بچوں کا روزہ ایسا ہی ہوتا ہے

(42) بچوں کا روزہ ایسا ہی ہوتا ہے :

اعلیٰ حضرت ،امامِ اہل سنت مولانا احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ چھوٹے سے تھے کہ رمضان کا پیارامہینا آیا تو اس میں اعلیٰ حضرت کا پہلا روزہ رکھنے کا پروگرام(program) رکھا گیا ، گھر میں افطاری کے لیے خوب سامان تیار کیا گیا،ایک کمرے میں فیرینی (دودھ سے پکے ہوئے چاول کی میٹھی ڈش )کے پیالے جمانے کے لئے رکھے ہوئے تھے۔ دوپہر ہوئی تو سخت گرمی تھی، اعلی حضرت کے والد صاحب آپ کو کمرے میں لے گئےاور دروازہ بندکرکے ایک پیالہ اٹھا کر دیتے ہیں کہ '' اِسے کھا لو۔'' اعلٰی حضرت جو اس وقت بچے تھے عرض کرنے لگے کہ ''میرا توروزہ ہے، میں کیسے کھاؤں؟'' والد صاحب نے فرمایا کہ: ''بچوں کا روزہ ایسا ہی ہوتا ہے ،لو کھالو ،میں نے دروازہ بند کردیا ہے ،کوئی دیکھنے والا بھی نہیں ہے (یہ مسئلہ بھی یاد رہے کہ بچہ روزہ رکھے اور کھانا مانگے تو کھانا وغیرہ دینا ہوگا)۔ اعلٰی حضرت نے عرض کیا کہ: ''جس کے حکم سے روزہ رکھا ہے ،وہ (یعنی اللہ پاک )تو دیکھ رہا ہے۔یہ سنتے ہی اعلی حضرت کے والدصاحب کی آنکھوں سے (خوشی) کے آنسو نکل آئے اور کمرہ کھول کر آپ کو باہرلے آئے ۔(حیات اعلیٰ حضرت ،ص ۸۷،مکتبہ نبویہ لاہور)

پیارے بچّو اور اچھی بچّیو! ! اس سچّے واقعے سے ہمیں یہ سیکھنے کو ملا کہاگر ہمارا واقعی یہ ذہن بن جائے کہ ''اللہ دیکھ رہا ہے۔'' تو ہم اللہ کو خوش کرنےوالے کاموں میں لگ جائیں گےاور اللہ پاک کی ناراضی والے کاموں سے بچ جائیں گے۔اس حکایت سے یہ بھی سیکھنے کو ملا کہ بچپن ہی سے نماز پڑھنےا ور روزہ رکھنےکا سلسلہ ہونا چاہیے۔ خوداعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کچھ اس طرح فرماتے ہیں : ’’بچے کی عمر(age)جیسے ہی سات سال پوری ہو جائے تو اُ س کے والد صاحب وغیرہ پر لازِم ہے کہ اسے نماز پڑھنے اور روزہ رکھنے کا حکم دے ‘‘۔ (فتاویٰ رضویہ ج10،ص345 )

(مدنی چینل دیکھتے رہیئے)