ہر ایک بغیر دوسرے کی موجودگی کے معزول("وکالت ختم") کر سکتے ہیں (ایسا ہو سکتا ہے کہ "وکیل" خود ہی اس ذمہ داری کو ختم کر دے یا" مُؤَکِّل " (client)، "وکیل"(client worker) کی ذمہ داری کو ختم کر دے ) " مُؤَکِّل " نے "وکیل " کی ذمہ داری ختم کردی تو جب تک "وکیل "کو خبر(اطلاع) نہ ہوگی ، وہ معزول نہیں یعنی اس وقت تک جو کام وکالت(attorneyship) کے کرے گا ،وہ صحیح ہونگے یعنی مُؤَکِّل" (client) یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں نے تم کو پہلے ہی معزول کر دیا تھا (وکالت ختم کر دی تھی)تو تمہارا یہ کام کرنا درست نہیں ہوا۔ (بہار شریعت ح۱۲،ص۹۸۱ ،مسئلہ۳۲،مُلخصاً)
{55}(۱) "وکالت" (attorneyship) میں " شرط "(precondition)رکھی جاسکتی ہے، جیسے یہ کام کرو گے تو تم میرے وکیل(client worker) ہو (مثلاً کل صبح میری دکان آجاؤ گے تو میرا یہ سامان بیچ دینا)مگر "وکالت" ختم کرنے کے لیے " شرط " نہیں رکھی جاسکتی (کیونکہ "وکالت" جب چاہیں ، ختم کر سکتے ہیں )۔
(۲) " مُؤَکِّل"(client) نے "وکیل" کے لیے کوئی " شرط "(precondition)رکھی تھی مگر پھر بھی "مُؤَکِّل" کو اختیار(option) ہے کہ شرط پائی جانے سے پہلے "وکیل" کی "وکالت" ختم کر دے۔ (بہار شریعت ح۱۲،ص۱۰۱۰،۱۰۱۲ ،مسئلہ۱،۱۰،مُلخصاً)
{56} دونوں(یعنی "مُؤَکِّل" اور "وکیل") میں سے کوئی ایک بھی مر گیا ،یا کسی ایک کو جنون مُطْبِقہو گیا (یعنی ایسا پاگل پن ہوا کہ جو کم از کم ایک مہینے تک مُسلسل(لگاتار) رہا) تو"وکالت" (attorneyship) باطل (یعنی ختم )ہو گئی پھر اگر پاگل پن ٹھیک بھی ہو جائے تب بھی " وکالت "واپس نہیں ہو گی۔ (بہار شریعت ح۱۲،ص۱۰۱۲ ،مسئلہ۱۲،مُلخصاً)
حوالہ:
{1}"حوالہ "یہ ہے کہ جس شخص پر دَین(یعنی قرض)ہو، وہ اسے ادا(pay) کرنے کی ذمہ داری (responsibility)کسی دوسرےکودےدے "مَدیُون"(جسےقرض دیا گیا،اُس) کو" مُحِیْل"( loan borrower) کہتے ہیں، "دائِن " (قرض دینے والے)کو" مُحْتَال"(loan lender) ،" مُحْتَال لَہ "،" مُحال "،"مُحال لَہ" یا" حویل" کہتے ہیں ۔ جس پر "حوالہ "کیا گیا اُس کو" مُحْتَال عَلَیْہ "اور "مُحال علیہ "کہتے ہیں اور مال کو "مُحال بہ "کہتے ہیں۔
{2} حوالہ جائز ہے، اس کی بہت سی صورتیں ہیں اور اس کی ضرورت بھی پڑتی ہے۔
کبھی ایسا ہوتا ہے کہ "مَدیُون " (جسے قرض دیا گیا ہو)، دَین (یعنی قرض )ادا کرنے کی طاقت نہیں رکھتا اور دائِن (قرض دینے والا)مطالبہ(demand) کر رہاہوتا ہے ،اس صورت میں کسی تیسرے (3rd person)پر "حوالہ" کر دیا جاتا ہے ()کبھی اطمینان(satisfaction) کے لیے "حوالہ" کیا جاتا ہے۔
حدیث ِ پاک میں ہے :مالدارکا دَین (قرض) ادا کرنے میں دیر کرنا ظلم ہے اور جب مالدار پر "حوالہ" کر دیا جائے تو دائِن (قرض دینے والا) قبول(accept) کر لے۔(صحیح البخاری،کتاب الحوالات،الحدیث:۲۲۸۸،ج۲،ص۷۲)
{3} حوالہ کے رکن "ایجاب"(offer)ا ور" قبول"(accept) ہیں۔ مثلاً "مَدیُون " (جسے قرض دیا گیا) نے کہا: میرے اوپرجو قرض فلاں شخص کا ہے، میں نے اُس کا "حوالہ" کیا۔" مُحْتَال" (قرض دینے والا)اور" مُحْتَال عَلَیْہ" (جس پر حوالہ کیا گیا) نے کہا:" ہم نے قبول(accept) کیا" تو "حوالہ" ہوگیا۔
{4} حوالہ کی کچھ شرطیں(preconditions) ہیں:
(۱) "مُحِیْل" ( یعنی قرض لینے والے) کا "عاقل" اور" بالغ" ہونا۔ "مجنوں( یعنی پاگل)" یا "نا سمجھ" (in sensible) بچے نے "حوالہ" کیا تویہ "حوالہ"صحیح نہیں نابالغ عاقل (سمجھدار۔ sensible)نے جو "حوالہ" کیا یہ "ولی " (guardianمثلاً والد صاحب) کی اجازت سے صحیح ہوگا۔اگر "ولی" نے اجازت نہ دی تو یہ "حوالہ " نہ ہوا۔
" مُحِیْل" ( loan borrower) اگر مرضُ الموت (یعنی ایسی بیماری )میں ہے (کہ جس میں وفات ہونے کا مضبوط خیال (strong assumption) ہو ) ، تب بھی "حوالہ" صحیح ہوگا یعنی"حوالہ" کرنے کے لیے صحّت ہونا شرط نہیں ہے۔
مُحِیْل" (قرض لینے والے) کا راضی (agree)ہونا بھی شرط نہیں یعنی اگر "مَدیُون " (جسے قرض دیا گیا) نے خود حوالہ نہ کیا بلکہ" مُحْتَال عَلَیْہ" ( "حوالہ "قبول کرنے والے) نے قرض دینے والےسے یہ کہہ دیا کہ: فلاں شخص پر جو تمہارا قرض ہے اُس کو میں اپنے اوپر "حوالہ" کرتا ہوں (یعنی اپنے اوپر لیتا ہوں)،تم اس کو قبول (accept)کرلو پھر قرض دینے والے نے قبول بھی کر لیا تو بھی "حوالہ " صحیح ہو گیا ۔
(۲) " مُحْتَال " ( یعنی قرض دینے والے،loan lender)کا بھی "عاقل " اور "بالغ" ہونا۔
(۳) " مُحْتَال " کا "حوالے" پر راضی(agree) ہونا۔ اگر" مُحْتَال" یعنی دائِن (قرض دینے والے) کو "حوالہ "قبول(accept) کرنے پر مجبور (force)کیا گیا تو یہ "حوالہ" صحیح نہیں ہوا۔
(۴) " مُحْتَال " (قرض دینے والے) کا "حوالے" کو اُسی مجلس میں قبول(accept) بھی کرنا۔ہاں! اگر حوالے کی مجلس میں کسی نے " مُحْتَال " کی طرف سے "حوالہ "قبول(accept) کر لیا پھر جب " مُحْتَال "(loan lender)کو اس کی خبر پہنچی اور اُس نے منظور (ok)کر لیا تو یہ "حوالہ" بھی صحیح ہو گیا۔
(۵) "مُحْتَال عَلَیْہ" (جس پر حوالہ کیا گیا)کا عاقل اوربالغ ہونا۔ سمجھدار (sensible)بچے نے "حوالہ" قبول(accept) کر لیا تب بھی صحیح نہیں، چاہے اُسے تجارت(trade) کی اجازت ہو، چاہے اُس کا ولی (سرپرست۔guardian) قبول کر لے تب بھی" حوالہ" صحیح نہیں۔
(۶) "مُحْتَال عَلَیْہ" (جس پر حوالہ کیا گیا، اُس)کا اُسی مجلس (جگہ ) میں قبول (accept)کرنا ضروری نہیں بلکہ وہ اگر وہاں موجود نہیں تھا اور بعد میں جب اُسے خبر ملی اور اس نے قبول کر لیا تب بھی "حوالہ" صحیح ہو گیا۔
(۷) جس چیز کا "حوالہ" کیا گیا ہو وہ" دَینِ لازم" ہو یعنی جس" دَین" (قرض)کی "کفالت " (guarentee) نہیں ہو سکتی اُس کا "حوالہ" بھی نہیں ہو سکتا۔(بہار شریعت ح۱۲،ص۸۷۴،مسئلہ۱،۲،۳،مُلخصاً) "کفالت" کا مطلب ہے کہ ایک شخص پر مطالبہ(demand) تھا (مثلاً پیسے نکلتے تھے )تو دوسر ے شخص نے وہ مطالبہ(demand) اپنے ذمہ لے لیا(مثلاً یہ پیسے میں دونگا)۔(بہار شریعت ح ۱۲،ص۸۳۶، مُلخصاً)
{5} جب "حوالہ" صحیح ہو گیا، تو " مُحِیْل" (قرض لینے والا)"قرض "سے بَری (فارغ)ہو گیا ،یعنی اب دائن(قرض دینے والے) کو یہ حق (right)نہ رہا کہ وہ قرض لینے والے سے قرض کی واپسی کا مطالبہ (demand)کرسکے۔
ہاں!اگر دَین(قرض) ہلاک ہونے کی صورت پیدا ہو گئی تو مُحْتَال (قرض دینے والا) ، مُحِیْل (قرض لینے والے) سے مطالبہ کریگا اور اس سے قرض واپس لے گا ۔دَین ہلاک ہونے کی دو (2)صورتیں ہیں:
(۱) مُحْتَال عَلَیْہ(جس پر حوالہ کیا گیا، اُس)نے "حوالے" ہی سے انکار(denial) کر دیا اور گواہ (witness) نہ "مُحِیْل " ( loan borrower) کے پاس ہیں نہ" مُحْتَال" (قرض دینے والے) کے پاس پھر "مُحْتَال عَلَیْہ" (جس پر حوالہ کیا گیا) سے قسم کھانے کا کہا تو اُس نے قسم کھالی کہ: میں نے "حوالہ" قبول (accept)نہیں کیا تھا(تو اب قرض دینے والا، قرض لینے والے سے قرض واپس لے گا)۔
(۲) مُحْتَال عَلَیْہ(جس پر حوالہ کیا گیا) مُفلسی(فقیری)کی حالت میں مر گیا نہ اُس کے پاس سامان تھا اور نہ کسی اور پر اُس (مرنے والے) کا قرض تھاکہ جس سے مطالبہ(demand) کیا جا سکے(اور وہ رقم لے کر "حوالہ" پورا کیا جاسکے) نہ اُس نے کوئی "کفیل" (guarantor) بنایا تھا کہ جس سے رقم لی جا سکے(لہذا اب قرض دینے والا، قرض لینے والے سے قرض واپس لے گا)۔
{6} "مُحْتَال عَلَیْہ" (جس پر حوالہ کیا گیا)نے (قرض دینے کے بعد)"مُحِیْل " (قرض لینے والے) سے کہا کہ میں نے تمہارے حکم سے تمہارا قرض ادا(pay) کیا تھا لہٰذا اب تم مجھے اتنی ہی رقم دے دو۔ "مُحِیْل " ( loan borrower) نے جواب میں یہ کہا کہ: میں نے تم پر حوالہ اس لیے کیا تھا کہ میرا جو قرض تم پر تھا، وہ "حوالہ" ہوکر ختم ہو جائے۔ اس صورت (case)میں "مُحْتَال عَلَیْہ" (جس نے"حوالے" کی رقم دی) کی بات مانی جائے گی کیوں کہ "مُحِیْل " (قرض لینے والے)نے "حوالے "کا اقرار کر لیا ہے(یعنی یہ بات مان لی ہے کہ سامنے والے نے میرا قرض ادا کر دیا ہے)اور "حوالے" میں یہ ضروری نہیں ہوتا کہ "حوالے "کی رقم دینے والے پر، قرض لینے والے)کا پہلے سے قرض ہو۔
{7} "مُحِیْل" ( loan borrower) نے "مُحْتَال" (loan lender)سے یہ کہا کہ میں نے تمہارا فلاں پر "حوالہ" اس لیے کیا تھا کہ اُس چیز(یا اُس رقم) پر میرے لیے قبضہ کرو( یعنی میرے یہ پیسے یا میرا سامان اُس سے لے لو، جیسا کہ کاروبار میں اس طرح ہوتا رہتا ہے ) تویہ "حوالہ" اصل میں وکالت(attorneyship) ہے ۔
پر جو میرا قرض ہے، اُس کے پیسے مجھے مل جائیں۔ یہاں "مُحِیْل" (قرض لینے والے اور "حوالہ" کروانے والے) کی بات مانی جائے گی ۔ (بہار شریعت ح۱۲،ص۸۷۶،۸۷۷،مسئلہ،۷،۸،۱۰،۱۱،مُلخصاً)

’’کفالت (Guarantee) ‘‘

فرمانِ آخری نبی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:
کفیل(کسی دوسری کی ذمہ داری(responsibility) لینے والا، اس چیز کا) ضامن ہے(جس چیز کی اُس نے ضمانت (guarantee) لی ہے یعنی اُس چیز کی واپسی کے بارے میں اُس سے بھی مطالبہ(demand) کیا جاتا ہے)۔ (سنن ابن ماجہ،ج۲، ص۸۰۴، بالفاظ دیگر)
واقعہ(incident): میں کفیل(guarantor) ہوں
حضرتِ ابوحَسَّان زِیَادِی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کہتے ہیں: ایک دن میں مسجد میں تھاکہ بہت تیز بارش شروع ہوگئی۔ مجھے وہاں ایک آدمی نظر آیا جو بہت پریشان لگ رہا تھا۔جب میں نیچے دیکھتا (یعنی جب میں اُسے نہیں دیکھ رہا ہوتا)تو وہ میری طرف نظر کرتا پھرجب میں اسے دیکھتا تو وہ گردن نیچے کر لیتا(یعنی وہ کچھ کہنا چاہتا تھا مگر ہمت نہیں ہو رہی تھی)۔ ایسا کئی مرتبہ ہوا تو میں نے اسے اپنے پاس بلایا اور پوچھا:'' بھائی ! تم کون ہو ؟ '' اس نے کہا:'' میں ایک مجبور شخص ہوں، تیز بارش نے میرا گھر گرا دیا ہے اوراب اسے دوبارہ بنانے کے لیے میرے پاس کچھ نہیں ۔
میں اس آدمی کو لے کر غَسَّان بن عَبَّاد کے پاس پہنچااور انہیں سارا واقعہ سنایا۔ غَسَّان نے کہا: ''میرے پاس دس ہزار درہم ہیں، میں چاہتا ہوں کہ یہ رقم (amount) اسے دے دوں'' ۔بات سن کر وہ غریب خوشی سے بے ہوش ہوگیا پھر جب ہوش آیا توغَسَّان نے کہا: ''اس غریب کو میری طرف سے سواری (ride) بھی دے دو''۔ غریب نے کہا:'' اللہ کریم امیر کو اچھی جزا عطا فرمائے۔ ''پھر امیر غَسَّان نےکہا: '' میں ایک سال کے غلّے کا کفیل (guarantor)ہوں (یعنی اسے سال بھراناج دینا میری ذمہ داری ہے)اور میں اسے سرکاری ملازمت (government job) بھی دلواؤں گا''۔(عیون الحکا یات ح۲، ص۲۷۲،مُلخصاً)
"کفالت" (guarantee):
{1} شریعت میں "کفالت" کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص اپنے اوپر آنے والے مطالبے (demand ۔مثلاً قرض) کو دوسرے کے ساتھ ملا دے یعنی مطالبہ(demand) ایک شخص پر تھا تو دوسر ے نے بھی وہ مطالبہ(demand) اپنے اوپر لے لیا چاہے وہ مطالبہ نفس(یعنی کسی شخص کو لےکر آنے )کا ہو، یا دَین(قرض) کی واپسی کا مطالبہ ہو، یا عین(مُتَعَیَّن چیز جیسے یہ مکان ، یا یہ سامان) دینے کا مطالبہ ہو۔ مثلاً ایک شخص پر قرض ہے تو دوسرا شخص اس قرض کے مطالبے کو اس طرح اپنی ذمہ داری بنا لے کہ قرض دینے والا جس طرح ، پہلے شخص (کہ جسے قرض دیا گیا ہے) سے واپسی کا مطالبہ(demand) کر سکتا ہے، اسی طرح دوسرے شخص ("کفالت" کرنے والے)سے بھی مطالبہ(demand) کر سکتا ہے ۔
{2} جس کا مطالبہ (demand)ہے(مثلاً قرض دینے والا) اس کو "طالب" او ر "مَکْفُوْل لَہٗ " کہتے ہیں اور جس پر مطالبہ (demand) ہے(مثلاً قرض لینے والا) وہ" اَصِیْل اور" مَکْفُوْل عَنْہُ " ہے اور جس نے ذمہ داری (responsibility) لی ہے (مثلاً قرض واپس کروانے کی) وہ "کَفِیْل" (guarantor)ہے اور جس چیز کی" کفالت" (guarantee) کی(مثلاً قرض کی تو) وہ" مَکْفُوْل بِہٖ " ہے۔
{3} "کفالت" (guarantee) کا "رکن "(یعنی ایسی لازم چیزیں کہ جن کے بغیر"کفالت" ہوتی ہی نہیں ) ، "ایجاب" (offer) اور" قبول"(accept) کرنا ہے یعنی ایک شخص " کفالت" کے الفاظ کہہ کر" ایجاب"(offer) کرے گا اوردوسرا "قبول"(accept) کرے گا۔
صرف" کفیل" (guarantor)کے کہہ دینے(مثلاً" میں کفالت کروں گا" کہنے) سے "کفالت" نہیں ہوگی جب تک "مَکْفُوْل لَہٗ " (جس کامطالبہ (demand)ہے، مثلاً قرض دینے والا) قبول(accept) نہ کرلے
اس صورت (case) میں اگر کسی اجنبی(یعنی ایسے) شخص نے قبول(accept) کر لیا(کہ جس نے نہ تو قرضہ (loan) وغیرہ دیا، نہ قرضہ وغیرہ لیا اور نہ ہی قرضہ وغیرہ واپس کرنے کی ذمہ داری (responsibility)لی ) تو بھی "کفالت" صحیح ہوگی۔
یہ بھی ہو سکتا ہے کہ "مَکْفُوْل لَہٗ "(جس کامطالبہ (demand)ہے، مثلاً قرض دینے والا) یا "اجنبی" (کہ جس نے نہ تو قرضہ (loan) وغیرہ دیا، نہ قرضہ وغیرہ لیا اور نہ ہی قرضہ وغیرہ واپس کرنے کی ذمہ داری (responsibility)لی ) نے کسی سے کہا کہ" تم فلاں کی کفالت (guarantee) لے لو" تو اُس آدمی نے "کفالت" کر لی ، یہ "کفالت" صحیح ہے اور اس صورت(case) میں قبول (accept)کرنے کی بھی ضرورت نہیں۔
اگر" کفیل" (guarantor)نے "کفالت "کی (مثلا کہاً" میں کفالت کرتا ہوں" )مگر "مَکْفُوْل لَہٗ "(جس کامطالبہ (demand)ہے، مثلاً قرض دینے والا) وہاں موجود نہیں تھا کہ" قبول"(accept) کر تا یا "منع" کر دیتا تو یہ" کفالت " ابھی ختم نہیں ہوئی بلکہ یہ "مَکْفُوْل لَہٗ " کی اجازت پر موقوف ہے یعنی جب مطالبہ کرنے (مثلاً قرض دینے)والے شخص کو یہ خبر پہنچے گی تو وہ اس (کفالت) کو" قبول"(accept) کر سکتا ہے لیکن جب تک قبول نہیں کرے گا، "کفالت" نہیں ہوگی۔
"کفالت " (guarantee) کے الفاظ:
{4} کفالت (guarantee) کے الفاظ "مخصوص "( specific)ہیں یعنی کفالت ایسے الفاظ سے ہوتی ہے جن سے کفیل (guarantor)کا ذمہ دار (responsible) ہونا سمجھا جائے مثلاً کہا کہ : " میں کفالت کرتا ہوں"، یا کہا کہ:" میں ضمانت (guarantee) دیتا ہوں" ، یا کہا کہ:" یہ مجھ پر ہے"، یا کہا کہ:" میری طرف ہے"، یا کہا کہ:" میں ذمہ دار ہوں"، یا کہا کہ:" اسے میں تمہارے پاس لاؤں گا"۔
{5} "تمہارا جو کچھ فلاں پر ہے میں دوں گا" یہ کہنا کفالت (guarantee) نہیں ہےبلکہ یہ تو وعدہ ہے اگر یہ کہا:" تمہارا جو قرض فلاں شخص پر ہے ، وہ میں دوں گا "، یا"میں ادا(pay) کروں گا " تب بھی یہ کفالت نہیں، جب تک یہ نہ کہے کہ:" میں ضامن (guarantor)ہوں"، یا "وہ (قرض)مجھ پر ہے"۔ (بہار شریعت ح ۱۲،ص۸۳۶،مسئلہ۱۱،۱۲ مُلخصاً)
{6} مالِ مجہول(یعنی جو معلوم نہ ہو کہ کتنا ہے؟) کی کفالت کرنا بھی صحیح ہے (مثلاً کہنا کہ:"اس شخص کی طرف آپ کا جتنا مال ہے، میں اُس کی"ضمانت" (guarantee) دیتا ہوں) ۔(بہار شریعت ح ۱۲،ص۸۴۸،مسئلہ۳۷،مُلخصاً)
{7} ایک شخص نے دوسرے سے کہا کہ: "فلاں(تیسرا) شخص اگر تمہاری کوئی چیز غصب کر (مثلاً چھین )لے گا تووہ مجھ پر ہے" یہ کہنے والا شخص،" کفیل" بن گیا۔(بہار شریعت ح ۱۲،ص۸۵۰،مسئلہ۴۴،مُلخصاً)
{8} کسی شخص نے کہا کہ : "جو کچھ تمہارا فلاں پر ہے میں اُس کاضامن(guarantor)ہوں"۔ یہ کفالت صحیح ہے(کہنے والا "کفیل" بن گیا)۔(بہار شریعت ح ۱۲،ص۸۵۴،مسئلہ۵۹،مُلخصاً)
"کفالت " (guarantee) کی شرطیں(preconditions) :
{9} "کفالت " (guarantee) کی کچھ شرطیں(preconditions) ہیں :
(۱) "کفیل" ( ذمہ داری (responsibility) لینے والے )کا عاقل ہونا (پاگل نہ ہونا) (۲) بالغ ہونا(نابالغ نہ ہونا) (۳) آزاد ہونا (آج کل سب آزاد ہیں) ، لازم ہے۔
(۴) اسی طرح "کفیل " کامریض نہ ہونا بھی ضروری ہے یعنی جو شخص مرض الموت (ایسی بیماری)میں ہو(کہ جس کے بارے میں مضبوط خیال(strong assumption) ہو کہ اس بیماری میں انتقال ہو جائے گا) تو وہ اپنے تمام مال میں سےثُلُث مال(1/3,33%) سے زیادہ کی "کفالت" نہیں کر سکتا(مثلاً ایسے کسی مریض کے پاس صرف 1کروڑ روپے ہیں (اور کچھ بھی نہیں ) تو وہ 33لاکھ،33ہزار، 3سو تینتیس(33) روپے سے زیادہ "کفالت" نہیں کر سکتا)۔
اگرایسے مریض پر اتنا قرض ہو کہ جو اُس کے تمام مال کو گھیرے ہوئے ہے(مثلاً کُل مال 1کروڑ روپے ہے اور قرض بھی 1کروڑ روپے ہے) تو اب ایسا شخص بالکل بھی کفالت نہیں کر سکتا۔
(۵) " مَکْفُوْل بِہٖ "( کہ جس چیز کی" کفالت" (guarantee) کی ہوجیسے قرض ، وہ) "مقدور ُالتَّسلیم" ہو یعنی جس چیز کی کفالت کی اُس کے ادا (پورا)کرنے پر قادر(طاقت رکھتا) ہو۔ "حدود" او ر"قِصاص "(شرعی سزاؤں) میں کفالت نہیں ہو سکتی۔
(۶) دَین (قرض وغیرہ)کی کفالت (guarantee) کی تو وہ دَین صحیح ہو لہذا بیوی کے نفقے (کھانے ،پینے وغیرہ کے اخراجات۔expenses) کی "کفالت" نہیں ہو سکتی جب تک قاضی نے ( جوشرعاً judge ہو) اس کا حکم نہ دیا ہو۔
(۷) وہ دَین (قرض وغیرہ)قائم ہو لہٰذا جو مفلسی (بالکل فقیری کی حالت میں)انتقال کر گیا اور اپنے پیچھے
مال ہی نہیں چھوڑا تو اس دَین کی "کفالت" نہیں ہو سکتی کیونکہ ایسے دَین کا دنیا میں مطالبہ (demand)ہی نہیں ہوسکتا۔
"کفالت " (guarantee) کا حکم اور کچھ دینی مسئلے:
{10} "کفالت" کا حکم یہ ہے کہ جس چیز کی کفالت کی گئی (یعنی جس چیزکی ضمانت (guarantee) لی ہے)، اُس کا مطالبہ(demand) ، "کفیل" ( ذمہ داری (responsibility) لینے والے )پر لازم ہو گیا یعنی طالب (مُطالبہ کرنے والا، مثلاً قرض دینے والا) جب چاہے "کفیل "سے مطالبہ(demand) کر سکتا ہے، اب "کفیل" اسے منع نہیں کرسکتا ۔
"کفالت" کے بعد ایسا نہیں ہوتا کہ "طالب"(مُطالبہ کرنے والا، مثلاً قرض دینے والا)، "کفیل" سے اُس وقت مطالبہ(demand) کر سکتا ہے کہ جب "اَصِیل "( مثلاً قرض لینے والے)سے مطالبہ(demand) نہ کر سکے بلکہ "اَصِیل " (جس پرمطالبہ(demand) ہے،اُس) سے رابطہ ہونے کے باوجود"کفیل" سے مطالبہ (demand)کر سکتا ہے اسی طرح "کفیل" سے مطالبے کے بعد بھی "اَصِیل " سے مطالبہ(demand) کر سکتا ہےاگر "طالب" نے "اَصِیل " سے اپنا حق(مثلاً قرضہ ) لے لیا تو" کفالت" ختم اور "کفیل" (guarantor) بری (آزاد)ہو گیا کہ اب اس سے مطالبہ (demand)نہیں ہو سکتا۔
{11}اگر اس طرح "کفالت"(guarentee)کی کہ : آج سے ایک مہینے تک میں اس چیز کا "کفیل" (guarantor) ہوں تو ایک مہینے کے بعد "کفالت" ختم ہو جائے گی اور اب "کفیل " سےمطالبہ(demand) نہیں ہو سکتا۔
{11}اگر اس طرح "کفالت"(guarentee)کی کہ : آج سے ایک مہینے تک میں اس چیز کا "کفیل" (guarantor) ہوں تو ایک مہینے کے بعد "کفالت" ختم ہو جائے گی اور اب "کفیل " سےمطالبہ(demand) نہیں ہو سکتا۔
{13} مال کی "کفالت" کی دو(2) صورتیں ہیں:
(۱) ایک یہ کہ "کفیل"(guarantor) مال دے گا۔
(۲)دوسرایہ کہ وہ مال لے کر دے گا یعنی "کفیل" خود مال نہیں دے گا بلکہ "قرض لینے والے " سے قرض واپس لے کر، "قرض دینے والے " کو دے گا۔ اصل میں یہ مال کی ضمانت (guarantee) نہیں ہے بلکہ یہ صورت(case ) تقاضا (مطالبہ۔demand)کرنے کی ذمہ داری (responsibility) لینا ہے، مثلاً ایک شخص نے دوسرے سے پیسے لیے تو تیسرے آدمی نے قرض دینے والےسے کہا کہ:" میں ضامن (guarantor) ہوتا ہوں کہ اُس (قرض لینے والے)سے پیسے لےکر تمہیں دوں گا"۔
{14} مال کی "کفالت" " مَکْفُوْل عَنْہُ "کے کہنے سے ہوئی یا نہیں؟ اس کی بھی دو(2) صورتیں ہیں:
(۱) اگر " مَکْفُوْل عَنْہُ "( اَصِیْل/جس پر مطالبہ (demand) ہےمثلاً قرض لینے والے)کے کہنے سے "کفالت "ہوئی تو" کفیل" جو کچھ دَین(قرض) ادا (pay)کرےگا، وہ " مَکْفُوْل عَنْہُ " سے لے گا ۔
(۲)اگر" مَکْفُوْل عَنْہُ "کے کہے بغیر ، کسی نے خود"کفالت " کی تو یہ (تیسرا) شخص احسان کرتے ہوئے، اپنی طرف سے خود "ضامن"(guarantor) بنا ہے، قرض میں سے جو کچھ بھی ادا(pay) کرےگا، " مَکْفُوْل عَنْہُ "(قرض لینے والے)سے نہیں لے سکتا۔(بہار شریعت ح ۱۲،ص۸۵۴،مسئلہ۶۰،مُلخصاً)
{15} "بیع"(تجارت/سودے) میں "ثمن "(جس چیز سے خریداری کی ہو)کی "کفالت" کرنا،صحیح ہے (یعنی تیسرا شخص خریدار کے پیسوں کا "کفیل" بن سکتا ہے ) جبکہ وہ" بیع صحیح" ہو("بیع فاسد" نہ ہو)۔ (بہار شریعت ح ۱۲،ص۸۵۱،مسئلہ۵۰،مُلخصاً)
{16}"مَبِیْع" (یعنی خریدی ہوئی چیز) کی "کفالت" (guarantee) صحیح نہیں یعنی ایک شخص نے کوئی چیز خریدی تو" کفیل" (guarantor)نے خریدار (buyer)سے کہا کہ :"یہ چیز اگر ہلاک ( برباد /ختم)ہو گئی تب بھی میرے اوپرہے (یعنی میں دونگا)،یہ "کفالت" صحیح نہیں کہ "مَبِیْع" (sold item) ہلاک ہونے کی صورت (case)میں بیع(تجارت) ہی فسخ(یعنی ختم) ہو گئی، تو اب بائع(بیچنے والے) سے کسی چیز کا مطالبہ (demand) ہی نہ رہا پھر" کفالت" کس چیز کی ہوگی؟(بہار شریعت ح ۱۲،ص۸۴۲،مسئلہ۳۴،۳۵،۴۱،۴۸، ۱۵،۱۶،۱۸مُلخصاً)
{17}" کفیل" (guarantor) جب تک "طالب"(مثلاً قرض دینے والے) کو (قرض)ادا(pay) نہ کر دے " مَکْفُوْل عَنْہُ "( اَصِیْل/جس پر مطالبہ (demand) ہےمثلاً قرض لینے والے) سے دَین(قرض) کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔(بہار شریعت ح ۱۲،ص۸۵۹،مسئلہ۸۰،مُلخصاً)
{18} " کفیل" کی "کفالت" ختم کرنے کے لیے کوئی شرط(precondition) لگائی تو اس کی دو(2)صورتیں ہیں: (۱) اگر وہ شرط ایسی ہے جس میں "طالب" (مُطالبہ کرنے والے/ قرض دینے والے) کا فائدہ ہے ، مثلاً "طالب"نے " کفیل" (guarantor) سے کہاکہ:اگر تم (قرض میں سے)اتنے پیسے دے دو تو تمہاری "کفالت" (guarantee) پوری جائے گی تو ایسی شرط (precondition)لگانا، صحیح ہے۔
(۲) اگر وہ شرط ایسی نہیں ہے کہ جس میں "طالب " کا فائدہ ہو، مثلاً جب کل کا دن آئے گا تمہاری "کفالت" پوری جائے گی تو ایسی شرط لگانا باطل (بے کار) ہے،"کفیل" کی "کفالت" ختم نہیں ہوگی۔ (بہار شریعت ح ۱۲،ص۸۶۴، مسئلہ۱۰۲، مُلخصاً)

’’رہن(mortgage) ‘‘


فرمانِ آخری نبی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:
رہن (mortgage)بند نہیں کیا جائے گا(سنن ابن ماجۃ،کتاب الرھون،الحدیث:۲۴۴۱، ج۳، ص۱۶۱)یعنی مُرْتَہِن (جس کے پاس کسی چیز کو رہن رکھوایا ہو)اُس کو اپنا کر لے(کہ وہ چیز لے لے) یہ نہیں ہو سکتا۔(بہار شریعت ح،ص۵۱۴ ،مسئلہ مُلخصاً)
واقعہ(incident): زرہ شریف(Blessed Armor)
حدیث شریف کی سب سے اہم کتاب’’بخاری شریف‘‘ میں ہے، حضرت عائشہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا فرماتی ہیں کہ جب وفات ہوئی اس وقت حضور (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ)کی زرہ (Armor)ایک یہودی (jews) کے پاس تیس(30) صاع (تقریباً 115 کلو اور200 گرام)جَو(barley) کے بدلے میں گروی (mortgage) تھی۔ (''صحیح البخاري''،کتاب الجھاد والسیر،الحدیث:۲۹۱۶،ج۲،ص۲۸۶)
رہن (mortgage) کے دینی مسائل:
{1} "رہن" (mortgage) کا مطلب ، اپنا حق (right) حاصل کرنے کے لیے، دوسرے کا مال روکنا تاکہ اس (مال)کے ذریعہ سے اپنا پورا حق (right) یا اس (حق) کا کچھ حصّہ لینا ممکن ہو مثلاً " دائِن" (قرض دینے والے) نے" مَدیُون " (قرض لینے والے) کی کوئی چیز لے کر اپنے پاس اس لئے رکھ دی تاکہ قرض واپس لینا آسان ہوجائے۔ "رہن"(mortgage)کواُردو زبان میں"گروی رکھنا"بولتےہیں کبھی اُس چیزکوبھی رہن (mortgage) بول دیتے ہیں کہ جو(چیز)"رہن" میں ر کھی گئی ہوگروی رکھی ہوئی چیز کا دوسرا نام "مَرْہُوْن" (رہن میں رکھی ہوئی چیز)ہے جو اپنی چیز گروی رکھوائے، اسے "راہن" (mortgagor) اور جس کے پاس کوئی چیز گروی رکھوائی گئی اُس کو "مُرْتَہِن "کہتے ہیں۔
{2} " رہن" (contract of mortgage) کے لیے بھی "ایجاب"(offer) اور "قبول"(accept) ہونا ضروری ہے، مثلاً "مَدیُون " ( قرض لینے والے)نے کہا کہ:" تمہارا جو مال مجھ پر ہے، اُس کے بدلے میں یہ چیز تمہارے پاس" رہن" (mortgage) رکھی(اور دوسرے نے قبول(accept) کر لیا)، یا پہلے نے کہا: اس چیز کو" رہن" (mortgage) رکھ لو " تودوسرے نے کہا:"میں نے قبول (accept) کیا"()" ایجاب" (offer)اور "قبول"(accept) کے الفاظ بولے بغیربھی بطورِ "تَعَاطِی" رہن ہو سکتا ہے جس طرح بیع (تجارت)" تَعَاطِی"سے ہو جاتی ہے(مثلاً ایک شخص نے کچھ پیسے قرض لیے پھر اپنا موبائل قرض دینے والے کے ہاتھ میں رکھ دیا اور اُس نے اپنے پاس رکھ لیا تو اس طرح "رہن" میں چیز لینا بھی صحیح ہے)۔
امام محمد رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ: بغیر قبضے کے " رہن "جائز ہی نہیں (''العنایۃ''علی''فتح القدیر''،کتاب الرھن، ج۹،ص۶۶) کچھ عُلَمائے کِرام فرماتے ہیں کہ: قبضہ شرط جواز ہے نہ کہ شرط لزوم (یعنی "رہن" قبضے کے بغیر ہوتا ہی نہیں تو یہ کہنا درست ہی نہیں کہ "رہن" ،"ایجاب" اور"قبول" سے ہو جاتا ہے لیکن "لازم" قبضے سے ہوتا ہے۔ نتیجہ: قبضہ ہوگا تو ہی "رہن" ہوگا)۔ (''الدرالمختار''،کتاب الرھن،ج۱۰،ص۸۲)(بہار شریعت ح،ص۵۱۴ ،مسئلہ مُلخصاً)
{3} رہن جس حق(مثلاً "قرض" یا "ثمن " کہ جس چیز سےخریداری ہو) کے مقابلے(بدلے) میں رکھا جاتا ہے وہ دَین ( یعنی "رہن رکھوانے والے " پر لازم ہو گیا) ہو،"عین" کے مقابلے (یعنی "ثمن"ا ور"قرض "کے علاوہ کسی چیز کے بدلے میں)"رہن "رکھنا صحیح نہیں ۔(بہارِ شریعت ،ح۱۷،ص۶۹۶ ،مسئلہ۱)
{4} رہن (mortgage) کی شرطیں(preconditions) :
(۱) "راہن"(اپنی چیز رہن میں دینے والا، mortgagor) ا ور" مُرْتَہِن " (جس کے پاس کسی چیز کو" رہن" رکھوایا ہو، دونوں) عاقل ہوں یعنی نا سمجھ بچہ اور پاگل کا " رہن" (mortgage) رکھنا صحیح نہیں۔ بالغ (grownup)ہونا شرط (precondition) نہیں یعنی نابالغ سمجھ دار(sensible) بچے کا " رہن" (mortgage)رکھنا صحیح ہے۔
(۲) رہن کسی شرط (precondition) پر مُعَلَّق نہ ہو(یعنی ایسا نہ ہو کہ اس طرح رہن رکھا جائے کہ : اگر میرے پاس کہیں سے مال آگیا تو یہ چیز "رہن" ہے اور) نہ اس کی اضافت وقت کی طرف ہو(یعنی ایسا بھی نہ ہو کہ یہ چیز تیس (30)دن کے لیے رہن ہے)۔
(۳) جس چیز کو " رہن" (mortgage) رکھا وہ بیچی جاسکتی ہو یعنی وہ چیز مال مطلق(کہ جسے ضرورت کے وقت استعمال کرنے کے لیے رکھا جاتا ہو جیسے پیسے، گھر اور کاروبار کا سامان)، مُتَقَوِّم( شرعاً قیمتی ہو، شراب نہ ہو کہ مسلمان کے لیے مال نہیں ہے)،مَمْلُوْک (ملکیت (ownership) میں ہو ،ہوا میں اُڑنے والا جنگلی پرندہ نہ ہو) ،معلوم(ہو کہ وہ چیز کیا ہے؟ کتنی ہے؟ وغیرہ)، مَقْدُوْرُالتَّسْلِیْم (یعنی وہ چیز سامنے والے کو دی جاسکتی ، کسی کی ایسی مچھلی نہ ہو کہ جو اُس نےدریا میں ڈال دی) ہو۔
جو چیز "رہن " رکھتے ہوئےموجود ہی نہ ہو ،یا ایسی صورت(case) ہو کہ شاید وہ چیز موجود ہو یا شاید موجود نہ ہو تو اُس چیز کو " رہن" (mortgage) رکھناجائز نہیں، مثلاًدرخت میں جو پھل اس سال آئیں گے، یا بکریوں کے اس سال جو بچے پیدا ہوں گے، یا اُس (بکری) کے پیٹ میں جو بچّہ ہے ،ان سب چیزوں کو "رہن" (mortgage) نہیں ر کھ سکتے مردار( یعنی حرام جانور چاہے خود مرا یا کاٹا گیا،یا حلال جانور جو شرعی ذبح کے بغیر مرا) اور خون کو "رہن "(mortgage) نہیں رکھ سکتے کہ شرعاً یہ مال ہی نہیں ہے۔
{5} " مَرْہُوْن" (رہن میں رکھی ہوئی چیز)جب تک " مُرْتَہِن " (جس کے پاس کوئی چیز رہن میں رکھوائی گئی ) کے ہاتھ میں ہو، "راہن" (اپنی چیز رہن میں دینے والا) اُسے بیچ نہیں سکتا " مُرْتَہِن " کو یہ اختیار (option) ہے کہ جب تک اپنا دیا ہوا قرض واپس نہ لے لے، اُس چیز کوبیچنے نہ دے ۔
اگر "مَدیُون " (جسے قرض دیا گیا)نے کچھ قرض ادا(pay) کر دیا اور کچھ باقی ہے تو اب بھی "راہن" (mortgagor) " مُرْتَہِن " (mortgagee) سے چیز واپس نہیں لے سکتا جب تک مکمل قرضہ(loan) واپس نہ لے لے() جب قرضہ پورا واپس کر دیا تو اب " مُرْتَہِن " سے کہا جائے گا کہ "رہن" واپس کر دو کیونکہ اب اُسے روکنے کا حق(right) باقی نہ رہا۔
{6} " مَرْہُوْن" (رہن میں رکھی ہوئی چیز)سے کسی قسم کا فائدہ اُٹھانا جائز نہیں ہے، مثلاً ایسے گھر کو کرائے پر دینا ، یا اس میں رہائش (residence)رکھنا، یا عاریت، عارضی استعمال(temporary use) پر کسی کو دینا، یا کپڑے اور زیور کو پہننا یعنی کسی قسم کا فائدہ اُٹھانا بھی جائز نہیں۔
جس طرح " مُرْتَہِن " (جس کے پاس کوئی چیز رہن میں رکھوائی گئی ) کو"رہن" سے فائدہ اُٹھانا، ناجائز ہے اسی طرح "راہن" (اپنی چیز رہن میں دینے والے)کو بھی"رہن " سے فائدہ اُٹھانا، ناجائز ہی ہے۔ ہاں! "مُرْتَہِن " اجازت دیدے تو اب"راہن"،"رہن" میں رکھی ہوئی چیز سے فائدہ اُٹھاسکتا ہے۔
{7}پہلے ہی سے طے کر لیا کہ " رہن" (mortgage) سے فائدہ اُٹھا سکتے ہیں (مثلاً ایک نے قرضہ دیا اور دوسرے نے اُسے دکان اس لیے دی کہ وہ کرائے پر دے دے) جیسا کہ آج کل اسی طرح کیا جاتا ہے تو یہ ناجائز اور" سود"ہے۔
{8} " مُرْتَہِن " (mortgagee) نے "راہن" (mortgagor) سے قرضہ واپس مانگا تو " مُرْتَہِن "سے کہا جائے گا کہ: "پہلے مَرْہُوْن (رہن میں رکھی ہوئی چیز) لے کر آؤ "پھر جب وہ لے آئے تو "راہن" سے کہا جائے گا کہ "قرضہ واپس کرو"۔ جب "راہن" پورا قرضہ واپس کر دے گا تو "مُرْتَہِن " سے کہا جائے گا کہ" اس کی چیز دے دو"۔
{9} " مُرْتَہِن " پر" مَرْہُوْن" کی حفاظت(safety) لازم ہے۔ یہاں "حفاظت" کا وہی حکم ہے کہ جو "ودِیعت" ( مثلاًامانت) کا ہے کہ خود حفاظت(safety) کرے یا اپنے "اہل و عیال "کی حفاظت میں دے دے ۔ نوٹ :یہاں "عیال" سے مراد وہ لوگ ہیں جو اس کے ساتھ رہتے ہوں جیسے بی بی، بچے ،خادم اور "اَجِیرِ خاص" یعنی ایسا نوکر (servent) کہ جس کو ماہانہ یا چھ ماہ بعدیا سال بعدتنخواہ(salary) دی جاتی ہو ۔ ()مزدور جو روزانہ کی اجرت پر کام کرتا ہو مثلاً ہردن کام کرنے پر اُجرت(wages) دی جاتی ہے تو اس کی حفاظت میں"رہن" نہیں دے سکتا۔ (بہارِ شریعت ،ح۱۷،ص ۶۹۶ تا ۷۰۷، وضاحت، مسئلہ ،۲۶،۳۰،۳۲،۳۵،۳۶،۴۰،۴۱،۴۲، ۱،۲،۴،۹،۲۲،۲۵ ،مُلخصاً)
{10} " مَرْہُوْن" (رہن میں رکھی ہوئی چیز)کو کسی نے غصب کر لیا (مثلاً چھین لیا)تو اس کا وہی حکم ہے جو ہلاک (چیز کے ختم) ہونےکا ہے یعنی " مَرْہُوْن" کی (بازاری ) قیمت(actual price) اور دَین (مثلاً قرض) میں جو کم ہے، " مُرْتَہِن " اُس کا ضامن (guarantor)ہے اگر دَین، " مَرْہُوْن" کی قیمت کے برابر یا کم ہے تو دَین ختم ہو گیا اگر " مَرْہُوْن" کی قیمت کم تھی اور دَین (مثلاً قرض) زیادہ تھا، تو" مَرْہُوْن" کی (بازاری ) قیمت(actual price)،" دَین " میں سے کم کریں گے اور بقیہ رقم "مَدیُون " (جسے قرض دیا گیا) واپس کرے گا۔
اگر خود" مُرْتَہِن " (جس کے پاس کوئی چیز رہن میں رکھوائی گئی )ہی نے غصب کیا یعنی "راہن" (mortgagor) کی اجازت کے بغیر" مُرْتَہِن " نے "رہن" کو استعمال کیا اور "رہن" ہلاک ہوگیا تو "مُرْتَہِن" (mortgagee) پوری قیمت کا ضامن ہے(یعنی" مُرْتَہِن "، " مَرْہُوْن" کی پوری قیمت "راہن" کو دے گا) چاہے قیمت دَین سے زیادہ ہی کیوں نہ ہو۔
{11} "راہن" (اپنی چیز رہن میں دینے والے)نے مُرْتَہِن (جس کے پاس کوئی چیز رہن میں رکھوائی گئی ہو) سے کہا :" اس چیز(" مَرْہُوْن") کو بیچ ڈالو۔ابھی وہ چیز نہ بیچی تھی کہ "راہن" فوت ہوگیا تب بھی "مُرْتَہِن" اسے بیچے گا اور وارثین(یعنی وہ لوگ جو مرنے والے کے بعد، اُس کے مال کے مالک(owner)بن جاتے ہیں) بھی "مُرْتَہِن" کو منع نہیں کر سکتے ۔(بہارِ شریعت ،ح۱۷،ص ۷۲۳، مسئلہ،۵، ۱،مُلخصاً)
{12} "مشاع" کو کسی صورت میں بھی " رہن" (mortgage) رکھنا جائز نہیں ہے۔ (بہارِ شریعت ،ح۱۷،ص۷۰۹ ،مسئلہ۱،مُلخصاً)
نوٹ: "مشاع " یا "شائع " اس چیز کو کہتے ہیں جس کے ایک غیر مُتَعَیَّن حصّے (جوطے نہ ہو۔unfixed part) کا مالک (owner)ہونا یعنی اُس چیز میں کوئی دوسرا بھی اس طرح شریک (partner)ہوکہ دونوں کے حصّے باقاعدہ الگ الگ نہ ہوں (بہارشریعت ،ج۲،ح ۱۰، ص۵۳۸، ماخوذاً) ۔ جیسے ایک پورا گھر دو(2) آدمیوں میں برابر برابر ہے مگر پورشن الگ نہیں ہوں ۔
{13} " مَرْہُوْن" پر قبضہ(یعنی " مُرْتَہِن "کے پاس) اس طرح ہو کہ وہ اِکھٹی ہو مُتفرق (بھکر(بکھر)ی ہوئی)نہ ہو مثلاً درخت پر پھل ہیں یا کھیت(field) میں زراعت(crops) ہے تو صرف پھلوں یا زراعت کو " رہن" رکھنا اور درخت و کھیت کو"رہن" نہ رکھا نا صحیح نہیں یہ بھی ضروری ہے کہ " مَرْہُوْن" ، "راہن" (mortgagor) کے حق میں مشغول نہ ہو مثلاً درخت پر پھل ہیں اور صرف درخت کو" رہن" رکھنا، یہ بھی نہیں کر سکتے یہ بھی ضرور ی ہے کہ " مَرْہُوْن" اگر مشترکہ(combine) چیز میں سے ایک حصّہ ہے تو وہ حصّہ الگ ہو،" مشاع "نہ ہو۔(بہارِ شریعت ،ح۱۷،ص۶۹۸ ،مسئلہ۶،مُلخصاً)
{14} "راہن" (اپنی چیز رہن میں دینے والے)ا ور " مُرْتَہِن " ( کسی چیز کو رہن میں لینے والے، یعنی) دونوں نے یہ طے کر لیا کہ " مَرْہُوْن" (رہن میں رکھی ہوئی چیز) تیسرےشخص کے پاس رکھ دی جائے گی تویہ صحیح ہے اور اُس کے قبضہ کر لینے(تیسرے شخص کے پاس وہ چیز پہنچ جانے) سے " رہن" (mortgage) مکمل ہو گیا۔
{15} جب تیسرے شخص(3rd person) کے پاس چیز رکھ دی گئی تو چیز کو نہ "راہن" لے سکتا ہے اورنہ ہی "مُرْتَہِن "اگر اُس (تیسرے شخص)نے اُن(دونوں) میں سے کسی(ایک) کو (رہن میں رکھی ہوئی چیز)دےدی تو اپنے پاس واپس لے لے۔(بہارِ شریعت ،ح۱۷،ص۷۲۴ تا ۷۲۸،مسئلہ۱،۴ ،مُلخصاً)
{16} "راہن" (اپنی چیز رہن میں دینے والے)نے "مُرْتَہِن"(جس کے پاس کوئی چیز رہن میں رکھوائی گئی ) کی اجازت کے بغیر ہی" مَرْہُوْن" (رہن میں رکھی ہوئی چیز) کو بیچ دیاتو یہ" بیع موقوف "ہے یعنی اگر " مُرْتَہِن " (mortgagee) نے اجازت دیدی تو یہ بیع (تجارت) جائز و نافذ(ok) ہوگئی اگر "راہن" (mortgagor) نے " مُرْتَہِن " کا قرض ادا(pay) کر دیا تب بھی یہ تجارت جائز و نافِذ(ok) ہو گئی۔
{17} اگر " مُرْتَہِن " نے" مَرْہُوْن" کو بیچ دیاتو یہ بیع(تجارت) "راہن" کی اجازت پر موقوف ہے یعنی "راہن" نے جائز(ok) کر دیا تو یہ تجارت ہو جائے گی ورنہ یہ تجارت جائزنہیں بلکہ "راہن" اس سودے کو باطل(ختم) کر سکتا ہے۔
مُرْتَہِن " (mortgagee) نے " مَرْہُوْن" کو بیچ دیا اور"راہن" (mortgagor) کی اجازت سے پہلے ہی (وہ چیز) خریدار کے پاس ہلاک (مثلاً استعمال)ہوگئی تو "راہن" کو اختیار (option)ہے دونوں(بیچنے والے " مُرْتَہِن "یا خریدار) میں سے جس سے چاہے اپنی چیز کا ضمان(یعنی ویسی ہی چیز جبکہ بازار میں ملتی ہو یا اس کی اصل قیمت۔actual price) لے لے۔
{18} کسی اجنبی(تیسرے شخص) نے " مَرْہُوْن" کو ضائع(waste)کر دیا تو اُس ہلاک کرنے والے سے تاوان( یعنی ویسی ہی چیز جبکہ بازار میں ملتی ہو یا اس کی اصل قیمت۔actual price) لینا " مُرْتَہِن " (mortgagee) کا کام ہے۔ وہ قیمت تاوان میں لی جائے گی کہ جس وقت وہ چیز ہلاک(ختم/استعمال) ہوئی۔
{19} قرآنِ کریم یا کتاب " رہن" (mortgage) رکھی ہے تو " مُرْتَہِن " (جس کے پاس کوئی چیز رہن میں رکھوائی گئی )کو اُس میں سے پڑھنا ،ناجائز ہے۔ ہاں! اگر "راہن" (اپنی چیز رہن میں دینے والے) سے اجازت لے کر پڑھے تو پڑھ سکتا ہے مگر جتنی دیر تک پڑھے گا اتنی دیر تک تو (وہ قرآنِ کریم یا کتاب) عاریت /عارضی استعمال (temporary use) کے حکم میں ہوگی اور جب پڑھ لی تو " رہن" (mortgage) کے حکم میں ہوگی یعنی پڑھتے وقت ہلاک ہوجائے ( مثلاًقرآنِ کریم شہید ہو جائے یا کتاب پھٹ جائے)تو دَین (یعنی قرض)ساقط (ختم) نہیں ہو گا،اس (پڑھنے)کے بعد ہلاک ہو تو اب دَین ساقط ہو جائے گا۔ (بہارِ شریعت ،ح۱۷،ص۷۲۸ تا ۷۳۵،مسئلہ،۲،۱ ،۱۵،۸،مُلخصاً)
{20} "راہن" (mortgagor) نے " مَرْہُوْن" (رہن میں رکھی ہوئی چیز)کو ضائع (waste)کر دیا ,یا اُس میں نقصان پہنچایا تو اسے بھی "تاوان" دینا ہوگا(یعنی ویسی ہی چیز دینی ہوگی )، یہ نہیں سمجھا جائے گا کہ "راہن" تو خود ہی "مَرْہُوْن" کا مالک تھا تو "تاوان" کیوں دے گا؟ اصل میں " مَرْہُوْن"، " مُرْتَہِن " کے پاس رکھوائی گئی تھی تو اب " مَرْہُوْن" پر" مُرْتَہِن " کا "حق" (right) بھی آگیا تھا تو اس "حق" کو باقی رکھنے کے لیے"راہن"، "تاوان" دے گا اور یہ "تاوان"، " مُرْتَہِن " (mortgagee) کے پاس " مَرْہُوْن" (رہن)رہے گا۔
{21} " رہن" میں جانور دیا،اُس نے " مُرْتَہِن " (جس کے پاس کوئی چیز رہن میں رکھوائی گئی ) کو، یا اس کے مال کو ہلاک (ختم/تباہ)کر دیا تویہ نقصان "راہن"(اپنی چیز رہن میں دینے والے) پر نہیں آئے گا بلکہ یہ تو ایسا ہی ہے کہ جیسے" آفتِ سماویہ" ہو( یعنی یہ اسی طرح ہے کہ جس طرح قدرتی آفت مثلاً ڈوب جانے، آگ میں جلنے سے نقصان ہوتا ہے)۔(بہارِ شریعت ،ح۱۷،ص۷۳۵ تا ۷۳۷،مسئلہ۱ ،مُلخصاً)
{22} " مَرْہُوْن" (رہن میں رکھی ہوئی چیز) کا خرچہ " راہن "کے اوپر ہے " مُرْتَہِن " پرنہیں۔ (بہارِ شریعت ،ح۱۷،ص ۶۹۹،مسئلہ۱۰ ،مُلخصاً)
{23} " مَرْہُوْن" میں جو کچھ زیادتی ہوئی(اضافہ ہوا) مثلاً جانور" رہن " رکھاتھا اس کے بچہ پیدا ہوا ، بھیڑ (sheep) کی اُون (wool) آگئی، درخت پر پھل لگ گئے، جانور نے دودھ دیا،یہ سب چیزیں "راہن" کی مِلک (ownership) ہیں اور سب "رہن "میں شامل ہیں یعنی جب تک دَین(قرض) ادا(pay) نہ کر لے، "راہن" (mortgagor) ان چیزوں کو " مُرْتَہِن " سے نہیں لے سکتا۔
اگریہ چیزیں فکِ رہن ("رہن "کے آزادہونے مثلاً قرض ادا کرنے)سے پہلے ہی ہلاک(ختم) ہو جائیں تو ان اضافوں (مثلاً جانور کے بچّے، بھیڑ کی اُون، درخت کے پھلوں) کی قیمت، دَین (قرض)سے کم نہیں کی جائیں گی۔(بہارِ شریعت ،ح۱۷،ص ۷۳۷،مسئلہ۲ ،مُلخصاً)
{24}"رہن" میں زیادتی(اضافہ کرنا) جائز ہے ، مثلاً کسی نے قرض لیا اور اس کے پاس ایک چیز "رہن" رکھ دی اس کے بعد " راہن" (mortgagor) نے دوسری چیز بھی اسی قرض کی وجہ سے" رہن" رکھی تو اب یہ دونوں چیزیں مل کر ایک ہی "رہن "ہو گئیں یعنی جب تک قرض ادا (pay)نہ کرے دونوں میں سے کسی کو نہیں لے سکتا۔
{25}دَین(مثلاً قرض) میں زیادتی ناجائز ہے یعنی دَین لیا اور کوئی چیز" رہن" رکھ دی اس کے بعد" راہن" یہ چاہے کہ پھر (دوسرا)قرض لوں اور اس(دوسرے) قرض کی وجہ سے بھی وہ (پہلی) چیز ہی " رہن" رہے یہ نہیں ہو سکتا ۔(بہارِ شریعت ،ح۱۷،ص ۷۳۹،۷۴۰،مسئلہ۱۲،۱۴ ،مُلخصاً)

’’حقوق(rights) و استحقاق(Ownership claim) ‘‘

فرمانِ آخری نبی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:
اللہ کریم کی مُقَرَّر(طے) کردہ حدوں پر قائم رہنے (یعنی اللہ کریم نے جن کاموں سے منع فرمایا ہے، اُس سے بچنے) والوں اور اس میں مُبْتَلا ہونے (یعنی جن کاموں سے منع کیا گیا ہے، وہ کام کرنے ) والوں کی مثال ان لوگوں کی طرح ہے جنہوں نے ایک سمندری جہاز میں قرعہ اندازی کر کے(مثلاً پرچیاں ڈال کر) اپنے حصّے تقسیم کر لیے ، کچھ لوگوں کو اوپر کا حصّہ ملا اور کچھ لوگوں کو نیچے کا حصّہ ملا۔
جو لوگ نیچے والےحصّے میں تھے، انہیں پانی لینے کے لیے اوپر والے حصّے میں جاناپڑتا ۔ نیچے والوں نے کہا : کیوں نہ ہم اپنے حصّے میں سوراخ کرلیں (تاکہ پانی لینے میں آسانی ہو) اور اوپر والوں کو تکلیف میں نہ ڈالیں۔ اب اگر اوپر والے نیچے والوں کو یہ ارادہ(کام) پورا کرنے دیں تو سب ہلاک (ختم)ہو جائیں گے اور اگر یہ ان کے ہاتھ پکڑ لیں تو خود بھی بچیں گےاور باقی لوگ بھی بچ جائیں گے۔ (بخاری ، کتاب الشرکۃ ، ۲ / ۱۴۳ ، حدیث : ۲۴۹۳،مُلخصاً)
عُلَمائے کِرام فرماتے ہیں کہ: اگر نیچے رہنے والااپنا گھر توڑناچاہے تو اس کے لیے جائزنہیں کہ وہ ا پنا گھر توڑےکیونکہ اس طرح توڑنے سے اوپروالا گھر بھی ٹوٹ جائے گا۔ہاں! اپنی ضرورت کا اتناکام کرواسکتا ہےکہ جس سے اوپروالوں کو بھی فائدہ ہو۔ (فیوض الباری ، ۱۰ / ۲۲ ، ۲۱،مُلخصاً)
واقعہ(incident): ایک گھر میں اوپر نیچے رہنے والے دو(2)بھائی
ایک گھر میں اوپر ، نیچے دو (2)بھائی رہا کرتے تھے۔ ان میں سے ایک نیک عبادت گزار، اوپر رہا کرتااور دوسر ا طرح طرح کے گناہ کرنے والا، نیچے رہا کرتا تھا۔ عبادت کرنے والے بھائی کی خواہش تھی کہ وہ شیطان کو دیکھے، ایک دن اس کے پاس شیطان، انسانی شکل میں آیا اور کہنے لگا: ''افسوس ہے تجھ پر! تو نے اپنی عمر کے چالیس(40) سال بہت عبادت تو کی مگر دینا (دنیا)سے فائدہ نہ اُٹھایا۔تمہاری جتنی عمر گزر چکی، ابھی اُتنی ہی عمر (چالیس سال) باقی ہے لہذا ابھی دنیا سے فائدہ اُٹھا لو، اس کے بعد توبہ کر کے عبادت شروع کر دینا، بے شک اللہ کریم بخشنے والا، مہربان ہے'' ۔یہ سن کر عبادت کرنے والے نے اپنے دل میں کہا کہ: ''میں نیچے جاکر اپنے بھائی کے پاس بیس(20) سال تک دنیا سے فائدہ اُٹھاتا ہوں پھر توبہ کر کے اپنی باقی زندگی عبادت میں گزاروں گا''۔ یہ سوچ کر وہ نیک آدمی اپنی بُری نیّت کے ساتھ اوپر سے نیچے آنے لگا۔
دوسری طرف اللہ کریم نے گناہ گار بھائی کے دل میں یہ بات ڈال دی ، وہ اپنے آپ سے کہنے لگا کہ:
''تو نے اپنی زندگی اللہ کریم کی نافرمانی (disobedience) میں گزار دی ، تو جہنّم میں جانے والے کام کر رہا ہے اور تیرا بھائی جنّت میں والے کاموں میں زندگی گزار رہا ہے ۔ اللہکی قسم! میں ضرور توبہ کروں گا اور اپنے بھا ئی کے سا تھ اوپر والے کمرے میں جا کر اپنی باقی زندگی عبادت میں گزار دونگا، شاید! اللہ کریم میرے گناہ معاف فرمادے''۔ اب یہ گناہ گار بھائی، توبہ کی نیّت سےاوپر جانے لگا۔
اوپر والےبھائی( کہ جو گناہ کی نیّت سے نیچے آرہا تھا ) کا پاؤں پھسلا( slippہوا) اور وہ دوسرے(توبہ
کی نیّت سے اوپر آنے والے) بھائی پر اس زور سے گرا کہ وہ دونوں گرتے گرتے سیڑھی سے نیچے آگئے اور (ایک ساتھ) دونوں ہی انتقال کر گئے۔ بُری نیّت کی وجہ سے عبادت کرنے والے کا آخرت میں انجام بُرا اور نیک نیّت کرنے کی وجہ سے گناہ گار کا انجام اچھا ہوگا''۔ (حکایتیں اور نصیحتیں، ص ۴۲،مُلخصاً)
عُلَمائے کِرام فرماتے ہیں کہ: نیکی کا ارادہ بھی نیکی ہے اس پر بھی ثواب ہے، خیال ِگناہ اور ہے اور گناہ کا پکّا ارادہ کچھ اور(بات ہے کیونکہ) پختہ(پکّا) ارادہ کرلینے پر انسان گنہگار ہوجاتا ہے۔ (مراۃ،ج۳،ص۵۹۷،سوفٹ ائیر، مُلتقظاً)
حقوق(rights) کا بیان(مکان کی خریداری(buying) میں کیا شامل ہے کیا نہیں ):
{1} دومنزلہ مکان (ground and first floor)ہے اس میں نیچے کی منزل(ground floor) خریدی بالاخانہ(first floor) عقد (یعنی سودے)میں شامل نہ ہوگا مگر جب کہ "جمیع حقوق "(یعنی گھر کی خریداری سے تعلق رکھنے والی سب چیزیں) یا"جمیع مرافق" (وہ سب حقوق(rights) کہ جو"مَبِیْع" (sold item)میں کسی طرح بھی آجاتے ہیں مثلا ً راستہ ،پانی بہنے کی نالی۔drain وغیرہ) یا ہر قلیل وکثیر (ہرطرح کی چیز) کے ساتھ خریدا ہو۔
{2}گھر کا پہلے ایک راستہ تھا اُسے بند کرکے دوسرا راستہ بنایا، اس (گھر)کی خریداری(buying) میں پہلاراستہ شامل نہیں ہوگا، چاہے "حقوق"(rights) یا "مرافق "کالفظ بھی کہا ہو کیونکہ وہ اب اس کے حقوق(rights) میں شامل ہی نہیں، اب دوسرا راستہ ہی اس گھر میں جانے آنےکا راستہ ہے۔
{3} مکان یاکھیت کرایہ پر لیا تو راستہ اور نالی( canal) اور گھاٹ(دریا (river)یا تالاب (pool)سے اُترنے کی جگہ) اجارہ میں داخل ہیں(یعنی یہ چیزیں کرائے دار استعمال کرے گا)۔
{4} مکان کی خریداری میں کنواں (well)اور اُس کے صحن(court) میں جو درخت ہوں وہ اور پائیں باغ (نچلی زمین میں پایا جانے والا باغ، جیسا کہ ہمارے ہاں، عموماً اسی طرح کے باغ ہوتے ہیں)سب بیع ( یعنی سودے) میں شامل ہوتے ہیں ۔
گھرسے باہر ،اُس سے ملا ہوا چھوٹاباغ بیع (یعنی سودے) میں شامل ہے اور مکان سے بڑایا برابر باغ ہو تو جب تک سودے میں اسے شامل نہ کیا جائے (مثلاً یہ نہ کہا جائے کہ اس باغ کو بھی خریدا، یا بیچا) تو (اس وقت تک) وہ سودے میں شامل نہیں ہے۔
{5} ایک مکان خریدا جس کی دیواروں پردوسرے مکان کی کڑیاں (شہتیر، وہ لکڑی کہ جو چھت بنانے میں لگائی جاتی ہے) رکھی ہیں اگروہ دوسرا مکان بھی بائع(بیچنے والے) کا ہے تو حکم دیا جائے گا اپنی کڑیا ں اُٹھا لے اورکسی تیسرے آدمی کی ہیں تویہ مکان کاایک عیب ہے خریدار کو (وہ گھر) واپس کرنے کا حق(right) حاصل ہوگا۔
{6} دو آدمی ایک مکان میں شریک(partner) تھے پھر انہوں نے وہ گھر تقسیم کر دیا۔ ایک کے حصّے کا راستہ یا نالی( canal) دوسرے کے حصّے میں آگیا۔اگر تقسیم کے وقت حقوق(rights) کا ذکر تھا(یعنی یہ بات طے ہوگئی تھی کہ دوسرے کے حصّے میں جو پہلے آدمی کا راستہ یا نالی ہے، پہلا آدمی وہ استعمال کرے گا)،تو کوئی حرج نہیں (یعنی پہلاشخص اپنا راستہ استعمال کر سکتا ہے) اگر بات طے نہیں تھی تو پہلے آدمی کو راستہ وغیرہ نہیں ملے گا پھر اگر وہ اپنے حصّے میں نیاراستہ اورنالی ( canal)وغیرہ نکال سکتا ہے تو نکال لے تو یہ تقسیم صحیح ہوگئی اگر وہ اپنے حصّے میں نیاراستہ اورنالی ( canal)وغیرہ نہیں نکال سکتا تو یہ تقسیم غلط ہوئی یعنی توڑ دی جائے (ختم کر دی جائے گی)جبکہ تقسیم کے وقت راستہ وغیرہ کا خیال کیا ہی نہ گیاہو۔ (بہار شریعت ح۱۱،ص ۷۷۹تا ۷۸۱،مسئلہ۱ تا ۱۰،مُلخصاً) استحقاق کا بیان:
{1} کبھی ایساہوتا ہے کہ بظاہر کوئی چیز ایک شخص کی معلوم ہوتی ہے (یعنی ایسا لگتا ہے کہ وہ آدمی اس کا مالک ہے) جبکہ حقیقت میں وہ دوسرے شخص کی ہوتی ہے ۔ دوسرا آدمی اُس چیز کامالک ہونے کا دعویٰ (claim) کر کے اپنی مِلک(ownership) ثابت(prove) کردیتا ہے اس کو "استحقاق"(ownership claim) کہتے ہیں۔
{2} "استحقاق"(ownership claim)کی دو قسم ہیں: (۱) " مُبطِل "(۲) " ناقِل"۔
(۱) ایک یہ کہ دوسرے کی مِلک(ownership)کو بالکل باطل (ختم)کردینا، اسے" مُبطِل "کہتے ہیں۔
مثلاً کسی" غلام "کے بارے میں یہ ثابت (prove)کر دیا کہ وہ" غلام" تھا ہی نہیں بلکہ وہ "آزاد" آدمی ہے، یہ "مُبطِل " ہے ۔نوٹ: پہلے ایک انسان دوسرے کا مالک بن جاتا تھا، مالک کو جو ملتا،وہ اُس شخص کا"غلام" ہوتا، آج کل "غلام" نہیں ہوتے بلکہ سب "آزاد" ہیں کہ وہ کسی کی مِلک(ownership) میں نہیں ہوتے لہذا جب کسی "غلام" کو "آزاد" ثابت (prove)کر دیا تو مِلکیت(ownership) بالکل ختم ہوگئی۔
(۲) دوسرایہ کہ مِلک کو ایک سے دوسرے کی طرف نقل (shift) کرنا،اسے" ناقِل" کہتے ہیں۔
مثلاً زید(ایک آدمی) نے بکر(دوسرے آدمی) پر دعویٰ(claim) کیا کہ یہ چیز جو تمہارے پاس ہے ، تمہاری نہیں بلکہ میری ہے، یہ" ناقِل" ہے۔
{3} "استحقاق ِناقِل" تھا، یہ بات ثابت(prove) ہوگئی کہ ایک چیز کسی اورکی مِلک(ownership)تھی تو اس کا یہ مطلب نہیں ہوگا کہ اس وقت وہ چیز جس (دوسرے) آدمی کے پاس ہے، اُس کے پاس آنا غلط ہی ہو! کیونکہ ہوسکتا ہے کہ وہ چیز اس (دوسرے) شخص کے پاس کسی عقد (contract)کے ذریعے آئی ہو، مثلاً دوسرا شخص کہتا ہے کہ میں نے یہ چیز خریدی ہے تو اس بات کا نتیجہ یہ ہوگا کہ پہلا شخص اس چیز کا مالک تھا پھر دوسرے نے وہ چیز خرید لی۔
ہاں!اب یہ بات دیکھی جائے گی کہ یہ چیز اُس نے کس سے خریدی ہے؟ (۱) اس چیز کے مالک سے، یا (۲)کسی تیسرے شخص سے ۔ یہاں تک کے اگر کسی تیسرے شخص سے خریدی ہے تب بھی یہ سودا غلط نہیں لیکن اب چیز کے مالک کی اجازت پر موقوف ہے یعنی اگر مالک اجازت دے گا تو سودا نافذ (ok) ہو جائے گا، اگر منع کر دے گا تو سودا ختم ہو جائے گا۔ (بہار شریعت ح۱۱،ص ۷۸۱تا ۷۸۳،مسئلہ۱ تا ۴،مُلخصاً)

’’سود (interest) ‘‘

حدیث ِ پاک :
رَسُوْلَ اﷲ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نے لعنت فرمائی سود کھانے والے، سود دینے والے اور اس کا کاغذ لکھنے والے اور اس پر گواہیاں (witness)کرنے والوں پر اور فرمایا وہ سب برابر ہیں سب ایک رسی میں بندھے ہوئے ہیں ۔ (صحیح مسلم، کتاب المساقات، حدیث۱۵۹۸، ص۸۶۲)
واقعہ(incident): قبر میں عذاب
ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہفرماتے ہیں کہ جب میں چھوٹا تھا تو اپنے والد صاحب رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے ساتھ قبرستان جا کرقرآن ِپاک کی تلاوت کیا کرتا تھا۔ ایک مرتبہ رمضان المبارک میں نماز فجر کے فوراًبعد اکیلے (alone)قبرستا ن گیا تو اس وقت قبرستان میں میرے علاوہ (other) کوئی نہ تھا۔ میں نے تلاوت شروع کر دی تورونے کی آواز آنے لگی ، میں گھبرایا(پریشان ہوا، ڈر گیا) اور تلاوت روک کر آواز سننے لگا یہاں تک کے سورج نکل آیا اور ایک آدمی وہاں سے گزراتو میں نے اس سے پوچھا :یہ کس کی قبر ہے ؟ تو اس نے بتا یا :یہ فلاں (شخص)کی قبر ہے۔ میں نے اس شخص کو دیکھا تھا، وہ تو مسجد میں بہت آتا جاتا، نمازوں کو اپنے وقت پرپڑھتا اور فضول (بے کار کی ) باتیں نہ کرتا تھا۔اب میرے ذہن میں بہت سے خیالات پیدا ہوئے لہذا میں لوگوں سے اُس کے بارے میں پوچھنے لگا، تو لوگوں نے مجھے بتایا :وہ ایک تاجر (trader) تھا ، جب بوڑھا ہوا اور اس کے پاس مال کم رہ گیا تو وہ مال کی کمی پر راضی(agree) نہ ہوا اور شیطان نے اس کے دل میں سود کی محبّت ڈال دی اور اُس نے سود لینا شروع کر دیا،یہی وجہ ہے کہ ر مضان شریف میں بھی اُس پر عذاب ہو رہا تھا۔
(جہنّم میں لے جانے والے اعمال جلد۱،ص۷۰،مُلخصاً)
سود (interest):
{1} "سود" حرام قطعی ہے(یعنی اس کے حرام ہونے میں کوئی شک نہیں) اس کے حرام ہونے کا اِنکار (deny) کرنے والا کافر ہے اور حرام سمجھ کر جو "سود" لے، وہ فاسق (گناہ گار)مردودُالشہادۃ ہے (یعنی اُس کی گواہی (witness)قبول(accept)نہیں کی جائے گی) ۔ (بہار شریعت ح۱۱،ص۷۶۸،۷۶۹، مُلخصاً)
{2} جس طرح سُود لینا حرام ہے سُود دینا بھی حرام ہے ۔(بہارِ شریعت ، حصہ۱۱ ، ،ص ۷۷۶ ، ماخوذاً)
{3} عقدِ مُعَاوَضَہ ( یعنی لَین دَین کے کسی مُعَامَلے ) میں "سود" یہ ہے کہ جب دونوں طر ف مال ہو اورایک طرف اِس طرح کی اضافی چیز ہو کہ جو کسی چیز کے بدلے (exchange)میں نہ ہو ۔( بہارِ شریعت ، ح۱۱ ،ص۷۶۹،مُلخصاً) اسی طرح قَرْض دینے والے کو قَرْض پر جو نفع (profit، فائدہ )حاصِل ہو وہ بھی سُود ہے ۔ ( فتاویٰ رضویہ ،ج ۱۷ ،ص ۷۱۳،مُلخصاً)
{4}جو چیز ماپ (measureکرنے) یا وزن( weight ) سے بکتی ہو جب اس کو اپنی جِنس (مثلاً اُسی چیز) کے بدلے (exchange)، اس طرح لیا/دیاجائے کہ ایک طرف زیادہ اور دوسری طرف کم ہو تو یہ بھی "سود" اور حرام ہے۔مثلا گیہوں (wheat) کے بدلے میں گیہوں ( گَنْدُم )ہی کو کم یا زیادہ خریدنا، یا ()جَو (barley)کے بدلے میں جَو (barley) کو کم یا زیادہ خریدنا حرام ہے ۔
سود کے کچھ نقصانات:
{1} فرمانِ آخری نبی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:‏سود چاہے زیادہ ہی ہو آخرکاراس کا انجام(end) کمی پر ہوتا ہے۔ (المسند للامام احمد بن حنبل ، مسند عبداللہ بن مسعود ، الحدیث: ۴۰۲۶ ، ج۲،ص ۱۰۹)
{2}حضرت عبد اللہُ بن عباس رَضِیَ اللہُ عَنْہَا سے روایت ہے :اس (یعنی سود لینے والے)کا نہ صدقہ قبول (accept) کیا جائے گا ، نہ جہاد ، نہ حج اور نہ ہی صلہ رحمی(یعنی رشتہ داروں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا بھی قبول نہ ہوگا)۔'' (تفسیر قرطبی،سورۃ البقرۃ،تحت الآیۃ:۲۷۶،ج۲،ص۲۷۴)
{3} پیٹ کی خواہشات پوری کرنا۔حضرتِ علامہ علی قاری حنفی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کچھ اس طرح لکھتے ہیں کہ : پیٹ کی وجہ سے ہونے والے گناہِ کبیرہ تین(3) ہیں: (۱)یتیم کا (مال)کھانا(۲)شراب پینا(۳)سود کھانا ۔ (مرقاۃ المفاتیح،۱/۲۲۱،تحت الحدیث:۵۲، مُلتقظاً)
سود کی صورتیں(cases):
سود کی کچھ صورتیں ہیں:
{1}حدیثِ پاک میں ہے:قرض سے جو فائدہ اُٹھایا جائے ، وہ "سود" ہے۔ ( کنز العُمّال، کتاب الدین والسلم من قسم الأقوال، رقم الحدیث: ۱۵۵۱۲، ج۶، ص۹۹)
{2} قرض دینے پر ملنے والا "سود"۔
{3}قرض لینے پر دیا جانے والا "سود"۔
{4}کچھ چیزوں کے تبادلے(exchange) میں پایا جانے والا "سود"۔
سود کی مثالیں:
{1}قرض سے سودی فائدے اُٹھانے کی مثالیں:
{2} قرض دینے پر ملنے والا "سود"۔
{3}قرض لینے پر دیا جانے والا "سود"۔
{4}کچھ چیزوں کے تبادلے(exchange) میں پایا جانے والا "سود"۔
سود کی مثالیں:
{1}قرض سے سودی فائدے اُٹھانے کی مثالیں:
(۱) کسی سے پچاس لاکھ قرض لے کر، اُسے رہنے کے لیے اپنا گھر دے دینا، " قرض دے کرسودی فائدہ اُٹھانا" ہے۔
(۲)مارکیٹ میں ایک چیز(مثلاً دکان یا مکان ) کا ایڈوانس(advance payment) کم (مثلاً ایک(1)لاکھ) ہے، مگر اسے زیادہ (مثلاً پانچ لاکھ) دینا تاکہ اس چیزکا کرایہ مارکیٹ ریٹ(market rate) سے کم دے، یہ بھی " قرض دے کرسودی فائدہ اُٹھانا" ہے۔
(۳) موبائل کمپنی کے اکاؤنٹ میں اس لیے پیسے ڈلوانا کہ یہ رقم (amount)ضائع (waste)بھی نہیں ہوگی اور فری کالنگ منٹس(free calling minutes) ملیں گے، یہ بھی " قرض دے کرسودی فائدہ اُٹھانا" ہے۔ یاد رہے کہ ایسا اکاونٹ کھلوانا ہی حرام ہے، چاہے بعد میں اسے استعمال نہ بھی کرے۔
(۴) کچھ بینکوں(banks) نے یہ سہولت دی ہے کہ اگر آپ کے غیر سودی اکاونٹ(current account) میں اتنی رقم (amount)(مثلاً پانچ(5)لاکھ) ہوگی تو اکاونٹ والے(account holder) کو مختلف فائدے حاصل ہونگے، مثلاً آن لائن ٹرانسفر(on line transfer) کے پیسے نہیں کاٹے جائیں گے، یہ بھی "قرض دے کرسودی فائدہ اُٹھانا" ہے۔ یاد رہے کہ اگر بینک کی طرف سےیہ سہولت مخصوص رقم (specific amount) ہی پر نہ ہو بلکہ سب کے لیے ہو تو اب یہ " سودی نفع (profit)" نہیں ہوگا۔
(۵) آڑھتی(وہ بروکر(broker) کہ جس کے پاس دکان یا جگہ ہوتی ہے، جہاں دوسروں کا مال بکنے کے لیے آتا ہے اور انہیں بروکری/ کمیشن ملتا ہے) کا کسانوں کو اس شرط(precondition) پر قرضہ(loan) دینا کہ وہ اپنی فصل(crops) ہمارے ذریعے سے بیچیں گے، یہ بھی " قرض دے کرسودی فائدہ اُٹھانا" ہے۔
(۶) کریانے (آٹا، تیل، دال بیچنے)والے کو پیسے دے دیےاور یہ کہہ دیا کہ یہ پیسے سودے میں کٹتےرہیں گے، یا ایسا تو نہیں کہا مگر معلوم(understood) ہے کہ سودا لینے پر اُدھار کٹتا رہے گا تو اس طرح پیسے دینا بھی منع ہے کہ یہ بھی قرض دے کر سودی فائدہ اُٹھانا ہے، کیونکہ جب تک یہ پیسا خریدار(buyer) کے پاس تھا تو خطرہ تھا کہ یہ پیسے کہیں ضائع(waste) نہ ہوجائیں لیکن اب یہ خطرہ ختم ہوگیا اور یہی قرض سے نفع (profit) اٹھانا ہے جو کہ ناجائز ہے۔(بہار شریعت ح۱۶، ص۴۸۱، مسئلہ۱۷، مُلخصاً)
{2} قرض دینے پر ملنے والے سود کی مثالیں:
(۱)ایک لاکھ روپے(1 lac) دے کر ایک لاکھ دس ہزار(1,10,000) یعنی دس ہزار(10,000) اضافی (extra) لینا "سود" ہے۔
(۲)سودی بینکوں سے قرض پر ملنے والا نفع (profit) ، چاہے وہ کسی بھی نام سے ہو، چاہے وہ سیونگ اکاؤنٹ(saving account) ہو چاہے وہ سرٹیفیکیٹس(certificates) ہوں(سب"سود" ہیں)۔
(۳)سودی اداروں سے لائف انشورینس پالیسی(life insurance policy) پر ملنے والی اضافی رقم (extra amount) بھی "سود" ہے۔
(۴) پری فرینس شیئر(Preference Share) جسے "ترجیحی حِصَص "بھی کہتے ہیں، اس میں نفع (profit) لازمی ملتا ہے، یہ بھی "سود" ہے۔
(۵) آج کل رنگ کے ڈبوں میں "ٹوکن" نکلتے ہیں یعنی وہ پرچی ہوتی ہے، جس پر کچھ رقم (amount) لکھی ہوتی ہے۔ یہ پرچی دکان دار کو دے کر لکھی ہوئی رقم (amount) لے لیتا ہے(یہاں تک تو ٹھیک ہے)۔ اب دکان دار وہ رنگ والی کمپنی کے نمائندے(deputy) کو دے کر اس پرچی پہ لکھی ہوئی رقم (amount)سے زیاد ہ رقم (amount)لے لیتا ہے، یہ خالص" سود" (pure interest)ہے۔
(۶)پریمیئم بانڈ(Premium prize bound) جس کا نفع (profit) طے شدہ(decided) ہوتا ہے، یہ بھی "سود" ہے۔
{3}قرض لینے پر دیے جانے والے سود(interest) کی مثالیں:
(۱) سودی ادروں سے اس طرح خریدی جانے والی گاڑیاں کہ جن میں لکھا ہو کہ یہ اصل رقم(real amount) ہے اور اتنا سود(interest)ہے۔
(۲) شیئر مارکیٹس(share markets) میں بینک یا بروکر (broker)اُن لوگوں کورقم (amount) دے کر نفع (profit) لیتے ہیں کہ جن کے پاس پیسوں کا انتظام(arrangement) نہیں ہوتا، یہ بھی "سود" ہے۔
(۳) کریڈٹ کارڈ(credit card) لینے کے لیے اس بات پر راضی(agree) ہونا پڑتا ہے کہ کارڈ لینے والے نے اگر وقت پر قرض ادا نہ کیا تو وہ "سود" دے گا، یہ معاہدہ(agreement ) کرنا ہی "گناہ" ہے پھر وقت پر پیسے واپس نہ دینے پر اضافی رقم(extra amount) دینا "سود" اور دوسرا گناہ ہے۔
(۴) حکومت،مختلف کمپنیوں(different companies) کو سیکورٹی کی مدّ(security deposit) میں ایک بڑی رقم (amount)جمع کرنے کا پابند(bound) کرتی ہے۔کمپنیاں(companies) بینک سے یہ رقم (amount) ماہانہ چارجز (monthly charges) کے بدلے میں لے کر حکومت کو جمع کروادیتی ہیں ۔ کمپنی کا بینک کو یہ ماہانہ چارجز (monthly charges) دینا بھی "سود" ہے۔
{4} کچھ چیزوں کے تبادلے(exchange) میں پائے جانے والےاضافے کی مثالیں:
پہلے دو(۲) باتیں سمجھیں۔(۱) جِنس (۲) قدر
(۱) جِنس: دونوں چیزوں کا ایک نام اور ایک کام ہو تو وہ ایک’’ جِنس ‘‘ ہیں ، مثلاً کھجور کی سب قسمیں(types) ایک’’ جِنس ‘‘ہیں(چاہے سوکھی کھجور(چھوارا) ہو یا عام تَر کھجور (جو سوکھی نہ)ہو)۔اگرنام اور مقصد(کام) الگ الگ ہوں تو دو الگ الگ جِنس ہیں ، جیسے گیہوں(wheat) اور جَو(barley) یہ دونوں الگ الگ جِنس ہیں۔ (بہار شریعت،ح۱۱،ص۷۹۶،مسئلہ ۲، مُلخصاً)
(۲) ’’ قَدر ‘‘: ’’قَدر ‘‘ سے مراد وزن(weight) یا ماپ(measureکرنا) ہے (بہار شریعت،ح۱۱،ص۷۶۹،مسئلہ ۱، مُلخصاً)۔"وزن "میں کسی چیز کا بوجھ (weight) دیکھا جاتا ہے جبکہ" ماپ "یا "کیل" میں کسی چیز کے حجم(size وغیرہ) کو ناپا(measureکیا) جاتا ہے۔ اصل میں "کیل" ایک پیمانے(scale) یا غلّے (اناج ۔grain ) وغیرہ کو ناپنے (measure کرنے) کے مخصوص برتن(specific pot) کا نام ہے۔
نوٹ: عددی چیزیں(جو چیز گنتی (counting)سے بکتی ہے، وہ) "قدر" میں نہیں آتیں
چیزوں کے تبادلے کی چار(4) صورتیں، مثالیں اور حکم:
(۱) ’’ جِنس ‘‘ ایک اور ’’ قدر ‘‘ بھی ایک :: گندم کے بدلے گندم :: ادھار ،کمی اور زیادتی سب حرام۔
(۲) ’’ جِنس ‘‘ الگ الگ مگر’’ قدر ‘‘ ایک :: دال کے بدلے چاول :: ادھار حرام، کمی اور زیادتی ہاتھوں ہاتھ جائز۔
(۳) ’’ جِنس ‘‘ایک ہو مگر ’’ قدر ‘‘ الگ الگ :: گھوڑے کے بدلےگھوڑا :: ادھار حرام،کمی اور زیادتی ہاتھوں ہاتھ جائز۔
نوٹ: گھوڑا، نہ تو وزنی چیز ہے ،نہ ناپ /کیل ( measureوالی)چیز ہے بلکہ یہ عددی(گِن کر،counting سے بکنے والی) چیز ہے، لہذا اس میں "قدر" ہی نہیں ہے۔
(۴) ’’ جِنس ‘‘ بھی الگ اور ’’ قدر ‘‘ بھی الگ :: سونا اور موبائل ::ادھار بھی جائز اور کمی اور زیادتی بھی جائز۔
نوٹ: گھوڑے کی طرح موبائل بھی " عددی" ہے، لہذا اس میں بھی "قدر" نہیں ہے۔ (سود کیا ہے؟، مُلخصاً)
کچھ چیزوں کو آپس میں بیچنے کے شرعی مسائل:
(۱) جب ایک ہی جنس کو اسی جنس سے بیچا جائے تو عمدہ (اعلیٰ، بہترین)اور خراب میں کوئی فرق نہیں ہوگا۔
(۲) اگرایک ہی جنس کو اسی جنس سے اس طرح بیچا جائے کہ ایک طرف اچھی حالت ہو اور دوسری طرف خراب حالت ، تب بھی کمی زیادتی "سُود "اور حرام ہے ۔ یہ بات لازِم ہے کہ دونوں ماپ (measureکرنے) یا تول( وزن، weight کرنے) میں برابر ہوں ۔(بہارِ شریعت ، ح۱۱ ،ص ۷۶۹،مسئلہ۱،مُلخصاً)
(۳) اگر دونوں طرف "جنس" تو الگ الگ ہو مگر"قدر" ایک ہی ہو(جیسے: سونا اور چاندی کہ ان کے نام اور کام الگ ہیں لہذا "جنس " الگ ہے لیکن دونوں ہی وزن سے بکتے (saleہوتے)ہیں لہذا "قدر" ایک ہی ہے) تو جب انہیں آپس میں بیچا جائے تو کمی ، زیادتی سے بیچ سکتے ہیں(مثلاً پچاس(50) تولے چاندی کے بدلے ایک (1)تولہ سونا) مگر بیچنے والے اور خریدنے والے(دونوں ) کا دوسری چیز پر قبضہ اُسی مجلس میں ہونا ضروری ہے(یعنی اُسی جگہ پہلا شخص سونا دے کر چاندی اپنے ہاتھ میں لے لے اور دوسرا آدمی چاندی دے کر سونا لے لے)۔ ()یہاں"مجلس" (جگہ) نہ بدلنے کا مطلب یہ ہے کہ دونوں اس طرح ایک دوسرے سے الگ نہ ہو جائیں کہ ایک شخص ایک طرف چلا جائے اور دوسرا آدمی دوسری طرف چلا جائے،یا ایک وہاں سے چلا جائے اور دوسرا وہیں رہ جائے() اگر یہ دونوں صورتیں نہ ہوں تو مجلس نہیں بدلی، چاہے کتنی ہی دیر وہاں رُکے، چاہے وہاں پر سو جائیں، چاہے بے ہوش ہوجائیں بلکہ اگر دونوں ساتھ ساتھ وہاں سے چلے گئے مگر ساتھ ساتھ ہی رہے، مجلس نہیں بدلے گی ۔ خلاصہ (نتیجہ یہ ہے کہ) جب تک دونوں ایک دوسرے سے بالکل الگ نہ ہو جائیں، قبضہ ہو سکتا ہے۔(بہار شریعت، ح۱۱،ص۸۲۲،مسئلہ۶،مُلخصاً)
سود کا حکم:
{1}سود سے حاصل ہونے والی رقم(amount)کا بندہ اس طرح مالک بنتا ہے کہ اُسے خرچ کرنا تو حلال نہیں ہوتا البتہ وہ اُسے (بغیر ثواب کی نیّت(intention) سے، ایسے شخص کو ) صدقہ کر سکتا ہے(کہ جس آدمی کو زکوٰۃ دی جاسکتی ہے)، اسے "مِلکِ خبیث" کہتے ہیں۔
{2}سود ی رقم (amount)ایسے شخص کو دینی ہوگی کہ جس آدمی کو زکوٰۃ دے سکتے ہیں اور ساتھ ساتھ اس بُرے کام سے توبہ بھی کرنی ہوگی۔ نوٹ: "توبہ" سے مراد دل میں یہ کیفیت/ احساس ہو کہ میں نے غلط کیا اور آئندہ (next time ) ایسا بالکل نہیں کرونگا۔ (سود کیا ہے؟،ص۶،۹،۱۳،۱۴،۱۷،۱۸،۲۰، تا ۳۵ تا ۲۹، مُلخصاً)
{3} سود ی رقم (amount)کا ایک حکم یہ بھی ہے کہ وہ اس رقم کو صدقہ نہ کرے بلکہ جس سے یہ رقم لی ہے، اُسے واپس کردے اور اگر اُس شخص کا انتقال ہو گیا ہو تو اُس کے وارثوں (یعنی وہ لوگ کہ جو مرنے والے کے بعد، اُس کے مال کے مالک(owner)بن جاتے ہیں) کو دے دے۔ جیسا کہ امامِ اہلسنّت، اعلیٰ حضرت، پیر طریقت، حضرت علَّامہ مولانا ، اماماحمد رضا خان قادِری رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں:جو مال جس جس سے چھینا ، چُرایا، رشوت، (یا)"سود" میں لیا انھیں (واپس کردے)اور وہ نہ رہے ہوں تو ان کے وارثوں کوواپس کردے ،یا معاف کرائے، پتا نہ چلے (کہ وہ شخص کون تھا یا کہاں ہے؟)توا تنا مال تَصَدُّق (یعنی صدقہ)کردے اور دل میں نیّت (intention) رکھے کہ وہ شخص جب ملے گا،اگر صدقے پرراضی(agree) نہ ہوا تو اپنے پاس سے اسے پیسے دے دونگا۔( فتاویٰ رضویہ، ج ۲۱،ص ۱۲۱،۱۲۲،مُلخصاً)
سود کے مزید مسائل:
{1} جس چیز کے بارے میں حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نے ماپ(measureکرنے) کے ساتھ تفاضل( یعنی ایک ہی جِنس کو زیادہ بیچنا)حرام فرمایا، وہ چیزکیلی ( ماپ measure/ کی چیز) ہی ہے ، چاہے لوگ اُسے کیل سے بیچنا چھوڑ دیں اور جس چیز کے بارے میں وزن (weight) کافرمایا تو وہ وزنی ہی ہے، چاہے لوگ اُسے وزن سے بیچنا چھوڑ دیں۔
یہ اُس وقت ہے جب کہ ایک جِنس کی چیز اُسی جِنس سے بدلی جائے یا بیچی جائے، مثلاً گیہوں(wheat) کو گیہوں (گندم) ہی سے بیچا جائے اگر جِنس الگ الگ ہو تواب کمی زیادتی سے بیچنے کا اختیار (option) ہے، مثلاً گیہوں(wheat) کو جَو(barley) کے بدلے میں کمی زیادتی سے بیچنا جائز ہے۔
نوٹ:ہندوستان(موجودہ پاکستان، بنگلہ دیش، ہند، نیپال، سری لنکا) میں گیہوں (wheat)،جَو(barley) کو عموما وزن سے بیچتے ہیں ، لیکن پیارے آقا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نے اسےکیلی ( ماپ measurement/ کی چیز) فرمایا تو اب اگر گیہوں(wheat) کو گیہوں(گندم) کے بدلے میں بیچا تو ماپ(measureکرنے) کے مطابق برابر ہونا ضروری ہے ( ہاں!یہ ہوسکتا ہے کہ ہر شخص اپنا گندم دوسرے کو پیسے سے بیچے اور دوسرے کا گندم پیسے سے خریدے تو اب ماپ(measureکرنے) کی ضرورت نہیں )۔
شریعت میں ماپ(measureکرنے) کی مقدار (quantity) کم سے کم نصف صاع (1920 grams) ہے۔ اگر کوئی کیلی ( ماپ measure/ کی) چیز نصف صاع (1920 grams)سے کم مثلاً گندم سے گندم کو ایک دو لپ(یعنی مُٹِّھی بھر) کم، زیادہ بیچے تو اس طرح بیچنا جائز ہے۔ ایک(1) سیب، دو(2)سیبوں کے بدلے ایک (1)کھجور ،دو (2) کھجوروں کے بدلےایک(1) انڈا، دو(2)انڈوں کے بدلے ایک (1)اخروٹ، دو (2)اخروٹوں کے بدلے ایک (1)تلوار، دو(2) تلواروں کے بدلے ایک (1) دوات(ink pot) ،دو(2) دوات کے بدلے ایک(1) سوئی دو(2) سوئیوں کے بدلے ایک (1)شیشی دو (2) شیشیوں کے بدلےبیچنا ، اس صورت(case) میں جائز ہے کہ جب سب چیزیں معلوم ہوں کہ کس چیز کو کس چیز کے بدلے بیچا جارہا ہے۔ نوٹ: ان صورتوں (cases)میں کمی زیادتی تو جائز ہے مگر اُدھار بیچنا حرام ہے، کیونکہ جِنس ایک ہی ہے۔
{2}جو برتن عدد (گِن کر،counting )سے بکتے ہیں، ان میں کمی زیادتی ہو سکتی ہے۔چاہےوہ برتن کسی وزنی چیز سے بنے ہو ں،جیسے تانبے (copper)کا ایک(1) گلاس ، دو(2) کے بدلے بیچنا۔ اصل میں تو تانبہ (copper) وزن (weight ) والی چیز ہے مگر جب اس کے برتن بن گئے تو اب یہ عدد (counting) والی چیز بن گئی۔
یاد رہے کہ سونے چاندی کے برتن اگر وزن میں کم ، زیادہ ہوں تو اس کی خرید وفروخت(buying and selling) حرام ہی ہے (کیونکہ حدیث کے مطابق یہ وزنی ہیں اور برابر (equal)برابر ہی بِک(saleہو) سکتے ہیں)۔
{3} گوشت کو جانور کے بدلے میں بیچ سکتے ہیں کیونکہ گوشت وزنی ہے اور جانور عددی (گِن کر،counting سے بکنے والی) چیزہے ۔چاہے گوشت اُسی جِنس کے جانور کا ہو، تب بھی کمی زیادتی کے ساتھ بیچ سکتے ہیں۔ مثلاً بکری کے گوشت کے بدلےمیں زندہ بکری ، وزن کی کمی زیادتی سے خریدنا، جائز ہے۔
{4} ایک (1)مچھلی کو دو(2) مچھلیوں کے بدلے بیچ سکتے ہیں یعنی جہاں مچھلی وزن سے نہ بکتی ہواگر مچھلی وزن (weight) سے بکتی ہے تو اب وزن میں برابری ضرور ی ہے۔
{5} سوتی (cottonکے)کپڑے، سوت(cotton thread) یا روئی(cotton) کے بدلے میں بیچنا ، ہر طرح سے(کمی، زیادتی کے ساتھ)جائز ہے کیونکہ جِنس مُختلف(different) ہے۔
یاد رہے کہ جِنس کے مُختلف(different) ہونے میں اصل ایک ہونے کو نہیں دیکھا جاتا بلکہ یہ دیکھتے ہیں کہ اُس چیز کا "نام" اور "کام" ایک ہی ہے یا نہیں۔ یہ بات سب کو معلوم ہے کہ روئی اور سوت (ڈورے) کےکام الگ الگ ہیں۔
گیہوں (wheat)یا اس کے آٹے کوروٹی سے کمی زیادتی سے بیچ سکتے ہیں کہ ان کی بھی جِنس مختلف ہے۔
{6} مختلف قسم کے گوشت کمی زیادتی کے ساتھ بیچے جاسکتےہیں ۔مثلاً بکری کا ایک (1)کلو گوشت ، گائے کے دو (2) کلو گوشت کے بدلے میں بیچ سکتے ہیں مگریہ ضروری ہے کہ یہ سودا، ہاتھوں ہاتھ ہو، اُدھار جائزنہیں۔
اگرایک قسم کے جانور کا گوشت ، اُسی جانور کے گوشت سے بیچا تو اب کمی زیادتی جائز نہیں۔
یاد رہے کہ گائے اور بھینس(buffalo) دو جِنس نہیں بلکہ ایک ہی جِنس ہیں بکری، بھیڑ، دُنبہ، یہ تینوں ایک ہی جِنس ہیں۔
گائے کا دودھ، بکری کے دودھ سے کھجور یا گنے(sugar cane) کا سرکہ(vinegar) انگوری سرکہ سے پیٹ کی چربی (fat) ،دُنبہ کی چکی(دُنبے کی چوڑی دُم) یا، گوشت سے بکری (goat)کے بال کو بھیڑ(sheep) کی اُون (wool)سے کمی زیادتی کے ساتھ بیچ سکتے ہیں۔
{7} پنیر (یعنی دودھ پھاڑ کر مثلاً نیمو کا رس ڈال کر، پانی نکال کر رہ جانے والے نمکین مادّے) کو دودھ کے بدلے میں کمی زیادتی کے ساتھ بیچ سکتے ہیں کھوئے (وہ دودھ کہ جسےآگ پر پکا پکا کر خشک کر دیا گیا ہو)کے بدلے میں بھی دودھ کو کمی زیادتی سے بیچ سکتے ہیں کیونکہ ان چیزوں کے مقاصد (کام )مختلف ہیں لہذا یہ الگ الگ جِنس ہیں۔
{8} گیہوں(wheat) کو آٹے، یا ستو (بھنے ہوئے اناج (grain ) کےآٹے)سے بیچنا جائز نہیں ہے چاہے ماپ (measureکرنا) یا وزن (weight)میں دونوں طرف برابرہوں یعنی گیہوں کو گیہوں کے آٹے کے ساتھ، یا گیہوں کو گیہوں کے ستو کے ساتھ کمی ، زیادتی، برابری، کسی صورت میں بھی نہیں بیچ سکتے(کیونکہ ستو یا آٹے کے بارے میں یہ نہیں بتایا جاسکتا کہ اس میں کتنا گیہوں ہے؟ اور گیہوں کے بدلے گیہوں بیچا جائے تو دونوں کا برابر ہونا ضروری ہے)۔ اگر گیہوں(wheat) کے ساتھ آٹا کسی دوسری چیز(مثلاً جَو۔barley) ہو ،یا گیہوں کے ساتھ کسی اور چیز (مثلاً جَو۔barley)کا ستو ہو تو بیچا جاسکتا ہے۔
{9} تِلوں (sesame)کو تِلوں کے تیل کے بدلے میں، یا زیتون (olive)کو زیتون کے تیل کےبدلے میں بیچنا اُس وقت جائز ہے کہ جب ان میں جتنا تیل ہے وہ (یعنی تِل یا زیت)اُس تیل سے زیادہ ہو جس کے بدلے میں اس کوبیچا جا رہا ہو یعنی کَھلی (تیل یا سرسوں کا پھوک/چھلکے وغیرہ) کے بدلے میں تیل کا کچھ حصّہ ہونا ضروری ہے ، اس کے بغیر یہ سودا جائز نہیں۔ جس چیز کی کَھلی (چھلکے وغیرہ) کی کوئی قیمت ہوتی ہے اُس کے تیل کو جب اُ س چیز کے ساتھ بیچا جائے گاتو تیل زیادہ دینا ہوگا۔ ایک چیز خریدنی ہے، وہ ایسی دوسری چیز کے ساتھ ملی ہے کہ اُس دوسری چیز کی کوئی قیمت نہیں تو اب اُس بے قیمت چیز کی وجہ سے، خریدی جانے والی چیز کی قیمت زیادہ نہیں ہوگی۔ جیسے سنار(jeweller)کے یہاں کی راکھ(ash) کہ اسے "نیاریے"(سنارکی دکان کے کوڑاکرکٹ سے سونے ،چاندی کے ذرّات نکالنے والے) خریدتے ہیں، اس کا حکم یہ ہے کہ جس سونے یا چاندی کے بدلے میں اسے خریدا اگروہ زیادہ یا کم ہو تو"بیع فاسد" (یعنی سودا خراب)ہے اور برابر ہو تو جائز ہے۔اگرمعلوم نہ ہو کہ برابر ہے یا نہیں، تب بھی ناجائز ہے (بہتر ہے کہ ایسی چیزیں پیسے سے بیچی جائیں)۔
{10} جن چیزوں میں بیع جائز ہونے کے لیے برابری کی شرط ہے ، اس میں یہ ضروری ہے کہ برابری کا علم سودے کےوقت (time of contract)ہو۔اگر سودا کرتے ہوئے علم نہ تھا، بعد کو معلوم ہوا تب بھی سودا ناجائز ہی ہوا۔ مثلاً گیہوں(wheat)، گیہوں(گندم) کے بدلے میں اندازے سے بیچ دیے پھر بعد میں ناپے ( measureکیے)گئے تو برابر نکلے، تب بھی جائز نہیں۔ (بہار شریعت ح۱۱،ص۷۶۸ تا ۷۹۹،مسئلہ۲،۳،۴،۷،۶،۸،۱۱،۱۳،۱۴،۱۵،۱۶،۲۱،۲۲،۲۳،۲۴،مُلخصاً)
سود سے بچنے کا طریقہ:
{1}"سود" لینے والے کو چاہیے کہ وہ "قرض" دینے کے فضائل پر غور کرے۔ جیسا کہ رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نے فرمایا: جس کا دوسرے پر حق (مثلاً قرض)ہو اور وہ ادا کرنے میں تاخیر(late) کرے تو ہرروز اُتنا مال (کہ جتنا قرض دیا،)صدقہ کردینے کا ثواب پائے گا۔ (المسندللإمام أحمد بن حنبل،الحدیث:۱۹۹۹۷،ج۷،ص۲۲۴)
{2} سود پر قرض لینے والے کو چاہیے کہ وہ "تنگدستی"(مثلاً مال کی کمی) کے فضائل (ثواب وغیرہ)پر غور کرے۔ جیسا کہ حضرت ابو ہریرہ َضِیَ اللہُ عَنْہ سے مروی ہے کہ رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نے فرمایا : مومن مرد و عورت کی جان ، اولاد اور مال میں مسلسل مصیبتیں آتی رہتی ہیں یہاں تک کہ وہ اللہ کریم سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اس پر کوئی گناہ نہ ہوگا۔ (ترمذی ، کتاب الزہد عن رسول اللہ، ۴/۱۷۹، حدیث:۲۴۰۷)
{3} سودسے بچنے کی ایک صورت" بیع عینہ "ہے۔ امام محمد رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے فرمایا: " بیع عینہ " مکروہ ہے کیونکہ قرض دینے کی جگہ نفع (profit) لینا چاہتا ہے ۔ امام ابویوسف رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے فرمایا: کہ اچھی نیّت (intention) ہو تو اس میں حرج (گناہ)نہیں بلکہ " بیع عینہ "کرنے والا ثواب کا مُستَحِق (حقدار۔ deserving) ہے کیونکہ وہ سود سے بچنا چاہتا ہے۔
" بیع عینہ "کی صورت یہ ہے ایک شخص نے دوسرے آدمی سے( مثلاً ایک لاکھ روپے )قرض مانگا تو اُس نے جواب میں کہا کہ: میں قرض تونہیں دونگا ،مگر ایسا کرسکتا ہوں کہ یہ چیز تمہارے ہاتھ ایک لاکھ بیس ہزار روپے میں بیچتا ہوں۔ اگر تم چاہو تو خریدلو اور اسے بازار میں ایک لاکھ روپے میں بیچ دینا ۔ (بہار شریعت ح۱۱،ص۷۷۹،مسئلہ۴،مُلخصاً

(مدنی چینل دیکھتے رہیئے)